Monday, 29 January 2018

Logo kay darymian

#لوگو_کے_درمیان_پل_بنائیں_دیواریں_نہ_بنائیں


دوسگے بھائیوں کے بڑے بڑے زرعی فارم ساتھ ساتھ واقع تھے دونوں چالیس سال سے ایک دوسرے سے اتفاق سے رہ رہے تھے اگر کسی کو اپنے کھیتوں کیلئے کسی مشینری یا کام کی زیادتی کی وجہ سے زرعی مزدوروں کی ضرورت پڑتی تو وہ بغیر پوچھے بلا ججھک ایک دوسرے کے وسائل استعمال کرتے تھے .

لیکن ایک دن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ان میں کسی بات پر اختلاف ہو گیا اور کسی معمولی سی بات سے پیدا ہونے والا یہ اختلاف ایسا بڑھا کہ ان میں بول چال تک بند ہو گئی اور چند ہفتوں بعد ایک صبح ایسی بھی آ گئی کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے گالی گلوچ پر اتر آ ئے اور پھر چھوٹے بھائی نے غصے میں اپنا بلڈوزر نکالا اور شام تک اس نے دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھاڑی کھود کر اس میں دریا کا پانی چھوڑ دیا

․․․․اگلے ہی دن ایک ترکھان کا وہاں سے گزر ہوا تو بڑے بھائی نے اسے آواز دے کر اپنے گھر بلایا اور کہا کہ وہ سامنے والا فارم ہاؤس میرے بھائی کا ہے جس سے آج کل میرا جھگڑا چل رہا ہے اس نے کل بلڈو زر سے میر ے اور اپنے گھروں درمیان جانے والے راستے پر ایک گہری کھاڑی بنا کر اس میں پانی چھوڑ دیا ہے.

میں چاہتا ہوں کہ میرے اور اس کے فارم ہاؤس کے درمیان تم آٹھ فٹ اونچی باڑ لگا دو کیونکہ میں اس کا گھر تو دور کی بات ہے اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا اور دیکھو مجھے یہ کام جلد از جلد مکمل کر کے دو جس کی میں تمہیں منہ مانگی اجرت دوں گا ۔

ترکھان نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ مجھے پہلے آپ وہ جگہ دکھائیں جہاں سے میں نے باڑھ کو شروع کرنا ہے تاکہ ہم پیمائش کے مطابق ساتھ والے قصبہ سے ضرورت کے مطابق مطلوبہ سامان لا سکیں .

موقع دیکھنے کے بعد ترکھان اور بڑا بھائی ساتھ واقع ایک بڑے قصبہ میں گئے اور تین چار متعلقہ مزدوروں کے علا وہ ایک بڑی پک اپ پر ضرورت کا تمام سامان لے کر آ گئے ترکھان نے اسے کہا کہ اب آپ آرام کریں اور اپنا کام ہم پر چھوڑ دیں․․․ترکھان اپنے مزدوروں کاریگروں سمیت سارا دن اور ساری رات کام کرتا رہا ۔

صبح جب بڑے بھائی کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر اس کا منہ لٹک گیا کہ وہاں آٹھ فٹ تو کجا ایک انچ اونچی باڑھ نام کی بھی کوئی چیز نہیں تھی ،وہ قریب پہنچا تو یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ وہاں ایک بہترین پل بنا ہوا تھا جہاں اسکے چھوٹے بھائی نے گہری کھاڑی کھود دی تھی.

جونہی وہ اس پل پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ پل کی دوسری طرف کھڑا ہوا اس کا چھوٹا بھائی اسکی طرف دیکھ رہا تھا چند لمحے وہ خاموشی سے کھڑا کبھی کھاڑی اور کبھی اس پر بنے ہوئے پل کو دیکھتا رہا اور پھر اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری چند سیکنڈ بعد دونوں بھائی نپے تلے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے پل کے درمیان آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور پھر دونوں بھائیوں نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے ایک دوسرے کو پوری شدت سے بھینچتے ہوئے گلے لگا لیا۔۔

دیکھتے ہی دیکھتے دونوں بھائیوں کے بیوی بچے بھی اپنے گھروں سے نکل کر بھاگتے اور شور مچاتے ہوئے پل پر اکٹھے ہو گئے اور دور کھڑا ہوا ترکھان یہ منظر دیکھ دیکھ کر مسکرا رہا تھا .

بڑے بھائی کی نظر جونہی ترکھان کی طرف اٹھی جو اپنے اوزار پکڑے جانے کی تیاری کر رہا تھا تو وہ بھاگ کر اس کے پاس پہنچا اورکہا کہ وہ کچھ دن ہمارے پاس ٹھہر جائے لیکن ترکھان یہ کہہ کر چل دیا کہ اسے ابھی اور بہت سے”پُل “ بنانے ہیں۔"

برائے مہربانی کوشش کریں کہ لوگوں کے درمیان پل بنائیں دیواریں نہ بنائیں اور اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں .تک پہنچائیں

