Thursday, 19 April 2018

Horse Trading in Pakistan senate Election

عمران خان نے اپنی پارٹی کے 20 اراکین صوبائی اسمبلی کو ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد پر نکال کر تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا۔

پاکستان کے سیاسی سرکس میں سیاسی گھوڑوں کی خریدو فروخت کا آغاز 1985 ء میں اس وقت ہوا جب نواز شریف نے فاروق لغاری کے مقابلے میں وزارت اعلیٰ پنجاب کا انتخاب جیتنے کا فیصلہ کیا۔

..شریف خاندان کے نہایت قریبی بیوروکریٹ اورسابق چیف سیکرٹری پنجاب مہر جیون خان نے اپنی کتاب’’جیون دھارا‘‘ میں لکھا ہے کہ فاروق لغاری کو شکست دینے کیلئے نواز شریف نے ایک، ایک رکن اسمبلی کو پولیس کے اے ایس آئی اور تحصیلدار و پٹواری کی کئی نوکریاں فراہم کیں جنہوں نے یہ ’’ملازمت کوٹہ‘‘ لاکھوں روپے میں عوام کو فروخت کیا۔

1990 ء میں ایک مرتبہ پھر میاں صاحب کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کیلئے چھانگا مانگا اور مری کے ریسٹ ہاؤسز کااستعمال ملک کی سیاسی تاریخ کا سیاہ باب بن چکا ہے لیکن گزشتہ روز عمران خان نے اپنی پارٹی کے 20 اراکین صوبائی اسمبلی کو ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد پر نکال کر تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے جس نے کپتان کا اخلاقی و انتخابی مورال مزید بلند کردیا ہے۔

گزشتہ35 برس میں پاکستانی سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کو فروغ ملا ہے۔ اس کی ابتدا تو مسلم لیگ(ن) کی جانب سے ہوئی لیکن بعد ازاں پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ(ن) کا مقابلہ کرنے کیلئے خود بھی ہارس ٹریڈنگ کا ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا۔ دونوں جماعتوں نے طویل عرصہ تک سیاسی اصطبل کے برائے فروخت گھوڑوں کا خوب کاروبار کیا ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک نیم سیاسی کاروباری فیملی نے سینیٹر بننے کیلئے فاٹا کے اراکین قومی اسمبلی کی خریداری میں نئے’’نرخ‘‘ متعارف کروائے اور یہ طریقہ اتنا مقبول ہوا کہ ہر پارٹی نے زیادہ سے زیادہ سینٹ نشستیں جیتنے کیلئے فاٹا اور کے پی کے کو ہی مرکز نگاہ بنا لیا۔ فاٹا میں زیادہ دلچسپی اور ’’ریٹ‘‘ زیادہ ہونے کی وجہ یہ رہی ہے کہ وہاں ایک سینٹ نشست کیلئے کم ارکان کو ’’مینج‘‘ کرنا پڑتا ہے۔

عمران خان نے سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور خریدو فروخت کی روک تھام کیلئے کئی سال پہلے حکومت کو تجاویز دی تھیں لیکن اس وقت نواز شریف نے ان سنی کردی تھی۔

گزشتہ روز مسلم لیگ(ن) کے کئی میڈیا منیجرز ٹی وی چینلز پر فرما رہے تھے کہ میاں نواز شریف کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے آئینی ترمیم متعارف کروائی، لیگی رہنماوں کی خوش فہمی اپنی جگہ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے جو قانون سازی کی تھی وہ بھی درحقیقت ایک طرح کی ہارس ٹریڈنگ ہی تھی اور اس کا دوسرا مقصد اپنے ’’مشکوک‘‘ ارکان کے ’’فرار‘‘ کو روکنا تھا ورنہ میاں شہباز شریف کی وزارت اعلی بچانے کیلئے ’’یونی فیکیشن بلاک‘‘ کی تشکیل کسے بھولی ہے۔

عمران خان کے بہت سے اقدامات اور خیالات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن بہر حال یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ کپتان نے پاکستان کی سیاست میں ’’انہونی‘‘ کو’’ہونی‘‘ میں تبدیل کیا ہے۔ عام انتخابات سے چند ہفتے یا چند مہینے پہلے اپنے 20 ارکان کو پارٹی سے نکال دینا ،یہ کام عمران خان ہی کر سکتا تھا۔
میاں نواز شریف اور مریم نواز ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کی جو تحریک چلا رہے ہیں وہ ان کے سیاسی عزائم کی آئینہ دار ہے لیکن عمران خان نے جن 20 ارکان کو نکالا ہے انہوں نے 2013 ء کے الیکشن میں مجموعی طور پر 2 لاکھ80 ہزار ووٹ حاصل کئے تھے یعنی گزشتہ روز ان 2 لاکھ80 ہزار ووٹوں کی عزت بحال ہوئی ہے۔
عمران خان کے اس جارحانہ اقدام کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی ٹکٹ لینے کے امیدواروں کو بھی یہ واضح پیغام مل گیا ہے کہ کپتان نہ تو بلیک میل ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس کی کتابوں میں غداروں کیلئے معافی یا نرمی کی گنجائش ہے۔

