ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے اوازے نکالنےلگا.
گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا.
جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے، وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا، چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں، اور گڑھے کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا، اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں.
یہ سوچ کر اس نے اپنے
اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور گڑھا بند کرنا شروع کر دیا.
سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی، بجری اور کوڑا کرکٹ گڑھےمیں ڈال رہے تھےگھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا.
اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی.
کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا.
جب کسان نے جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے.
یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا. کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا.
یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں آ گئے.
زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے،
ہماری کردار کشی کی جائے،
ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے،
ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے،
لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں،
بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے.
زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں
یا
ان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں...
خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا...!!!!!!!
Monday, 30 October 2017
apni Manzil
Friday, 27 October 2017
NA 4
این اے چار
نشست خالی ہوئی گلزار خان کی وفات کی وجہ سے..
اسد گلزار خان جو کہ گلزار خان مرحوم کا بیٹا ہے
جناب نے ٹکٹ مانگا
کپتان نے انکار کر دیا..
مریم لیگ یا بلاول لیگ ہوتی تو ضرور دیتی
لیکن تحریک انصاف کا منشور میرٹ ہے..
اسد گلزار کو ٹکٹ نا ملا تو موصوف تحریک انصاف چھوڑ کر بلاول پارٹی میں شمولیت کر گئے
جسے دو دن تک بلاولی لونڈے لگاتار زرداری کی سیاسی پختگی اور الیکشن میں جیت ڈکلئیر کرتے رہے..
خیر کپتان نے ٹکٹ دیا ارباب عامر کو..
مخالفت میں ڈیزل+شیر پاؤ نے مریم کو گود لینے یعنی مریم کی حمایت کا اعلان کر دیا..
جماعت غیر اسلامی نے بڑے پُر تپاک انداز میں کپتان کو کہا کہ چونکہ ہمارا ووٹر زیادہ ہے اس لیے کپتان اپنا امیدوار ہمارے حق میں دستبردار کر دے
اے این پی کے لونڈے عمران نے کے پی میں کیا کر لیا کے نعرے کو لے کے میدان میں اُترے
کُل ملا کر تمام مفاد پرست نامی گرامی پارٹیاں مخالفت میں..
کپتان کو کون سِکھائے..
2013 میں تحریک نے 50 ہزار ووٹ لیا تھا.
جنرل الیکشن اور گلزار خان کی اچھی شہرت..
تحریک کا اور گلزار خان کا ووٹ ملا کر 50+ ووٹ ملا کپتان کو..
اب کیا ہوا..
ضمنی الیکشن جس میں ٹرن آؤٹ بھی کم اور مرحوم ایم این اے کا بیٹا بھی مخالف..
اتحادی بھی تیار..
غیور پختونوں نے عملی طور پہ بتایا کہ کپتان نے کے پی میں کیا کر لیا..
47 ہزار ووٹ.. وہ بھی ضمنی میں اُس حلقے میں جس میں جنرل الیکشن میں 50 تھا..
ٹرن آؤٹ کے اعتبار سے کپتان کے ووٹ میں اچھا خاصا اضافہ ہے..
ٹرن آؤٹ کی ٹرم پٹواری نہی سمجھ سکتے..
دوسری طرف مریم لیگ نے 20 ہزار جنرل میں لیا اکیلے
اور ڈیزل نے قریباً 12
اب مریم+ڈیزل+شیرپاؤ تینوں کے اجماع کے نتیجے میں 20 سے بڑھ صرف 25 ہوا..
اب تینوں لڑ رہے کہ یہ 25 میں 10 میرا, 15 میرا..
.............................
جسے سمجھ آ جائے وہ سمجھ لے کپتان نے کے پی میں کیا کر لیا..
جسے سمجھ نا آئے وہ سیاست سے کنارہ ہی کر لے بہتر...
..!!!!!!
Tuesday, 24 October 2017
Baba G aur Rishwat
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
چاچا ! فائل میں پہیے لگیں گے تو فائل آگے جائے گی نا !!!!