Thursday, 25 January 2018

Mard ke Jaib

مرد کی جیب میں جب تنخواہ ہو تو وہ گھر میں داخل ہوتے وقت ایک غیر محسوس سی مسرت اور طاقت محسوس کرتا ہے۔۔ اسے بھی اسی غیر محسوس طاقت کا کچھ کچھ سرورمحسوس ہو رہا تھا۔۔
آگئے آپ؟ اسکی بیوی نے پانی کا گلاس اسے تھمایا اور پاس بیٹھ گئی۔۔
تنخواہ ملی؟ ۔یہ سوال وہ اتنی جلدی کرنا نہیں چاہتی تھی مگر اندیشوں کی ماری ضبط نہ کر سکی۔۔
ہاں مل گئی۔۔اس نے جواب دیا
دل ہی دل میں وہ سوچ رہا تھاکہ دس ہزار میں سفید پوشی کی کی تار تار ہوتی چادر میں وہ کہاں کہاں پیوند لگائے گا۔۔
"سائرہ کے کالج کی فیس دینی ہے۔۔فاطمہ کے اسکول کی۔۔اور۔۔"اسکی بیوی کچھ دیر رکی جیسے ضرورتوں کی چھوٹی بڑی گھٹریوں میں سے بڑی ضرورتوں کی گھٹریاں الگ کر رہی ہو۔۔
"اور ہاں وہ ثمینہ آپا کا ادھار بھی دینا ہے۔۔تقاضہ کر رہی تھیں کافی مہینے ہو گئے ہیں"
اس کی باتیں سن کر وہ بس ایک ھمم اس کے منہ سے نکلی
"اور راشن مہینے بھر کا۔۔۔"
وہ پھر گویا ہوئی
"یہ لو نو ہزار ہیں۔۔"
اس نے پیسے اپنی بیوی کے ہاتھ میں تھمائے اور نگاہیں جھکا لیں۔۔
صابر و شاکر بیوی جانتی تھی یہ قلیل رقم نا کافی ہے۔۔نہ جانے مہینہ بھر کن کن خواہشوں کا گلا گھونٹنا پڑے۔۔مگر لبوں سے کچہ نا کہا بسم اللہ کہہ کر رقم لے لی۔۔جیسے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہاتھ لگا ہو
باپ کی آمد کا پتہ لگا تو سب سے چھوٹا بیٹا بھی باپ کے پاس آکر بیٹھ گیا
گھر میں اسے اگر بے پناہ خوشی ملتی تھی تو اپنے اس چھوٹے سے بیٹے کی باتوں سے۔۔
"آجا میرا شیر۔۔"اس نے اسے مسکرا کر دیکھا اور گود میں بیٹھا لیا
"ابا۔۔"
"بول میرا شہزادہ ۔۔"
"اب تو میں اسکول جاؤں گا ناں ۔۔"
بہنوں کو پڑھتا دیکھ کر اسکے دل میں بھی اسکول کی خواہش شدید ہوتی جا رہی تھی
"ہاں بیٹا اب آپ کا داخلہ پکا۔۔"
"کب؟؟۔۔"
وہ چپ ہو گیا۔۔۔اس "کب" کا جواب وہ مہینوں سے نہیں دے پا رہا تھا۔۔
اچانک اس نے جیب سے ہزار کا نوٹ نکالا اور کہا۔۔
"دیکھ۔۔یہ ہے ناں اب تیرا داخلہ بھی ہو جائے گا۔۔"
اس نے اسے بہلانے کی کوشش کی۔۔
مہینوں سے اس آسرے پر خوش ہو جانے والا اسکا چھوٹا بیٹا آج چپ ہو گیا۔۔
"ابا۔۔اتنے سے پیسوں میں اسکول نہیں جاتا کوئی۔۔۔"
اس چھوٹے سے بچے کی آواز کا کرب باپ کا سینہ چھلنی کر گیا۔۔وہ اس کی گود سے اترا اور اپنی ماں کے پاس چلا گیا۔۔
وہ اب کمرے میں اکیلا تھا۔۔۔جھلملاتی آنکھوں سے ہزار کے نوٹ کو دیکھ رہا تھا۔۔جیسے وہ کاغذ کا ٹکڑا اس کی بے بسی کا مذاق اڑا رہا ہو ۔
سوچیۓ !!!!
اپنے ارد گرد نظر دوڑائیے کتنے لوگ ہوں گے جو سفید پوشی کی
زندگی بسر کر رہے ہوں گے جو کسی کے آگے اپنا ہاتھ نہیں پھیلاتے
ان کی مدد کیجیۓ ۔ ""

Biwi ka Chehra

چند راتیں پہلے کی بات ہے، میں نے اپنے بستر پر، نیند آ جانے سے پہلے، اپنے پہلو میں سوئی، اپنی بیوی کے چہرے کو غور سے دیکھا، اس کی پیاری سی اور نرم و نازک شکل پر کافی دیر غور کرتا رہا، پھر میں نے اپنے آپ سے کہا: کیا مسکین ہوتی ہے یہ عورت بھی، برسوں اپنے باپ کی شفقت کے سائے تلے اپنے گھر والوں کے ساتھ پلتی بڑھتی ہے، اور اب کہاں ایک نا واقف شخص کے ساتھ آ کر سوئی پڑی ہے، اور اس نا واقف شخص کیلئے اس نے اپنے گھر بار ماں باپ چھوڑا، والدین کا لاڈ و پیار اور ناز نخرا چھوڑا، اپنے گھر کی راحت اور آرام کو چھوڑا، اور ایسے شخص کے پاس آئی پڑی ہے جو بس اسے اچھے کی تلقین اور برائی سے روکتا ہے، اس شخص کی دل و جان سے خدمت کرتی ہے، اس کا دل بہلاتی ہے، اس کو راحت اور سکون دیتی ہے، تاکہ بس اس کا رب اس سے راضی ہو جائے، اور بس اس لئیے کہ یہ اس کیلئے اس کے دین کا حکم ہے، کہتے ہیں، پھر میں نے اپنے آپ سے سوال کیا: کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ ،، جو بیدردی اور بے رحمی سے اپنی بیویوں کو مار پیٹ لیتے ہیں.. بلکہ کچھ تو دھکے دیکر اپنے گھر سے بھی باہر نکال کرتے ہیں،، انہیں واپس اپنے ماں باپ کے اس گھر لا ڈالتے ہیں جو وہ اس کی خاطر چھوڑ کر آئی تھی.. کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو بیویوں کو گھر میں ڈال کر دوستوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں، ہوٹلوں میں جا کر وہ کچھ کھاتے پیتے ہیں جس کا ان کے گھر میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا.. کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جن کے باہر اٹھنے بیٹھنے کا دورانیہ ان کے اپنے بیوی بچوں کے پاس اٹھنے بیٹھنے کے دورانیئے سے زیادہ ہوتا ہے.. کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو اپنے گھر کو اپنی بیوی کیلئے جیل بنا کر رکھ دیتے ہیں، نا انہیں کبھی باہر اندر لیجاتے ہیں، اور نا ہی کبھی ان کے پاس بیٹھ کر ان سے دل کا حال سنتے سناتے ہیں.. کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو اپنی بیوی کو ایسی حالت میں سلا دیتے ہیں کہ اس کے دل میں کسی چیز کی خلش اور چھبن تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس کا گلا کسی قہر سے دبا جا رہا تھا.. کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو اپنی راحت اور اپنی بہتر زندگی کیلئے گھر چھوڑ کر باہر نکل کھڑے ہوتے ہیں، پیچھے مڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کی خبر بھی نہیں لیتے کہ ان پر ان کے باہر رہنے کے عرصہ میں کیا گزرتی ہوگی.. کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو ایسی ذمہ داری سے بھاگ جاتے ہیں جس کے بارے ...میں ان سے روز محشر پوچھ گچھ کی جائے گی

Sunday, 21 January 2018

Justice for zaineb

""جینب اور شہد کی مکھیاں""
لگتا ھے زینب امین کو آم ہی نہیں گلابی رنگ بھی بہت پسند تھا.فراک سے لیکر جیکٹ اور اب قبر پرگلاب ....میں نے زندگی میں پہلی بار شہد کی مکھیوں کو زینب کی قبر پر اٹھکیاں کرتے,اڑتے اور بیٹھتے دیکھا ھے.....جیسے وہ زینب سے چھپن چھپائی کھیل رہی ہوں.
ایسے لگا پاس بیٹھے نم آنکھوں مگر مسکراتے ہوئے میں زینب اور شہد کی مکھیوں کے کھیل کا ایمپائر ہوں....شہد کی مکھیاں میرے بہت قریب آکر گھوں گھوں کرنے لگتی ہیں....کہ میں نے زینب کے حق میں ڈنڈی ماری ھے......لیکن....وہ جاتی بھی نہیں....زینب کو چھوڑ نا اتنا آسان تھوڑی ھے..!!
پھر باباشریف آگئے(جو زیبنب کا عزیز نہیں ھے)....زینب کی قبر پر پانی لگاتے ہوئے میرے آنسوؤں اور بابا شریف کے لائے ہوئے پانی کا معلوم نہیں کب ایکا ہوا......میں نے بابا شریف سے پوچھا.....بابا جی..جانتے ہیں کس کی قبر ھے....بابا شریف نے خمیدہ کمر میری طرف موڑے بغیر کہا.....آہو پتر....!!.....اپنی جینب دی.....!!
.(منقول)

