Friday, 30 June 2017

Shah Mehmood Qureshi

ریمنڈ ڈیوس کا جب واقعہ ہوا تو اس وقت پاکستان کا وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی تھا، اس نے واشگاف الفاظ میں ریمنڈ ڈیوس کیلئے کسی بھی قسم کی ڈپلومیٹک ایمیونٹی تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا جس کی وجہ سے کیری کو پاکستان آنا پڑا اور زرداری کو 23 کروڑ ایشو کرنا پڑے۔

بطور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن ترین باب لکھا جب اس نے امریکی دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کردیا اور داخلی طور پر سیاسی اور اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ بھی ماننے سے انکار کرتا گیا۔

ریمنڈ ڈیوس کی وجہ سے امریکی شکایت پر زرداری نے شاہ محمود قریشی سے وزارت خارجہ کا قلمدان واپس لے لیا اور پھر قریشی صاحب پی پی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ اگر آپ کے اندر غیرت کا کوئی ایک بھی جراثیم موجود ہے تو آپ شاہ محمود قریشی کو داد ضرور دیں گے جو امریکی دباؤ نہ صرف برداشت کرگیا بلکہ جھکنے سے انکار کردیا۔

ریمنڈ ڈیوس کو قصاص و دیت کے نام پر رہا کرنے والا پاکستان ساری دنیا میں اپنی غیرت کا جنازہ نکلوا بیٹھا۔ دنیا کے ہر ایک کونے میں بیٹھے شخص کو پتہ تھا کہ دو لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے قتل کرنے والا امریکی پاکستان میں قید نہیں رہ سکے گا کیونکہ بدقسمتی سے وہ پاکستانیوں کی مجموعی غیرت سے بخوبی آگاہ تھے۔

چلتے چلتے آپ کو ایک چھوٹا سا واقعہ بتاتا چلوں جو شاید آپ میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے ہوں گے۔
ریمنڈ ڈیوس جب رہا ہو کر امریکہ واپس پہنچا تو چند دنوں کے بعد وہ کسی گراسری سٹور سے کچھ شاپنگ کررہا تھا کہ اس کی ایک شخص سے تلخ کلامی ہوگئی۔ ریمنڈ ڈیوس اپنے روایتی غصے پر قابو نہ پاسکا اور اس نے اس شخص کو دو مکے جڑ دیئے جس سے اس کے ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی۔

وہاں موجود لوگوں نے 911 کال ملائی، پولیس آئی، ایمبولینس آئی، ایک کانسٹیبل نے ریمنڈ ڈیوس کو ہتھکڑی پہنا کر گرفتار کیا اور مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کردیا۔ مقامی جج نے ذخمی شخص کا بیان سنا، گواہوں کے بیانات سنے اور موقع پر ریمنڈ ڈیوس کو بھاری جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا سنا دی۔

سزا کی وجہ سے ریمنڈ ڈیوس کو سپشل فورسز کی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا اور پھر وہ ایک پرائیویٹ سیکیورٹی فرم میں سپروائزر کی نوکری کرنا شروع ہوگیا اور حالات کی تنگی کی وجہ سے اپنے گھر کیلئے بنک سے لیا ہوا قرضہ اتارنے کیلئے یہ کتاب لکھنا پڑی۔

دونوں قوموں کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ ایک طرف پاکستانی جنہوں نے اپنے دو نوجوانوں کو وحشیانہ قتل کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرڈالا اور دوسری طرف امریکی جنہوں نے ایک مکہ مارنے کی پاداش میں ریمنڈ ڈیوس کو 6 ماہ کیلئے جیل بھیج کر اس کی نوکری ختم کرڈالی تاکہ اس کا وحشی پن ختم ہوسکے اور وہ وہاں کے معاشرے کو نقصان نہ پہنچائے۔

اپنی اپنی غیرت!!! بقلم خود باباکوڈا.