بیٹا ! میں پہیے نہیں لگا سکتا یہ حرام ہے ۔۔۔۔اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: رشوت لینے اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں
تو چاچا جی !آپ کی فائل آگے کیسے جائے گی؟ فائل آگے لے جانی ہے توپہیے لگانے ہوں گے ۔
ایسا ہے آپ کمرے کے باہر بیٹھو صاحب آئیں گے تو مل لینا اب میرا وقت خراب نہیں کرو
چا چا آفس کے باہر بینچ پر بیٹھ گئے
ہاہاہا۔۔۔۔میں نےبڑے میاں کو آفس سے باہر بٹھا کر قہقہہ لگایا
بڑے میاں کا ایک سرکاری کام تھا کام بھی بالکل جائز تھا مگر سیکریٹریٹ کا اپنا ایک اصول ہے بغیر مال کے کام نہیں کرنا ۔۔۔۔۔لوگ رشوت دے کر یہاں اپنی پوسٹنگ کرواتے ہیں ۔۔۔۔۔پھر مال بناتے ہیں ،اب بھلا یہ بات بڑے میاں کو کون بتائے ۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے سوچا ۔
ٹرن ٹرن ٹرن ۔۔۔۔۔۔فون کی گھنٹی مجھے میری سوچوں سے واپس اسی دنیا میں کھینچ لائی میرا موبائل فون بج رہا تھا
بات سُنیے ! آپ فوراً ،کے کے ہسپتال پہنچیے :میری بیوی کی انتہائی پریشان آواز نے مجھے حواس باختہ کر دیا ۔
میں نے کام کو ایک طرف رکھاجلدی سے رکشہ پکڑا اور فورا ً ہسپتال پہنچا
میرے بیٹے کا شدید ایکسڈینٹ ہو اتھا ایمرجنسی مدی موجو د ڈاکٹر سے میری بیوی روتے ہوئے منت سماجت کررہی تھی کہ میرے بیٹے کو دیکھ لو اور عملہ کہہ رہا تھا پہلے ایک لاکھ روپے جمع کرائیے اس سے پہلے ڈاکٹر ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے ۔
میں نے ڈاکٹر سے کہا: پلیز! آپ میرے بیٹے کو دیکھ تو لیجیے میں ایک لاکھ نہیں دو لاکھ جمع کرا دوں گا
جتنی دیر آپ بات کرنے میں وقت ضائع کررہے ہیں اتنی دیر میں تو آپ پیسوں کا انتظام کر لیتے ۔ ڈاکٹر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا
میں جیسے تیسے بینک پہنچا فورا ایک لاکھ روپے لیے اور واپس ہسپتال پہنچا تو میرا بیٹا اس دنیا سے رخصت ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے پا س آنسوؤں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا ۔۔۔۔میں چیخنا چاہتا تھا اس ظالم نظام کے خلاف مگر میری آواز حلق میں گھٹ کر رہ گئی ۔
بیٹے کے صدمے نے بیوی کو پلنگ سے لگا دیا ۔۔۔۔
پیسے جمع کر کے پلاٹ لیا تھا معلوم ہوا وہ فرا ڈ تھا اور وہ کمپنی پیسے لے کر بھاگ گئی ہے میں ایک مرتبہ پھر کرائے کے مکان میں ہی رہنے پر مجبور تھا۔۔۔بیٹی کی شادی کی تھی کچھ دنوں بعد ہی اس کو طلاق ہو گئی ۔۔۔۔ ۔ چھوٹا بیٹا نشے کی لت میں گرفتار ہو چکا تھا ،مسائل تھے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ۔
میری رشوت کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا تھا جس تیزی سے میری اوپر کی آمدنی بڑھ رہی تھی اسی طرح میرے مسائل میں بھی اضافہ ہورہا تھا
میں تھک گیا تھا مسائل سے لڑتے لڑتے
آخر میرا ایک دوست مجھے ایک بزرگ کے پاس لے گیا تاکہ میں ان سے تعویذ لے سکوں
بزرگ نے مجھ پر ایک نگاہ ڈالی اور کہا : پریشانیاں تو خود خریدتے ہو اور پریشان کرنے ہمیں آجاتے ہو
میں حیران رہ گیا میں نے عرض کی : بابا جی ! پریشانیاں کون خریدنا چاہتا ہے ؟
حق دار وں کو اس وقت تک حق نہیں دیتے جب تک فائل میں پہیے نہ لگیں؟
بابا جی کے انکشاف نے میرے پیروں تلے زمین نکال دی تھی
یاد رکھنا ! جب تم کسی کو پریشان کرتے ہو تو دراصل تم اسے پریشان نہیں کرتے بلکہ اس کو پریشان کرکے اس کی اصل پریشانی کو اپنے گلے میں باندھ رہے ہوتے ہو
لوگوں کے خاندان ان سے وابستہ ہوتے ہیں جب تمہیں انہیں پریشان کرتے ہو تو ان کی آنے والی پریشانی تمہارے اکاؤنٹ میں جمع ہو جاتی ہے اور اس کی قیمت تم ادا کرتے ہو۔
جاؤ ! اور اس بوڑھے سے معافی مانگو جس کاجائز کام تم نے ایک طویل عرصے سے محض رشوت نہ دینے کے جرم میں روک رکھا ہے
تمہاری ساری پریشانیاں وہ ہیں جو تم نے خود خریدی ہیں
رشوت لینا اور لوگوں کو تنگ کرنا چھوڑ دو تمہارے سارے مسائل حل ہو جائیں گے تمہیں تعویذ کی ضرورت نہیں ہے
تم اصل میں خود پریشانیوں اور مسائل کے خریدار ہو ۔۔۔۔بابا جی کے الفاظ میرے کان میں گونج رہے تھے اور آفس کے باہر بینچ پہ بیٹھے ہوئے بوڑھے کی پریشان کن تصویر بار بار میری نگاہوں میں گھوم رہی تھی ۔۔۔۔
میں فوراً آفس پہنچا سب سے پہلے ان کا کام کیا ۔۔۔۔آئندہ رشوت لینے سے توبہ کی کچھ دن مالی پریشانی محسوس ہوئی پر اب بہت مطمئن ہوں بیٹی کی شادی ایک اچھی جگہ ہو گئی ۔۔۔۔۔۔ بیوی صدمے سے باہر آگئی ۔۔۔بیٹے کا علاج کرایا دیگر مسائل بھی ختم ہوتے چلے گئے اب ایک مطمئن زندگی گزار رہا ہوں
بابا جی کے الفاظ : ’’تم خود پریشانیوں کے خریدار ہو ‘‘ نے میری زندگی بدل دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔منقول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
Monday, 23 October 2017
Japan no1 country
جاپان کا ٹوکیو شہر آج کل ایمانداری میں ساری دنیا میں ٹاپ کر گیا ھے اورجاپانی اقوام عالم میں نمبر ون کیسے ھیں .....
