Sunday, 24 December 2017

Badhsah aur us k phitho

ابک بادشاہ نے اپنے بہنوئی کی سفارش پر ایک شخص کو موسمیات کا وزیر لگا دیا۔ ایک روز بادشاہ شکار پر جانے لگا تو روانگی سے قبل اپنے
 وزیر موسمیات سے موسم کا حال پوچھا ۔
وزیر نے کہا کہ موسم بہت اچھا ہے اور اگلے کئی روز تک اسی طرح رہے گا۔
 بارش وغیرہ کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔
 بادشاہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ شکار پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں بادشاہ کو ایک کمہار ملا۔ اس نے کہا حضور! آپ کا اقبال بلند ہو‘
 آپ اس موسم میں کہاں جا رہے ہیں؟ بادشاہ نے کہا شکار پر۔
 کمہار کہنے لگا‘ حضور! موسم کچھ ہی دیر بعد خراب ہونے اور بارش کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
 بادشاہ نے کہا‘ ابے او برتن بنا کر گدھے پر لادنے والے ‘ تم کیا جانو موسم کیا ہے ؟ میرے وزیر نے بتایا ہے کہ موسم نہایت خوشگوار ہے اور شکار کے لیے نہایت موزوں اور تم کہہ رہے ہو کہ بارش ہونے والی ہے ؟
 بادشاہ نے ایک مصاحب سے کہا کہ اس بے پر کی چھوڑنے والے کمہار کو دو جوتے مارے جائیں۔ بادشاہ کے حکم پر فوری عمل ہوا اور کمہار کو دو جوتے نقد مار کر بادشاہ شکار کے لیے جنگل میں داخل ہو گیا۔
ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ گھٹا ٹوپ بادل چھا گئے ۔
ایک آدھ گھنٹہ بعد گرج چمک شروع ہوئی اورپھر بارش۔
بارش بھی ایسی کہ خدا کی پناہ۔ ہر طرف کیچڑ اور دلدل بن گئی۔
 بادشاہ اور مصاحب کو سارا شکار بھول گیا۔ جنگل پانی سے جل تھل ہو گیا۔ ایسے میں خاک شکار ہوتا۔ بادشاہ نے واپسی کا سفر شروع کیا اور برے حالوں میں واپس محل پہنچا۔ واپس آکر دو کام کیے ۔
پہلا یہ کہ وزیر موسمیات کو برطرف کیا اور دوسرا یہ کہ
 کمہار کو دربار میں طلب کیا۔
 اسے انعامات سے نوازا اور وزیر موسمیات بننے کی پیشکش کی۔
 کمہار ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا‘ حضور! کہاں میں جاہل اور ان پڑھ شخص اور کہاں سلطنت کی وزارت۔
مجھے تو صرف برتن بنا کر بھٹی میں پکانے اور گدھے پر لاد کر بازار میں فروخت کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں آتا۔
 مجھے تو موسم کا رتی برابر پتہ نہیں۔
 ہاں البتہ یہ ہے کہ جب میرا گدھا اپنے کان ڈھیلے کر کے نیچے لٹکائے تو اس کا مطلب ہے کہ بارش ضرور ہو گی۔
 یہ میرا تجربہ ہے اور کبھی بھی میرے گدھے کی یہ پیش گوئی غلط ثابت نہیں ہوئی۔ بادشاہ نے کمہار کے گدھے کو اپنا وزیر موسمیات مقرر کر دیا۔ سنا ہے کہ گدھوں کو وزیر بنانے کی ابتدا ......تب سے ہوئی.... مسلم لیگ ن جس کی زندہ مثال ہے