Naqib ke beti

آپ کے ابو کہاں گئے؟صحافیوں کے سوال پر نقیب اللہ کی ننھی بیٹیوں کاایسا جواب کہ آپ کا کلیجہ بھی چھلنی ہوجائیگا
ایس ایس پی ملیرکے ہاتھوں مبینہ جعلی مقابلے میں قتل ہونے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کی ننھی بچیوں نے بھی انصاف کی اپیل کردی۔ نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے نقیب اللہ کی معصوم بچیوں نے والد کے بے رحمانہ قتل کیخلاف انصاف کی اپیل کی ، جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے ابو کہاں گئے تھے، جواب میں انہوں نے کہا کہ ابو کراچی گئے تھے۔نقیب کی بیٹی نے کہا کہ ہمارے ابوکے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ ننھی بچیوں کا کہنا تھاکہ ہمیں حکومت سے انصاف چاہیے۔دریں اثنا نقیب اللہ کیس میں تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ کی ہلاکت کے معاملے پر پولیس کی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نقیب اللہ کو بے گناہ قرار دے چکی ہے جبکہ کمیٹی نے راؤ انوار کو معطل کرکے گرفتار کرنے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی سفارش کی۔رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی سفارش کے بعد راؤ انوار کو ایس ایس پی ملیر کے عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔راؤ انوار کو عہدے سے برطرف کیے جانے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا جبکہ ایس ایس پی عدیل چانڈیو کو ضلع ملیر کا چارج دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں بھی ڈال دیا گیا ہے۔دوسری جانب نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس پی راؤ انوار نے کہا کہ13 جنوری کو پولیس مقابلے کے بعد پہنچا اور مقابلے کا مقدمہ بھی ایس ایچ او شاہ لطیف کی مدعیت میں درج کیا گیا اس لیے میرے خلاف کارروائی کی سفارش سمجھ سے باہر ہے۔راؤ انوار نے تحقیقاتی کمیٹی کے رکن ڈی آئی جی سلطان خواجہ پر تحفظات کا اظہار کیا۔ایس ایس پی کے مطابق سلطان خواجہ نے ایس ایچ او شاہ لطیف کو کہا کہ تم بیاندو ہم تمہیں بچا لیں گے۔راؤ انور نے کہا کہ وہ ثابت کریں گے کہ پولیس مقابلہ جعلی نہیں تھا اور انہیں امید ہے کہ سپریم کورٹ ان کے ساتھ انصاف کرے گی۔دوسری جانب تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنااللہ عباسی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا
کہ انصاف ہوتا نظر آئے، کمیٹی ممبر آزاد خان اور سلطان خواجہ نے بہت محنت کی ہے اور ہم نے ایک متفقہ رپورٹ بھیجی ہے۔واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے بھی نقیباللہ کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کا از خود نوٹس لیا ہے۔علاوہ ازیں ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاہے کہ نقیب اللہ کے معاملے پر صرف راؤ انوار پر ملبہ ڈالنے سے مسئلہ نہیں ہوگا اس میں وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ کو بھی کٹہرے میں لانا چاہیے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ کراچی آپریشن کا مطالبہ ایم کیوایم نے کیا تھا ٗہم نے شہر میں امن قائم کرنےکیلئے اتنی بڑی قربانی دی اور اس سے امن قائم ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف جھوٹے اوربے بنیادمقدمات ہیں، یہ سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنائے گئے ہیں۔ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ کراچی کے ووٹ ایم کیوایم پاکستان کے پاس ہیں لیکن شہر سے متعلق اجلاسوں میں میئر کراچی اور اپوزیشن لیڈر کو نہیں بلایا جاتا.۔

indian Army Chief

ﭘﭩﯽ ﮨﺎﺋﯽ ﮐﻤﺸﻨﺮ ﺟﮯ ﭘﯽ ﺳﻨﮕﮫ ﮐﻮ ﺩﻓﺘﺮ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺱ    ﺟﺎﺭﺣﯿﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﺣﺘﺠﺎﺟﯽ ﻣﺮﺍﺳﻠﮧ ﺗﮭﻤﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ۔ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﺷﺎﮨﺪ ﺧﺎﻗﺎﻥ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﻧﮯ ﮐﻮﭨﻠﯽ ﺳﯿﮑﭩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﺑﻼﺍﺷﺘﻌﺎﻝ ﻓﺎﺋﺮﻧﮓ ﮐﯽ ﺷﺪﯾﺪ ﻣﺬﻣﺖ ﮐﯽ ﮨﮯ ۔ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﻻﺋﻦ ﭘﺮ ﺟﺎﺭﺣﯿﺖ ﮐﺎ ﺗﺎﺯﮦ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻗﻄﻌﯽ ﻧﯿﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﻻﺋﻦ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﮐﺸﯿﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ ﭼﻠﯽ ﺍٓﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺍٓﺋﮯ ﺭﻭﺯ ﺗﺼﺎﺩﻡ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺭﻭﻧﻤﺎ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﻓﻮﺟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻓﺎﺋﺮﻧﮓ ﮐﺎ ﺗﺒﺎﺩﻟﮧ ﺗﻮ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻮﺝ ﻋﺎﻡ ﺍٓﺑﺎﺩﯼ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻓﺎﺋﺮﻧﮓ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﻟﮧ ﺑﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﻔﺎﮐﯽ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﮯ ۔ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﮩﻢ ﺟﻮﺋﯽ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ۔ﻭﮦ ﮐﻨﺪﮬﺎ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﮯ ﺩﻋﻮﮮ ﺩﺍﺭ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﺎ ﮨﮯ ۔ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﮨﯽ ﺩﮨﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﯽ ﺍٓﺋﯽ ﺍﮮ ﭼﯿﻒ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﮮ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺍٓﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺟﻤﺎﻥ ﺩﻓﺘﺮ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺳﯽ ﺍٓﺋﯽ ﺍﮮ ﭼﯿﻒ ﮐﯽ ﺩﮨﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺍٓﮔﺎﮦ ﮨﮯ ۔ﺳﯽ ﺍٓﺋﯽ ﺍﮮ ﭼﯿﻒ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺍٓﺋﮯ ﺗﮭﮯ ؟ﯾﮧ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﻮﺍﻝ ﻧﮩﯿﮟ ۔ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺳﭩﺮﯾﭩﺠﮏ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﮐﯽ ﮈﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪﮪ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺳﭩﺮﯾﭩﺠﮏ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﺍﮐﺖ ﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﺩﺷﻤﻦ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺘﺮﮎ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺌﯽ ﻣﺤﺎﺫﻭﮞ ﭘﺮ ﺣﺎﻟﺖ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ﮔﻮﯾﺎ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ ۔ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﺮﺩ ﺟﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﯿﺪﮔﯽ ﻓﺮﯾﺰ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺗﺼﺎﺩﻡ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ ۔ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﺑﺎﺋﻮ ﻣﯿﮟ ﻻﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭨﮭﻮﻧﮏ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺩﻓﺎﻋﯽ ﺗﺠﺰﯾﮧ ﻧﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﺮ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺟﺎﺭﺣﯿﺖ ﺍﻭﺭﺳﻼﻟﮧ ﺟﯿﺴﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﻣﺘﺤﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻓﻐﺎﻥ ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﺭﺳﺪ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﮧ ﺭﮒ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﺭﺣﺎﻧﮧ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﮐﺮﺍﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ 1971 ﺀ ﮐﺎ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍٓﺝ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥﺟﺎﺭﺣﯿﺖ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﮐﯿﻞ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺳﮯ ﻟﯿﺲ ﮨﮯ.. ۔