یہ دس حقائق آپ کو وجہ بتائیں گے۔
1- جاپان میں پہلی جماعت سے لیکر سے تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ایسا سبجیکٹ بھی پڑھاتے ہیں جس میں انہیں روزمرہ کے معاملات اور لوگوں کے ساتھ برتاؤ کی اخلاقیات کے بارے میں سمجھایا اور بتایا جاتا ہے۔
2- جاپان میں پہلی جماعت سے تیسری تک بچوں کو فیل کرنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ کیونکہ ان چھوٹے بچوں کی تعلیم کا مقصد ان کی تربیت اور ان کی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے ناکہ ان کو تلقین اور روایتی تعلیم۔
3- چہ جائکہ جاپانی دنیا کی امیر ترین قوموں میں شمار ہوتے ہیں مگر ان کے گھر میں کام کاج کیلئے نوکر اور خادم کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ ماں باپ ہی بچوں اور گھر کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
4- جاپانی بچے روزانہ اپنے اساتذہ کے ساتھ ملک 15 منٹ کیلئے اپنے سکول کی جھاڑ پھونک اور صفائی ستھرائی کرتے ہیں، اس مشق کا مقصد انہیں اخلاقی طور پر متواضع بنانا اور عملی طور پر صفائی پسند بنانا ہوتا ہے۔
5- جاپان میں ہر بچہ اپنا دانت صاف کرنے والا برش بھی سکول ساتھ لیکر جاتا ہے، سکول میں کھانے پینے کے بعد ان سے دانت صاف کرائے جاتے ہیں، اپنے بچپن سے ہی ان کو اپنی صحت کا خیال رکھنے والا بنایا جاتا ہے۔
6- سکولوں میں اساتذہ اور منتظمین کھانے کا معیار جانچنے اور بچوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے طلباء سے آدھا گھنٹہ پہلے کھانا کھاتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہی بچے ہی جاپان کا مستقبل ہیں اور ان کی حفاظت کا یقینی بنایا جانا کتنا اہم ہے۔
7- جاپان میں صفائی کا کام کرنے والے کو ایک خاص نام سے پکارا جاتا ہے جس کا مطلب ہیلتھ اینجینئر بنتا ہے۔ اس کی تنخواہ امریکی ڈالر میں 5000 سے 8000 کے درمیان رہتی ہے۔ اس ملازمت کیلئے امیدوار باقاعدہ زبانی اور تحریری امتحان پاس کرتے ہیں۔
8- جاپان میں گاڑیوں، ریسٹورنٹس اور بند مقامات پر موبائل استعمال نہیں کیا جاتا۔ جاپان میں سائلنٹ موڈ پر لگے موبائل کو ایک خاص نام دیا جاتا ہے جس کا مطلب اخلاق پر لگا ہونا بنتا ہے۔
9- جاپان میں اگر آپ کسی کھلی دعوت یا بوفیہ ڈنر پر چلے جائیں وہاں پر بھی یہی دیکھیں گے کہ لوگو اپنی پلیٹوں میں ضرورت کے مطابق ہی کھانا ڈالتے ہیں۔ پلیٹوں میں کھانا بچا چھوڑنا جاپانیوں کی عادت نہیں ہے۔
10- جاپان میں سال بھر گاڑیوں کی اوسط تاخیر 7 سیکنڈ تک ہوتی ہے۔ جاپانی وقت کے قدردان لوگ ہیں اور منٹوں سیکنڈوں کی بھی قیمت جانتے ہیں.....
11- بہت خوب لیکن ایک ضروری بات وہ یہ کہ۰۰ جاپانی امیر نہیں ہیں ۰۰ دنیا کے 100 امیر لوگوں میں ایک بھی جاپانی نہیں ہے۰۰زندگی بہت سمپل ہ۰۰.....!
