Saturday, 31 March 2018

Malala aur America

ملالئی اور ہندوستان کا پہلا انگریز

ملالئی کے حمایتی کہتے ہیں کہ پاکستانی ملالئی کے اتنے مخالف کیوں ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟ ایسے لوگ یا تو تاریخ سے نابلد ہیں یا جان کے انجان بنے ہوئے ہیں۔

میں نے بہت سوچا اور اس نتیجے پہ پہنچا کہ ملالئی کی مخالفت کرنے والوں کی باتوں میں دم لگتا ہے کہ آخر مغرب کیوں اس لڑکی کو اتنا پروموٹ کررہا ہے؟ وہ مغرب جو مُسلمانوں کو منہ تک نہیں لگاتا، انہیں بے عزت کرتے ہوئے اور مارتے ہوئے، انہیں مزہ آتا ہے جسکا مظاہرہ ہم افغانستان، عراق، لیبیا اور اب شام میں دیکھ رہے ہیں اور اسی انگلینڈ میں مسلمانوں سے نفرت کے اظہار کے لیے ایک گروپ 3 اپریل کو 'مسلمانوں کو سزا دو'  کا دن منا رہی ہے اور بدمعاشی کی حد ہے کہ اس پہ پشیمان بھی نہیں ہوتا۔

اور وہی مغرب جب ملعونہ تسلیم نسرین اور ملعون سلمان رشدی اور پاکستانی غدار اور دُشمن الطاف حسین اور حسین حقانی، برمداغ بگٹی وغیرہ کو پناہ دیتا ہے جنہیں یہ مغرب مسلمانوں اور پاکستانیوں کیخلاف زہر اُگلنے کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہیں
 اور اسی مغرب میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیخلاف کارٹوں بنے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیخاف زہر افشانیان کی جائے تو اسی مغرب کی ملالئی کی حمایت پہ بویں کیوں کھڑی نہ ہو؟

تاریخی پس منظر:-

جب ہندوستان میں پہلے انگریز کو گھر بنانے اور رہنے کی اجازت ملی تو اس پہ شائد کچھ لوگوں نے اعتراض کیا ہو لیکن ملالئی کے حمایتوں جیسے بہت سے لوگوں نے یہی کہا ہوگا کہ یرہ یہ معصوم ڈاکٹر ہی تو ہے جس نے شہنشاہ شاہ جہان کی بیٹی کا علاج کیا تھا اور بادشاہ نے خوش ہوکے اسے ڈھاکہ، بنگال،  میں رہنے کی جگہ دی اور اس 'نیک بخت' اور 'معصوم' ڈاکٹر نے اپنی کوئی قیمت لینے کی بجائے صرف بادشاہ سے یہ درخواست کی کہ ہندوستان انگلینڈ کیساتھ تجارت کی اجازت عطا فرمادے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بادشاہ سلامت نے وہ درخواست قبول کردی۔۔۔۔۔۔۔ اسمیں کیا مضائقہ تھا؟ ۔۔۔۔۔۔۔لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ انگریزوں نے اپنی فتوحات کا آغاز ہی مشرقی ہندوستان یعنی بنگال سے ہی کیا تھا، باقی تاریخ ہے۔

جب مغرب کی ہمارے سامنے مسلمانوں اور پاکستانیوں کے لیے ایسی سیاہ تاریخ ہو تو اس مغرب پہ کیسے کون یقین کریگا کہ یہ ملالئی کو بغیر کسی مقصد کے پال رہا ہے؟ اور کیسے اسے زبردستی کا ہیرو بنا دیا؟ اب آنکھوں دیکھے کوئی مکھی تو نہیں نگل سکتا اسلیے ملالئی کی شخصیت یہ شکوک و شہبات تو سامنے آتے رہینگے۔

اسلیے ملالئی کے حمایتی بجائے اس کے کہ 'ملالئی کے مخالفت حسد میں مبتلا ہیں، ملالئی نے کیا گناہ کیا ہے؟ ملالئی سے اتنی نفرت کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ جیسے سطحی فقرے کھسنے کی بجائے ٹھوس دلائل دے کہ ملالئی نے ابھی تک ساری دُنیا یا مسلمان یا پاکستانیوں کے لیے کیا کیا ہے جو لوگوں نے اسے اتنی آنکھوں پہ بیٹھایا ہوا ہے؟ ایک سادہ سا سوال ہے بابا۔۔۔.....۔۔۔۔۔۔

