Thursday, 4 July 2019

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چکا تھا ساتھ میں حاملہ بیوی تھی تو اس نے مدینے کی حدود کے پاس ہی خیمہ لگا لیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا، بیوی کا وقت قریب تھا تو وہ درد سے کراہنے لگی، حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اپنے روز کے گشت پر تھے اور ساتھ میں ایک غلام تھا، جب آپ نے  دیکھا کے دور شہر کی حدود کے پاس آگ جل رہی ہے اور خیمہ لگا ہوا ہے تو آپ نے غلام کو بھیجا کہ پتہ کرو کون ہے

 جب پوچھا تو اس نے ڈانٹ دیا کہ تمہیں کیوں بتاؤں، آپ گئے اور پوچھا تو بھی نہیں بتایا آپ نے کہا کہ اندر سے کراہنے کی آواز آتی ہے کوئی درد سے چیخ رہا ہے بتاؤ بات کیا ہے تو اس نے بتایا کہ میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق سے ملنے مدینہ آیا ہوں میں غریب ہوں اور صبح مل کے چلا جاؤں گا، رات زیادہ ہے تو خیمہ لگایا ہے اور صبح ہونے کا انتظار کر رہا ہوں، بیوی امید سے ہے اور وقت قریب آن پہنچا ہے تو آپ جلدی سے پلٹ کر جانے لگے کہ ٹہھرو میں آتا ہوں، آپ اپنے گھر گئے اور فوراً اپنی زوجہ سے مخاطب ہوئے کہا کہ اگر تمہیں بہت بڑا اجر مل رہا ہو تو لے لو گی زوجہ نے کہا کیوں نہیں تو آپ نے کہا چلو میرے دوست کی بیوی حاملہ ہے،وقت قریب ہے چلو اور جو سامان پکڑنا ہے ساتھ پکڑ لو،

آپ کی بیوی نے گھی اور دانے پکڑ لئے اور آپ کو لکڑیاں پکڑنے کا کہا آپ نے لکڑیاں اپنے اوپر لادھ لیں،،، سبحان اللہ ۔۔۔ (یہ کوئی کونسلر، ناظم ، ایم پی اے یا ایم این اے نہیں یہ اس کا ذکر ہو رہا ہے دوستو جو کہ 22 لاکھ مربع میل کا حکمران ہے جس کے قوانین آج بھی چلتے ہیں جو عمر فاروق ہے )  جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو فوراً کام میں لگ گئے بدو ایسے حکم چلاتا جیسے آپ شہر کے کوئی چوکی دار یا غلام ہیں،، کبھی پانی مانگتا تو آپ دوڑے دوڑے پانی دیتے کبھی پریشانی میں پوچھتا کہ تیری بیوی کو یہ کام آتا بھی ہے تو آپ جواب دیتے،،  جبکہ اس کو کیا پتہ کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق خود ہیں،

 جب اندر بچے کی ولادت ہوئی تو آپ کی زوجہ نے آواز لگائی یا امیر المومنین بیٹا ہوا ہے تو یا امیر المومنین کی سدا سن کر اس بدو کی تو جیسے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور بے اختیار پوچھنے لگا کیا آپ ہی عمر قاروق امیر المومنین ہیں ؟؟ آپ عمر ہیں ؟ وہی جس کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپے آپ وہ ہیں وہی والے عمر ہیں جس کے بارے میں حضرت علی نے کہا کہ آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگ کر اسلام کے لئے مانگا وہی والے نا؟؟
آپ نے کہا ہاں ہاں میں ہی ہوں اس نے کہا کہ ایک غریب کی بیوی کے کام کاج میں آپ کی بیوی،خاتون اول لگی ہوئی ہے اور دھوئیں کے  پاس آپ نے اپنی داڑھی لپیٹ لی اور میری خدمت کرتے رہے؟ تو سیدنا عمر رو پڑے اس بدو کو گلے سے لگایا اور کہا تجھے پتا نہیں توں کہا آیا ہے ؟ ؟ یہ مدینہ ہے میرے آقا کا مدینہ یہاں امیروں کے نہیں غریبوں کے استقبال ہوتے ہیں، غریبوں کو عزتیں ملتی ہیں، مزدور اور یتیم بھی سر اٹھا کر چلتے ہیں !!
سبحان اللہ

پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجئے. ۔۔..۔۔

Sunday, 28 October 2018

Junaid Jamshed Story

’مولوی صاحب آپ نے گانا کیوں چھوڑدیا تھا‘‘

میں نے ایک دن جنید جمشید سے پوچھا ’’مولوی صاحب آپ نے گانا کیوں چھوڑدیا تھا‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور دیر تک ہنستا رہا‘ میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ اس نے عینک اتاری‘ ٹشو سے آنکھیں صاف کیں اور ہنستے ہنستے جواب دیا ’’یار تم نے مجھے جس انداز سے مولوی صاحب کہا‘ میں وہ انجوائے کر رہا ہوں‘ تم مجھے یہ انجوائے کرنے دو‘‘ وہ اس کے بعد دوبارہ ہنس پڑا‘ وہ ہنستے ہنستے خاموش ہوا اور پھر بولا ’’یار گانے نے مجھے شہرت دی‘ عزت دی اور پیسہ دیا‘ اگر کچھ نہیں دیا تو وہ سکون تھا‘ سکون مجھے مولوی صاحب بن کر ملا اور یہ جب مجھے مل گیا تو مجھے پتہ چلا سکون دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہوتا ہے۔
پیسہ‘ عزت اور شہرت تینوں مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے‘‘ وہ اس کے بعد دوبارہ ہنسا اور بولا ’’میں ویمبلے میں شو کرنا چاہتا تھا‘ میری خواہش تھی‘ میرا خیمہ درمیان میں ہو اور دوسرے گلوکاروں‘ موسیقاروں اور اداکاروں کے خیمے دائیں بائیں ہوں‘ میں 1992ء میں ویمبلے گیا‘ امیتابھ بچن کا خیمہ درمیان میں تھا‘ لوگ اس کے ہاتھ چوم رہے تھے‘وہ اس پر واری واری جا رہے تھے‘ وہ اس کے ساتھ تصویریں بنوانے کے لیے ایک دوسرے کو روند رہے تھے‘ میں نے یہ عزت دیکھی تو میرے دل میں خیال آیا‘ کیا میں بھی کبھی اس مقام تک پہنچ سکتا ہوں‘ کیا مجھے بھی یہ عزت‘ لوگوں کا یہ والہانہ پن مل سکتا ہے‘ وہ شاید قبولیت کی گھڑی تھی۔
اللہ نے میری دعا سن لی اور وہ وقت آ گیا جب میرا خیمہ ٹھیک اس جگہ تھا جہاں کبھی امیتابھ بچن نے راتیں گزاریں تھیں‘ نوجوان لڑکیاں اور لڑکے اس دن میرے ساتھ تصویریں بنوانے کے لیے بھی ایک دوسرے پر گر رہے تھے‘ مجھے بہت خوشی ہوئی‘ میں اندر سے نہال ہو گیا‘ میں کئی دن اس سرشاری میں رہا لیکن پھر‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ وہ دیر تک کچھ سوچتا رہا‘ پھر اس نے سر اٹھایا‘ میری طرف دیکھا اور بولا ’’لیکن پھر ایک نئے احساس نے اس سرشاری کی جگہ لے لی۔
مجھے محسوس ہوا میری کامیابی نے مجھے عزت تو دے دی لیکن میں سکون سے محروم ہوں‘ مجھے یہ بھی محسوس ہوا سکون عزت سے بڑی چیز ہے اور مجھے اس بڑی چیز کی طرف جانا چاہیے‘‘ میں خاموشی سے سنتا رہا‘ وہ بولا ’’میں اس کے بعد بھی گاتا رہا‘ لوگ میرا گانے سنتے تھے‘ جھومتے تھے اور مجھے چومتے تھے‘ دل دل پاکستان اور سانولی سلونی سی محبوبہ میری پہچان بن گیا‘ میں جہاں جاتا تھا لوگ مجھ سے فرمائش کرتے تھے‘ جے جے سانولی سلونی ہو جائے اور میں ذرا سا گنگنا کر آگے نکل جاتا تھا لیکن میں اب عزت کے ساتھ ساتھ سکون بھی تلاش کر رہا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور مجھے یہ نعمت بھی مل گئی‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔
میں نے اس سے پوچھا ’’تم تبلیغی جماعت اور مولانا طارق جمیل کے قابو کیسے آ گئے‘‘ اس نے ایک قہقہہ لگایا اور بولا ’’پاکستان کا ہر شہری زندگی میں کبھی نہ کبھی ڈاکٹر‘ پولیس اور تبلیغی جماعت کے قابو ضرور آتا ہے‘ زیادہ تر لوگ ان کے ساتھ چند دن گزار کر واپس آ جاتے ہیں لیکن تھوڑی سی تعداد دائمی مریض‘ عادی مجرم اور مولوی صاحب بن کر مستقلاً ان کا حصہ بن جاتے ہیں۔
میں بھی ایک دوست کے ذریعے مولانا طارق جمیل سے ملا اور پھنس گیا‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ کیسے پھنس گئے‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ’’مجھے اس شخص نے اتنی محبت دی جو مجھے اس سے پہلے کسی سے نہیں ملی تھی‘ یہ محبت میرے لیے نشہ ثابت ہوئی اور میں اس نشے کی لت کا شکار ہوتا چلا گیا‘ میں نے دین کا مطالعہ شروع کر دیا‘ میں شغل شغل میں چلے لگانے لگا اور مجھے جب ہوش آئی تو میں اس وقت تک اچھا خاصا مولوی صاحب بن چکا تھا‘‘ میں نے اس سے پوچھا ’’آپ اچھے خاصے سمجھ دار انسان ہیں‘ آپ درمیان میں بھاگ کیوں نہیں گئے؟‘‘۔
اس نے ایک اور قہقہہ لگایا اور بولا ’’میں نے بھاگنے کی ایک آدھ ٹرائی کی تھی‘ میں نے گانا چھوڑ دیا تھا لیکن پھر اچانک احساس ہوا جنید جمشید تم کھاؤ گے کہاں سے‘تمہیں اس کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں آتا‘ گانا میری زندگی بھی تھا‘ مجھے محسوس ہوتا تھا میں نے اگر یہ بند کر دیا تو مجھ سے میری زندگی چھن جائے گی چنانچہ میں نے شیو کی اور اپنی دنیا میں واپس آ گیا لیکن چند دن بعد غلطی کا احساس ہو گیا‘ میں اس نتیجے پر پہنچ گیا مجھے سکون اور شہرت‘ دولت‘ عزت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔
میرے اندر کشمکش جاری تھی لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے کرم کیا‘ میرے دماغ سے غلط فہمیوں کے اندھیرے چھٹ گئے اور میں دوبارہ اس لائین پر آ گیا جہاں مجھے ہونا چاہیے تھا‘ میں تبلیغ والوں کے ساتھ شامل ہو گیا‘‘ میں نے پوچھا ’’لیکن کیا شہرت‘ عزت اور دولت آسانی سے چھوٹ گئی؟‘‘ تڑپ کر جواب دیا ’’بہت مشکل تھا‘ گانا میرا واحد سورس آف انکم تھا‘ مجھے شہرت کی لت بھی پڑ چکی تھی‘ میرے لیے فینز‘ تصویریں اور آٹوگرافس زندگی تھی‘ میرا گانا میرا شناختی کارڈ تھا‘ میں اس شناختی کارڈ کے بغیر کچھ بھی نہیں تھا چنانچہ میں گانے کے بغیر معاشی‘ سماجی اور ذہنی طور پر زندہ نہیں رہ سکتا تھا لیکن پھر میں نے ایک سودا کیا‘ میں نے اللہ کے نام پر اپنے تینوں اثاثے قربان کر دیے۔