Sunday, 22 October 2017
Nagin
اسے مارسکیں مگر اس شخص نے یہ کہہ کر انہیں ٹھنڈا کردیا کہ ’’ہمیں ناگن سے ملنے والے کے انڈے کا نفع بکری کی قیمت سے کہیں زیادہ ہے، لہٰذاپریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘کچھ عرصہ بعد ناگن نےان کے پا لتو گدھے کوڈَس لیا جو فوراً مرگیا۔ اب تو وہ شخص بھی سخت گھبرایا مگر لالچ کے مارے اس نے فوراً خود پر قابو پالیا اور کہنے لگا : ’’اس نے آج ہمارا دوسرا جانور مارڈالا ،خیر کوئی بات نہیں ،اس نے کسی انسان کو تونقصان نہیں پہنچایا۔‘‘ گھروالے چپ ہورہے۔ اس کے بعد دوسال کا عرصہ گزر گیا مگر ناگن نے کسی کو نہیں ڈسا ، اہل خانہ بھی اپنے جانوروں کے نقصان کو بھول گئے۔پھر ایک دن ناگن نے ان کے غلام کو ڈَس لیا۔اس بے چارے نے مددکے لئے اپنے مالک کوپکارا،مگر اِس سے پہلے کہ مالک اْس تک پہنچتا، زہرکی وجہ سے غلام کاجِسم پھٹ چکاتھا۔اب وہ شخص پریشان ہوکرکہنے لگا:’’ اس ناگن کازہرتوبہت خطرناک ہے ،اس نے جس جس کو ڈَسا وہ فوراًموت کے گھاٹ اُتر گیا ، اب کہیں یہ میرے گھر والوں میں سے کسی کو نہ ڈس لے۔‘‘کئی دن اسی پریشانی میں گزرگئے کہ اس ناگن کا کیا کیا جائے؟ دولت کی حرص نے ایک بار پھر اس شخص کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور اس نے یہ کہہ کر اپنےگھر والوں کو مطمئن کر دیا :’’اگرچہ اس ناگن کی وجہ سے ہمیں نقصان ہو ر ہا ہے مگر سونے کے انڈے بھی تو ملتے ہیں ، لہٰذاہمیں زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے۔‘‘کچھ ہی دنوں بعدناگن نے اس کے بیٹے کوڈس لیا۔ فوراًطبیب کو بلایا گیا لیکن وہ بھی کچھ نہ کرسکااوراس کی موت واقع ہوگئی۔جوان بیٹے کی موت میاں بیوی پر بجلی بن کر گری اوروہ شخص غضبناک ہوکر کہنے لگا:’’اب میں اس ناگن کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘مگر وہ اْن کے ہاتھ نہ آئی۔ جب کافی عرصہ گزر گیا تو سونے کا انڈہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کی لالچی طبیعت میں بے چینی ہونے لگی، چنانچہ دونوں میاں بیوی ناگن کے بل کے پاس آئے،وہاں کی صفائی کی اور دھو نی دے کر خوشبومہکائی،یوں ناگن کو صلح کا پیغام دیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر وہ واپس آگئی اور انہیں پھر سے سونے کا انڈاملنے لگا۔مال ودولت کی حرص نے انہیں اندھا کردیا اور وہ اپنے بیٹے اورغلام کی موت کوبھی بھول گئے۔پھرایک دن ناگن نے اس کی زوجہ کو سوتے میں ڈس لیا،تھوڑی ہی دیر میں اس نے بھی تڑپ تڑپ کرجان دے دی۔اب وہ لالچی شخص اکیلارہ گیاتواس نے ناگن والی بات اپنے بھائیوں اوردوستوں کو بتا ہی دی۔سب نے یہی مشورہ دیا:’’تم نے بہت بڑی غلطی کی،اب بھی وَقت ہے سنبھل جاؤاور جتنی جلدی ہوسکے اس خطرناک ناگن کومار ڈالو۔‘‘اپنے گھر آکر وہ شخص ناگن کو مارنے کے لئے گھات لگا کر بیٹھ گیا۔اچانک اسے ناگن کے بل کے قریب ایک قیمتی موتی نظرآیاجسے دیکھ کراس کی لالچی طبیعت خوش ہوگئی۔دولت کی ہَوَس نے اسے سب کچھ بھلا دیا،وہ کہنے لگا: ’’وقت طبیعتوں کوبدل دیتاہے، یقینااس ناگن کی طبیعت بھی بدل گئی ہوگی کہ جس طرح یہ سونے کے انڈوں کے بجائے اب موتی دینے لگی ہے، اسی طرح اس کازہربھی ختم ہوگیا ہوگا،چنانچہ اب مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں۔‘‘یہ سوچ کر اس نے ناگن کو مارنے کا اِرادہ ترک کردیا۔روزانہ ایک قیمتی موتی ملنے پر وہ لالچی شخص بہت خوش رہنے لگااورناگن کی پرانی دھوکہ بازی کوبھول گیا۔ایک دن اس نے ساراسونااور موتی برتن میں ڈ الے اور اس پر سر رکھ کر سوگیا۔اسی رات ناگن نے اْسے بھی ڈس لیا۔ جب اس کی چیخیں بلندہوئیں توآس پاس کے لوگ بھاگم بھاگ وہاں پہنچے اوراس سے کہنے لگے:’’ تم نے اسے مارنے میں سْستی کی اورلالچ میں آکراپنی جان داؤ پر لگا دی !!!!'