Tuesday, 17 April 2018

India aur afghanio ke yari

پاک آرمی ، چیف جسٹس آف پاکستان  اور تمام محب وطن پاکستانیوں کے نام کھلا خط
1.پاکستان میں آرمی اور عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہونے والے امن کو دیر پا ثابت کرنے کے لیے فی الفور پاکستان میں موجود تیس لاکھ سے زائد  افغان پناہ گزینوں کو ایک مہینے کے نوٹس پر افغانستان واپس بھیجا جائے تاکہ انکی محرومیوں کا ازالہ ہو اور انہیں وہاں افغان حکومت اور نیٹو فورسز وہ  تمام بنیادی انسانی حقوق فراہم کر سکیں جو حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام انہیں یہاں چالیس سال میں فراہم نہ کر سکے
2. دوسرے مرحلے میں پورے پاکستان کے تمام شہروں اور علاقوں میں موجود افغانیوں کو پکڑ کر ملک بدر کیا جائے
3.  تیسرے مرحلے میں افغانستان سے تمام زمینی رابطے ختم کیے جائیں تاکہ منشیات اور دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو اور جس نے بھی پاکستان افغانستان کے مابین رشتے داروں کو ملنے یا کسی بھی غرض سے سفر کرنا ہو وہ باقاعدہ سفارت خانے سے ویزہ لگوانے کے بعد بذریعہ  ہوائ جہاز ہی سفر کرے نیز یہ کہ افغان پاکستان بارڈر مستقل بنیادوں پر بند کر دیے جائیں تاکہ معزز افغانی قوم تلاشی کے پروسیز سے بچ سکے اور انکی عزت نفس مجروح نہ ہو
5.  مسلم لیگ نون کے تمام سیاسی عہدیداران و کارکنان ہر طرح کی سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی لیڈر شپ پر دباو ڈالیں کہ وہ غدار ملت و افغانی ایجینٹ محمود اچکزئ سے نہ صرف اتحاد ختم کریں بلکہ اسمبلی و عدلیہ سے اسے اور اسکی فیملی کو تاحیات نااہل کروائیں تاکہ وہ افغانستان جا کر اپنی قوم کی خدمت کر سکے بصورت دیگر اسکے خلاف ملٹری کورٹ میں اسکے سابقہ پاکستان مخالف بیانات پر غداری کا مقدمہ دائر کروائیں
6. اگر نون لیگ کی لیڈر شپ پختون تحفظ موومنٹ کے نام پر افغانیوں کی پاکستان ریاست مہم کے باوجود بھی محمود اچکزئ کو خود سے جدا نہیں کرتی اور افغان مہاجرین کو فی الفور ملک بدر کر کے ریاست کی رٹ قائم نہیں کرتی تو پھر اس موجودہ افغانی تحریک کی کڑیاں بھی نون کی لیڈر شپ سے ملیں گیں اور بقیہ پنجاب کی اسمبلیوں کی نشستیں بھی انکے ہاتھ سے نکل جائیں گی لہذا اس پر نون لیڈر شپ کو سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے
7. ملک کے طول و عرض اور خصوصا پنجاب کی تمام اہم شاہراوں پر قائم افغانیوں کے " کابل افغان ہوٹلز " کو بند کیا جائے اور انکے نام پاکستان کی کسی جگہ سے منسوب کیے جائیں کیونکہ افغانستان میں ہم پاکستانی نام کا ہوٹل بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے بلکہ وہاں تو پاکستانی پرچم بھی جلایا جاتا ہے تو پھر پاکستان میں اتنی دیدہ دلیری کیوں؟
8. تمام پاکستانی ملک میں موجود تمام افغانی ہوٹلز ' دکانوں اور ریڑھی بانوں کا انفرادی و اجتماعی سطح پر بائیکاٹ کریں
9. تمام محب وطن پاکستانی ، پنجابی سندھی بلوچی پختون کشمیری مل کر افغانیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس تحریر کو کاپی کر کے آرمی چیف ، حکمرانوں اور اعلی عدلیہ تک پہنچائیں I

#Pakistan #Islam #ISI #ISPR #SSG #Army
#GoAfganiGo

#HarisBlogger

Monday, 16 April 2018

kia Qabail ney Afghan par Bandook utha le??