میں نے عزت‘ شہرت اور روزگار تینوں چھوڑ دیے اور اللہ کی راہ پر لگ گیا‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ میں نے پوچھا’’کیوں؟ آپ نے یہ کیوں کیا؟‘‘ وہ بولا’’ میں بنیادی طور پر اللہ کا قانون ٹیسٹ کر رہا تھا‘ میں نے کسی جگہ پڑھا تھاجو شخص اللہ کے ساتھ سودا کرتا ہے‘ جو اللہ تعالیٰ کے نام پر اپنی عزیز ترین چیز قربان کردیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کبھی مایوس نہیں کرتا‘ خدا کی ذات اسے اس کے حق سے زیادہ نوازتی ہے‘ میں نے اللہ کے اس اعلان‘ اس وعدے کو ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا‘ میں نے اپنا کل اثاثہ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا‘ میرے بھائی جاوید آپ یقین کرو اللہ تعالیٰ نے میری تینوں چیزیں ستر سے ضرب دے کر مجھے واپس لوٹا دیں۔
میں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں لاکھوں روپے کی قربانی دی تھی‘ رب کی ذات نے مجھے کروڑوں روپے سے نواز دیا‘ میں نے آج تک ایک رومال نہیں بنایا‘ آپ اللہ کا کرم دیکھو‘ دنیا میں جنید جمشید کے نام سے کپڑوں کا سب سے بڑا پاکستانی برانڈ چل رہا ہے‘ میں راک اسٹار کی حیثیت سے مشہور تھا‘ آپ اللہ کا کرم دیکھو میں آج نعت خوانی اور اللہ کے ذکر کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور ہوں‘ لوگ مجھے دل دل پاکستان کی وجہ سے عزت دیتے تھے لیکن آج لوگ الٰہی تیری چوکھٹ پر سوالی بن کے آیا ہوں کے حوالے سے میرے ہاتھ چومتے ہیں۔
ْمیں کبھی جینز پہن کر اسٹیج پر ناچتا تھا اور عزت دار لوگ اپنی بہو بیٹیوں کو میرے سائے سے بچا کر رکھتے تھے لیکن میں آج سر پر عمامہ اور ٹوپی رکھ کر منبر رسولؐ پر بیٹھتا ہوں اور لوگ مجھ سے اپنے بچوں کے لیے دعا کرواتے ہیں‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیں کیا یہ اس سے ستر گناہ زیادہ نہیں جس کی میں نے قربانی دی تھی‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔
میں اس وقت آج کے مقابلے میں زیادہ گمراہ‘ زیادہ سنگدل اور زیادہ بددیانت تھا چنانچہ میں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا‘ میں نے اس سے کہا ’’آپ اگر ان مولویوں کے ہاتھ سے بچ گئے جو اس وقت آپ کی گردن کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں‘ جو آپ کو گستاخ اور حضرت عائشہ ؓ کا گناہ گار سمجھ رہے ہیں تو میں آپ کو آپ کے سوال کا جواب ضرور دوں گا‘‘ وہ بھی ہنس پڑا لیکن میں نے جب سات دسمبر کو جنید جمشید کے ائیر کریش کی خبر سنی اور اس کے بعد جس طرح پورے ملک کو اس کے سوگ میں ڈوبتے دیکھا اور پھر 15دسمبر کو کراچی میں اس کا جنازہ دیکھا تو میں اس کو سچا ماننے پر مجبور ہو گیا۔
ملک میں ہزاروں علماء کرام‘ سیاستدان‘ بیورو کریٹس‘ صوفیاء کرام‘ اداکار‘ گلوکار اور ارب پتی تاجر فوت ہوئے‘ ان کے جنازے جنازہ گاہوں میں پڑھائے گئے لیکن جنید جمشید کا جنازہ اسٹیڈیم میں پڑھا گیا اور اس میں حقیقتاً لاکھوں لوگ شریک تھے‘ تاحد نظر سر ہی سر اور بازو ہی بازو تھے‘ جنید جمشید کو اس سے پہلے ائیرفورس نے گارڈ آف آنر بھی دیا‘ اس کے کفن کو پاکستانی پرچم میں بھی لپیٹا اور اسے سی ون تھرٹی کے ذریعے اسلام آباد سے کراچی بھی پہنچایا ‘ یہ اعزاز آج تک کسی گلوکار کو حاصل ہوا؟ جی نہیں! دنیا میں مہدی حسن اور نورجہاں جیسے گلوکار دوبارہ پیدا نہیں ہوں گے۔
بڑے غلام علی خان‘ نصرت فتح علی خان‘ عزیز میاں قوال‘ استاد امانت علی خان اور صابری برادران موسیقی کے استاد تھے‘ یہ استاد کس عالم میں دنیا سے رخصت ہوئے اور ان کے جنازے کیسے اور کتنے تھے؟ ہم سب جانتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے جو عزت جنید جمشید جیسے ایک سابق گلوکار کو دی یہ بھی سارا زمانہ جانتا ہے ‘ موسیقی کے استاد ہونے کے باوجود یہ لوگ دنیا سے کسمپرسی میں رخصت ہوئے جب کہ جنید جمشید کے غم کو ہر شخص نے ٹیس کی طرح محسوس کیا‘ یہ کیا ثابت کرتا ہے‘ یہ ثابت کرتا ہے وہ ٹھیک کہہ رہا تھا‘ اس نے اللہ تعالیٰ سے سودا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی قربانی کو ستر سے ضرب دے کر اس کے تمام اثاثے اسے لوٹا دیے۔
جنید جمشید نے ہم جیسے لوگوں کی آنکھیں کھول دیں‘ اس نے ثابت کر دیا اللہ کے ساتھ سودا کرنے والے کبھی خسارے میں نہیں رہتے‘ عزت قربان کرو گے تو اللہ عزت کو ستر گنا کر کے لوٹائے گا اور شہرت اور دولت کی قربانی دو گے تو اللہ تعالیٰ انھیں بھی ستر سے ضرب دے کر لوٹائے گا‘ بے شک اللہ تعالیٰ کی اسٹاک ایکسچینج کائنات کی سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج ہے‘ یہ کبھی کریش نہیں ہوتی‘ یہ کبھی اپنے شیئر ہولڈرز کا خسارہ نہیں ہونے دیتی‘ اس کا انڈیکس ہمیشہ اوپر جاتا ہے‘ اوپر سے اوپر اور اوپر۔
❤پاکستان زندہ باد💚........