Wednesday, 13 December 2017

Bacha aur Maa

ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ
ﺩﺱ ﺳﺎﻟﮧ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ۔ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﺭﺩ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭﺍً
ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺍ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺩﺱ ﺳﺎﻟﮧ ﺑﭽﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﺪﺭ
ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﻣﺎﺭﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ
ﺳﺎﺗﮫ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﮔﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﮩﻦ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﻣﺎﺭ
ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﺟﺒﮑﮧ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﻮ۔۔۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﮨﻮ
ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺑﮩﺖ ﻏﺮﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﺗﯽ
ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺧﺮﭺ ﺍﭨﮭﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﯾﮧ ﮐﻢ ﺑﺨﺖ ﺳﮑﻮﻝ
ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮔﮭﺮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ
ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﻧﮩﯽ ﺩﯾﺘﺎ۔
ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﯽ ﻭﺭﺩﯼ ﮔﻨﺪﯼ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﭽﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻞ ﺩﯾﺎ۔۔۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺻﺒﺢ ﺻﺒﺢ ﺳﺒﺰﯼ ﻣﻨﮉﯼ ﮐﭽﮫ ﺳﺒﺰﯼ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻟﯿﻨﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ
ﺍﺳﯽ ﺩﺱ ﺳﺎﻟﮧ ﺑﭽﮯ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺟﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻣﺎﺭ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﻣﻨﮉﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺩﻭﮐﮩﯿﮟ۔۔۔ﺗﺎﺝ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
ﺳﺒﺰﯼ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﻮﺭﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﺘﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺒﺰﯼ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﺮ ﺟﺎﺗﯽ
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﺍﺳﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮭﻮﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺘﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﺎﺟﺮﮦ ﺩﯾﮑﮫ
ﮐﺮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭼﮑﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﭼﻮﺭﯼ ﭼﻮﺭﯼ
ﻓﺎﻟﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﮭﻮﻟﯽ ﺳﺒﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ
ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﮔﻨﺪﯼ ﻭﺭﺩﯼ
ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﺩﻭﻧﮑﺎﻧﺪﺍﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ
ﺗﮭﺎ۔۔۔
ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﮐﮯ
ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﻧﻨﮭﯽ ﺳﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺯﻭﺭ
ﺩﺍﺭ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﻨﮭﯽ ﺳﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ
ﭘﮭﯿﻼ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺯﻭ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﮬﮑﺎ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ۔ ﻧﻨﮭﺎ
ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺒﺰﯼ ﮐﻮ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﯼ
ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺒﺰﯼ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺩﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﯽ۔ﺑﮭﻼ ﮨﻮ ﺍﺱ
ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺏ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻨﮭﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺍﺱ
ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯽ ﮐﮩﺎ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﺳﺒﺰﯼ ﺗﮭﯽ ﺟﻠﺪ ﮨﯽ ﻓﺮﻭﺧﺖ
ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ
ﺩﮐﺎﻥ ﺩﺍﺭ ﮐﻮ ﻭﮦ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﯾﮑﺮ ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﮑﻮﻝ ﺑﯿﮓ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺎ ﮐﭽﮫ
ﮐﮩﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻞ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﺳﮑﻮﻝ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻨﭩﺎ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ
ﻧﮯ ﮈﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺏ ﻣﺎﺭﺍ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ
ﯾﺘﯿﻢ ﺑﭽﮧ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﺖ ﻣﺎﺭﻭ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺳﺮ ﯾﮧ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻨﭩﺎ ﺩﯾﺮ
ﺳﮯ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺳﮯ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮈﺭ ﺳﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﭨﺎﺋﻢ ﭘﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺌﯽ
ﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺩﮮ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺑﭽﮧ ﻣﺎﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ
ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻧﻤﺒﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
ﭼﻞ ﺩﯾﺎ۔ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﮐﺮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺒﺰﯼ ﻟﯿﻨﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﮨﯽ ﮔﯿﺎ
ﮨﻮﮞ۔
ﺣﺴﺐ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺎﺭ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﮬﻮ
ﮔﯽ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮ ﭼﮑﺮﺍﺗﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺻﺒﺢ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍً ﺑﭽﮯ
ﮐﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﮐﺎﻝ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻣﻨﮉﯼ ﭨﺎﺋﻢ ﮨﺮ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﮉﯼ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ
ﻣﺜﺒﺖ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻼ۔ ﺳﻮﺭﺝ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮧ ﮔﮭﺮ
ﺳﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻣﻨﮉﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻨﮭﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻧﮑﻼ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ
ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﮩﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺁﭖ ﮐﺎ
ﺑﯿﭩﺎ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﯿﻮﮞ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﻓﻮﺭﺍً ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﭼﻞ ﭘﮍﯼ ﮐﮧ " ﺁﺝ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺧﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ۔ﭼﮭﻮﮌﻭﮞ ﮔﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﮯ
ﺁﺝ۔ "
ﻣﻨﮉﯼ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺑﮭﯽ ﺁﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮨﻢ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻨﮉﯼ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﻣﺨﺘﻠﻒ
ﺟﮕﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﻮﺯﯾﺸﻨﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻨﮭﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﭼﮭﭗ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔
ﺣﺴﺐ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﮭﮍﮐﯿﮟ ﻟﯿﻨﯽ ﭘﮍﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﻭﮦ
ﻟﮍﮐﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺒﺰﯼ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﺩﯾﺎ۔۔۔
ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺩﺭﺩ ﺑﮭﺮﯼ
ﺳﺴﮑﯿﺎﮞ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺯﺍﺭﻭﻗﻄﺎﺭ ﺭﻭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ
ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﻈﻠﻮﻡ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﻇﻠﻢ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺍﻥ ﮐﻮ
ﺍﭘﻨﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ۔
ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺭﻭﺗﮯ ﺭﻭﺗﮯ ﮔﮭﺮ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺑﮭﯽ ﺳﺴﮑﯿﺎﮞ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﮑﻮﻝ
ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺣﺴﺐ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﺩﮐﺎﻥ ﺩﺍﺭ ﮐﻮ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﯾﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮐﺎﻥ ﺩﺍﺭ
ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﯿﮉﯼ ﺳﻮﭦ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﺎ ﺁﺝ ﺳﻮﭦ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﺴﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ
ﮨﯿﮟ۔ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﻮﭦ ﻟﮯ ﻟﻮ۔ ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﻮﭦ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺳﮑﻮﻝ ﺑﯿﮓ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ
ﺳﮑﻮﻝ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻨﭩﺎ ﻟﯿﭧ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ
ﺑﯿﮓ ﮈﯾﺴﮏ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﺎﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﮔﺌﮯ ﺑﮍﮬﺎ
ﺩﯾﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮈﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﺭ ﻟﮯ۔ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﺮﺳﯽ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍً ﺑﭽﮯ ﮐﻮ
ﮔﻠﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺭﻭﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﻧﮧ
ﺭﮐﮫ ﺳﮑﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﻨﺒﮭﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﭼﭗ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ
ﺑﭽﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺟﻮ ﺑﯿﮓ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭦ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ۔ ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ
ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﺍﻣﯿﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮭﭩﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﻣﮑﻤﻞ ﮈﮬﺎﻧﭙﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺉ ﺳﻮﭦ
ﻧﮩﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﭦ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺳﻮﭦ ﺍﺏ ﮔﮭﺮ
ﻟﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺩﻭ ﮔﮯ؟؟؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﭽﮯ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ۔۔۔
ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﮨﯽ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯼ۔۔۔۔
ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ، " ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻧﮑﻞ ﺟﯽ ﭼﮭﭩﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﻮ ﺳﻼﺋﯽ ﮐﮯ
ﻟﯿﮯ ﺩﮮ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﭘﯿﺴﮯ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺳﻼﺋﯽ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﺟﺐ
ﺳﻼﺋﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔۔۔ "
ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﺭﻭﺗﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮉﯼ
ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ، ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﮬﮑﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﮍﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻨﮭﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﻟﮕﺎﻧﯽ ﭘﮍﮮ
ﮔﯽ۔۔۔
ﺁﺧﺮ ﮐﺐ ﺗﮏ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﻧﻨﮭﯽ ﺩﮐﺎﻧﯿﮟ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ۔ﺁﺧﺮ ﮐﺐ ﺗﮏ۔۔ !!
ﮐﺐ ﺗﮏ
!!!!!!!