Khaleej Badshah

خلیجی بادشاہتوں کا بحران

تحریر: لال خان

سعودی عرب میں شہزادہ محمدبن نائف کوولی عہداوروزیر داخلہ سمیت دوسرے تمام عہدوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ شاید یہ بہت زیادہ حیران کن نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ گزشتہ چند برسوں سے تیل کی قیمتوں میں گراوٹ اوراس سے جنم لینے والا معاشی بحران ہے جوخطے کی دوسری بادشاہتوں کوبھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ آٹھ دہائیوں سے برسراقتدار السعود شاہی خاندان کے اندرونی مسائل منظرعام پر آ رہے ہیں۔ شاہ سلمان کی جانب سے اپنے بھتیجے کی جگہ اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو ولی عہد نامزد کرنا بھی انہی تضادات کا اظہار ہے۔
یہ یک لخت تبدیلی ایک ایسے وقت پر کی گئی ہے جب سعودی حکومت کو قطر اور ایران کے ساتھ کشیدگی اور یمن پر جارحیت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کے پھر سے زور پکڑنے کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر بھی معاشی اور سماجی بحران شدید ہوتا جا رہا ہے۔ 31 سالہ محمد بن سلمان کے ولی عہد نامزد ہونے سے اس کے پاس معیشت، خارجہ امور اور خطے میں جاری تنازعات میں بلا کسی روک ٹوک مداخلت کرنے کی طاقت آ گئی ہے۔ اس رسمی نامزدگی سے پہلے بھی دفاع، معیشت اور تیل کی پالیسی یہ نیا ولی عہد ہی چلا رہا تھا ، جس میں ریاستی تحویل میں دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کی نجکاری بھی شامل ہے۔
تیل کی آمدن میں کمی اور بڑی حد تک بالائی درمیانے طبقے کی خاطر ریاستی شاہ خرچیوں کے باعث ملکی بجٹ کا خسارہ ریکارڈ سطح پر جا پہنچا ہے۔ تین برسوں میں تیل کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی سے نمٹنے کے لیے حکومت کو بانڈ مارکیٹ سے رجوع کرنا پڑ رہا ہے اور بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے پندرہ فیصد پر جا پہنچا ہے۔ نئے ولی عہد شہزادہ محمد ’’وژن 2030ء‘‘ منصوبے کے تحت اس معیشت کو د وسرے شعبوں تک پھیلانا چاہتا ہے جو اِس وقت میں 90 فیصد تیل کی برآمدات پر منحصر ہے۔ لیکن یہ انتہائی مشکل ہے۔ معیشت کے دیگر شعبوں کو ترقی دینے کے لیے درکار بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری کے لیے آرامکو اور دیگر ریاستی اداروں کی نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم نا کافی ہو گی۔ گزشتہ برس اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کا نتیجہ خاصا مایوس کن رہا ہے اورتیل کے علاوہ معیشت کی شرح نمو تقریباً صفر تھی اور حکام تسلیم کر رہے ہیں کہ 2017ء میں یہ شاید 0.5 فیصد تک ہی ہو گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ولی عہد اور اس کے مہنگے مغربی مشیر ایک ایسے عہد میں ملک میں صنعت کاری کرنا چاہ رہے ہیں جب عالی سطح پر سرمایہ داری بری طرح سے زوال پذیر ہے۔ جب چین تک میں بحران ہے اور مغربی سرمایہ دار ممالک میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ہے توایک مرتے ہوئے نظام میں سعودی عرب کے وسیع صحراؤں کو جدید صنعتی سماج میں نہیں بدلا جا سکتا۔ شہزادے کی ’اصلاح پسندی‘ در اصل نیو لبرل معاشیات ہے جو 2008ء کے کریش سے مغربی ممالک کو برباد کر رہی ہے۔
تیل کی عالمی منڈی میں سعودی عرب کی اجارہ داری امریکہ میں شیل (Shale) کے طریقہ کار سے تیل نکلنے سے کمزور ہوئی ہے۔ گزشتہ برس اوپیک ممالک نے تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ کیا تھاجس سے قیمتیں بڑھنے کی امید تھی۔ لیکن امریکیوں نے شیل آئل کی پیداوار بڑھا دی اور قیمتیں نیچے ہی رہیں۔ تیل کی کم قیمت اور یمن میں جنگ کے بڑھتے اخراجات سے سعودی معیشت کا بحران شدید ہوتا جا رہا ہے جس سے ریاستی اخراجات میں کٹوتیاں کرنا پڑ رہی ہیں، یہاں تک کہ ریاستی ملازمین کی تنخواہوں اور سہولیات میں کمی کی جا رہی ہے ، تعلیم اور صحت کے شعبے میں نئی فیسیں لاگو کی جا رہی ہیں،تیل، پانی اور بجلی میں دی جالے والی سبسڈی میں کٹوتیوں سے کھپت میں کمی اور معاشی چکر محدود ہوا ہے۔ 2016ء میں بجٹ خسارہ 100 ارب ڈالر تھا۔ 2014ء میں تیل کی قیمتیں گرنے کے بعد سے زر مبادلہ کے زخائر میں 25 فیصد سے زیادہ کمی آ چکی ہے۔ غیر ملکی بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور حکومت عالمی بانڈ اور مالیاتی منڈی سے مزید قرضے لینے کی کوشش کر رہی ہے۔