Sunday, 23 September 2018

Atom bomb

ایٹمی حملہ کے بعد کیسے بچا جائے؟
آج کے دور میں انسان کو جس سب سے خوفناک غیر فطری آفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے. وه ہے ایک ایٹمی حملہ.
اگر آپ کے شہر پر ایٹم بم گرا دیا جائے. تو بهی آپ زنده بچ سکتے ہیں. کیسے؟
جانیئے اس تحریر میں،
ایٹمی حملے کا خطره کہاں ہے؟
دنیا میں اس وقت 15،000 کے قریب ایٹمی ہتهیار موجود ہیں.
جن ممالک میں ایٹمی حملے کا خطر سب سے زیاده ہے وه یہ ہیں
جنوبی کوریا،
شمالی کوریا،
پاکستان،
بهارت،
اسرائیل،
ایران،
اس کے علاوه روس و امریکہ بهی ایٹمی جنگ کا نشانہ بن سکتے ہیں.
دارالحکومت، اہم فوجی چهاونیاں، اہم شہر اور زیاده آبادی والے علاقے ایٹمی حملوں کا اولین نشانہ ہیں.
‏"حالات پر نظر رکهیں":
ایٹمی حملہ جنگ میں ہمیشہ آخری آپشن ہوتا ہے. اپنے ملک اور بین الاقوامی معاملات سے خود کو باخبر رکهیں اور کسی جنگ کی صورت میں پیشگی تدابیر تیار رکهیں.
پناه گاه:
آپ ایٹمی حملے اور اس کے اثرات سے صرف اس صورت میں ہی بچ سکتے ہیں اگر آپ کے پاس ایک مظبوط اور محفوظ پناه گاه موجود ہو.
بہترین پناه گاه زمین سے کم از کم 10 فٹ نیچے تہہ خانے کی صورت میں ہوگی. زمین پر بهی پناه گاه بنائی جاسکتی ہے تاہم وه تابکاری کو مکمل طور پر نہیں روک سکے گی، زمین پر بنائی جانے والی پناه گاه عمارتی پتهروں سے بنائی جانی چاہیے اگر عام اینٹیں اور کنکریٹ کا استعمال کرنا ہوتو پهر اینٹوں کی ایک کے بجائے کم از کم 5 پرتیں لگائی جائیں.
سامان:
اپنی پناه گاه میں اتنا سامان ہمہ وقت سٹور رکهیں جو3,2 ہفتوں کے لیے کافی ہو،
سامان کی تفصیل:
‏1- ٹن پیک کهانا جس میں گوشت کا کوئی آئیٹم شامل نا ہو بلکہ سبزیاں ، پهل اور بینز وغیره هوں تاکه فوڈ پوائزننگ کی اضافی مصیبت سے بچا جاسکے.
‏2- ڈسٹلڈ یا منرل واٹر کی بوتلیں.
‏3-پانی کا ایک بڑا ٹینک جو نہانے وغیره کے کام آئے گا.
‏4- ایک ریڈیو.(آپ کا موبائل تابکاری کے پہلے جهٹکے کے بعد ناکاره ہوجائے گا).
‏5-کپڑوں کا ایک اضافی جوڑا.
‏6- کتابیں، جو کئی دن زیر زمین گزارنے میں معاون ثابت ہونگی.
‏7- فرسٹ ایڈ کٹ.
‏8- ادویات جن میں بخار، سردرد، جسم درد کی گولیاں، سلیپنگ پلز
9-بیٹریز یا بجلی کا متبادل انتظام
ٹارچ
پوٹاشیم آئیوڈائیڈ کی گولیاں
‏(دهماکے کے اول دن استمال کریں)
پینسلین پوٹاشیم
سیفیٹک اینٹی-سیپٹک سپرے
اگر ایٹمی حملہ ہوجائے؟
کسی بهی حادثے یا حملے کی صورت میں زنده بچ جانے کا پہلا اصول اپنے ہوش و حواس کو قابو اور دماغ کو حاضر رکهنا ہے.
ایٹمی حملہ ہونے ایک ایک سیکنڈ کے اندر اندر آپ کو ایک زوردار دھماکہ سنائی دے گا اور فورا "مشروم" کی شکل کا ایک کئی میل اونچا دھویں کا طوفان نظر آئے گا. فورا سمجھ جائیے که یہ ایٹمی حملہ ہے.
اب بچنے کی جدوجہد شروع کیجئے:
ایٹمی تباهی کے تین مراحل ہیں،
ابتدائی دهماکہ.
فال آوٹ
تابکار طوفان
اگر تو ایٹمی وار هیڈ آپ کی لوکیشن کے ڈیرڈھ میل کے اندر اندر گرایا گیا ہے تو فورا کلمه پڑھ لیں اور بیٹهے ہیں تو کهڑے ہوجائیں اگلے تین سیکنڈز کے اندر اندر آپ کا وجود بهاپ بن کے اڑ جائے گا. اگر ایٹمی حملے کے لوکیشن سے ڈیرڈھ میل دور ہے تو آپ بچ سکتے هیں.
پهلا دهماکہ سنائی دینے کے بعد آپ کے پاس زیاده سے زیاده 5 سیکنڈزہیں. دهماکے کی مخالف سمت میں کسی بهی ٹهوس چیز ، دیوار یا کسی گہری جگہ پہنچیں ، زمین پر الٹا لیٹ جائیں، اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکهتے ہوئے کانوں کو ڈهانپ لیں اور ٹانگیں کراس کرلیں، اسی دوران آپ کو ایک اور زور دار دهماکہ سنائی دے گا جو کے پهلے دهماکے سے سوگنا زیاده طاقتور ہوگا اور شدید زلزله پیدا کرے گا. مبارک ہو! آپ ابتدائی دهماکے سے بچ نکلے.
دهماکہ سنائے دینے کے دو سے تین سیکنڈ اٹھ کهڑے ہوں اور اپنی پناه گاه کیطرف بهاگیں.
فال آوٹ:
پهلے دماکے میں ناصرف سینکڑوں عمارات دهواں بن کے اڑ گئیں جو جن کا ملبہ اب بارش کی صورت میں برسے گا اور ساتھ ہی تابکاری سے بهرے "الفا پارٹیکلز" کی بارش بهی شروع ہوجائے گی. دهماکے کی طرف ہرگز مت مڑکے دیکهیں. اور فال آوٹ میں گرتی چیزوں سے بچنے کی کوشس کریں.
اگر آپ صحیح سلامت پناه گا تک پهنچ گئے تو مبارک ہو! آپ فال آوٹ سے بچ نکلے.
پناه گاه میں داخل هوتے ہی ایک لمحه ضائع کیے بغیر اپنا سارا لباس اتار دیں کیونکہ فال آوٹ کے دوران یہ بڑی مقدار میں الفا پارٹیکلز چوس چکا ہوگا. اس کے بعد اگر آپ زخمی ہیں تو خود ابتدائی طبی امداد لیں اگر صحیح سلامت ہیں تو غسل کرلیں تاکہ فال آوٹ کے بچے کهچے اثرات سے ہرممکن حد تک بچا جاسکے.
اب زمین پر ہر طرف تابکاری کا طوفان ہے اور آپ کو پناه گاه میں کئی دن تک رہنا ہے.‏
یاد رکهیں:‏
‏1-کم سے کم کهائیں.‏
‏2- جتنا ممکن ہوسکے سوکر وقت گزاریں.‏
‏3- ریڈیو سنتے رہیں اور باهر کے حالات سے باخبر رہیں.‏
‏4-اپنی ہمت بحال رکهیں.‏‎
‏5- اگلے چند دن میں آپ ریڈیو ایکٹو سکنس کا شکار ہوسکتے ہیں جس میں آپ کو تیز بخار، گهٹن، الٹیاں ہوسکتی ہیں. اپنے پاس موجود ادویات کو استعمال کریں.
دهماکے کے زیاده سے زیاده 5 دنوں بعد امدادی ٹیمیں اور فوجی دستے آپ کے علاقے میں پهنچ جائیں گے.ریڈیو سنتے ریہں جب آپ کو یقین هوجائے کے آپ کے علاقے میں امدادی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں تو باهر نکل کر قریب ترین امدادی کارکن سے فوری رابطہ کریں تاکہ آپ کو تابکاری کے علاقے سے فوری طور پر نکالا جاسکے.
اگر تو کوئی امدادی ٹیم آپ تک نا پہنچ سکے تو بیس دن بعد پناه گاه سے نکلیں. اب تک تابکاری کا طوفان تهم چکا ہوگا.
زندگی کی طرف سفر........
پناه گاه سے نکلتے ہی ممکن آپ کو پہلا احساس یہی ہو کہ لاکهوں میں سے صرف آپ ہی زنده بچے ہیں. اب جس قدر جلدی ممکن ہو علاقہ چهوڑدیں.....