Tuesday, 12 December 2017

Arbab Khizer hayat World champion

فوٹوشاپ تصاویر، جعلی ویڈیو، خان بابا نے سب کو ماموں بنا دیا

پختونخوا مردان سے تعلق رکھنے والے ارباب خضر حیات عرف بابا کے بے شمار جھوٹے دعوے بے نقاب ہو گئے،  6 فٹ قد 436 کلو وزن اور عمر 25سال؟؟ جس کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ دنیا کا طاقتور ترین انسان ہے۔ جس کی مختلف جعلی وڈیوز یوٹیوب پر وائرل ہورہی ہیں جن میں وہ ایک ٹریکٹر اور گاڑیوں کو اپنے ہاتھ سے روک رہا ہے، اس نے دعویٰ کیا تھا کہ '2012 میں جاپان میں ہونے والے ایک ویٹ لفٹنگ مقابلے میں اسں نے 5 ہزار کلو گرام وزن اٹھایا اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ کوئی بھی اس ریکارڈ کو نہیں توڑ سکتا'، سوشل میڈیا پر اس طرح کی بے سروپا خبریں وائرل ہونے کے بعد بعض مشہور ٹی وی چینلز اور چند نامی گرامی اخبارات نے ان جھوٹی خودساختہ ویڈیو اور تصاویر پر آرٹیکل بھی لکھ مارے، کسی نے خان بابا سےملنے اور تحقیق کی ضرورت محسوس نہ کی، سوال یہ تھا کہ اچانک کوئی ایسا کارنامہ کیسے سرانجام دے سکتا ہے جس کے کسی ذرائع ابلاغ تصدیق نہ کر رہے ہوں؟ جبکہ ہیوی ویٹ لفٹنگ کا زیادہ سے زیادہ اٹھائے گئے وزن کا عالمی ریکارڈ 246 کلو گرام ہے، ارباب خان نے 5000 کلو گرام کیسے اٹھایا؟ یوٹیوب پر شلوار قمیض اور چپل پہنے، کسی عالمی مقابلے کی کلپ کو مکس کیا گیا یے جو سی این این پر نشر ہو رہا ہے۔ موٹاپے سے تنگ صاحب حیثیت گھرانے سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان نے سستی شہرت کے لیئے عوام کو ماموں بنا دیا، سوشل میڈیا جہاں معلومات فراہم کرنے کا تیزترین ذریعہ ہے وہاں جھوٹ اور فراڈ بھی تیزی سے پھیلتا یے، پوسٹ کو شئیر یا کمنٹس کرنے سے پہلے تحقیق ضروری ہے...۔

Meri Maa

بیوی بار بار ماں پر الزام لگائے جا رہی تھی ......
اور
شوہر بار بار اسکو اپنی حد میں
رہنے کی کہہ رہا تھا
لیکن بیوی چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
بار بار زور زور سے چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ
"اس نے انگوٹھی ٹیبل پر ہی رکھی تھی
اور تمهارےاور میرے علاوہ اس کمرے میں کوئی نہیں آیا
انگوٹھی ہو نا ہو ماں جی نے ہی اٹھائی ہے.
بات جب شوہر کی برداشت سے باہر ہو گئی تو
اس نے بیوی کے گال پر ایک زور دار طمانچہ دےمارا اب
تین ماہ پہلے ہی تو شادی ہوئی تھی.
بیوی سے طمانچہ برداشت نہیں ہوا وہ گھر چھوڑ کر جانے لگی
اور جاتے جاتے شوہر سے ایک سوال پوچھا
کہ تمھیں اپنی ماں پر اتنا یقین کیوں ہے .. ؟؟
تب شوہر نے جو جواب دیا
اس جواب کو سن کر
دروازے کے پیچھے کھڑی ماں نے سنا
تو
اس کا دل بھر آیا
شوہر نے بیوی کو بتایا کہ
"جب وہ چھوٹا تھا تب اس کے والد گزر گئے
.
ماں محلے کے گھروں میں جھاڑو پوچھا لگا کر جو کما پاتی تھی
اس سے ایک وقت کا کھانا آتا تھا
ماں ایک پلیٹ میں مجھے روٹی دیتی تھی
اور
خالی ٹوکری ڈھک كر رکھ دیتی تھی
اور
کہتی تھی
میری روٹیاں اس ٹوکری میں ہے بیٹا تو کھا لے
میں نے بھی ہمیشہ آدھی روٹی کھا کر کہہ دیتا تھا
کہ ماں میرا پیٹ بھر گیا ہے
مجھے اور نہیں کھانا ہے
ماں نے مجھے میری جھوٹی آدھی روٹی کھا کر مجھے پالا پوسا اور بڑا کیا ہے
آج میں نے دو روٹی کمانے کے قابل ہوا ہوں
لیکن یہ کیسے بھول سکتا ہوں کہ ماں نے عمر کے اس حصے پر اپنی خواہشات کو مارا ہے،
.
وہ ماں آج عمر کے اس حصے پر کیسے انگوٹھی کی بھوکی ہو گی ...
.یہ میں سوچ بھی نہیں سکتا
آپ تو تین ماہ سے میرے ساتھ ہو
میں نے تو ماں کی تپسیا کو گزشتہ پچیس سالوں سے دیکھا ہے ..
.یہ سن کر ماں کی آنکھوں سے آنسو چھلک اٹھے
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ بیٹا اس کی آدھی روٹی کا قرض چکا رہا ہے یا وہ بیٹے کی آدھی روٹی کا قرض.........
By Haris Blogger