Friday, 30 March 2018

Malala international Drama

ملالہ یوسفزئی : کی اصل حقیقت
ملالہ یوسف زئی اور اس کے باپ ضیا الدین کے حوالے سےبہت کچھ ایسا ہے جو آپ کو ضرور جاننا چاہئے ۔۔
ملالہ کی (نام نہاد) کتاب " I am Malala" دراصل کرسٹینا لیمب نامی جرنلسٹ نےلکھی جس کی اصل وجۂ شہرت پاکستان اور پاک فوج کی مخالفت ہے اور اس پر حکومت پاکستان کی جانب سے پابندی ہے۔
صرف چند باتوں کی نشان دہی سے آپ بخوبی جان سکتے ہیں کہ ایک پندرہ یا سولہ برس کی بچی اتنا منظم اور مربوط فساد کا حامل پروپیگنڈہ ہر گز نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس کا اسلوب تحریر اتنا پختہ ہو سکتا ہے۔ اس کے پیچھے ایک تجربہ کار شرپسند اور مفسد ذہن ہے اور باقاعدہ سوچی سمجھی سازش ۔جس پر خود ملالہ یقین رکھتی ہے۔ اس کتاب میں چند مثالیں ملاحظہ ہوں :
سلمان رشدی کی گستاخانہ کتاب " شیطانی آیات" کے بارے میں لکھتی ہے کہ " اس کے والد کے خیال میں وہ آزادی اظہار ہے"

اس کتاب میں قرآن مجید پر تنقید کی گئی اور اس میں خواتین سے متعلق موجود قوانین سے وہ متفق نہیں۔ مثلاً وہ ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کو غلط کہتی ہےجو کہ قرآن کا حکم ہے۔ اسی طرح وہ زنا سے متعلق 4 لوگوں کی گواہی کو بھی درست نہیں سمجھتی۔بحوالہ : صفحہ نمبر 24 اور صفحہ نمبر 79۔

اسی کتاب کے صفحہ نمبر 28 پر وہ اسلام کا سیکولرازم اور لبرل ازم سے موازنہ کرتے ہوئے اسلام کو ملیٹنٹ ( دہشت گرد ) قرار دیتی ہے ( نعوذ بااللہ )۔

بدنام زمانہ شاتمۂ رسول تسلیمہ نسرین ملالہ کو اپنی چھوٹی اور لاڈلی بہن قرار دیتی ہے اور دونوں کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ تسلیمہ نسرین کو بنگلہ دیشی حکومت نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف گستاخانہ کتاب لکھنے پرملک بدر کر رکھا ہے اور یہ ملعونہ آج کل انڈیا میں سیاسی پناہ لیے بیٹھی ہے۔

پوری کتاب میں اللہ کے لیے لفظ " گاڈ " استعمال کیا گیا ہے اور حضور ﷺ کا صرف نام لکھا ہے جیسا کہ غیر مسلم لکھتے ہیں۔ پوری کتاب میں کہیں بھی لفظ محمد(ﷺ )کے ساتھ درود یا "Peace be upon Him" نہیں لکھا گیا۔

ملالہ یوسف زئی گستاخیٔ رسول پر سزائے موت کے قانون کے خلاف ہے۔

کتاب کے مطابق پاکستان رات کے اندھیرے میں بنا تھا۔ یہ الفاظ پڑھ کر پہلا تاثر یہی ملتا ہے گویا تاریکی میں کوئی گناہ یا جرم ہوا تھا۔
کتاب کے مطابق اس کےباپ ضیاءالدین یوسف زئی نے پاکستان کی یوم آزادی کے موقعے پر یعنی 14 اگست والے دن کالی ربن باندھی اور وہ گرفتار ہوا اور جرمانہ بھی۔ یہ سراسر چھوٹ ہے۔

ملالہ پاکستان کو سٹیٹ (ریاست) نہیں بلکہ طنزا رئیل سٹیٹ قرار دیتی ہے اور کہتی ہے کہ بہتر ہوتا کہ ہم انڈیا کا حصہ ہوتے

ملالہ کہتی ہے کہ پہلے میں سواتی ہوں پھر پشتون اور پھر پاکستانی۔ اپنے مسلمان ہونے کا ذکر وہ آخر میں بھی نہیں کرتی جبکہ عام طور پر ہم اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ پہلے ہم مسلمان ہیں پھر پاکستانی پھر پشتون، پنجابی، سندھی یا بلوچی وغیرہ۔