Thursday, 30 August 2018

imran Khan ke Jaan ko Khatra

عمران خان کو ٹھکانے لگانے کے لیے ملک میں چند گھنٹے پہلے 
,,کون داخل ہوا ہے؟ پاک آرمی نے بندوقیں تیار کر لی

عمران خان کی جان کو اب بھی بہت خطرہ لاحق ہے، ریڈ الرٹ جاری! دنیا بھر میں اگر بات کی جائے انٹیلی جنس سروس کی تو سب سے پہلے آئی ایس آئی کا نام سامنے آتا ہے. پاکستان کی انٹیلی جنس کے ایک بہت نامور سابق جنرل جنکا نام ہم آپکو نہیں بتا سکتے کیونکہ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے یہ نام راز میں رکھنے کا کہا گیا ہے. ان سابق جنرل نے تفصیلاً بتایا ہے کہ پاکستان کے اندر شروع سے ہی ایسا چلتا آیا ہے کہ اگر کوئی صحیح شخص پاکستان کی حکمرانی کرے گا، پاکستان کو بحران سے نکالنے کی بات کرے گا تو اس شخص کو ایک ایسی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا جو منظر عام پر نہیں آتی. اس طاقت کے پیچھے یہودی لابی، عیسائی لابی، اور ہندو لابی مل جل کر کام کر رہے ہیں. اسی وجہ سے پاکستان میں اب تک جتنے بھی نامور مسیحا آئیں ہیں انھیں جلد ہی آبدی نیند سلا دیا گیا..

مزید سابق جنرل نے یہ بھی بتایا کہ ایک ہالی ووڈ کا ایسا کریکٹر ہے جسے ہالی ووڈ کی فلم سے لیا گیا ہے. اسکا نام جیورج ہے، اسکا تعلق القاعدہ، داعش، آئی ایس آئی، سی آئی اے اور ایم آئی سکس کے ساتھ ہے. جیورج ایک ایسا شخص ہے جب کبھی کسی بڑی شخصیت کو مروانا ہو تو اس سے رابطہ کیا جاتا ہے. آج کل جیورج کو پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خان کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے. اس لیے سی آئی اے نے ایک بہت خطرناک ایجنٹ کی پاکستان میں داخلے کی تصدیق کر دی ہے. اس ضمن میں آرمی نے 384 لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے....

Saturday, 11 August 2018

Pti social Media Team & technology

پچھلے دو دن سے ٹیکنالوجی کی دنیا کی بڑی اور اہم ترین خبر پاکستان کے حوالے سے بنی۔

خبر کے مطابق تحریک انصاف کی حالیہ انتخابات میں کامیابی میں اہم ترین کردار ایک موبائل ایپ نے ادا کیا جس کی بدولت تحریک انصاف کو اپنی مخالف جماعتوں پر سٹریٹیجک ایڈوانٹیج حاصل ہوگیا۔

جس وقت عمران خان 2014 میں آزادی مارچ کے ذریعے اسلام آباد میں دھرنے کی تیاری کررہا تھا، دوسری طرف اس کی ٹیکنالوجی ٹیم نے خاموشی سے ایک ایپ ڈویلپ کرنا شروع کردی۔ جس وقت ن لیگ کا سوشل میڈیا سیل مریم نواز کی زیرقیادت فیک تصاویر اور  ٹیریان وائٹ کی تصویریں شئیر کرکے ماہانہ ڈھائی کروڑ روپے تنخواہ وصول کیا کرتا تھا، عین اسی وقت عمران خان کی ٹیکنالوجی ٹیم نے ملک بھر سے 5 کروڑ سے زائد ووٹرز کا ڈیٹا اکٹھا کرکے ایپ میں اپ لوڈ کرنا شروع کردیا۔

یہ کام پورا ایک سال جاری رہا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے ہر اہم حلقے کے تمام رہائشی ووٹرز اور ان کے خاندان کے تمام افراد کی تفصیلات کی انٹری اس ایپ میں ہوچکی تھی۔

اگلے مرحلے میں ان حلقوں کے چیدہ چیدہ کارکنان سے کہا گیا کہ وہ اپنے علاقے کے تمام گھرانوں کے سیاسی رحجانات کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کرکے ایپ میں اپ ڈیٹ کریں۔

ایپ میں آرٹیفشل انٹیلیجنس یعنی مضنوعی ذہانت کی پروگرامنگ بھی کی گئی تھی جس کے تحت بہت سے فیکٹرز جن میں ہر گھرانے میں موجود افراد کی تعلیمی قابلیت، ذرائع آمدن، بیرون ممالک میں مقیم رشتے دار کی بنیاد پر یہ ایپ تجویز کرسکتی تھی کہ فلاں گھرانہ تحریک انصاف کا کس حد تک سپورٹر ہوگا۔ اگر مجموعی تعلیمی قابلیت زیادہ ہوتی، زرائع آمدن پرائیویٹ شعبوں میں نوکری ہوتا، یا اس گھر کا کوئی فرد بیرون ملک مقیم ہوتا تو 70 فیصد تک چانس تھا کہ وہ گھرانہ تحریک انصاف کو ووٹ دے گا۔

اس کی مزید تصدیق سروے کے ذریعے کروائی گئی جو پچاس کے قریب حلقوں میں کارکنان نے بڑی رازداری سے مرتب کیا۔ ہر حلقے سے ۳۰۰ کے قریب گھرانوں کے سیاسی رحجانات کی معلومات اکٹھا کی گئیں جنہیں ایپ کے انٹیلی جنس سسٹم سے میچ کرکے ایپ کی مصنوعی ذہانت کی تصدیق ہوگئی۔

یہ سارا کام خاموشی سے ہوتا رہا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہونے دی گئی۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے پٹواریوں، جماع تیوں اور ڈیزلیوں کا سارا فوکس اور امیدیں ریحام خان کی کتاب تھا جبکہ تحریک انصاف سائنٹفک اور پڑھے لکھے طریقے سے اپنی سٹریٹیجی ترتیب دے رہی تھی۔

پھر ۲۵ جولائی کے انتخابات کا مرحلہ آگیا۔ ڈیڑھ سو کے قریب حلقوں کو اس ایپ کے ذریعے مینج کیا گیا۔ ان حلقوں میں موجود ووٹرز کو براہ راست ایس ایم ایس کے ذریعے مسلسل ان کے پولنگ بوتھ کے بارے میں اطلاعات دی جاتی ہیں۔ الیکشن سے دو دن قبل عمران کان کا آڈیو اور ویڈیو پیغام بھی ان ووٹرز کو بذریعہ وآٹس ایپ بھیجا گیا جس نے خاطر خواہ اثر ڈالا۔