کیا قبائلیوں نے افغانستان کے خلاف بندوق اٹھا لیا ہے؟
کرم ایجنسی میں ڈیورنڈ لائن کی تصاویر دکھائی جارہی ہیں کہ قبائلی عوام بندوق سمیت ڈیورنڈ لائن پر پہنچ گئے اور بڑا اسلحہ بھی ساتھ ہیں جن میں راکٹ لانچر وغیرہ شامل ہیں.. بدقسمتی سے قبائل کے ساتھ اس ملک میں ایسے مذاق ہوتے رہے ہیں کہ ایک طرف ان کی بوٹیاں بیچی جارہی ہوتی ہیں اور دوسری طرف کبھی انڈیا کو دھمکیاں دلائی جاتی ہیں تو کبھی امریکہ کو اور اس کا نقصان قبائل آج تک برداشت کرتے آئے ہیں.. ان دھمکیوں کے لئے پولیٹیکل ایجنٹ کا دفتر سب سے زیادہ استعمال ہوتا آیا ہے جو فکسنگ کرکے بیانات دیتے آئے ہیں حالانکہ میں ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب کوئی ایسا موقع آتا تو میں بھی ایک خاص جذبے کے تحت ذہنی طور پر تیار ہوجاتا کہ اگر کسی نے ایسی حرکت کی تو پہلی صف میں لڑوں گا لیکن پندرہ بیس سال کے اس خوفناک کھیل کی وجہ سے اندر ہی اندر ٹوٹ گیا بلکہ اب جب کوئی ایسی بحث آتی ہے جس میں انڈیا کی بات آتی ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ ایسا موقع لائے پھر پتہ چلے گا کہ ہم کس کی طرف سے لڑتے ہیں.... ہاں ایسا موقع آسکتا ہے لیکن اس کے لئے حکمرانوں کو بہت سخت کام کرنا پڑے گا پندرہ بیس سال سے جاری قتل عام کا حساب دینا پڑے گا، اور قبائل کو یقین دلانا پڑے گا کہ آپ کے ساتھ ہم نے جو کچھ کیا اس کے لیے توبہ تائب ہوتے ہیں اور ہم آئندہ ایسا نہیں کرنے والے لیکن اس کا کوئی چانس نظر نہیں آتا کیونکہ حکومت نے اپنی غلطیوں کی وجہ سے خود کو بند گلی میں بند کردیا ہے.. اس وقت قبائلی علاقوں میں کسی کے پاس خنجر بھی موجود نہیں ہے تو ان کے پاس اسلحہ کہاں سے آجاتا ہے؟ اس طرح کے ٹولے ان کے پاس موجود ہوتے ہیں جس کا مثال حالیہ پاکستان زندہ باد جلسے کے طورپر دیا جاسکتا ہے کہ گڈ طالبان کو کبھی لیڈر بناکر سٹیج پر بیٹھایا جاتا ہے تو کچھ کو سٹیج کے نیچے عوام بناکر پیش کرنا پڑتا ہے لیکن اس سے قبائل بالخصوص اور پشتون بالعموم مزید دور ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ ملک کے باقی حصوں یا عالمی سطح پر لوگوں کو بتادیتے ہیں لیکن زمینی حقائق سے ان چیزوں کا دور دور کا واسطہ نہیں ہوتا.. اس وقت یہ گھسا پٹا پرانا طریقہ قومی یا عالمی سطح پر بھی ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ایک تو ہمارا سارا کھیل جان گئے ہیں اور دوسری طرف سوشل میڈیا کے ذریعے تعلیم یافتہ پشتون اس کھیل سے پردہ اٹھاتے رہتے ہیں.. میں سمجھتا ہوں کہ حکومت اگر حالات کو معمول پر لانا چاہتی ہے تو اس کے لیے بنیادی اقدامات اٹھائے جائیں نہ کہ مصنوعی حالات پیدا کرکے لوگوں کو کنفیوز کرنے کی کوشش کریں، پندرہ بیس سال سے بنائے گئے آپ کے مصنوعی حالات کی وجہ سے لوگ اب تنگ آ چکے ہیں اور مزید کسی جال میں پھنسنے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا البتہ نفرت مزید بڑھ سکتی ہے اپنے حقوق کی جمہوری جنگ لڑنے والوں کو آپ مزید دور کر سکتے ہو نزدیک ہرگز نہیں ہوتے... کرم ایجنسی یا ہرجگہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایسے حالات پیدا کرنے والوں کی ہم مذمت کرتے ہوئے اتنا کہیں گے کہ اگر ایسا کرنا ضروری ہے تو انڈیا کے ساتھ ایسے حالات پیدا کئے جائیں تاکہ پتہ چلیں کہ سیر سے کتنا پکتا ہے، افغانستان بیچارے کو تو آپ نے پہلے ہی کہیں کا نہیں چھوڑا پھر شاید لوگوں کی سوچ کچھ بدلے بلکہ جمالائی بھی واہگہ تک مارچ کرنے والوں میں شامل ہوسکتا ہے 😊
#HarisBlogger & #HarisVlogs

Sunday, 15 April 2018

Gen Ayub khan & shahir Saghir Sadiq

منقول..................?کہتے ہیں کہ جب جنرل ايوب صاحب پاکستان کے صدر تھے تو ان دنوں جنرل ايوب صاحب کو بھارت میں ایک مشاعرے میں مہمان خصوصی کے طور پر بلایا گیا جب مشاعرہ سٹارٹ ہوا تو ایک شاعر نے ایک درد بھری غزل سے اپنی شاعری کا آغاز کیا۔
جب وہ شاعر شاعری کر کے فارغ ہوا تو جنرل صاحب اس شاعر کو کہتے ہیں کہ محترم جو غزل آپ نے سٹارٹ میں پڑھی بہت درد بھری غزل تھی یقینن کسی نے خون کے آنسووں سے لکھی ہو گی اور داد دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت پسند آئی ہے تو وہ شاعر بولے جناب عالی اس سے بڑی آپ کے لئے خوشخبری اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس غزل کا خالق، اس کو لکھنے والا لکھاری یعنی شاعر آپ کے ملک پاکستان کا ہے، جب جنرل صاحب نے یہ بات سنی تو آپ دھنگ رہ گے اتنا بڑا ہیرہ میرے ملک کے اندر اور مجھے پتہ ہی نہیں جب آپ نے اس شاعر سے اس غزل کے لکھاری یعنی شاعر کا نام پوچھا تو اس نے کہا جناب عالی اس درد بھرے شاعر کو ساغر صدیقی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
جب جنرل صاحب پاکستان واپس آئے اور ساغر صدیقی صاحب کا پتہ کیا تو کسی نے بتایا کہ جناب عالی وہ لاہور داتا صاحب کے قریب رہتے ہیں تو جنرل صاحب نے اسی وقت اپنے چند خاص آدمیوں پہ مشتمل وفد تحائف کے ساتھ لاہور بھیجا اور ان کو کہا کہ ساغر صدیقی صاحب کو بڑی عزت و تکریم کے ساتھ میرے پاس لاو اور کہنا کہ جنرل ايوب صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔
جب وہ بھیجا ہوا وفد لاہور پہنچا تو انہوں نے اپنا تعارف نہ کرواتے ہوئے داتا دربار کے سامنے کھڑے چند لوگوں سے شاعر ساغر صدیقی کی رہائش گاہ کے متعلق پوچھا تو ان کھڑے چند لوگوں نے طنزیہ لہجوں کے ساتھ ہنستے ہوئے کہا کہ کیسی رہائش؟؟ کون سا شاعر؟؟ ارے آپ اس چرسی اور بھنگی آدمی سے کیا توقع رکھتے ہیں اور پھر کھڑے ان چند لوگوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھیں سامنے پڑا ہے چرسیوں اور بھنگیوں کے جھرمٹ میں، جب وہ ايوب صاحب کا بھیجا ہوا وفد ساغر صدیقی صاحب کے پاس گیا اور ان کو ايوب صاحب کا پیغام دیا تو ساغر صدیقی صاحب کہنے لگے جاو ان سے کہہ دو کہ ساغر کی کسی کے ساتھ نہیں بنتی اسی لئے ساغر کسی سے نہیں ملتا (جب ساغر صدیقی نے یہ بات کہی تو بشمول ساغر نشے میں مست وہاں موجود ہر نشئی ایک زور دار قہقہے کے ساتھ کچھ دیر کے لئے زندگی کے دیے غموں کو بھول گیا) بہرحال بےپناہ اسرار (ترلوں) کے باوجود وہ وفد واپس چلا گیا اور سارے احوال و حالات سے ايوب صاحب کو آگاہ کیا۔
کہتے ہیں کہ ايوب صاحب پھر خود ساغر صدیقی صاحب سے ملنے کے لئے لاہور آئے اور جب ان کا سامنا ساغر صدیقی صاحب سے ہوا تو ساغر صدیقی صاحب کی حالت زار دیکھ کر جنرل صاحب کی آنکھوں سے آنسووں کی اک نہ رکنے والی جھڑی لگ گئ اور پھر انہوں نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے غم سے چور اور نشے میں مست ساغر صدیقی سے جب مصافحہ کرنا چاہا تو ساغر صدیقی صاحب نے یہ کہتے ہوئے ان سے ہاتھ پیچھے ہٹا لیا
کہ