حکومت نے اچانک سے تعمیراتی منصوبوں کو ختم کر دیا ہے جس کے نتیجے میں ٹھیکہ دار مزدوروں کو برطرف کر رہے ہیں۔ پاکستانی اور دوسرے غریب ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن محنت کش اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو اکثر ریاست کے شدید جبر کی وجہ سے پر تشدد ہو جاتا ہے۔ اپریل میں پانی کے بل اتنے بڑھ گئے کہ لوگوں کے رد عمل کی وجہ سے حکومت کو پانی اور بجلی کے وزیر کو برطرف کرنا پڑا۔
19900ء کے بعد سے سعودیہ کی آبادی دگنی ہوئی ہے اور نصف سے زیادہ لوگ 25 سال سے کم عمر ہیں۔ خلیجی ریاستوں میں ہر سال تین لاکھ لوگ افرادی قوت میں شامل ہوتے ہیں۔ حکومتی اخراجات میں کمی سے شرح نمو میں کمی اور روزگار کے مواقع مزید کم ہوں گے۔
غیر ملکی محنت کشو ں کی جگہ مقامی لوگوں کو رکھنا اتنا آسان نہیں ہو گا کیونکہ مقامی سعودیوں کے نسبتاً بڑے درمیانی طبقات کے پاس کام کرنے کا کوئی زیادہ تجربہ نہیں ہے اور وہ سخت اور نوکری چاکری کے کام کرنے پر آمادہ بھی نہیں ہوں گے۔ ’سعودیزیشن‘ کی پالیسی کی کوششیں تین دہائیوں سے جاری ہیں اور مسلسل ناکام ہو ئی ہیں۔ 1980ء کی دہائی سے تارکین وطن محنت کشوں کی تعداد دس لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ ہو چکی ہے۔ غیر ملکی محنت کشوں کی اجرت کم اور انتہائی برے حالات میں طویل اوقات کار ہوتے ہیں، چناچہ کارپوریٹ کمپنیاں زیادہ منافعوں کے لیے انہیں ترجیح دیتی ہیں۔
اگرچہ سعودیہ عرب کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں لیکن اس کی فی کس آمدن تیل کے عروج (1981ء) میں 18,000 ڈالر سے گر کر 2001ء میں 7,000 ڈالر ہو چکی تھی۔ سعودی خط غربت 17 ڈالر یومیہ سے نیچے رہنے والے مقامی سعودیوں کی تعداد کا اندازہ 12.7 فیصد سے25 فیصد ہے۔ ولی عہد کی برطرفی کے شاہی حکم نامے میں کچھ سماجی اور معاشی مراعات بھی دی گئی ہیں جن کا مقصد سماج میں سلگتی ہوئی بے چینی کو ٹھنڈا کرنا ہے۔ حکم نامے کے مطابق ’سول سرکاری ملازمین اور فوجی اہلکاروں کے منسوخ اور معطل شدہ تمام الاؤنس اور بونس بحال کر دیے گئے ہیں‘۔
زیادہ تر تجزیہ کار نئے ولی عہد کی جانب سے سماجی، معاشی اور خارجہ پالیسی کے شدید مسائل سے نمٹنے کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ نئے نائب ولی عہد کا تقرر ہی نہیں کیا گیا اور تخت کی جانشینی میں دوسرے نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی ہے۔
قلیل آبادیوں کو بڑے پیمانے کی مراعات دے کر عرب ممالک کی 2011ء کی عوامی تحریکوں سے بچ جانے والی خلیجی بادشاہتیں اب پرانے طریقوں سے نہیں چل سکتیں۔ سطح پر نسبتاً خاموشی کے باوجود تضادات پنپ رہے ہیں جو جلد ہی پھٹ سکتے ہیں۔ یہ کٹوتیاں اور اخراجات میں کمی ان بغاوتوں کے لیے چنگاری ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایران، مصر، اسرائیل اور خطے کے دوسرے ممالک میں نام نہاد استحکام بہت نازک ہے اور سماج میں کسی بھی واقعہ سے پھٹ سکتا ہے۔ جنگیں عام طور پر انقلابات کو جنم دیتی ہیں۔ ایران، سعودیہ عرب اور دوسرے ممالک کے حکمران اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ چنانچہ وہ پراکسی جنگوں کے ذریعے اپنی لڑائیاں دوسرے ممالک کی سر زمین پر لڑ رہے ہیں۔ اس کیفیت میں مراکش سے اردن تک ابھرنے والی کوئی بھی تحریک 2011ء کی نسبت کہیں تیزی سے سارے خطے میں پھیل سکتی ہے۔ سرمایہ داری کے ڈوبتے عہد میں مشرق وسطیٰ کے عوام ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی ان بربادیوں کے موجب نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