الیکشن کے دن پی ٹی سی ایل کی ہیلپ لائن سروس خراب ہوگئی تھی جس کی وجہ سے دوسری جماعتوں کے ایجنٹس کو ان کا پولنگ بوتھ جاننے میں مشکلات پیش آرہی تھیں لیکن تحریک انصاف کے ایجنٹس کے پاس ایپ تھی جس میں صرف شناختی کارڈ نمبر ڈالنے سے تمام تفصیلات سامنے آجاتیں، جنہیں پرنٹر کے ذریعے پرنٹ کرکے فوری طور پر ووٹر کو دے دیا جاتا۔ دوسری طرف مخالف جماعتوں کے ایجنٹس پرانے دقیانوسی طریقوں کے مطابق ہاتھ سے پرچی لکھتے اور جتنی دیر میں وہ ایک پرچی لکھتے، انصافی ایجنٹس بیس ووٹرز کو فارغ کرچکے ہوتے۔

اس سے قبل امریکی صدر اوبامہ نے سوشل میڈیا کو پہلی مرتبہ استعمال کرکے پوری دنیا میں دھوم مچا دی تھی، پھر 2016 کے الیکشن میں ٹرمپ نے سوشل میڈیا کے صارفین کا ڈیٹا حاصل کرکے کیمپین کی جس سے اسے کامیابی حاصل ہوئی۔ اب تحریک انصاف نے دنیا کو ایک نئی بیسٹ پریکٹس دکھا دی ہے جس کے تحت ووٹرز کا ڈیٹا اور ایک موبائل ایپ کے ذریعے آپ سارا الیکشن مینیج کرسکتے ہیں۔

قرآن کی پہلی نازل ہونے والی آیت اقرا سے شروع ہوتی ہے جس سے تعلیم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف نے ثابت کردیا کہ پڑھا لکھا اور انپڑھ کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔

یہی وجہ ہے کہ آج ن لیگ، پی پی، اے این پی، جے یو آئی اور جماعت اسلامی بری طرح ذلیل و خوار ہوچکیں، کیونکہ ان کے کارکنان بھی جاہل ہیں اور ان کے ووٹرز بھی۔

تعلیم کو عزت دو!!!!!!!

Tuesday, 31 July 2018

Dawat e Tableegh

متحدہ عرب امارات سے ایک جماعت چالیس دن کیلئے روس میں تبلیغ کی غرض سے گئی۔
تو جس مسجد میں انکی تشکیل ہوئی بدقسمتی سے اسکا قفل بھی زنگ آلود ہوچکا تھا ۔
جماعت کے ساتھیوں نے مسجد کھولی تو ساری مسجد مٹی کا ڈھیر بنی ہوئی تھی ۔
پوری مسجد میں گرد جمع تھی انہوں نے پوری مسجد کی صفائی کی نماز کا وقت ہوا آزان کی آواز سن کر ایک بڑھیاتیز قدموں سے چلتی ہوئی مسجد کی دہلیز پر آکھڑی ہوئی ۔
اور حیرت سے جماعت کے ساتھیوں کو تکنے لگی ۔
غور سے اردگرد کا معائنہ کرتی رہی۔
ساتھیوں کے دریافت کرنے پر کہا کہ میں یہی پڑوس میں رپتی ہوں ستر سال ہوگئے ہیں میں نے کبھی اس مسجد میں کسی کو آتے نہیں دیکھا ۔
جیسا آپکو کرتے دیکھا یہ سب میرے باپ دادا کرتے تھے لیکن انکے بعد جوں جوں وقت گزرتا گیا سب بدلتا گیا ۔
جب تبلیغیوں نے یہ دل سوز باتیں سنیں تو رونے لگ گئے کہ ھم نے آنے میں بہت دیر کردی ۔
اگلے دن یہ لوگ محلے میں گھر گھر دکان دکان پر جا کرکے لوگوں کو جو ناسمجھی کی وجہ سے مرتد ہوچکے تھے انکو اسلام کی دعوت دی پھر سے مسلمان کیا اور مسجد میں لائے ۔
چند ہی ہفتوں میں پورے محلے میں دین کی لہر آ گئی ۔ جیسا کہ اسلام انکے کیلئے اک نیا مذہب ہو ۔
کچھ دنوں بعد محلے والوں نے 500 گز کی قالین پر تمام لوگوں کو جمع کیا اور جماعت والوں سے دین کے معاملات سیکھے اور مزید محنت کیلئے لوگوں کو تاکید کی ۔
پھر جب ان کے چالیس دن پورے ہوگئے تو انکی رخصتی کے دن اس محلے میں گھمسان کا عالم تھا جیسے کہ انکا کوئی خاص عزیز فوت ہوگیا ہو ۔ یہ آپ کہاں جا رہے ہیں ؟؟ کیا آپ لوگوں کو دکانیں چاہئیں؟ ؟
کیا آپ لوگوں کو مکان چاہئے یا عورتیں؟ ؟؟ دکان مکان کا بندوبست ھمارے ذمے ہے ھم اپنی بیٹیوں کے نکاح آپ سے کرنے کیلئے تیار ہیں بس آپ لوگ ھمارے ساتھ رہ کر ھماری اسلام سے متعلق مزید رہنمائی فرمائیں ۔
تو جماعت والوں نے انکو اپنی ترتیب سے متعلق بتایا لیکن وہ مانے ۔
وہ لوگ بضد تھے کہ آپ لوگ واپس نہ جائیں کہیں پھر سے ھماری نسلیں تباہ نہ ہوجائیں تبلیغیوں نے اپنی مجبوریاں اور تقاضے بتائے تو بلاخر اس بات پر وہ آمادہ ہوگئے کہ ھم لوگ جاتے ہی اک دوسری جماعت بھیجنے کے لئے اپنے مرکز میں درخواست کریں گے ۔
اس طرح سے یہ جماعت اللہ کی راہ سے واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئی۔

امریکہ میں قریبا 52 صوبے ہیں وہاں کے لوگ جب رائیونڈ میں اجتماع پر آئے تو درخواست کی کہ ھمیں ہر صوبے کیلئے الگ سے ایک جماعت چاہئے جو در
در پہنچ کر اسلام کی حقانیت سے لوگوں کو مستفید کریں۔

امریکہ میں اک جماعت گئی اس جماعت کے دولوگ ایک بندے کے پاس دین کی غرض سے پہنچے تو اس نے اک بندے کا گریبان پکڑ کر کہا میرے ابو امی بغیر کلمہ پڑھے اس دنیا سے چلے گئے ہیں اس سب کے ذمہ دار تم لوگ ہو ۔
تم لوگوں نے دین پہنچانے میں بہت دیر کر دی قیامت کے دن میں تم لوگوں سے اس بات کا حساب لونگا ۔
جب اس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس سے اس ملال کی وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کچھ ہی ماہ پہلے وہاں کی اک دوسری جماعت آئی تھی جنکی بدولت یہ بندہ اسلام سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوا ہے اور اسکو دکھ ہے کہ اسکے والدین بہت بڑی نعمت سے شرمندہ ہوکر ھمیشہ کیلئے جہنم کی آگ میں جلیں گے۔