جس عہد میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی،،،
اس عہد کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے

آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

~HarisBlogger~

Qadyani 1974 mey

1974 میں___

جب قومی اسمبلی میں فیصلہ ہوا کہ قادیانیت کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنا موقف اور دلائل دینے قومی اسمبلی میں آئیں تو۔۔۔
مرزا ناصر قادیانی سفید شلوار کرتے میں ملبوس طرے دار پگڑی باندھ کر آیا۔متشرع سفید داڑهی۔قرآن کی آیتیں بهی پڑھ رہے تهے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اسم مبارک زبان پر لاتے تو پورے ادب کے ساتھ درودشریف بهی پڑہتے۔ مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایسے میں ارکان اسمبلی کہ ذہنوں کو تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں تها۔ماہ نامہ ”الحق اکوڑہ خٹک“ کے شمارہ جنوری 1975 کے صفحہ نمبر 41 پر بیان فرماتے ہیں۔۔۔
”یہ مسلہ بہت بڑا اور مشکل تها“
اللہ کی شان کہ پورے ایوان کی طرف سے مفتی محمود صاحب کو ایوان کی ترجمانی کا شرف ملا اور مفتی صاحب نے راتوں کو جاگ جاگ کر مرزا غلام قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔حوالے نوٹ کیئے۔سوالات ترتیب دیئے۔ اسی کا نتیجہ تها کہ مرزا طاہرقادیانی کے طویل بیان کے بعد جرح کا جب آغاز ہوا تو اسی ”الحق رسالے“ میں مفتی محمود صاحب فرماتے ہیں کہ
”ہمارا کام پہلے ہی دن بن گیا“
اب سوالات مفتی صاحب کی طرف سے اور جوابات مرزا طاہر قادیانی کی طرف سے آپ کی خدمت میں۔۔۔۔
__________________________
سوال۔مرزا غلام احمد کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟
جواب۔وہ امتی نبی تهے۔امتی نبی کا معنی یہ ہے کہ امت محمدیہ کا فرد جو آپ کے کامل اتباع کی وجہ سے نبوت کا مقام حاصل کر لے۔
سوال۔اس پر وحی آتی تهی؟
جواب۔آتی تهی۔
سوال۔ (اس میں) خطا کا کوئی احتمال؟
جواب۔بالکل نہیں۔
سوال۔مرزا قادیانی نے لکها ہے جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا“ خواہ اس کو میرا نام نہ پہنچا ہو (وہ) کافر ہے۔پکا کافر۔دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اس عبارت سے تو ستر کروڑ مسلمان سب کافر ہیں؟
جواب ۔کافر تو ہیں۔لیکن چهوٹے کافر ہیں“جیسا کہ امام بخاری نے اپنے صحیح میں ”کفردون کفر“ کی روایت درج کی ہے۔
سوال۔آگے مرزا نے لکها ہے۔پکا کافر؟
جواب۔اس کا مطلب ہے اپنے کفر میں پکے ہیں۔
سوال۔آگے لکها ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔حالانکہ چهوٹا کفر ملت سے خارج ہونے کا سبب نہیں بنتا ہے؟
جواب۔دراصل دائرہ اسلام کے کئیں کٹیگیریاں ہیں۔اگر بعض سے نکلا ہے تو بعض سے نہیں نکلا ہے۔
سوال ایک جگہ اس نے لکها ہے کہ جہنمی بهی ہیں؟

(یہاں مفتی صاحب فرماتے ہیں جب قوی اسمبلی کے ممبران نے جب یہ سنا تو سب کے کان کهڑے ہوگئے کہ اچها ہم جہنمی ہیں اس سے ممبروں کو دهچکا لگا)