ملالہ دعوی کرتی ہے کہ پاکستان انڈیا سے تینوں جنگیں ہارا ہے۔

ضیاالدین کا کہنا ہے کہ اگر مجھے کسی ملک کا شہری بننے کا ارمان ہے تو وہ افغانستان ہے۔

( ضیاالدین یوسف زئی کو نواز شریف نے پاکستان ھائی کمیشن کا اتاشی مقرر کر رکھا ہے )

پاکستان پر تنقید کے ضمن میں کتاب میں لکھا ہے کہ "احمدی خود کو مسلم کہتے ہیں لیکن پاکستان نے ان کو غیر مسلم قرار دے رکھا ہے۔ صفحہ نمبر 72

ملالہ اور اس کا باپ شکیل آفریدی کی حمایت کرتے ہیں جو حکومت پاکستان کے مطابق غدار ہے اور اس وقت سزا بھگت رہا ہے۔

ملالہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور پاک فوج پر بھی سخت تنقید کرتی ہے۔

ملالہ کا باپ ضیاالدین‛ پاک فوج کو " ڈرٹی پیپل " ( گندے لوگ ) قرار دیتا ہے۔

ملالہ کہتی ہے کہ وہ پاک فوج پر شرمندگی محسوس کرتی ہے۔

ملالہ کی تقریر اس کا باپ لکھتا تھا جبکہ بلاگ عبد الحئی کاکڑ نامی بی بی سی کا نمائندہ لکھتا تھا جس کا کتاب میں ذکر کیا گیا ہے۔

ایڈم بی ایلک نامی ایک سی آئی اے ایجنٹ کئی مہینوں تک بھیس بدل کر ملالہ کے گھر رہا اور اس کے باپ کے ساتھ مل کر ملالہ کی برین واشنگ کی تاکہ اس کو آنے والے وقت کے لیے تیار کیا جا سکے ( یہ خبر بھی درست ہے کہ اس نے بعد میں ملالہ سے نوبل انعام میں اپنا حصہ بھی مانگا تھا )

ملالہ کے مطابق اس کا باپ اپنے نجی سکول اور گھر کے لیے بجلی چوری کرتا تھا جس کے باعث وہ ایک بار پکڑا گیا اور اس کو جرمانہ بھی ہوا۔ یہ بالکل درست ہے۔

ملالہ کی پسندیدہ ترین شخصیت باراک اوبامہ ہیں۔ ( ہوسکتا ہے اب ڈونلڈ ٹرمپ ہوں)

ملالہ کے مطابق وہ بھیس بدل کر یعنی یونیفارم پہنے بغیر سکول جاتی تھی کیونکہ طالبان سے خطرہ تھا۔ جب کہ سیدو شریف میں جہاں وہ رہتی تھی وہاں کوئی سکول بند نہیں ہوا تھا۔ طالبان یہ پابندی صرف مٹہ کے علاقے میں لگا سکے تھے جہاں کچھ سکول بند کیے گئے تھے۔ زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت کا ملالہ ذکر کرتی ہے اس وقت وہ اپنے باپ ہی کے سکول میں زیر تعلیم تھی جو انہی کے گھر کے نچلے پورشن میں تھا۔ تو کیا وہ اوپر والے پورشن سے نیچے آنے کے لیے بھیس بدلتی تھی ؟؟

ملالہ فنڈ کے لیے 68 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں جو تقریباً پاکستان کے کل قرضے کے برابر ہیں۔ یہ فنڈز فراہم کرنے والے وہ ہیں جو پوری دنیا میں سیکولرازم کو بذریعہ تعلیم پروموٹ کرنا چاہتے ہیں۔

ملالہ انڈیا کی بھی کافی پسندیدہ ہے اور وہاں اس پر ایک فلم بھی بن رہی ہے جو پاکستان دشمنی پر مبنی ہوگی۔
اب ان سیکولر اور مغربی منافقین کا عملی تضاد ملاحظہ ہو :
افشاں‛ آرمی پبلک سکول میں بچوں کو بچانے کے لیےکر دہشت گردوں کے سامنے ڈٹ گئی جنہوں نے اس پر کیمیکل ڈال کر زندہ جلا دیا۔ مصباح بچوں کو بچانے کے لیے جلتی ہوئی وین کے اندر گھس گئی اور خود بھی زندہ جل گئیں۔ اعتزاز احسن ایک خود کش حملہ آور سے لپٹ گیا اور دھماکے میں اڑ گیا تاکہ سکول کے بچوں کو بچا سکے۔ ملالہ ان تینوں کی پاؤں کی خاک بھی نہیں۔ لیکن سیکولر دنیا میں ان کا کوئی تذکرہ نہیں۔۔۔ کیوں ؟؟
یہ ہیں وہ چند حقائق جو مشتے ازخروارے کے تحت آپ کی بصیرت اور بصارت کے لیے پیش کیے گئے۔ فیصلہ آپ خود کیجیے۔

        شاید  کہ تیرے دِل میں ۔۔۔۔۔۔۔ اتر جائے میری بات  !!!