Tuesday, 27 June 2017

Islamic University

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ریکٹر ملک معراج خالد تھے۔ وائس چانسلر ہی کہہ لیجیے۔ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی کے دوسرے سمسٹر کا طالب علم تھا۔یونیورسٹی نے فیسوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا۔ میں نے ملک معراج خالد کے خلاف ایک مقامی روزنامے میں کالم لکھ دیا۔ میں نے لکھا کہ ایک دودھ بیچنے والا ریکٹر بن جاتا ہے تو اس کی گردن میں سریا آ جاتا ہے اور وہ اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔ یاد نہیں اور کیا کچھ لکھا لیکن وہ بہت ہی نا معقول تحریر تھی۔

اگلے روز میں کلاس میں پہنچا تو ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ جناب ایس ایم رؤوف صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں بلا کر کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ تمہیں ریکٹر صاحب نے طلب کیا ہے۔ مجھے خوب یاد ہے جب میں ان کے کمرے سے نکل کر جا رہا تھا تو انہوں نے غصے سے کہا: جنٹل میں گو اینڈ فیس دی میوزک۔
خیر میں ریکٹر آفس کی جانب چل پڑا اور راستے میں یہی سوچتا رہا کہ یہ تو طے ہے آج یونیورسٹی میں میرا آخری دن ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آج یونیورسٹی سے نکالا جاؤں گا تو گھر والوں سے کیا بہانہ بناؤں گا کہ کیوں نکالا گیا۔

وہاں پہنچا تو ریکٹر کے پی ایس اسماعیل صاحب کو بتایا میرا نام آصف محمود ہے، مجھے ریکٹر صاحب نے بلایا ہے۔ مجھے شدید حیرت ہوئی جب اسماعیل کے سپاٹ چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی اور کہنے لگے جائیے وہ آپ کے منتظر ہیں۔ لیکن اندر داخل ہوا توحیرتوں کے جہان میرے منتظر تھے۔ ملک صاحب اکیلے بیٹھے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا: سر میں آصف، آپ نے بلایا تھا؟
آپ ہی نے کالم لکھا تھا؟
جی سر میں نے لکھا تھا۔
تشریف رکھیے مجھے آپ سے کچھ باتیں کرنا ہیں۔۔۔۔اور میں جل تو جلال تو کا ورد کرتے ہوئے بیٹھ گیا۔

کافی دیر یونہی گزر گئی۔
ملک صاحب ولز کی ڈبیا گھماتے رہے۔ ایک ایک لمحہ اعصاب پر بھاری تھا۔ پھر ملک صاحب نے خاموشی کو توڑا اور کہا: کالم تو آپ نے اچھا لکھا لیکن آ پ کی معلومات ناقص تھیں۔ میں صر ف دودھ فروش نہیں تھا۔میرے ساتھ ایک اورمعاملہ بھی تھا۔ میں نے اسی لیے آپ کو بلایا ہے کہ آپ کی معلومات درست کر دوں۔ میں صرف دودھ نہیں بیچتا تھا۔ میرے ساتھ یہ مسئلہ بھی تھا کہ جوتے نہیں تھے۔ میں دودھ بیچ کر سکول پہنچتا اور سائیکل وہیں کھڑی کر دیتا۔ گھر میں جوتوں کا ایک ہی جوڑا تھا جو والد صاحب کے زیر استعمال تھا۔ اس کا حل میں اور میرے ابا جی نے مل کر نکالا۔ ہمارے درمیان یہ طے ہوا کہ صبح میں یہ جوتے پہن کر جایا کروں اور جب میں واپس آ جاؤں تو یہی جوتے پہن کر ابا جی چوپال میں جا کر بیٹھا کریں۔ اب ڈر تھا کہ سائیکل چلانے سے جوتا ٹوٹ نہ جائے۔ اس لیے میں انہیں سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا تھا۔جب دودھ گھروں میں پہنچا کر کالج کے گیٹ کے پاس پہنچتا تو جوتا پہن لیتا۔ واپسی پر پھر سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا اور ننگے پاؤں سائیکل چلاکر گھر پہنچتا۔
ملک صاحب پھر خاموش ہو گئے۔ یہ دورانیہ خاصا طویل رہا۔پھر مسکرائے اور کہنے لگے: سریے والی بات تم نے ٹھیک کہی۔ واقعی ،اللہ نے دودھ فروش کو نوازا تو اس کی گردن میں سریا آ گیا۔ بار بار دہراتے رہے: اللہ نے دودھ فروش کو نوازا لیکن اس کی گردن میں سریا آ گیا۔
پھر اسماعیل کو بلایا اور پوچھاکہ کیا قواعد و ضوابط کے مطابق میں فیس میں کیا گیا یہ اضافہ واپس لے سکتا ہوں۔اسماعیل نے کہا سر ریکٹر کے اختیار میں نہیں ہے۔ کہنے لگے اختیار میں تو نہیں ہے لیکن اگر میں نوٹیفیکیش جاری کر دوں تو پھر؟ اسماعیل کہنے لگے: سر آپ نوٹی فیکیشن جاری کر دیں تو ظاہر ہے اس پر عمل ہو گا۔ملک صاحب نے کہا جلدی سے نوٹیفیکیشن بنا لاؤ، فیسوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ میں کمرے سے باہر نکلا تو اس حکم نامے کی کاپی میرے ساتھ تھی، دل البتہ وہیں چھوڑ آیا تھا۔