اسی موقع پر دوسرا سوال کیا کہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا ہے جو امتی نبی ہو؟ کیا صدیق اکبر ؓ یا حضرت عمر فاروق ؓ امتی نبی تهے؟
جواب۔ نہیں تھے۔
اس جواب پر  مفتی صاحب نے کہا پهرتو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد آپ کا ہمارا عقیدہ ایک ہوگیا۔بس فرق یہ ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہیں۔تم مرزا غلام قادیانی کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہو۔تو گویا تمہارا خاتم النبیین مرزا غلام قادیانی ہے۔اور ہمارے خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
جواب۔وہ فنا فی الرسول تهے۔یہ ان کا اپنا کمال تها۔وہ عین محمد ہوگئے تهے (معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی تهی )
سوال۔مرزا غلام قادیانی نے اپنے کتابوں کے بارے میں لکها ہے۔اسے ہر مسلم محبت و مودت کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے۔اور ان  کے معارف سے نفع اٹهاتا ہے۔ مجهے قبول کرتا ہے۔اور(میرے) دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔مگر (ذزیتہ البغایا ) بدکار عورتوں کی اولاد وہ لوگ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا رکهی ہے۔وہ مجهے قبول نہیں کرتے۔؟
جواب۔بغایا کہ معنی سرکشوں کے ہیں۔
سوال۔بغایا کا لفظ قرآن پاک میں آیا ہے” و ما کانت امک بغیا“   سورہ مریم ) ترجمہ ہے تیری ماں بدکارہ نہ تهی“
جواب۔قرآن میں بغیا ہے۔بغایا نہیں۔
اس جواب پر مفتی صاحب نے فرمایا کہ صرف مفرد اور جمع کا فرق ہے۔نیز جامع ترمذی شریف میں اس مفہوم میں لفظ بغایا بهی مذکور ہے یعنی ”البغایا للاتی ینکحن انفسهن بغیر بینه“ )پھر جوش سےکہا) میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم اس لفظ بغیه کا استعمال اس معنی (بدکارہ) کے علاوہ کسی دوسرے معنی میں ہر گز نہیں کر کے دکها سکتے۔!!!
(اور مرزا طاہر لاجواب ہوا یہاں )
13 دن کے سوال جواب کے بعد جب فیصلہ کی گهڑی آئی تو 22 اگست1974 کو اپوزیشن کی طرف سے 6 افراد پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔جن میں مفتی محمود صاحب“ مولانا شاہ احمدنورانی صاحب“پروفیسر غفور احمد صاحب“چودہری ظہور الہی صاحب“مسٹر غلام فاروق صاحب“سردار مولا بخش سومرو صاحب اور حکومت کی طرف سے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب تهے۔ان کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ یہ آئینی و قانون طور پر اس کا حل نکالیں۔تاکہ آئین پاکستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کے کفر کو درج کردیا جائے۔لیکن اس موقع پر  ایک اور مناظرہ  منتظر تها۔۔