Legend Zardari

۔۔۔۔۔۔ #زرداری کے جرائم کی فہرست ۔۔۔۔۔۔
ویسے تو زرداری صاحب کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے لیکن چند قابل ذکر جرائم کا تذکرہ ضروری ہے

اس نے آٹھارویں ترمیم کے زریعے پاکستان کا آئین مارشل لاء اور غیر جمہوری غلاظتوں سے پاک کیا
زرداری نے ستر سالوں سے حل طلب صوبایی خودمختاری کا مسله حل کیا وه بهی پنجاب کی رضامندی اور بهترین حکمت عملی سے
زرداری نے پشتون قوم کو اس ملک میں شناخت دی
زرداری نے نیا این ایف سی ایوارڈ دیا (جس میں مرکز اپنے تقریباً بیس فیصد  حصه صوبوں کو دینے پر راضی هوا اور نتیجتاً بلوچستان کا وفاقی آمدنی میں حصه تقریباً تین گنا بڑ گیا)
زرداری نے گوادر امریکی سامراج سے چھین کر چائنہ کے حوالے کیا
زرداری نے امریکا کو بیچے گیے هوائی اڈے خالی کروایے
زرداری نے غریبوں کے لیے جنوبی ایشیاء کا سب سے بڑا سوشل پروگرام دیا بی آیی ایس پی کے زریعے
زرداری نے تاریخ میں پهلی بار زورآور قوتوں کو سیاسی قایدین کے سامنے جوابده بنایا ( یاد هے نه سب کو جب سیاسی قایدین چهبتے هویے سوال کرتے تهے آیی ایس آیی اور آرمی چیف سے)
زرداری نے برمله ایران پر امریکی حملے کی مخالفت کی بلکه گیس پایپ لاین معاهدے کے زریعے دنیا کو باور کروایا که جنگ نهیں مزاکرات اور تجارت هی مسائل کا حل هیں (تاریخ نے زرداری کی لاج رکهی امریکه اور اس کے حواری آج ایران کے ساتھ تجارت اور مزکرات پر لگے هویے هیں)
زرداری نے اُن قوتوں کو بھرپور جواب پانچ سال جمهوریت چلا کر دیا جو کهتے تھے بلکه آج بھی کهتے هیں که جمهوریت پاکستانیوں کے لیے موزوں نهیں هے(مشرف کا انٹرویو دیکھ لیں)
زرداری نے پانچ ساله حکومت میں کوئی ایک سیاسی مخالف جیل میں بند نا کرکے ثابت کیا که هم پاکستانی انتقامی سیاست کے بغیر بھی ملک چلاسکتے هیں
زرداری نے خارجہ پالیسی میں جوهری تبدیلی کے زریعے امریکه کے بجایے روس اور چین کو اولیت دی  اور نتیجہ ج سب کے سامنے هے
زرداری نے بنیادی طور پر زرعی ملک کو دو نمبری سے صنعتی ملک میں تبدیل کرنے کے مزموم پالیسیوں کا راسته روکا اور سبسڈی کا رجحان صنعت سے زراعت کی طرف کردیا
زرداری نے  کلیدی عهدوں پر پارٹی کارکنوں کو بٹھا کر پاکستان کے گھٹن زده ماحول( جہاں صرف اپنے رشتہ داروں اورعزیزوں کو نوازنے کا رواج عام هے) کو یکسر تبدیل کرکے حقیقی جمهوریت کی بنیاد رکھی ______
پیپلز پارٹی کی ہر قیادت کے ساتھ ناروا اور امتیازی سلوک کی وجہ ایسی نہیں جو سمجھ نا آسکے.پیپلز پارٹی کی ہر قیادت نے جمہوریت ہی کو ملک کے لئیے بہترین سمجھا ہے.اور پیپلز پارٹی ہی وہ واحد جماعت ہے جوجمہوریت پر شب خون مارنے والی قوتوں کے سامنے ہمیشہ رکاوٹ بنی ہے.بھٹو شہید کی پھانسی کے بعد محترمہ شہید کی وہی جمہوری روش دیکھ کر ان کا خواب پھر چکنا چور ہوا.لیکن محترمہ کی شہادت کے بعد بظاہر جمہوریت مخالف عناصر کو آخری رکاوٹ ہٹتی نظر آئی تب جب امام سیاست آصف علی زرداری نے جمہوریت ہی کو بہترین انتقام قرار دیکر پاکستان کے آئین میں تبدیلیاں کر اینٹی جمہوریت عناصر کو اقتدار سے دور رکھنے کی عملی کوششیں تیز کر دیں تو شاید یہ ان قوتوں کے لئیے ایک جھٹکا تھا.پھر زرداری اور اس حکومت کو بدنام کرنے کی بھونڈی سازش کا آغاز ہوا.صحافیوں اور ججز کو اربوں کھلائے گئے.اور ایک طوفان بدتمیزی برپا کر دیا گیا.نا اس کے کردار کو چھوڑا گیا نا اسکی حکومت کو کام کرنے دیا گیا.ایسی ایسی کہانی گھڑی گئی جس کا نا تو آج تک کوئی ثبوت پیش کیا جا سکا اور نا شاید گھڑنے والوں سے موخذاہ ہو گا.آج بھی وہی عدلیہ اور میڈیا موجود ہے اور مسائل شاید اس دور سے بہت گھمبیر ہو چکے لیکن وہ سب نہیں ہو رہا جو سابقہ دور میں حکومت کے ساتھ کیا گیا.اور آج ساری توپوں کا بلاول کی طرف رخ ہوجانا بھی اسی مرض کا اظہار ہے
لیکن شاید جانتے نہیں
حالات کے قدموں میں کبھی قلندر نہیں گرتا
ٹوٹے جو ستارہ آسماں سے کبھی زمین پر نہیں گرتا
بڑے ہی شوق سے گرتے ہیں سمندر میں دریا
لیکن کوئی سمندر کسی دریا میں نہیں گرتا
...بغض زرداری لا علاج بیماری