ڈیپارٹمنٹ پہنچا تو ایس ایم اے رووف صاحب نے پوچھا، ہاں کیا ہوا؟ میں نے نوٹی فیکیشن آگے رکھ دیا، سر یہ ہوا۔ رووف صاحب کی آنکھوں میں جو حیرت تھی، مجھے آج بھی یاد ہے۔ آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے: وائس چانسلر کیسا ہونا چاہیے؟ میں کہوں گا اسے ملک معراج خالد مرحوم جیسا ہونا چاہیے۔

Saturday, 24 June 2017

Eid ka Chand

چاند کا مسئلہ

نبی کریمﷺ کے زمانے میں پورے عرب میں ایک ہی دفعہ روزہ اور عید ہوتی تھی.

خلافت راشدہ کے زمانے میں بھی رمضان و عید کے چاند کا کوئی مسئلہ نہ تھا.

سلطنت امیہ، خلافت عباسیہ اور شرق و غرب میں پھیلی ہوئی خلافت عثمانیہ میں بھی امت مسلمہ کا روزہ اور عید ایک ہی دن ہوتے تھے.

خلافت کے زوال کے ساتھ ہی امت انگریز کے دیے ہوئے ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی تو چاند بھی ہر ٹکڑے کا اپنا ہو گیا.

اب تو ذرائع ابلاغ بھی ترقی کر گئے ہیں. دنیا گلوبل گاؤں بن چکی ہے. خبر ایک لمحے میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے.

پرانے وقتوں میں اگر دنیا کے کسی حصے میں چاند نظر آتا تو سب مل کر روزہ رکھتے اور عید کرتے. تو کیا آج مسلمان ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کر سکتے؟

ترکی میں چاند نظر آئے تو مراکش میں روزہ رکھنے میں کیا حرج ہے؟ افغانستان میں دکھائی دے تو وہ تورخم کا بارڈر کراس کیوں نہیں کر سکتا؟

ٹائم زون کے سائنسی طریقہ کار کے مطابق پوری دنیا میں ایک دن میں روزہ رکھا جا سکتا ہے.

کیونکہ جمعہ کے دن پوری دنیا میں جمعہ ہی ہوتا ہے. ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پاکستان میں جمعہ ہو اور عرب میں اتوار.

اور لیلۃ القدر بھی تو ایک ہی رات ہو گی نا. یا افغانستان میں جبریل امین اور فرشتے الگ دن اتریں گے اور پڑوسی پاکستان میں سرکاری اعلان نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے دن؟

حقیقت یہ ہے کہ وطن پرستی نے وحدت امت کو پارہ پارہ کر دیا ہے. اس بنیادی اور سیدھے سادے معاملے کو بھی پیچیدہ بنا دیا گیا ہے.

اب بھی اگر سارے مسلم ممالک حرمین شریفین اور جغرافیائی متوسط پوزیشن کی وجہ سے عرب کو ہی مرکز مان لیں تو چاند کا جھگڑا ختم ہو جائے گا. اور شاید امت کو دوبارہ ایک مرکز پر جمع کرنے کی طرف پہلا قدم بھی..