کفرِ قادیانیت و لاہوری گروپ پر قومی اسمبلی میں جرح تیرہ روز تک جاری رہی۔گیارہ دن ربوہ گروپ پر اور دو دن لاہوری گروپ پر۔ہرروز آٹھ گھنٹے جرح ہوئی۔اس طویل جرح و تنقید نے قادیانیت کے بھیانک چہرے کو بےنقاب کر کے رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک اور مناظرہ ذولفقار علی بھٹو کی حکومت سے شروع ہوا کہ آئین پاکستان میں اس مقدمہ کا ”حاصل مغز “کیسے لکھا جائے۔؟
مسلسل بحث مباحثہ کے بعد۔
__________________________
22 اگست سے 5 ستمبر 1974 کی شام تک اس کمیٹی کے بہت سے اجلاس ہوئے۔مگر متفقہ حل کی صورت گری ممکن نہ ہوسکی۔سب سے زیادہ جهگڑا دفعہ 106 میں ترمیم کے مسلے پر ہوا۔حکومت چاہتی تھی اس میں ترمیم نہ ہو۔اس دفعہ 106 کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی تهی۔ ایک بلوچستان میں۔ایک سرحد میں۔ایک دو سندھ میں اور پنجاب میں تین سیٹیں اور کچھ 6 اقلیتوں کے نام بهی لکهے ہیں۔عیسائی۔ہندو پارسی۔بدھ اور شیڈول کاسٹ یعنی اچهوت۔
مفتی محمود صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان یہ چاہتے تهے کہ ان 6 کی قطار میں قادیانیوں کو بهی شامل کیا جائے۔تاکہ کوئی "شبہ" باقی نہ رہے۔
اس کے لیے بهٹو حکومت تیار نہ تهی۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا اس بات کو رہنے دو۔
مفتی محمود صاحب نے کہا جب اور اقلیتوں اور فرقوں کے نام فہرست میں شامل ہیں تو ان کا نام بهی لکھ دیں۔
پیرزادہ نے جواب دیا کہ ان اقلیتوں کا خود کا مطالبہ تها کہ ہمارا نام لکھا جائے۔ جب کہ مرزائیوں کی یہ ڈیمانڈ نہیں ہے۔
مفتی صاحب نے کہا کہ یہ تو تمہاری تنگ نظری اور ہماری فراخ دلی کا ثبوت ہے کہ ہم ان مرزائیوں کو بغیر ان کی ڈیمانڈ کے انہیں دے رہے ہیں  (کمال کا جواب )
اس بحث مباحثہ کا 5 ستمبر کی شام تک کمیٹی کوئی  فیصلہ ہی نہ کرسکی۔چنانچہ 6 ستمبر کو وزیراعظم بهٹو نے مفتی محمود سمیت پوری کمیٹی کے ارکان کو پرائم منسٹر ہاوس بلایا۔لیکن یہاں بهی بحث و مباحثہ کا نتیجہ صفر نکلا۔حکومت کی کوشش تهی کہ دفعہ 106 میں ترمیم کا مسلہ رہنے دیا جائے۔
جب کہ مفتی محمود صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان سمجهتے تهے کہ اس کے بغیر حل ادهورا رہے گا۔
بڑے بحث و مباحثہ کے بعد بهٹو صاحب نے کہا کہ میں سوچوں گا۔
عصر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے مفتی صاحب اور دیگر کمیٹی ارکان کو اسپیکر کے کمرے میں بلایا۔ مفتی محمود صاحب اور کمیٹی نے وہاں بهی اپنے اسی موقف کو دهرایا کہ دفعہ 106 میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ مرزائیوں کا نام لکها اور اس کی تصریح کی جائے۔
اور بریکٹ میں قادیانی اور لاہوری گروپ لکها جائے۔
پیرزادہ صاحب نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو مرزائی نہیں کہتے، احمدی کہتے ہیں۔
مفتی محمود صاحب نے کہا کہ احمدی تو ہم ہیں۔ہم ان کو احمدی تسلیم نہیں کرتے۔پهر کہا کہ چلو مرزا غلام احمد کے پیرو کار لکھ دو۔
وزیرقانون نے نکتہ اٹهایا کہ آئین میں کسی شخص کا نام نہیں ہوتا  (حالانکہ محمد علی جناح کا نام آئین میں موجود ہے ) اور پهر سوچ کر بولے کہ مفتی صاحب مرزا  کا نام ڈال کر کیوں آئین کو پلید کرتے ہو؟۔وزیر قانون کا خیال تها شاید مفتی محمود صاحب اس حیلے سے ٹل جائیں گے۔ (لیکن مفتی تو پهر مفتی صاحب تهے )
مفتی صاحب نے جواب دیا کہ شیطان۔ابلیس۔خنزیر اور فرعون کے نام تو قرآن پاک میں موجود ہیں۔کیا ان ناموں سے نعوذ باللہ قرآن پاک کی صداقت و تقدس پر کوئی اثر پڑا ہے۔؟
اس موقع پر وزیر قانون پیرزادہ صاحب لاجواب ہو کر کہنے لگے۔
چلو ایسا لکھ دو جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں۔
مفتی صاحب نے کہا بریکٹ بند ثانوی درجہ کی حیثیت رکهتا ہے۔صرف وضاحت کے لیے ہوتا ہے۔لہذا یوں لکھ دو قادیانی گروپ۔لاہوری گروپ جو اپنے کو احمدی کہلاتے ہیں۔اور پهر الحمدللہ اس پر فیصلہ ہوگیا تاریخی فیصلہ۔۔
7 ستمبر 1974 ہمارے ملک پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا وہ یادگار دن تها جب 1953 اور 74 کے شہیدانِ ختم نبوت کا خون رنگ لایا۔اور ہماری قومی اسمبلی نے ملی امنگوں کی ترجمانی کی اور عقیدہ ختم نبوت کو آئینی تحفظ دے کر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔
دستور کی دفعہ 260 میں اس تاریخی شق کا اضافہ یوں ہوا ہے۔
”جو شخص خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ختم نبوت پر مکمل اور غیرمشروط ایمان نہ رکهتا ہو۔اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی بهی معنی و مطلب یا کسی بهی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو۔وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں۔
اور دفعہ 106 کی نئی شکل کچھ یوں بنی.۔
بلوچستان پنجاب سرحد اور سندھ کے صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں میں ایسے افراد کے لیے مخصوص نشستیں ہوں گی جو عیسائی۔ہندو سکھ۔بدھ اور پارسی فرقوں اور قادیانیوں گروہ یا لاہوری افراد( جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ) یا شیڈول کاسٹس سے تعلق رکهتے ہیں۔ (ان کی) بلوچستان میں ایک۔سرحد میں ایک۔پنجاب میں تین۔اور سندھ میں دو سیٹیں ہوں گی، یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر ہے۔کہ اس ترمیم کے حق میں 130 ووٹ آئے اور مخالفت میں ایک بهی ووٹ نہیں آیا ۔( آجاتا اگر غامدی صاحب اس وقت موجود ہوتے ) اس موقع پر اس مقدمہ کے قائد مفتی محمود رحمہ اللہ نے فرمایا.۔
اس فیصلے پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔میرے خیال میں مرزائیوں کو بهی اس فیصلہ کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہیئے۔کیونکہ اب انہیں غیر مسلم کے جائز حقوق ملیں گے۔اور پهر فرمایا کہ سیاسی طور پر تو میں یہی کہہ سکتا ہوں (ملک کے) الجھے ہوئے مسائل کا حل بندوق کی گولی میں نہیں۔بلکہ مذاکرات کی میز پر ملتے ہیں

نوٹ ) احباب سے لائیک کمنٹس کی حاجت نہیں۔بس مودبانہ درخواست ہے کہ ختم نبوت کی اس آگاہی مہم میں ساتھ دیں۔اور اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں،
 یہ ہمارے بڑوں کی جہدوجہد ہے۔جسے ہم اپنی نئی نسل تک ٹکڑوں ٹکڑوں میں سہی لیکن یہ کاوشیں پہنچا پائیں۔
”شاید کہ تیرے دل میں۔
اتر جائے میری بات“

Saturday, 7 April 2018

jahanam ka nazara



یک بار جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہوں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا
جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا
اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے
جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں
گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے
بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی
" ابا جان اسلام وعلیکم"
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے..
آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا..؟؟
آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں. آئیں ایک ایک شیئر کرکہ اپنا حصہ ڈالیں . کیا پتہ کون گنہگار پڑه کہ راہ راست پہ آجائے...۔