Bacho k Liye zaher

السلام علیکم،
زیر نظر تصویر  ابراہیم کی ہے
جسے دسمبر 2017 کے آخری ہفتے میں پیٹ درد اور بخار کی شکایت ہوئی ہم سمجھے کہ بچوں کو پیٹ درد اور بخار ہونا کوئی بڑی بات نہیں
پھر ساتھ الٹیاں بھی ہوئیں تو ہم گھبرا گئے چونکہ اتوار کا دن تھا سو قریب کوئی ڈاکٹر دستیاب نہ تھا سو فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال لے گئے
وہاں ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر نے checkup کے بعد اس وقت  الٹراساؤنڈ نہ ہونے کے سبب جنرل ہسپتال لے جانے کا کہہ دیا اور اشارہ دیا کہ اپینڈکس کا کیس ہے ۔
ہم ابراھیم کو جنرل ہسپتال لے گئے جو اسوقت تکلیف سے کراہ رہا تھا
جنرل ہسپتال میں ایمرجنسی میں موجود لیڈی ڈاکٹر نے روایتی سستی دکھاتے ہوۓ بد ہضمی کہہ کر ایک ٹیکہ ڈکلوران لگایا اور دوا لکھ کر گھر بھیج دیا
رات کو درد شدید ہونے پر چلڈرن ہسپتال لے گئے وہاں ڈیوٹی پر موجود  لیڈی ڈاکٹر نے اٹھ کر دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا اور فوڈ پوآئزن بتایا اور تین انجیکشن لگا دئے
ہمارے کہنے کے باوجود بھی اس نے الٹراساؤنڈ نہیں کیا اور اپینڈکس چیک یا ایڈمٹ نہ کیا
صبح تک صورت حال کنٹرول سے باہر تھی ہم بجاے چلڈرن ہسپتال جانے اور تین انجکشن لگوانے جو کہ ڈاکٹر نے بتائے تھے کہ تین دن صبح شام لگنے ہیں بچے کو دوبارہ فوجی فاؤنڈیشن لے گئے
وہاں پہنچتے ہی ابراھیم کو فوری طور پر ایڈمٹ کر لیا گیا فوری ٹیسٹ کئے گئے، بنا مزید تاخیر آپریشن تھیٹر میں لے گئے
 تاخیر کی وجہ سے اپینڈکس پھٹ چکا تھا ، اور بڑی آنت میں پتھر بھی تھا جسے Faecolith فائیکولتھ کہتے ہیں

خیر آپریشن کامیاب رہا اللّه کے فضل و کرم سے اور اللّه نے ہمارے بچے کو نئی زندگی دی

اب آپ کو تصویر میں موجود ان سلانٹی ، کرکرے ,  بلے بلے دال چنا اور Lays Chips کی تباہ کاریوں سے آگاہ کریں کہ اس مصیبت کے ہم پر  آنے میں ان تینوں کا بڑا ہاتھ رہا Lays اور Kurkuray میں پلاسٹک ہے جو بڑی آنت میں پتھر کی وجہ بنتا ہے

ایک عرصے سے ابراھیم کرکرے ، Lays اور سلانٹی اور کبھی بلے بلے دال چنا کھا رہا تھا تقریبا روزانہ ہی اور نتیجہ بڑی آنت میں پتھر کی صورت میں نکلا جو ان چیزوں کو تواتر کے ساتھ استعمال کرنے کی وجہ آھستہ آھستہ بڑھ رہا تھا اور اس کے سبب گینگرین بن گیا تھا۔
اللّه ہی کا کرم تھا ورنہ ہمارے پاس تو زندہ رہنے کی وجہ ہی نہ رہتی 
میری آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر التجا ہے کہ خدا کے لئے اپنے بچوں کو ان تمام اور دیگر ایسی اشیاء سے دور رکھیں یہ کمپنیاں موت بانٹ رہی ہیں چند روپوں کی خاطر معصوم جانوں سے کھیل رہی ہیں

اور اللّه سے دعا ہے اللّه سرکاری ہسپتالوں میں موجود پلاسٹک کے ڈاکٹروں کو ہدایت دے

اللّه آپ سب کے پیاروں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے

آپ سب دوست احباب سے درخواست ہے کہ اس پوسٹ کو تشہیری خیال نہ کریں بلکہ معاشرتی اصلاح کی غرض سے share کریں تاکہ ماں باپ بچوں کو یہ سب کھانے سے روکیں اور اگر کوئی صاحب ہمت ان سرکاری ہسپتال والوں کے کان کھینچ سکتا ہو تو ضرور کھینچے

آج ہمارا بچہ اس تکلیف سے گزرا ہے کل اللّه نہ کرے کسی اور کے بچے پر ایسا وقت آئے
آمین ثم آمین

Sunday, 14 January 2018

fuuny burhya

پھپھے_کٹنی 😝😜😛

ایک بوڑھی عورت گواہی دینے عدالت میں پیش ہوئی تو وکیل استغاثہ نے گواہ پر جرح شروع کی۔ بڑھیا قصبے کی سب سے قدیمی مائی تھی۔اور دنیا کا سرد گرم خوب جانتی تھی۔

وکیل استغاثہ بھرپور اعتماد سے مائی کی طرف بڑھا اور اس سے پوچھا:
مائی بشیراں، کیا تم مجھے جانتی ہو؟

مائی بشیراں: ہاں قدوس۔
میں تمہیں اس وقت سے اچھِی طرح جانتی ہوں جب تم ایک بچے تھے۔ اور سچ پوچھو تو تم نے مجھے شدید مایوس کیا ہے۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔ لڑائیاں کرواتے ہو، اپنی بیوی کو دھوکہ دیتے ہو، طوائفوں کے پاس بھی جاتے ہو ، تم لوگوں کو استعمال کر کے پھینک دیتے ہو۔ اور پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرتے نہیں تھکتے۔ تم نے سپر مارکیٹ والے کے دس ہزار ابھی تک نہیں دئے - شراب پیتے ہو ، جوا بھی کھیلتے ہو اور تمہارا خیال ہے کہ تم بہت ذہین ہو حالانکہ تمہاری کھوپڑی میں مینڈک جتنا دماغ بھی نہیں ہے۔ ہاں ہاں میں تمہیں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔

وکیل ہکا بکا رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اب کیا پوچھے۔ گھبراہٹ میں اس نے وکیل دفاع کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا: مائی بشیراں تم اس شخص کو جانتی ہو؟