Abe zam zam aur Science

آب زم زم کی حقانیت اور سائنس
قدرت کے معجزات اورعظیم نعمتوں میں شمار ہونے والا مقدس پانی "آب زم زم"دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے تبرک اور شفاءکی حیثیت رکھتاہے ۔ اسلام کے خلاف بلاوجہ عداوت رکھنے والوں نے بارہا یہ بات مشہور کرنے کی کوشش کی کہ یہ مقدس پانی بھی عام پانی جیسا ہی ہے لیکن قدرت نے اس کے حیران کن اثرات کے ذریعے ہمیشہ ان لوگوں کو غلط ثابت کیا ہے۔
اس ضمن میں ایک انتہائی اہم اورمشہور واقعہ جرمن عیسائی ڈاکٹر Knut Pfeifferکا ہے جنہوں نے زم زم کے مقدس پانی پر تحقیق کی اور پھر انہوں نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں جوکچھ کہا وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکاہے ۔
انہوں نے بتایا کہ تقریبا 12سال قبل ان کے ایک دوست جدہ سے آب زم زم لے کر آئے تو انہوں نے اپنی لیبارٹری میں جدید ترین آلات کے ذریعے اس پانی کا مطالعہ و معائنہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ میونخ (جرمنی کا درالخلافہ اور مشہور شہر) کا پانی بظاہر صاف اورخالص ہونے کے باوجود آب زم زم کے سامنے محض ایک بے فائدہ اورتباہ کن محلول ہے ۔انہوں نے بتایا کہ جب میونخ کے پانی اور آب زم زم کے الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ کی تصاویر حا صل کی گئیں تو واضح طور پر دیکھا گیا کہ آب زم زم کا فیلڈ انتہائی متوازن ، دائروی اورہموار تھا جبکہ میونخ کے پانی کا فیلڈ اس کے مقابلے میں با لکل غیر ہموار اور بے قاعدہ تھا۔
انہوں نے مزید تحقیق سے معلوم کیا کہ جب ہم آب زم زم پیتے ہیں تو یہ ہمارے جسم او رذہن میں اپنے سکون آور اور طمانت سے بھر پور فیلڈ کے اثرات پیدا کر تاہے اور یوں جسم او رذہن ایسی تروتازگی، اطمینان ، فرحت اورصحت محسوس کرتے ہیں کہ جس کا عام پانی سے تصو ربھی نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتا یا کہ آب زم زم انتہائی معمولی شدت کا الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ پیدا کرتاہے جو پیار بھری مسکراہٹ جیسا ہو تا ہے ۔
ڈاکٹر Knut کا کہنا تھا کہ وہ تو چاہتے ہیں کہ ہر شخص روزانہ آب زم زم پیا کرے لیکن چونکہ یہ ممکن نہیں کہ ساری دنیا کے لوگ اس پاکیزہ پانی تک رسائی حاصل کرسکیں اس لیے جب اور جتنا ممکن ہو اس کا استعمال ضرور کیا جائے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ آب زم زم کے الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ کی بنیاد پر ایک نیا طریقہ علاج بھی متعارف کروائیں گے تاکہ انسانیت اس سے بھر پور طریقے سے مستفید ہوسکے ۔
نوٹ :۔ ڈاکٹر Knut Pfeifferکا انٹرویو انٹرنیٹ پر با آسانی دستیاب ہے اور انگریزی زبان سے واقفیت رکھنے والا کوئی بھی شخص اسے سن کر جان سکتاہے کہ ترقی یافتہ یورپ کا ایک قابل ڈاکٹر مقدس آب زم زم کے بارے میں کیا کہتاہے..!!!