Salman khan Ko jail Hona aur Pakistani media


اج کل سوشل میڈیا اور ہمارے کچھ چینل  سلمان خان کے جیل جانے کے بعد  پڑوسی ملک کی عدالتوں کے انصاف  کا کچھ زیادہ تعریفیں باندھنے  میں مگن ہے پھر سوال یہ  پیدا ہوتا ہے کہ انصاف کیسا ہزاروں مسلمانوں کا قاتل نریندر مودی کو جیل کے بجائے وزیر اعظم بنا دیا گیا دوسری طرف  دیکھا جائے  تو کانگرس کے رہنما سجن کمار اور جگدیش ٹائیلر  جنہوں نے ہزاروں سکھ عورتوں کی عصمت دری کی اور چوراسی کے دنگوں میں دہلی پنجاب کی گلیاں کوچے   بے گناہ سکھوں کے خون سے رنگے  ہزار ہاں ثبوت ہونے کے باوجود وہ اج بھی ازاد ہے کیونکہ انہوں نے ہیرن کو نہیں مارا سلمان خان کیطرح ............

Monday, 2 April 2018

Drones



ڈرونز(نکھٹو) ایسی شہد کی مکھیاں ہوتی ہیں جو ساری زندگی محنت ،مشقت تو کرتی ہیں لیکن آخر میں جب کام کرنے کے قابل نہیں رہتیں تو ایکٹو مکھیوں کے ہاتھوں قتل ہوجاتی ہیں،،،
یہ رُول مکھیوں کی طینت و طبیعت کے حوالے سے تو ٹھیک ہے لیکن اسے ہم انسانیت پر اپلائی نہیں کرسکتے،،،،،
افسوس کی بات یہ ہے کہ پچھلے ستر برسوں میں میرے مُلک میں یہی ہوتا آرہا ہے اور کوئی ان دیکھی قوتیں اس سارے نظام کو چلا رہیں،،،،،
موجُودہ حالات میں میری نظر میں بھی عمران خان ایک پاک صاف ماضی رکھنے والے انسان ہیں اور ایک ایسا وقت بھی تھا کہ نواز شریف صاحب بھی پاک صاف تھے،،،،،
لیکن نواز شریف صاحب یہاں کی کرپٹ سیاست میں غوطہ خور ہوکر کرپٹ ہوچُکے اور عمران خان صاحب سیاست تو کررہے لیکن غوطہ خور نہیں ہوئے ،مطلب حکمرانی کے مزے سے محروم رہے یا دُوسرے لفظوں میں وزارتِ عُظمٰی کے مسند پر ابھی براجمان نہیں ہوئے،،،،
یہ بات طے ہے کہ جب بھی ہونگے تو وہی ان دیکھی قوتیں اِنکو کرپشن،اقرباء پروری وغیرہ کی طرف لیکر جائینگی اور پھر  عمران خان صاحب بھی کرپٹ ہوکر کُھڈے لائن لگ جائینگے اور ایک نیا بندہ لایا جائیگا جسکا ماضی بھی پاک دکھایا جائیگا،،،،،
اور بیوقوف عوام اُس چڑھتے سُورج کی پُوجا کرینگے ،،،،
اب بحثیتِ پاکستانی میں اس چیز کو تو  محسُوس تو کرسکتا ہوں نا کہ کوئی ہے جو اپنے مقاصد کیلئے اس سارے نظام سے کھیل رہا لیکن کاش میں یہ جان پاتا کہ کون،،،،،،؟؟
وزیر اعظم نواز شریف صاحب کرپٹ تھے لیکن ایک بات مُجھے بتائی جائے کہ وہ کرپٹ کیسے بنے،،،،،،؟؟؟؟
اداروں کو کیسے لُوٹا؟؟؟؟
پیسا باہر کیسے بھیجا،،،،؟؟؟؟؟
کیا ذمہ دار افراد سوئے ہوئے تھے،،،،؟
پچاس پچاس سال تک پڑھنے والےبیوروکریٹس نیند میں تھے کیا،،؟؟؟؟؟
اس سارے منظم نظام میں سے پیسہ اتنی باریک بینی سے حلال یا وائٹ ہوکر باہر کیسے پہنچ گیا،،،؟؟؟؟؟
محترم جناب طاہر القادری صاحب کے مطابق نواز شریف صاحب انتہائی نااہل قسم کا انسان تھا جسکو بزنس کی الف ب کا بھی علم نہیں،،،،،
تو ایسا انسان جو شروع سے ہی نااہل ہو وہ اداروں اور ذمہ دار افراد کی آنکھ سے بچا کراتنی بڑی رقم کیسے باہر بھیجتا رہا،،،؟؟؟
یہ اور اس جیسے ہزاروں سوالات ہیں،،،،،،
بحثیتِ پاکستانی کیا یہ میرا حق نہیں کہ میں جان سکوں،،،،
کہ مُلک کی دولت کہاں جارہی،،،؟؟؟؟
کہاں خرچ ہورہی،،،،،،؟؟؟؟؟
یہ فیصلہ کون کرتا کہ کہاں خرچ ہونی یا کہاں نہیں،،،؟؟؟؟
باہر کے قرضے کتنے،،،،،؟؟؟؟؟؟؟؟
اُنکی حیثیت کیا،،؟؟؟؟؟؟
اِنکم کہاں کہاں سے مُلک کو آرہی،،،؟؟؟؟
جہاں جہاں سے آنی چاہئے کیا واقعی آرہی،،،؟؟؟؟
کیا میں اپنے مُلک کی بیلنس شیٹ دیکھنے کا اہل نہیں؟؟؟؟؟؟؟
کیا میں خُود یہ فیصلہ کرنے کا اہل نہیں کہ کونسے خرچے بچانے اور کونسی اِنکم بڑھانی،باہر سے قرضوں کے بغیر گزارا کیسے کرنا اور کرپشن کو کیسے روکنا،،،؟؟؟
ایک عام پاکستانی کو ان سب چیزوں سے لاعلم کیوں رکھا جاتا،،؟؟؟؟
اُسکو فیصلوں کا اختیار کیوں نہیں دیا جاتا،،،
ایک ہی سسٹم کو ریوالو کرکے عوام کو اُلو کیوں بنایا جاتا،،،،
عوام بے شک ووٹ جسکو مرضی دیں لیکن ایک بار سوچیں تو سہی کہ ہماری حیثیت کیا اس مُلک میں،ہمارے اختیارات کیا؟؟؟؟؟
ہم آزاد ہیں یا غلام؟؟؟؟
ہمیں پاکستان کیسی حالت میں چاہئے،،،،
دو منٹ کیلئے یہ سوچنے میں کوئی حرج نہیں کہ پاکستان ہمارا اپنا گھر ہے اور جو اس گھر کو دیمک کی طرح کھائے جارہے اُن سے کیسے بچنا،،،،،؟
پاکستانی عوام کی چاہت کے فیصلے کب ہونے ،،؟؟؟؟
بیرونی و اندرونی سازشوں کا کھلواڑ بننا کب بند ہونا،،،،؟؟؟؟
کب تک بے عزت انداز سے زندگی گُزاریں گے،،،،،؟؟؟؟
کب حالات میں بدلاؤ آئیگا،،،،
بس الله ہی ہم سب ہر رحم کرے اور اپنے حقوق کو جاننے کی توفیق دے،،،،
#HarisVlogs&HarisBlogger