مائی بشیراں: اور نہیں تو کیا، جیسے میں عبدالغفور کو نہیں جانتی ؟
ارے اسے اس وقت سے جانتی ہوں جب یہ ڈائپر میں گھومتا تھا اور سارا محلہ ناک پر ہاتھ رکھ کر اس سے دور بھاگتا تھا۔ یہ یہاں کا سست ترین بندہ ہے اور ہر ایک کی برائی ہی کرتا ہے۔ اوپر سے یہ ہیروئنچی بھی ہے۔ کسی بندے سے یہ تعلقات نہیں بنا کر رکھ سکتا۔ اور شہر کا سب سے نکما اور ناکام وکیل یہی ہے۔ چار بندیوں سے اس کا افئیر چل رہا ہے۔ جن میں سے ایک تمہاری بیوی بھی ہے۔ پرسوں رات جب تم اس طوائف کے ساتھ تھے تو یہ تمہارے گھر میں تھا ، دو بندوں سے مار کھا چکا ہے انہی باتوں پر ، ہاں اس بندے کو میں اچھی طرح جانتی ہوں۔

جج نے دونوں وکیلوں کو اپنے پاس بلایا اور آہستہ سے بولا: اگر تم دونوں احمقوں میں سے کسی نے مائی بشیراں سے یہ پوچھا کہ وہ مجھے جانتی ہے تو دونوں کو پھانسی دے دوں گا..😏😏😏😂😋😝😜😂😂

Sunday, 7 January 2018

Air Marshal Asghar khan

‎ایئرمارشل اصغر خان اور زبیدہ آپا

‎ایئر مارشل اصغر صاحب سے پہلی ملاقات ستر کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں اس وقت ہوئی جب وہ اپنی سیاسی جماعت تحریک استقلال کے حوالے سے ادیبوں اور صحافیوں سے بات چیت کرنے کے لیے لاہور آئے تھے۔ مقام اور گفتگو کی تفصیل تو یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ سب لوگ ان کے پروگرام سے کم اور ان کی شخصیت سے زیادہ متاثر ہوئے تھے کہ ان کی مختصر گفتگو اور کم آمیزی کے انداز میں سیاست دانوں والی کوئی بات سرے سے تھی ہی نہیں۔
‎دھیما لہجہ، چھوٹے چھوٹے جملے، بحث سے گریز اور پاکستان کے لیے محبت اور درد مندی اگرچہ ان کی بات بات سے جھلک اور چھلک رہی تھی مگر یہ واضح نہیں ہورہا تھا کہ ان کی تحریک کا ہدف، تنظیمی ڈھانچہ اور طریق کار کیا ہوگا۔ زیادہ تر سوالوں کے جواب محفل میں موجود ان کی بیگم صاحبہ اور کچھ دیگر ساتھیوں نے دیے جن میں اعتزاز احسن، مہناز رفیع اور شہناز وزیر علی کے نام حافظے میں رہ گئے ہیں۔
‎قصۂ مختصر یہ کہ ہم نوجوانوں کے گروپ نے جو احمد ندیم قاسمی صاحب کی معرفت اور سرکردگی میں وہاں گیا تھا واپسی پر آپس میں جو تبادلہ خیال کیا اس کا لُب لباب یہی تھا کہ یہ پارٹی شاید ہی چل پائے اور یہ کہ ہماری عمومی گھٹیا اور خود غرضانہ سیاست کے لیے اصغر خان صاحب جیسا عمدہ، نیک، ایمان دار، سچا اور محب وطن شخص چونکہ کسی طور بھی موزوں اور قابل قبول نہیں ہوسکتا، سو بہتر ہوگا کہ وہ پاک فضائیہ کے حوالے سے کمائی ہوئی اپنی عزت اور نیک نامی کو داؤ پر نہ لگائیں۔
‎آج ان کی وفات کی خبر سن کر جو پہلی بات دھیان میں آئی وہ یہی تھی کہ کیسی بدقسمتی کی بات ہے کہ اس بہت عظیم، غیر معمولی اور قابل فخر پاکستانی کے ساتھ آگے چل کر سچ مچ ایسا ہی ہوا۔ وہ ساری زندگی اپنے اصولوں اور سوچ پر قائم رہے اور ہماری سیاست بھی چند جزوی اور کاسمیٹک تبدیلیوں کے باوجود اپنے معمول کے رستے پر ہی چلتی رہی اور ہمارے نظام میں کبھی وہ گنجائش نہ نکل سکی کہ قوم ان کی خدمات سے کوئی فائدہ اٹھا سکتی۔
‎البتہ اتنا ضرور ہوا کہ ان کی ذات کی حد تک انھیں وہ محبت اور تعظیم حاصل رہی جس کے وہ صحیح معنوں میں حق دار تھے۔ وہ ایک سچے مگر بھولے، نیک نیت اور ڈسپلنڈ انسان تھے جو کسی ذاتی غرض کے بغیر سارے معاشرے کو اپنے جیسا بنانا چاہتا تھا۔ انھوں نے تاریخ کے ہر موڑ پر سچائی اور جرأت کے ساتھ اپنا مؤقف ریکارڈ تو کروایا مگر وہ چالاکیاں اور دنیا داری کے گر نہ سیکھ سکے جو سکہ رائج الوقت تھے۔
‎سو یہ ہوا کہ علالت، ضعیف العمری اور چند ذاتی صدمات کے باعث وہ آہستہ آہستہ گوشہ نشین ہوتے چلے گئے اور یوں وہ ہماری سیاسی تاریخ میں تو اپنا جائز مقام حاصل نہ کرسکے مگر جب بھی قابل فخر، صاحب کردار اور غیر معمولی پاکستانیوں کی کوئی فہرست مرتب کی جائے گی ایئر مارشل اصغر خان مرحوم کا نام یقینا اس کے اہم ترین ناموں میں شامل ہوگا۔