Friday, 23 June 2017

Camera On huha

کیمرہ آن ہوا۔۔۔ خاتون میزبان نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا اور کہنے لگیں ’’رمضان کا مہینہ ہمیں برداشت اور رواداری کا درس دیتاہے‘ اس مہینے میں ہم بھوک اور پیاس کے ذریعے اللہ کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں ‘ سحری اور افطاری کی برکات سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور مہینے کے تیس دن اپنا ایمان تازہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بالغ مسلمان پر روزہ فرض کیا ہے لہذا ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ پورے روزے رکھیں۔۔۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز کریں گے ایک نعت رسول مقبولؐ سے ۔۔۔لیکن اس سے پہلے لیتے ہی ایک چھوٹی سی بریک۔۔۔ہمارے ساتھ رہئے گا‘‘۔کچھ لمحے وہ کیمرے کی طرف دیکھتی رہیں‘ سائیڈ پر ایک بڑا سا ٹی وی رکھا تھا جس پر لائیو ٹرانسمشن نظر آرہی تھی۔ دو تین سیکنڈ کے بعد وہاں اشتہارات چلنا شروع ہوگئے جس کا مطلب تھا کہ اب خاتون لائیو نہیں جارہیں۔ انہوں نے اطمینان سے دوپٹہ اتارا اور سائیڈ پر پڑی ہوئی ڈبی اٹھا کر ایک سگریٹ سلگایا اور ہونٹوں سے لگا کر کش لینے لگیں۔میری آنکھیں پھیل گئیں۔ان کے سامنے دو عدد مولوی صاحبان بھی موجود تھے لیکن کسی نے اس بات کا نوٹس نہیں لیا۔ یہ واقعہ میں نے پہلی دفعہ ٹی وی سٹیشن کے اندر جاکررمضان کی لائیو ٹرانسمشن دیکھی تھی۔ اس کے بعد مجھے سینکڑوں بار ایسے مظاہرے دیکھنے کو ملے اور میری سمجھ میں آتا رہا کہ میڈیا خودکیا کرتاہے اوردکھاتاکیا ہے۔میں نے یہ بھی دیکھا کہ رمضان آنے سے ایک ہفتہ پہلے سحری کی ٹرانسمشن ریکارڈ ہورہی ہے۔ باریش لوگ اللہ کی باتیں بھی کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ آج کی رات بہت بابرکت ہے کہ آج پہلا روزہ ہے۔رات 12 بجے افطاری ہورہی ہے اور انتہائی عقیدت سے سٹوڈیو میں بیٹھ کر کھجورسے روزہ کھولتے ہوئے رقعت آمیز دعائیں کرائی جارہی ہیں۔اب تو یہ سب دیکھنے کی عادت سی ہوگئی ہے۔
نیوز چینل ہو یا انٹرٹینمنٹ۔۔۔ سب پر ڈرامہ چلتاہے۔ خبروں سے کرائم شو تک ہر جملہ‘ ہر انداز اپنے اندر ایکٹنگ لیے ہوئے ہے۔جن خواتین میزبان کو آپ مارننگ شوز میں روتے ہوئے دیکھتے ہیں‘ جن کی زبانیں اسلام کا ذکر کرتے نہیں تھکتیں ۔۔۔کبھی ان کو آف کیمرہ دیکھئے‘ آپ کے چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔پہلے صرف ڈرامے میں کام کرنے کے لیے ایکٹردرکار ہوتے تھے‘ اب مذہبی شوز سے لے کر سیاسی ٹاک شوز تک ایکٹر زبھرے ہوئے ہیں۔سیدھی بات ہوہی نہیں سکتی کیونکہ سیدھی بات سے ریٹنگ نہیں آتی۔یہ جو آپ کو اکثر ٹاک شوز کے میزبان دانشمندی سے بھرپور جملے فرفر بولتے نظر آتے ہیں اس کے پیچھے بھی پورا سسٹم کام کرتاہے۔ یہ ریسرچ کوئی اور کرتاہے‘ لکھتاکوئی اور ہے ۔۔۔میزبان کے سامنے یہ سارا سکرپٹ لکھا ہوا آرہا ہوتاہے لیکن کیمرے کا اینگل ایسا رکھا جاتاہے کہ دیکھنے والوں کو لگتاہے جیسے میزبان ان کی طرف دیکھ رہا ہے اور جو کچھ بھی بول رہا ہے فی البدیہہ بول رہاہے۔سیاستدانوں سے تیکھے سوالات عموماً میزبان کے ذہن کی تخلیق نہیں ہوتے بلکہ اس عمل کے پیچھے کوئی ذہین Content Writer موجود ہوتاہے جوایک ایک چیز کو نفاست سے ترتیب دے کر میزبان کے آگے رکھ دیتاہے‘ اس کے بعد میزبان کی ایکٹنگ شروع ہوتی ہے اور ٹاک شوکو چارچاند لگ جاتے ہیں۔یہ سلسلہ صرف نیوز چینل تک ہی محدود نہیں ‘ اکثر مذہبی چینلز میں بھی یہی ڈرامے بازی ہوتی ہے۔جو سیاستدان آپ کو ٹاک شوز میں ایک دوسرے کے چیتھڑے اڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں وہ ٹاک شو کے اختتام پر میزبان کے ہمراہ بیٹھ کر قہقہے لگاتے ہوئے چائے پیتے ہیں ۔