یہ ہے ملالہ کا اصلی چہرہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔ جسے مغربی دنیا  اور ہمارے دیسی لبرل سیکولر ۔۔۔۔۔۔پاکستان کی حکمرانی کے لیے تیار کررہے ہیں  !!!

اے مسلم نوجوان  !  خواب غفلت سے جاگ ذرا۔۔۔۔۔۔۔

اپنے  خیرخواہ اور بدخواہ میں تمیز کر  ، دوست اور دشمن میں فرق پیدا کر ۔۔۔۔۔۔۔

ذرا سوچ  !    تو کن کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کس کے ساتھ کھڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...........

Tuesday, 20 March 2018

mera jisam meri marzi

میرا جسم ۔۔۔ میری مرضی
انا للہ و انا الیہ راجعون ( سب اللہ کا ہے اور پلٹ کر اسی کی طرف جائے گا ) جسم بھی، مال بھی۔۔۔ اپنی مرضی کرنے کی خواہش اچھی ہے مگر اس خالق کی مرضی بھی پوچھ لو ۔۔۔ جسم خالی جسم نہیں ہے، اس کے اندر اک روح بھی ۔۔۔ اس جسم کی ملکیت کا دعویٰ تو مغرب بھی نہیں مانتا ، ورنہ خودکشی کی اجازت ہوتی، گردے بیچنے کی اجازت ہوئی اور کئی اعضاء برائے فروخت کے اشتہار جا بجا نظر آتے۔ جسم کی ملکیت رکھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی چاہے تو آزاد مرضی سے جسم فروشی کرے، ننگا پھرے یا دوسروں گناہ کی ترغیب دے۔ ہزاروں سالوں کی ارتقائی تہذیب اور لاکھوں انبیاء کی تربیت سے انحراف کر کے جہالت ہی خریدی جا سکتی ہے۔ جسم روح کے تابع نہ رہے تو اس میں بدبو پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے، سرانڈ اور تعفن سے بچنے کے لئے دفنا دیا جاتا ہے۔ مشرکین اہل ہند جلا کر بھسم کر دیتے ہیں ۔۔۔ شمعون پیرز کی طرح اگر سرد خانوں میں بھی رکھ لیں تو پھر بھی خطیر سرمایہ خرچ کر کے بھی اس جسم کو سپرد خاک کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس جسم کے حقوق تمام آسمانی مذاہب نے مقرر کئے ہیں، صحت کا خیال رکھنا فرائض میں شامل ہے ۔۔۔ ویسے "میرا جسم میری مرضی" کا موجد درحقیقت دوسروں کے جسموں کو نیلام کرنے کا پروگرام لے کر میدان میں آیا ہے۔ یہ تحریک نہیں تخریب ہے، زنا کاری کی ترغیب ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ایسی خواتین کس بازار سے لا کر مظاہرہ کروایا گیا ہے۔ اور ان خواتین کے قوام مرد حضرات ان کو بہکانے والے عناصر سے کیوں بےخبر ہیں۔
#Prostitute

Friday, 9 March 2018

Prostitute

طوائف ۔۔۔۔
جنسی عمل سے فارغ ہوکر وہ آئینے کے سامنے اپنے بکھرے  بالوں کو سنوارنے کے لیئے کھڑی تھی کہ اچانک..!!

پیچھے سے ایک شرافت کے پردے  میں لپٹی  آواز گونجی ..!

تم اپنا جسم کیوں بیچتی ہو  ؟؟!!
طوائف نے ہنستے ہوئے جواب دیا
 "صاحب" 

‎ہم ہی وہ بکریاں ہیں جو تمہارے  اندر میں چھپے وحشی درندے کو اپنی جسم کا گوشت پیش کرکے اس کی بھوک مٹاتی ہیں ۔۔

 ورنہ تمہاری آنکھیں تو خون کے رشتوں  والی چھاتیوں میں گڑی ہوتی ہیں ۔۔....۔

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...