‎اس اولین ملاقات کے فوری اور جذباتی تاثر کے بعد بھی وقفے وقفے سے ان سے چند بار ملاقات کا موقع ملا مگر ہر بار یہی احساس مزید گہرا ہوتا چلا گیا کہ ہماری قوم نے اس شخص کی بصیرت، تجربے اور خداداد صلاحیت سے وہ فائدہ نہیں اٹھایا جو اٹھایا جانا چاہیے تھا اور جس کی مدد سے ہم پاکستان کو اس کی موجودہ سے کہیں زیادہ بہتر حالت میں لے جاسکتے تھے۔ وہ جس عمر میں پاک فضائیہ کے کمانڈر ان چیف بنے اور ریٹائر ہوئے وہ اکثر کامیاب لوگوں کے ٹیک آف کا زمانہ ہوتا ہے جو اپنی جگہ پر ایک قابل فخر اور بے مثال کارنامہ ہے۔
‎ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا ’’سویلین‘‘ دورانیہ ان کی فوجی مصروفیات کے زمانے سے کہیں زیادہ ہے۔ آخری چند برسوں سے قطع نظر ان کی ساری زندگی بے حد فعال اور بامقصد گزری ہے۔ آج فیس بک پر قائداعظم کے ساتھ ان کی باوردی تصویر دیکھ کر خیال آیا کہ اب شاید ہی کوئی ایسا قابل ذکر شخص ہمارے درمیان زندہ ہے جس نے قائد کو اس قدر قریب سے دیکھا ہو۔ وہ بلا شبہ ایک بہت بڑے اور قابل فخر انسان تھے جو اب ’’کمیاب‘‘ سے ’’نایاب‘ کی صف میں شامل ہوگئے ہیں۔
‎زبیدہ آپا سے بھی مجھے براہ راست ملنے اور سلام دعا سے آگے کی بات کرنے کا موقع کم کم ہی ملا ہے لیکن ان کے خاندان کے کئی لوگوں سے میری ایسی دوستی اور قربت ہے کہ وہ اس دوری کے باوجود ہمیشہ مرے قریبی حلقۂ احباب میں شامل رہی ہیں۔
‎قاسمی صاحب اور ’’فنون‘‘ کی معرفت یہ سلسلہ ان کی بزرگ نسل تک بھی جاپہنچتا ہے کہ اپنے لاہور قیام کے دوران میری بڑے حمیدی صاحب سے بھی نیاز مندی رہی ہے اور یوں میں اس دسترخوان کے کمالات کا عینی شاہد بھی رہا ہوں۔ جس نے آگے چل کر زبیدہ آپا کو ایک باقاعدہ تعارف اور پہچان کی وہ شکل دے دی کہ اب ایک دنیا انھیں اسی حوالے سے جانتی اور مانتی ہے۔ وہ یوپی، سی پی کی اس تہذیب کا ایک زندہ استعارہ تھیں جس کا ذکر اب صرف کتابوں اور یادداشتوں تک محدود ہوتا جارہا ہے۔ گھر داری کے جس سلیقے، آرائش، سلائی کڑھائی اور ٹونے ٹوٹکوں کی باتیں وہ اپنے مخصوص دلچسپ انداز میں بہت مزے اور آسانی سے کیا کرتی تھیں۔ اس نے ہماری نئی نسل کو اپنی تہذیب اور تاریخ سے دوبارہ جوڑنے کا وہ بے مثال کام کیا جس کو اگر ایک پل سے تشبیہ دی جائے تو غلط نہ ہوگا۔ جو کام ان کی دو بڑی بہنوں مرحومہ فاطمہ ثریا بجیا نے اپنے ڈراموں، آپا زہرہ نگاہ نے شاعری اور بھائی انور مقصود نے اپنی رنگارنگ تحریروں کے حوالے سے کیا وہ انھوں نے صرف اپنی زبان، مہارت اور انداز بیان سے کردکھایا اور اسے اس ڈھنگ اور خوش اسلوبی سے نبھایا کہ ابلاغ اور مکالمے کا ایک بالکل نیا دروازہ وا ہوگیا جس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی زندگی ہی میں ان کا یہ ہنرکارٹون اور پیروڈی کے موضوعات میں شامل ہونا شروع ہوگیا تھا اور یاد رہے کہ مزاح کی ان اصناف کا بنیادی تعلق ہمیشہ کسی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی پسندیدگی سے ہوتا ہے (میرے عزیز دوست اور ہمارے عہد کی محبوب اور ہمہ جہت شخصیت گلزار نے اپنے باندرہ ممبئی والے گھر کے ڈرائنگ روم میں دیواروں پر اپنی تصویروں کی جگہ وہ بہت سے کارٹون لگا رکھے ہیں جو مختلف کارٹونسٹوں کے بنائے ہوئے ہیں اور جو بلاشبہ اس غیر معمولی مقبولیت کا اعتراف ہیں جو رب کریم نے ان کو عطا کی ہے)
‎زبیدہ آپا نے شہرت اگرچہ اپنی زندگی کے آخری چند برسوں میں پائی مگر میڈیا اور بالخصوص کمرشل اور سوشل میڈیا کے اس دور میں انھوں نے یہ سفر اس تیزی سے کیا کہ گویا برسوں کی کسر دنوں میں پوری ہوگئی۔ دعا ہے کہ رب کریم ان کی روح پر اپنا کرم فرمائے اور ہم سب کو بھی اس محبت اور شفقت کی توفیق دے جس کی خوشبو سے ان کا لہجہ مہکا اور روشن رہتا تھا۔

                                                                       ........