Gen Hameed Gul

•••••جنرل حمید گلؒ کے نام•••••

وہ جرنیل کوچ کر گیا....
جس نے اپنے کیریئر کے دوران ہر پروموشن پہلے لی اور درکار کورس بعد میں کیا۔
جو پہلی بار بطور کیپٹن انٹیلی جنس سروس میں آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس مقام پر جا پہنچا کہ خود میجر تھا لیکن اس کی تخلیق کردہ انٹیلی جنس حکمت عملی سکول آف ملٹری انٹیلی جنس میں کرنل رینک کے آفیسرز کو پڑھائی جا رہی تھی۔
جس نے بطور بریگیڈئر برطانیہ کے "رائیل وار کالج" کا کورس یہ کہہ کر مسترد کیا "انگریز کون ہوتا ہے مجھے جنگ سکھانے والا۔ ملک کا دفاع اپنی مٹی کے فہم سے آتا ہے اور یہ فہم میرے پاس ہے"
جس کی کمان میں ملتان سے پاکستان کے آرمڈ ڈویژن نے کشمیر کی جانب موو شروع کی تو بھارت کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی مشق "براس ٹیک" منسوخ کرنی پڑی۔
جو پاکستان آرمی کی تاریخ کا سب سے کم عمر لیفٹنٹ جنرل بنا۔
جس نے فوجی سروس کے دوران کبھی گاڈز نہیں رکھے۔
جس سے جنرل ضیاء الحق نے کہا "سنا ہے تم نے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو ان کی برطرفی کے منصوبے سے پیشگی آگاہ کر دیا تھا ؟" تو جواب دیا "جی ہاں ! کیونکہ بطور ڈی جی آئی ایس آئی یہ میری ذمہ داری تھی"
جو بطور کور کمانڈر پہلی بار راولپنڈی آیا اور ٹین کور کی سیکیورٹی ٹیم نے ایئرپورٹ پر حصار میں لیا تو اس ٹیم کو یہ کہہ کر چلتا کر دیا "تمہیں تمہاری ماؤں نے وطن کے دفاع کے لئے جنا ہے۔ حمید گل کے دفاع کے لئے نہیں"
جو صرف مسجد کی صف میں محمود و ایاز کے یکجا ہونے کا قائل نہ تھا بلکہ کور کمانڈر کی حیثیت میں دسترخوان پر بھی محمود و ایاز کو یکجا کردیا کرتا تھا۔
جس نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا چارج یہ کہہ کر لینے سے انکار کردیا "میں فوج میں ٹینک بنانے کے لئے نہیں چلانے کے لئے آیا ہوں۔ میں کسی فیکٹری کا منیجر نہیں فوجی ہوں" اور نتیجتا صدر غلام اسحاق خان کے سمجھانے کے باوجود وقت سے قبل ریٹائرمنٹ قبول کرلی۔
جو آرمڈ سروسز سے تو ریٹائر ہوا لیکن "سروسز" مرتے دم تک انجام دیتا رہا۔
وہ جس نے افغان انٹیلی جنس کا اعتماد بحال کرنے کے لئے اپنا چند سالہ بچہ ان کے حوالے کر کے کہا تھا یہ میری سب سے عزیز تر چیز ھے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ جسے ملک کا دفاع اپنی جان ، اولاد ، مال سے بڑھ کر تھا ۔ ۔
جو میدان جنگ میں صف دشمناں کے لئے ریٹائرمنٹ کے بعد زیادہ خطرناک ثابت ہوا۔
جس نے ڈی جی آئی ایس آئی ہوتے ہوئے اپنی بیٹی کے قاتل شوہر کو معاف کردیا۔
جو پاکستان آرمی کی تاریخ کے سب سے طاقتور جرنیل کی حیثیت سے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔
..اللہ کریم جنرل حمید گل کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...