Thursday, 19 October 2017
mickel jackson
#موت سے ہجرت ممکن نہیں____•●•
اس نے امریکہ اور یورپ کے 55 چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی خدمات حاصل کیں یہاں تک کہ 1987ء تک مائیکل جیکسن کی ساری شکل وصورت‘ جلد‘ نقوش اور حرکات و سکنات بدل گئیں۔ سیاہ فام مائیکل جیکسن کی جگہ گورا چٹا اورنسوانی نقوش کا مالک ایک خوبصورت مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ گیا۔ اس نے 1987ء میں بیڈ کے نام سے اپنی تیسری البم جاری کی‘ یہ گورے مائیکل جیکسن کی پہلی البم تھی‘ یہ البم بھی کامیاب ہوئی اور اس کی تین کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ اس البم کے بعد اس نے اپنا پہلا سولو ٹور شروع کیا۔ وہ ملکوں ملکوں ‘ شہر شہرگیا ‘ موسیقی کے شو کئے اوران شوز سے کروڑوں ڈالر کمائے۔ یوں اس نے اپنی سیاہ رنگت کو بھی شکست دے دی۔ اس کے بعد ماضی کی باری آئی ‘ مائیکل جیکسن نے اپنے ماضی سے بھاگنا شروع کر دیا‘ اس نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کر لیا۔ اس نے اپنے ایڈریسز تبدیل کر لئے‘ اس نے کرائے پر گورے ماں باپ بھی حاصل کر لئے اور اس نے اپنے تمام پرانے دوستوں سے بھی جان چھڑا لی۔ ان تمام اقدامات کے دوران جہاں وہ اکیلا ہوتا چلا گیا وہاں وہ مصنوعی زندگی کے گرداب میں بھی پھنس گیا۔ اس نے خود کو مشہور کرنے کیلئے ایلوس پریسلے کی بیٹی لیزا میری پریسلے سے شادی بھی کر لی۔ اس نے یورپ میں اپنے بڑے بڑے مجسمے بھی لگوا دئیے اور اس نے مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے ایک نرس ڈیبی رو سے اپنا پہلا بیٹا پرنس مائیکل بھی پیدا کرا لیا۔ ڈیبی رو کے بطن سے اس کی بیٹی پیرس مائیکل بھی پیدا ہوئی۔اس کی یہ کوشش بھی کامیاب ہوگئی‘ اس نے بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی جان چھڑا لی لہٰذا اب اس کی آخری نفرت یا خواہش کی باری تھی۔ وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔ مائیکل جیکسن طویل عمر پانے کیلئے دلچسپ حرکتیں کرتاتھا‘ مثلاً وہ رات کو آکسیجن ٹینٹ میں سوتا تھا‘ وہ جراثیم‘ وائرس اور بیماریوں کے اثرات سے بچنے کیلئے دستانے پہن کر لوگوں سے ہاتھ ملاتا تھا۔ وہ لوگوں میں جانے سے پہلے منہ پر ماسک چڑھا لیتا تھا۔ وہ مخصوص خوراک کھاتا تھا اور اس نے مستقل طور پر بارہ ڈاکٹر ملازم رکھے ہوئے تھے۔ یہ ڈاکٹر روزانہ اس کے جسم کے ایک ایک حصے کا معائنہ کرتے تھے‘ اس کی خوراک کا روزانہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہوتا تھا اور اس کا سٹاف اسے روزانہ ورزش بھی کراتا تھا‘ اس نے اپنے لئے فالتو پھیپھڑوں‘ گردوں‘ آنکھوں‘ دل اور جگر کا بندوبست بھی کر رکھا تھا‘ یہ ڈونر تھے جن کے تمام اخراجات وہ اٹھا رہا تھا اور ان ڈونرز نے بوقت ضرورت اپنے اعضاء اسے عطیہ کر دینا تھے چنانچہ اسے یقین تھا وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہے گا لیکن پھر 25جون کی رات آئی ‘ اسے سانس لینے میں دشواری پیش آئی‘ اس کے ڈاکٹرز نے ملک بھر کے سینئرڈاکٹرز کو اس کی رہائش گاہ پرجمع کر لیا‘یہ ڈاکٹرز اسے موت سے بچانے کیلئے کوشش کرتے رہے لیکن ناکام ہوئے تو یہ اسے ہسپتال لے گئے اور وہ شخص جس نے ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی‘ جو ننگےپاؤں زمین پر نہیں چلتا تھا‘ جو کسی سے ہاتھ ملانے سے پہلے دستانے چڑھا لیتا تھا‘ جس کے گھر میں روزانہ جراثیم کش ادویات چھڑکی جاتی تھیں اور جس نے 25برس تک کوئی ایسی چیز نہیں کھائی تھی جس سے ڈاکٹروں نے اسے منع کیا تھا۔ وہ شخص 50سال کی عمر میں صرف تیس منٹ میں انتقال کر گیا۔ اس کی روح چٹکی کے دورانیے میں جسم سے پرواز کر گئی۔ مائیکل جیکسن کے انتقال کی خبر گوگل پر دس منٹ میں لاکھوں لوگوں نے پڑھی‘ یہ گوگل کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹریفک ریکارڈ تھا اور اس ہیوی ٹریفک کی وجہ سے گوگل کا سسٹم بیٹھ گیا اور کمپنی کو 25منٹ تک اپنے صارفین سے معذرت کرنا پڑی۔ مائیکل جیکسن کا پوسٹ مارٹم ہوا تو پتہ چلا احتیاط کی وجہ سے اس کا جسم ڈھانچہ بن چکا تھا‘ وہ سر سے گنجا تھا‘ اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں‘ اس کے کولہے‘ کندھے‘ پسلیوں اور ٹانگوں پر سوئیوں کے بے تحاشا نشان تھے۔ وہ پلاسٹک سرجری کی وجہ سے ’’پین کلرز‘‘ کا محتاج ہو چکا تھا چنانچہ وہ روزانہ درجنوں انجیکشن لگواتا تھا لیکن یہ انجیکشنز‘ یہ احتیاط اور یہ ڈاکٹرز بھی اسے موت سے نہیں بچا سکے اور وہ ایک دن چپ چاپ اُس جہان شفٹ ہو گیا جس میں ہر زندہ شخص نے پہنچنا ہے اور یوں اس کی آخری خواہش پوری نہ ہو سکی۔ مائیکل جیکسن کی موت ایک اعلان ہے‘ انسان پوری دنیا کو فتح کر سکتا ہے لیکن وہ اپنے مقدر کو شکست نہیں دے سکتا۔ وہ موت اور اس موت کو لکھنے والے کا مقابلہ نہیں کر سکتا چنانچہ کوئی راک سٹار ہو یا کوئی فرعون دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا۔ وہ قبر کو شکست نہیں دے سکتا لیکن حیرت ہے ہم مائیکل جیکسن کے انجام کے بعد بھی خود کو فولاد کا انسان سمجھ رہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے ہم موت کو دھوکہ دے دیں گے‘ ہم ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہیں گے ۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ آخر ہمیں مرنا ہی ہوگا۔ اور اس نہ ختم ہونے والی زندگی کی تیاری کرنی ہوگی۔
اس لئے اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوں اور لوگوں کے ساتھ گھل مل کررہو ۔ ان کے دکھ درد کے ساتھی بنو۔ لوگوں کے لئے خوشیوں کا سامان کرو ۔ اللہ تمہارے لئے خوشیاں اور آسانیاں پیدا کرے گا۔کسی کے دل میں خوشی داخل کرنا اللہ کا پسندیدہ عمل ہے۔ غریبوں مسکینوں کی غم گساری کرتے رہو۔ اللہ بری موت سے بچائے گا۔ اور آخرت میں اجر عظیم عطاء کرے گا۔
ویسے بھی موت سے فرار ناممکن ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے
اے آدمی بے شک تجھے اپنے رب کی طرف ضرورلوٹنا ہے۔ (پ 30، الانشقاق6
منقول
#science #death #michealjackson....
Sunday, 15 October 2017
Pakistani poltitical Leader
پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈران کا تقابلی جائزہ:
رہائش (جب حکومت میں نہ ہوں)
زرداری و بلاول > دبئی / لندن
نواز شریف > لندن
الطاف حسین > لندن (مستقلاً)
عمران خان > پاکستان
جائیدادیں:
زرداری > لندن, دبئی, فرانس
نواز شریف > لندن
الطاف حسین > لندن
عمران خان > پاکستان
سیاست کے علاوہ کوئی اچیومنٹ:
زرداری > صفر
نواز شریف > صفر
الطاف حسین > صفر
عمران خان > فاتح عالمی کپ, کینسر اسپتال
کوئی بھی غیر سیاسی اعزاز:
زرداری > صفر
نواز شریف > صفر
الطاف حسین > صفر
عمران خان > معروف برطانوی یونیورسٹی بریڈفورڈ کا اعزازی چانسلر
سپورٹرز کے علاوہ کسی بڑی شخصیت کے توصیفی کلمات:
زرداری > صفر
نواز شریف > صفر
الطاف حسین > صفر
عمران خان > متعدد بشمول پاک وہند کے ہر دلعزیز اداکار دلیپ کمار
سنگین جرائم کا الزام جیسے قتل یا دہشتگردی:
زرداری > بدنام زمانہ لیاری گینگ وار کی مکمل سر پرستی. قتل و بھتہ کے متعدد الزامات. عزیر بلوچ کی سرپرستی.
نواز شریف > ماڈل ٹاؤن کیس میں معصوم افراد بشمول خواتین کا بہیمانہ قتل. پنجاب میں متعدد جعلی پولیس مقابلے.
الطاف حسین > کئی عشروں تک کراچی میں سنگین ترین جرائم جیسے کہ قتل, دہشتگردی, بھتہ خوری و ٹارگیٹ کلنگ
عمران خان > صفر
ملک کی سلامتی و سالمیت کے خلاف سنگین اقدام:
زرداری> میمو گیٹ اسکینڈل
نواز شریف > ڈان لیکس
الطاف حسین > کھلم کھلا را کو پاکستان کے خلاف للکارنا. غیر مسلم افواج کو پاکستان کے خلاف کاروائی کی دعوت دینا. فوج کو ہر اس زاویے سے نشانہ بنانا جس کی خواہش بھارت جیسے دشمن رکھتے ہوں. ملک توڑنے کی برملا دھمکی دینے کی متعدد کوششیں.