فلپائن میں 400 سال پہلے 100 فیصد مسلمان تھے لیکن اسلام سے ناھم آہنگی کی بدولت یہ لوگ اسلام سے دور ہوتے گئے اور کچھ لوگ تو برائے نام مسلمان رہ گئے باقی سب مرتد ہوگئے ۔
کسی کا بھائی عیسائی تو کسی کا باپ ۔
جب پہلی بار 1976 میں رائیونڈ سے وہاں جماعت گئی تو سات آدمی اس کام میں لگ گئے پھر 1993 تک ایک لاکھ فلپائینی تبلیغ کی محنت پر گامزن ہوچکے تھے .
بنگلہ دیش میں تبلیغی اجتماع کے موقع پر ایک فرانسیسی آچانک ممبر پر آکر کہنے لگا کہ اے لوگو ھم نے تم لوگوں تک چھوٹی سے چھوٹی اپنی ایجادات بھیجی تاکہ سارے لوگ ھماری ایجادات سے مستفید ہوں لیکن تم نے لوگوں نے مفت کا کلمہ تک ھمارے اجداد سے روکے رکھا اسکا حساب اللہ تم سے لے گا ۔

چند سال پہلے تنزانیہ میں ایک جماعت گئی ۔
کچھ ماہ بعد انکا ایک خط رائیونڈ میں موصول ہوا کہ یہاں کے لوگوں میں دین کی اتنی طلب اور پیاس ہے کہ ایک دن میں 3ہزار لوگوں نے اسلام کی دعوت قبول کر لی ۔
اور جب وہ جماعت سال پورا کرکے واپس آئی تو کارگزاری میں بتایا کہ ایک سال میں 20 ہزار لوگ مسلمان ہوئے ہیں ۔

انگلینڈ میں 1952 میں جب پہلی جماعت گئی تو وہاں صرف دو مسجدیں تھیں اور اب تبلیغ کی محنت اور اللہ کے کرم سے 1500 مساجد ہیں۔ ۔
جن میں سے 100 سابقہ گرجا گھر ہیں ۔
انگلیڈ والوں کا کہنا ہے کہ وہاں اب گرجا گھر بہت کم رہ گئے ہیں جب بھی کوئی گرجا گھر فروخت ہونے لگتا ہے تو مسلمان خریداری میں پہل کرتے ہیں ایک گرجا گھر کی خریداری پر ایک ہندو نے مندر بنانے کیلئے قیمت میں چھڑائی کردی تو مسلمانوں کی عورتوں نے اپنے زیور بیچ کر اسکی رقم ادا کی اور گرجا گھر کی جگہ مسجد تعمیر کرائی ۔
یاد رہے گرجا گھروں کی جگہ مسجدوں کی تعمیر کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے حکومت نے پابندی بھی لگائی تھی ۔ اب وہاں گرجا گھر صرف اتوار والے دن کھولے جاتے باقی پورا ہفتہ بند رہتے ہیں ۔

یوگوسلاویہ میں جب پہلی جماعت گئی تو دور دور تک مسجدوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے انکو ہوٹل میں رہنا پڑا اور اب الحمدللہ دعوت و تبلیغ کی محنت سے وہاں آج 3500مساجد آباد ہیں ۔

ہالینڈ کا موجودہ تبلیغی مرکز پہلے پادریوں کا دینی مدرسہ تھا جہاں پر پادریوں کو دینی تعلیم دی جاتی تھی ۔

لندن میں جو تبلیغی مرکز ہے وہ پہلے عیسائیوں کا گرجا گھر تھا ۔
کینیڈا میں پادریوں کا ایک بہت بڑا مدرسہ تھا لیکن آج وہاں پر قرآن و حدیث کا درس دیا جاتا ہے ۔

فلپائن سے ایک جماعت کو کیوبا بھیجا گیا جس کی برکت سے وہاں کے 3000 مرتدوں نے کلمہ پڑھا اور 30 باقی لوگ بھی اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئے ۔
جب یہ جماعت واپس آنے لگی تو کیوبا والے زارو قطار رونے لگے اور درخواست کی کہ ھمارے بھائیوں سے کہنا ھمیں بھول نہ جائیں ھمارے یہاں راہنمائی کیلئے اسلام کے فروغ کیلئے اور ھماری نسلوں کے ایمان کے تحفظ کیلئے آتے رہنا ۔

فلپائن میں عورتوں کی ایک جماعت گئی تو انکا بیان سن کر60 فلپائینی عوروتیں نے وہیں بیٹھ کر اپنے لئے برقعے منگوائے اور واپسی پر برقعوں میں ملبوس ہوکر واپس گھر ہوئی ۔
انہوں نے اپنے بچوں کو دین کی تعلیم کیلئے رائیونڈ بھیجا جب پتہ چلا کہ دینی تعلیم کیلئے پوری دنیا سے لوگ رائیونڈ کی طرف آرہے ہیں اور تعداد میں کثرت کی وجہ سے کچھ بچوں کو واپس کیا جارہا ہے تو فلپائنی عورتوں کی طرف سے ایک خط موصول ہوا کہ خدارا ھم نے اپنے زیور بیچ کر بچوں کو دین کہ تعلیم کیلئے روانہ کیا ہے خدا کیلئے انکو واپس نہ کرنا ورنہ یہ کبھی بھی دین کو سمجھ نہ سکیں گے
.شکریہ