Tuesday, 5 December 2017

Javed Hashmi pmln Agent in Pti

اطلاع عام نیوز ۔مجھے یاد ہے جب پی ٹی آئی ایک مقبول جماعت بنی تو عمران خان نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کھلے عام کہا تھا کہ جاوید ہاشمی جیسے سیاست دان اس ملک کا سرمایہ ہیں اور میں ان کو اپنی جماعت میں دعوت دیتا ہوں۔ یہ منظر پوری قوم نے دیکھا اور میں ایسے کئی نوجوانوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اس تقریر کے بعد حیرانی کا اظہار کیا کہ یہ جاوید ہاشمی کون ہے ؟ اور پھر نئی نسل نے جاوید ہاشمی کی سیاسی زندگی کے متعلق مکمل ریسرچ کی اور سب لوگ اس بات کے قائل ہو گئے کہ واقعی جاوید ہاشمی ایک عظیم انقلابی سیاستدان ہے۔

یہ رائیونڈ کے بند کمروں کی داستان ہے جس میں عمران خان کی اس کھلے عام دعوت کے بعد یہ منصوبہ بنایا گیا کہ جاوید ہاشمی اور سعد رفیق کو تحریکِ انصاف میں بھیج دیا جائے تا کہ وہ ہم کو اندر کی پل پل کی خبر دیں اور نون لیگ اس کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر سکے۔ اس منصوبے کو دو حصو میں عملہ جامہ پہنانے کا ارادہ کیا گیا۔ پہلے مرحلے پر جاوید ہاشمی تحریکِ انصاف کا حصہ بنیں گے اور دوسرے مرحلے پر سعد رفیق بھی جاوید ہاشمی کے بلانے پر وہاں چلے جائیں گے جو کہ جاوید ہاشمی کے بہت قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

جاوید ہاشمی کی شمولیت پر ایک باقاعدہ ڈرامہ رچایا گیا کہ کیسے کلثوم نواز منانے کے لیے پہینچ گئی اور کیسے جاوید ہاشمی نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد 25 دسمبر 2011 کو کراچی جلسے میں شمولیت کا اعلان کرنے کے لیے جاوید ہاشمی کراچی پہنچے عمران خان اپنے ساتھیوں کو پیچھے چھوڑ کر ائرپورٹ پہنچے اور جاوید ہاشمی کو ریسیو کیا اور جلسے کے دوران بھی بانہوں میں میں بانہیں ڈال کر بیٹھے رہے۔

یہ بنیادی طور پر کپتان کا ایک عظیم انقلابی سیاستدان کے لیے خراجِ تحسین تھا۔ جس کا اظہار عمران خان نے بارہا کیا۔ اور آج تک کبھی جاوید ہاشمی کے خلاف ایک لفظ بھی زبان پر نہ لائے۔

بعد میں پنجاب کی سیاست میں ایسا موڑ آیا کہ تحریکِ انصاف بہت زور پکڑ گئی اور شہباز شریف کے کہنے پر سعد رفیق کو لاہور ہی رکنا پڑا، وہ بنی گالہ نہ جا سکے۔ دھرنے کے دنوں میں نون لیگ نے تحریکِ انصاف کی مسلسل بڑھتی ہوئی طاقت سے خوفزدہ ہو کر اپنا وہ آخری کارڈ کھیل ڈالا جو شاید ابھی منصوبے کا حصہ نہیں تھا اور وہ یہ تھا کہ جاوید ہاشمی عمران خان سے بغاوت کر دیں گے اور ان کا خیال تھا کہ یہ تحریک انصاف اور عمران خان کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہو گا اور تحریکِ انصاف ٹوٹ کر اپنا زور کھو دے گی اور یوں جاوید ہاشمی نے عین دھرنے کے دنوں میں عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا اور پی ٹی آئی کو خیر آباد کہہ دیا۔