کئی تو ایسے بھی ہیں کہ ٹاک شو کی ریکارڈنگ کے دوران اگر ان کے منہ سے کوئی غلط بات نکل جائے تو میزبان کو فون کرکے بتا دیتے ہیں کہ فلاں چیز کاٹ دی جائے۔میزبان جس رخ سے ہماری سکرینوں پر جلوہ افروز ہوتے ہیں وہ اینگل بھی سوچ سمجھ کر بنایا جاتاہے۔ پروگرام اگر ریکارڈڈ ہو تو میزبان ہر دو منٹ بعد میک اپ آرٹسٹ کوبلا کر اپنی ’’پفنگ‘‘ کرواتے ہیں تاکہ سکرین پر ان کا مکھڑا زیادہ سے زیادہ حسین نظر آئے۔
مزاحیہ پروگراموں کی ریکارڈنگ بھی مزاحیہ ہوتی ہے۔آپ کو اگر ایسے کسی پروگرام میں شرکت کا موقع ملے تو دیکھئے گا کہ آپ کتنی دیر وہاں کرسیوں پر بیٹھے‘ وہاں کیا پیش کیا گیا اور جب پروگرام آن ایئر ہوا تو کیا کچھ شامل ہوچکا تھا۔
عموماً مزاحیہ پروگراموں میں ہمیں سامنے بیٹھے حاضرین بات با ت پر قہقہے لگاتے اور تالیاں بجاتے دکھائی دیتے ہیں‘ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔۔۔اس کا فارمولا بھی بڑا دلچسپ ہے۔ حاضرین کو بٹھا کر پہلے تو ان سے کہا جاتاہے کہ ذرا زور سے تالیاں بجائیں۔۔۔پھر ان سے چھ سات زوردار قہقہوں کی فرمائش کی جاتی ہے۔۔۔پھر کہا جاتاہے کہ تھوڑی دیر پوری سنجیدگی سے میزبان کی طرف دیکھتے ہوئے ایسے سرہلائیں گویا آپ بہت اہم بات سن رہے ہیں۔۔۔اس دوران کیمرے خوبصورت چہروں کے کلوز اپ بناتے رہتے ہیں۔وہ پروگرام جو دس بارہ گھنٹوں میں ریکارڈ ہوتاہے اس کے حاضرین کو ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد ہی فارغ کردیا جاتاہے۔اصل مرحلہ اس کے بعد شروع ہوتاہے۔ ایکٹرز مختلف جملے بولتے ہیں‘ مختلف سیگمنٹس ریکارڈ کیے جاتے ہیں اورایڈیٹنگ میں انہیں اس طرح سے جوڑا جاتاہے کہ ہر جملے کے بعد حاضرین ہنس ہنس کربے حال ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں اورمیزبان کی سنجیدہ بات پر سردھنتے دکھائی دیتے ہیں۔چونکہ حاضرین کو بلانا اور انہیں Manage کرنا ایک مشکل کام ہے لہذا کئی دفعہ پرانے حاضرین دکھا کر بھی نیا پروگرام تیار کرلیا جاتاہے اورحاضرین گھر بیٹھے خود کو ٹی وی پر دیکھ کر حیران ہوتے ہوئے سوچ رہے ہوتے ہیں کہ وہ کب اِس پروگرام میں گئے تھے؟میزبان کے منہ سے معلومات کے جو پھول جھڑ رہے ہوتے ہیں انہیں سن کر اکثر سادہ لوح ناظرین متاثر ہوجاتے ہیں کہ بڑا دانشور بندہ ہے حالانکہ اس کے پیچھے بھی پورا ڈرامہ ہوتاہے‘ گوگل سے معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں‘ ریسرچر انہیں ترتیب دیتے ہیں اور مختلف ٹکڑوں کی شکل میں بار بار ریکارڈنگ کرکے انہیں یوں جوڑا جاتاہے کہ لگتاہے میزبان ایک ہی سانس میں معلومات کا خزانہ دے رہاہے۔ان پروگراموں میں اکثر لائیو کالز کے نام پر جعلی کالز ڈالی جاتی ہیں تاکہ اپنی مرضی کا سوال آئے اور اس بہترین جملہ کسا جاسکے۔
نیوز کاسٹرز بھی ڈرامائی تکنیک سے پوری طرح واقف ہوتے ہیں‘ یہ جب کسی وقوعے پر کسی سینئر افسر سے سوال و جواب کررہے ہوتے ہیں تو اکثر خود انہیں بھی نہیں پتا ہوتا کہ یہ کیا بول رہے ہیں‘ ان کے کانوں میں لگے چھوٹے چھوٹے سپیکرز کی تاریں کسی اور کمرے میں بیٹھے ہوئے کسی جہاندیدہ صحافی کے مائیک سے منسلک ہوتی ہیں‘ وہیں سے ان کے کان میں سوالات ڈالے جاتے ہیں اور یہ آگے بول دیتے ہیں۔یہ ڈرامے روز ہوتے ہیں اور اتنی عمدگی سے ہوتے ہیں کہ بے اختیار ان پر یقین کرنے کو جی چاہتاہے۔۔۔سچ اِس سے بہت دور ہے‘ میڈیا پر سچ نہیں چل سکتا کیونکہ سچ کی ڈیمانڈ ہی نہیں۔ میڈیا ہمیں وہی دکھا رہا ہے جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔!!!!

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...