Tuesday, 19 June 2018

anay wala dur barha mushkil ha

خواتین و حضرات! آنے والا وقت بہت زیادہ خوفناک ہے۔ اس میں کئی خطرناک کھیل شروع کر دیئے جائیں گے۔ یہ کھیل عید کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ عید کے بعد منظور پشتین جیسے کئی گھٹیا کردار سامنے آئیں گے. یہ چھوٹی چھوٹی تحریکوں کے نام پر سامنے آئیں گے۔ ان تحریکوں کو ’’اچکزئی نظریے‘‘ کے پاسبان سپورٹ کریں گے۔ اس سلسلے میں گلگت میں بھی کام شروع ہو چکا ہے۔ کوئٹہ کے اندر لوگوں کو بہلانے پھسلانے والے بھی سرگرم ہیں۔ لندن میں بیٹھا ہوا ایک کالا کردار کراچی اور حیدرآباد کے کئی کرداروں سے رابطے میں ہے۔ عید کے بعد جب شریف خاندان کے لوگوں کو سزا ہو گی تو ’’اچکزئی نظریہ‘‘ پنجاب میں نظر آئے گا۔ سڑکوں پر ہنگامے ہوں گے۔ اس دوران لوڈشیڈنگ بھی ہو گی، لوگوں کو کئی اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک سیاسی جماعت پیسے کے زور پر پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائے گی۔ ان کے سارے سوشل میڈیا کنونشن سرگرم ہو جائیں گے۔ اس دوران بیرونی میڈیا سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ چند بیرونی طاقتیں پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے چکر میں ہیں۔ اسی لئے تو پاکستان کو پانی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ افراتفری، ہنگاموں اور احتجاجوں کا عروج جولائی میں ہونے والے الیکشن کو کھا جائے گا۔ جن لوگوں کو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا وہ کچھ دن انتظار کر لیں کیونکہ شہبازشریف اور نوازشریف ایک نظریے پر متفق ہو چکے ہیں۔ شریف فیملی کے جس آخری فرد کا جہاں کہیں بھی خاص رابطہ تھا، اب وہ بھی ٹوٹ چکا ہے۔ بس ٹوٹ پھوٹ کا یہ عمل منظرنامے کی اگلی بدصورتی بیان کر رہا ہے اور اگلی بدصورتی یہی ہو گی کہ 25 جولائی کو الیکشن نہیں ہوں گے۔ الیکشن جب بھی ہوئے اس سے پہلے صفائی ستھرائی ضرور ہو گی۔ حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان سے پیار کرنے والے ایک ہو جائیں کیونکہ پاکستان کے دشمن ہمارے وطن کے خلاف ایک ہو چکے ہیں اور انہیں ملک کے اندر سے ’’اچکزئی نظریے‘‘ کے حامل کئی افراد میسر ہیں۔ وہ تب تک حاوی نہیں ہوسکتے جب تک آپ کی فوج  ہے،
فوج کو وہ شکست نہیں دے سکے، اب یہ کام وہ آپ سے لینا چاہتے ہیں۔

بس یہی ففتھ جنریشن وار ہے۔

اگر آپ یہ خود کشی نہیں کرنا چاہتے تو اپنی فوج کو نشانہ بنانا بند کیجئیے۔

اور اگر انکا مقابلہ کرنے کا دل ہے تو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو مورچہ سمجھ لیجئیے۔۔۔۔۔۔۔

بنیادی طور پر آپ کے تین نمایاں دشمن ہیں۔

لبرلز:  ایمان کے دشمن
خارجی: جان کے دشمن
جمہوریے: مال کے دشمن

تینوں کے پاس خوبصورت نعرے

لبرلز انسانیت کا نعرہ،
خارجی اسلام کا نعرہ،
اور جمہوریے حقوق کا نعرہ،

لیکن حقیقت میں ایک کافر کرتا ہے، دوسرا مارتا ہے اور تیسرا لوٹتا ہے۔

تینوں کا آپس میں ایک غیراعلانیہ اتحاد ہے۔ 

آپ غور کیجئیے  ۔۔۔۔۔۔۔

اور ان تینوں کا مشترکہ دشمن کون؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔  پاک فوج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!!

خارجی پاک فوج کو اسلام دشمن کہہ کر،
لبرلز پاک فوج کو دہشت گرد کہہ کر،
اور سیاست دان پاک فوج کو جمہوریت دشمن کہہ کر اس پر حملہ آور ہیں،

ان کو امریکہ، برطانیہ اور انڈیا کی بھرپور مدد و حمایت حاصل ہے۔

ان سے لڑنا کیسے ہے؟

1 ۔۔۔ سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف پوسٹ کیا گیا مواد ہرگز شئیر مت کیجئیے۔

2 ۔۔۔۔ ایسے مواد پر لائک یا کمنٹ مت کیجئیے۔ مخالفت میں بھی کمنٹ کرینگے تو وہ پوسٹ کی ریچ بڑھا دیگا۔

3۔۔۔۔۔۔ ہوسکے تو فیس بک کو رپورٹ کیجئیے۔

4 ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس اکاؤنٹس سے ایسا مواد شئیر کیا گیا ہے اسکو انفرینڈ یا انبلاک کیجئیے۔

5 ۔۔۔۔۔ ایسے اکاؤنٹس اکثر فیک ہوتے ہیں اس لئے فیس بک کو رپورٹ کیجئیے۔

6 ۔۔۔۔ پاک فوج کو سپورٹ کرنے والا مواد گروپس میں اور وٹس ایپ وغیرہ پر زیادہ سے زیادہ شیر کیجئیے۔

7 ۔۔ پاک فوج کی سپورٹ میں بنائے گئے پیجز اور اکاؤنٹس کو لائیک یا فالو کیجئیے۔

8 ۔۔۔۔ خود بھی لکھنے کی کوشش کیجئیے۔

9 ۔۔۔۔۔ یہ فوج آپ کے لئے جانیں دے رہی ہے اس پر بھروسہ رکھئیے۔ غیر واضح معاملات میں دشمن آپ کو فوج سے بدگمان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی باتوں میں مت آئیے۔

 " فوج اچھی ہے اور جرنیل برے ہیں" کہہ کر آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔

ان کے سامنے پاک فوج کی قربانی کی خبر پیش کریں تو بظاہر غم زدہ ہونے کا ڈراما کرتے ہوئے آپ کو بتائنگے کہ " یہ فلاں جرنیل کی غلطی ہے" اور یوں پاک فوج پر ہی تنقید کرینگے۔

اگر دشمن حملہ کرے تو بجائے اس کو ملامت کرنے کے یہ آپ کو پاک فوج کو ہی ملامت کرتے نظر آئے گے  کہ " کہاں گئی آپ کی جانباز فوج" ۔۔۔۔

ان کی ٹائم لائن پر سوائے پاک فوج پر تنقید کے آپ کو کچھ نہیں ملے گا لیکن واویلا مچائے گے کہ " وہ کون سی مقدس گائے ہے جس پر تنقید کی اجازت نہیں " ۔۔۔۔۔  :) ۔۔ آپ کو علم ہونا چاہئیے کہ پاکستان میں فوج پر جتنی بے دھڑک تنقید ہوتی ہے دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ہوتی۔

ان کی ان چالوں کو سمجھئیے۔ 

گستاخانہ پیجز چلانے والے، آپ کو بموں سے اڑانے والے اور آپ کو لوٹنے والے ہرگز ہرگز ہرگز آپ کے خیر خواہ نہیں ہیں۔

پاک فوج نہ رہی تو افغانستان اور انڈیا آپ کو کھا جائے گے۔ ان کو تو چھوڑیں آپ ان خوارج سے ہی نہیں نمٹ سکیں گے جن کو صرف آپ کے لئے تیار کیا گیا ہے۔

اسلام کے خلاف جنگ میں پاکستان اہم ترین قلعہ ہے اور پاکستان تب تک فتح نہیں ہو سکتا جب تک پاک فوج موجود ہے۔ اپنی ہی فوج کو شکست دینے میں دشمن کا ہاتھ مت بٹائیے....۔

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...