اس کے بعد ساری دنیا نے دیکھا کہ کیسے ملتان میں جاوید ہاشمی کو عبرت ناک شکست ہوئی اور کیسے جاوید ہاشمی قصہ پارینہ بن گئے۔ اب جاوید ہاشمی واپس اپنی اصل جگہ پر آنا چاہتے تھے لیکن  مریم نواز کی مداخلت پر ان واپس نون لیگ میں آنا تعطل کا شکار ہو گیا تھا کیونکہ جاوید ہاشمی بری طرح سے تنازعات میں گھر چکے تھے اور ان کی باتیں اب محض لافنگ سٹاک بن کر رہ گئی تھیں۔

پچھلے دنوں پھر سے رائیونڈ میں ایک ایجنڈا سیٹ ہوا جس کے مطابق اب نوازشریف پر بہت ہی برا وقت آن پہنچا ہے اس لیے تمام کارڈز کو کھیلنے کا وقت آ گیا ہے اور یہ فیصلہ ہوا کہ  جاوید ہاشمی کو دوبارہ فعال کیا جائے اور اس دفعہ ان سے ٹھیک وہی کام لیا جائے گا جو کہ عائشہ گلالئی اور ریحام خان سے لیا گیا ہے۔ یعنی یہ انقلابی عقاب جس کی پرواز کبھی آسمانوں میں ہوا کرتی تھی اب جاتی امراء کی گندی نالیوں میں رینگتا ہوا نظر آئے گا۔

مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جاوید ہاشمی کس قدر بلند و بالا افکار کا مالک تھا لیکن نوازشریف کی کی سازشوں کا حصہ بن کر سیاست کے بازار کی طوائف بن گیا ہے، جو کبھی ایک رات کے لیے بنی گالہ جاتی اور اگلی رات زیادہ بولی  پر رائیونڈ چلی جاتی ہے۔ یہ بے شک جتنا بھی بڑا انقلابی سیاستدان تھا لیکن سچ تو یہ ہے کہ آقاؤں کے سامنے اس کی اوقات کل بھی ایک کتے جیسی تھی اور آج بھی یہ اسی مافیا کے در کا کتا ہے۔ اور '''انشاءاللہ'' آنے والے دنوں میں اس کا بھیانک انجام ہو گا

Saturday, 2 December 2017

Auraat

جب سکول میں تھی تو ایک لڑکے نے کہا کے میری گرل فرینڈ بن جاؤ، کالج گئی تو کہا آئٹم بن جاؤ، یونیورسٹی گئی تو کہا پارٹ ٹائم پارٹنر بن جاؤ.

کسی نے یہ نہیں کہا کے میں تیرا مجازی خدا تم میری دلہن بن جاؤ، دھوپ میں چھاؤ بن جاؤ، میرے ایمان کی تکمیل بن جاؤ، میرے بچوں کی جنت کی نائکہ بن جاؤ، پھلا مدرسہ بن جاؤ.

جس نے بھی بنانا چاھا کھلونا بنانا چاہا، کھیلنے کیلئے... دل بھلانے کیلئے... کپڑے اتارنے کیلئے.... ہوس کو سوارنے کیلئے.... گرم بخار سدھارنے کیلئے.... دل لبھانے کیلئے....

میں سوچتی رہ گئی کہ اسکی بھی تو بھن ہوگی. ہر عمل کا ردعمل بھی ہوتا ہے. تو کیا بھائی کا بدلہ بھن دیگی؟؟! میری ہم جنس دیگی؟؟! بھائی عزتوں کو اچھالتا رہیگا بھن بدلہ چکاتی رہیگی!!!

لیکن پھر خیال آیا... نہیں نہیں... اسکی آنے والے وقتوں میں بیٹی ہوگی جس سے یہ بےانتہاء پیار اور محبت کرتا ہوگا، وہ معصوم جان سب قرض چکائی گی... باپ کے جوانی کے گناہ معاف کروائے گی پھر جب سوچتی کے مردوں کے سارے گناہوں کو ہم لڑکیوں نے ؟؟؟؟؟؟؟

لڑکیوں کی عزت کرو مبادہ کے قرض تمھاری بھن بیٹی اتارے
 Sorry but its bitter reality of the society...........

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...