عمران خان > صفر
www.HarisKhanJadoon.com
mujza
ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﻗﺮﺁﻧﯽ
ﺍﯾﺴﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺟﻮ ﺑﺸﺮﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﻻﺗﺮ ﮨﻮ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ،ﷲ ﮐﮯ ﺑﺮﮔﺰﯾﺪﮦ ﻧﺒﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺅﺩ ؑ ﮐﮯ ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺳﺒﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺅﺩؑ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﻮ ﻧﺮﻡ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺯﺭﮨﯿﮟ ﺑﻨﺎﺅ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﻮ ﺑﮍﯼ ﻗﻮﺕ ﺩﯼ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥؑ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﻨﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ۔ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥؑ ﮐﻮ ﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﻮﻟﯽ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯼ، ﻭﮦ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﮯ
ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮨﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺍﺷﯿﺎ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﯽ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻟﺸﮑﺮ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻠﮑﮧ ﺟﻦ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﮯ، ﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ﮨﻮﺍ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺴﺨﺮ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥؑ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥؑ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺑﺎﺭﯼ ﻧﮯ ﭘﻠﮏ ﺟﮭﭙﮑﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﻣﻠﮑﮧ ﺑﻠﻘﯿﺲ ﮐﺎ ﺗﺨﺖ ﻻﮐﺮ ﺣﺎﺿﺮ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﯾﻮﺏؑ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ’’ ﻧﻌﻢ ﺍﻟﻌﺒﺪ ‘‘ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﺑﻨﺪﮦ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ، ﺳﻮﺭۃ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺹ ﻣﯿﮟ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﯾﻮﺏ ؑ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﮐﮧ ’’ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﺍﺭﺣﻢ ﺍﻟﺮﺍﺣﻤﯿﻦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺩﻋﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﷲ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ’’ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﺎﺅﮞ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻣﺎﺭﻭ ﯾﮧ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﻮ ‘‘ ﯾﻌﻨﯽ ﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﭼﺸﻤﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺎﺻﯿﺖ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻏﺴﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺻﺎﻟﺢؑ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﻗﻮﻡ ﺛﻤﻮﺩ ﻧﮯ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺻﺎﻟﺢؑ ﻧﮯ ﷲ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﮭﮍﯼ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﺎﺭﯼ ﺗﻮ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﺑﺮﺁﻣﺪ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﯾﮧ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺎﻡ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﺳﻮﺭﮦٔ ﮨﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﷲ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮨﮯ ’’ ﯾﮧ ﷲ ﮐﯽ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮨﮯ ‘‘ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢؑ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺑﮯ ﺧﻄﺮ ﺁﺗﺶ ﻧﻤﺮﻭﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺩ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺁﮒ ﮔﻞ ﺯﺍﺭ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ۔ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢؑ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﺠﺰﮮ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺍﻥ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ۔ ’’ ﺟﺐ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢؑ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ! ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮐﮭﺎﺩﮮ ﺗﻮ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟ ﷲ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﺎ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺗﻮ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮨﮯ، ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺗﻢ ﭼﺎﺭ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﻮﺱ ﮐﺮﻟﻮ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺟﺰ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﭘﮩﺎﮌ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﻭ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﻭ، ﻭﮦ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺩﻭﮌﮮ ﭼﻠﮯ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺧﻮﺏ ﺟﺎﻥ ﻟﻮ ﮐﮧ ﷲ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺑﺎﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﯿﻢ ﮨﮯ ‘‘ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻌﻘﻮﺏ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ؑ ﮐﯽ ﻗﻤﯿﺾ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﻟﻮﭦ ﺁﺋﯽ۔ ﺳﻮﺭﮦٔ ﯾﻮﺳﻒ ’’ ﺟﺎﺅ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﻗﻤﯿﺾ ﻟﮯ ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﻭ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﭘﻠﭧ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ‘‘ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺼٰﻔٰﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ۔ ’’ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﻮ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻧﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﻧﮕﻞ ﻟﯿﺎ۔ ﺳﻮ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺗﺴﺒﯿﺢ ’’ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﷲ ﻣﮕﺮ ﺗﻮ، ﭘﺎﮎ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ، ﺑﮯ ﺷﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻗﺼﻮﺭ ﮐﯿﺎ ‘‘ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰؑ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ : ﯾﺪﺑﯿﻀﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ؑ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻟﺘﮯ ﺗﻮ ﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﺷﻌﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﭼﻤﮑﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ۔ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻻﻋﺮﺍﻑ ’’ ﺍﺱ ( ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ) ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻻ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﺗﮭﺎ ‘‘ ﻋﺼﺎﺋﮯ ﻣﻮﺳﯽٰ ؑﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ : ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰؑ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺟﺐ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﻮ ﻭﺍﺩﯼٔ ﺳﯿﻨﺎ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺒﺰﮦ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻭ ﻧﺸﺎﻥ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ، ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻋﺼﺎﺋﮯ ﻣﻮﺳﯽٰ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺿﺮﺏ ﺳﮯ ﺑﺎﺭﮦ ﭼﺸﻤﮯ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ ﻣﻦ ﻭ ﺳﻠﻮﯼٰ : ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺭﺑﺎﻧﯽ ﮨﮯ : ’’ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻣﻦ ﻭ ﺳﻠﻮﯼٰ ﻧﺎﺯﻝ ﮐﯿﺎ، ﺍﻥ ﻃﯿﺐ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﺅ ﺟﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﮟ ‘‘ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ : ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﮨﮯ۔ ﺗﺮﺟﻤﮧ : ’’ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﮐﯿﺎ ‘‘ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ؑ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﷲ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻣﻌﺠﺰﺍﻧﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮯ ﮐﻼﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢؑ ﮐﯽ ﭘﺎﮎ ﺩﺍﻣﻨﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﺩﯼ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ؑ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻃﺐ ﯾﻮﻧﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﺩﻭﮔﺮﯼ ﻋﺮﻭﺝ ﭘﺮ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻃﺐ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ۔ ﭘﯿﺪﺍﺋﺸﯽ ﮔﻮﻧﮕﮯ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ، ﮐﻮﮌﮬﯽ تندﺭﺳﺖ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ۔ ﷲ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ۔ ﻣﭩﯽ ﮐﮯ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﺑﻨﺎﮐﺮ ﷲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﮭﻮﻧﮏ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﭻ ﻣﭻ ﺍﮌﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ۔ ﺟﮭﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﻝ ﭼﻞ ﮐﺮ ﻋﺒﻮﺭ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﯿﭧ ﺑﮭﺮ ﺩﯾﺘﮯ۔ ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ : ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺷﻖ ﺍﻟﻘﻤﺮ : ﯾﮧ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﮨﺠﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﻗﺒﻞ ﻣﻨﯽٰ ﮐﮯ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻇﮩﻮﺭ ﭘﺬﯾﺮ ﮨﻮﺍ۔ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﻘﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻌﺠﺰﮮ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺍﻥ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﺮﺟﻤﮧ : ’’ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﺷﻖ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﮍﺍ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺟﺎﺩﻭ ﮨﮯ ‘‘ ﺁﻗﺎﺋﮯ ﺩﻭ ﺟﮩﺎﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪؐ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﺍﻃﮩﺮ ﮐﮯ ﻟﻤﺲ ﺳﮯ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﺎ ﻣﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺩﺭﺧﺖ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﺎ ﻣﻌﺠﺰﮦ : ﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﺎ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﻋﺠﺎﺯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﯽ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﮩﻮﻟﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺁﺝ ﭼﻮﺩﮦ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺻﻠﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺯﯾﺮ ﺯﺑﺮ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺑﯿﺸﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺣﻀﻮﺭؐﻣﺤﻤﺪؐ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ وسلم ﮐﺎ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻗﺒﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺻﺎﺩﺭ ﻓﺮﻣﺎﻧﺎ۔ ’’ ﺭﺣﻤﺖ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ‘‘ ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺟﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻧﺒﯽ ﮐﮯ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ۔ ﺁﭖؐ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﮨﮯ۔ ’’ ﺳﺮﺍﺟﺎً ﻣﻨﯿﺮ ‘‘ ’’ ﺭﻭﺷﻦ ﭼﺮﺍﻍ ‘‘ ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺁﭖؐ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺍﺧﻼﻕ ﮐﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﺩﺭﺟﮯ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ﷲ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪؐ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺑﻠﻨﺪ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ﺍﻣﺘﯿﺎﺯﯼ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻣﻌﺮﺍﺝ : ﺳﻮﺭﮦٔ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ’’ ﻭﮦ ﺫﺍﺕ ﭘﺎﮎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮦ ( ﻣﺤﻤﺪؐ ) ﮐﻮ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﺭﺍﺕ ﻣﺴﺠﺪ ﺣﺮﺍﻡ ( ﮐﻌﺒﮧ ) ﺳﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻗﺼﯽٰ ( ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ) ﺗﮏ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮔﮭﯿﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﺮﮐﺖ ﻧﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺩﮐﮭﻼﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﻧﻤﻮﻧﮯ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ”.
Hazrat Umar (R.A)
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...
-
خواتین و حضرات! آنے والا وقت بہت زیادہ خوفناک ہے۔ اس میں کئی خطرناک کھیل شروع کر دیئے جائیں گے۔ یہ کھیل عید کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ عید...
-
ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺟﻮ ﺑﺸﺮﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﻻﺗﺮ ﮨﻮ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ،ﷲ ﮐﮯ ﺑﺮﮔﺰﯾﺪﮦ ﻧﺒﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺅﺩ ؑ ﮐﮯ ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺳﺒﺎ ﻣﯿﮟ ﺁ...
-
ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺱ ﺳﺎﻟﮧ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ۔ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﺭﺩ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭﺍ...