Saturday, 6 January 2018

Gharoor kis chez ka

اِنسانی زِندگی کا کیمیائی ارتقاء
جس طرح عالمِ آفاق کے جلوے اِجمالاً عالمِ اَنفس میں کارفرما ہیں اُسی طرح نظامِ ربوبیت کے آفاقی مظاہر پوری آب وتاب کے ساتھ حیاتِ انسانی کے اندر جلوہ فرما ہیں۔ اِنسان کے ’’اَحسن تقویم‘‘ کی شان کے ساتھ منصہ خلق پر جلوہ گر ہونے سے پہلے اُس کی زندگی ایک اِرتقائی دَور سے گزری ہے۔ یہی اُس کے کیمیائی اِرتقاء (chemical evolution) کا دَور ہے۔ جس میں باری تعالیٰ کے نظامِ ربوبیت کا مطالعہ بجائے خود ایک دِلچسپ اور نہایت اہم موضوع ہے۔ یہ حقائق آج صدیوں کے بعد سائنس کو معلوم ہو رہے ہیں جبکہ قرآن اِنہیں چودہ سو سال پہلے بیان کر چکا ہے۔
کیمیائی اِرتقاء کے سات مراحل
قرآنِ مجید کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اِنسانی زِندگی کا کیمیائی اِرتقاء کم وبیش سات مرحلوں سے گزر کر تکمیل پذیر ہوا جو درج ذیل ہیں :
تراب (inorganic matter)
ماء (water)
طین (clay)
طین لازب (adsorbable clay)
صلصال من حماء مسنون (old physically & chemically altered mud)
صلصال کالفخار (dried & highly purified clay)
سلالہ من طین (extract of purified clay)
قرآنِ مجید مذکورہ بالا سات مرحلوں کا ذِکر مختلف مقامات پر یوں کرتا ہے :
1۔ تراب (Inorganic matter)
اﷲ ربّ العزت اِنسان کے اوّلیں جوہر کو غیر نامی مادّے سے تخلیق کیا۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ.
(المومن، 40 : 67)
وُہی ہے جس نے تمہیں مٹی (یعنی غیرنامی مادّے) سے بنایا۔
اِس آیتِ کریمہ میں آگے حیاتیاتی اِرتقاء کے بعض مراحل کا بھی ذِکر کیا گیا ہے۔ مثلاً ’’ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا‘‘ لیکن قابلِ توجہ پہلو یہ بھی ہے کہ اِنسانی زندگی کے اِن اِرتقائی مرحلوں کا ذِکر باری تعالیٰ نے اپنی صفت ربُّ العالمین کے بیان سے شروع کیا ہے۔ مذکورہ بالا آیتِ کریمہ سے پہلی آیت کے آخری اَلفاظ یہ ہیں :
وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَO
(المومن، 40 : 66)
اور مجھے حکم ہوا ہے کہ اُس کے سامنے گردن جھکاؤں جو سارے عوالم اور اُن کے مظاہرِ حیات کو درجہ بدرجہ مرحلہ وار کمال تک پہنچانے والا ہےo
یہاں اﷲ ربّ العزت نے اپنی شانِ ربُّ العالمین کے ذِکر کے ساتھ ہی دلیل کے طور پر اِنسانی زندگی کے اِرتقاء کا ذِکر کر دیا گیا ہے، جس سے واضح طور پر یہ سبق ملتا ہے کہ قرآنِ مجید باری تعالیٰ کے ربُّ العالمین ہونے کو اِنسانی زندگی کے نظامِ ارتقاء کے ذریعے سمجھنے کی دعوت دے رہا ہے، کہ اے نسلِ بنی آدم! ذرا اپنی زندگی کے اِرتقاء کے مختلف اَدوار ومراحل پر غور کرو کہ تم کس طرح مرحلہ وار اپنی تکمیل کی طرف لے جائے گئے۔ کس طرح تمہیں ایک حالت سے دُوسری حالت کی طرف منتقل کیا گیا اور کس طرح تم بالآخر ’’اَحسن تقوِیم‘‘ کی منزل کو پہنچے۔ کیا یہ سب کچھ ’’ربُّ العالمین‘‘ کی پرورِش کا مظہر نہیں ہے جس نے تمہیں بجائے خود ایک عالم بنا دیا ہے!
2۔ ماء (Water)
یوں تو ہر جاندار کی تخلیق میں پانی ایک بنیادی عنصر کے طور پر موجود ہے، تاہم اﷲ تعالیٰ نے اِنسان کی تخلیق میں بطورِ خاص پانی کا ذِکر کیا ہے۔ اِرشادِ ربّ العالمین ہے :
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا.
(الفرقان، 25 : 54)
اور وُہی ہے جس نے پانی سے آدمی کو پیدا کیا۔
اِس آیتِ کریمہ میں بھی تخلیقِ اِنسانی کے مرحلے کے ذِکر کے بعد باری تعالیٰ کی شانِ ربوبیت کا بیان ہے :
وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًاO
(الفرقان، 25 : 54)
اور تمہارا رب قدرت والا ہے۔
گویا یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تخلیقِ اِنسانی کا یہ سلسلہ اللہ ربُّ العزّت کے نظامِ ربوبیت کا مظہر ہے۔
اِنسان کے علاوہ کرۂ ارض پر بسنے والی لاکھوں کروڑوں مخلوقات کی اوّلیں تخلیق میں بھی پانی کی وُہی اہمیت ہے جتنی اِنسان کی کیمیائی تخلیق میں۔ اِس سلسلے میں ایک اور مقام پر اِرشاد فرمایا گیا :
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَO
(الانبياء، 21 : 30)
اور ہم نے (زمین پر) ہر زِندہ چیز کی نمود پانی سے کی۔ تو کیا وہ (اِن حقائق سے آگاہ ہو کر بھی) ایمان نہیں لاتےo؟
یہ آیتِ کریمہ حیاتِ اِنسانی یا حیاتِ اَرضی کے اِرتقائی مراحل پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے لئے دعوتِ فکر بھی ہے اور دعوتِ ایمانی بھی۔
3۔ طین (Clay)
اِنسان کی کیمیائی تخلیق میں ’تراب‘ اور ’ماء‘ بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِن دونوں عناصر کے مکس ہو جانے پر ’طین‘ کو وُجود ملا۔ ’طین‘ کا ذِکر اﷲ ربّ العزت نے قرآنِ مجید میں یوں کیا ہے :
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٍ.
(الانعام، 6 : 2)
(اﷲ) وُہی ہے جس نے تمہیں مٹی کے گارے سے پیدا فرمایا، (یعنی کرۂ ارضی پر حیاتِ اِنسانی کی کیمیائی اِبتدا اس سے کی)۔
یہاں یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ مترجمینِ قرآن نے بالعموم ’’تُرَاب‘‘ اور ’’طِیْن‘‘ دونوں کا معنی مٹی کیا ہے، جس سے ایک مغالطٰہ پیدا ہو سکتا ہے کہ آیا یہ دو الگ مرحلے ہیں یا ایک ہی مرحلے کے دو مختلف نام؟ اِس لئے ہم نے دونوں کے اِمتیاز کو برقرار رکھنے کے لئے طِیْن کا معنی ’مٹی کا گارا‘ کیا ہے۔ تُرَاب اصل میں خشک مٹی کو کہتے ہیں۔ اِمام راغب اِصفہانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : التُّرابُ الارض نفسہا (تراب سے مراد فی نفسہ زمین ہے) جبکہ طِیْن اُس مٹی کو کہتے ہیں جو پانی کے ساتھ گوندھی گئی ہو۔ جیساکہ مذکور ہے :
الطين : التراب والماء المختلط.
(المفردات : 312)
مٹی اور پانی باہم ملے ہوئے ہوں تو اُسے ’’طین‘‘ کہتے ہیں۔
اِسی طرح کہا گیا ہے :
الطين : التراب الذي يجبل بالماء.
(المنجد : 496)
’’طین‘‘ سے مراد وہ مٹی ہے جو پانی کے ساتھ گوندھی گئی ہو۔ (اِسی حالت کو گارا کہتے ہیں)۔
اِس لحاظ سے یہ ترتیب واضح ہو جاتی ہے :
مٹی۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پانی۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گارا
4۔ طینِ لازِب (Adsorbable clay)
’طین‘ کے بعد ’طین لازِب‘ کا مرحلہ آیا، جسے اﷲ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں یوں بیان کیا ہے :
إِنَّا خَلَقْنَاهُم مِّن طِينٍ لَّازِبٍO
(الصافات، 37 : 11)
بیشک ہم نے اُنہیں چپکتے گارے سے بنایاo
’طینِ لازب‘ طین کی اگلی شکل ہے، جب گارے کا گاڑھا پن زیادہ ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ لغتِ عرب میں ہے :
إذا زال عنه (الطين) قوةُ المآءِ فهو طينٌ لازبٌ.
جب گارے سے پانی کی سیلانیت زائل ہو جائے تو اُسے ’طینِ لازِب‘ کہتے ہیں۔
یہ وہ حالت ہے جب گارا قدرے سخت ہو کر چپکنے لگتا ہے۔
5۔ صلصال من حماء مسنون (Old physically & chemically altered mud)
مٹی اور پانی سے مل کر تشکیل پانے والا گارا جب خشک ہونے لگا تو اُس میں بو پیدا ہو گئی۔ اُس بودار مادّے کو اﷲ ربّ العزت نے ’صلصال من حماء مسنون‘ کا نام دیا۔
اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍO
(الحجر، 15 : 26)
اور بیشک ہم نے اِنسان کی (کیمیائی) تخلیق ایسے خشک بجنے والے گارے سے کی جو (پہلے) سِن رسیدہ (اور دُھوپ اور دِیگر طبیعیاتی اور کیمیائی اثرات کے باعث تغیر پذیر ہو کر) سیاہ بودار ہو چکا تھاo
اِس آیتِ کریمہ سے پتہ چلتا ہے کہ تخلیقِ اِنسانی کے کیمیائی اِرتقاء میں یہ مرحلہ ’طینِ لازب‘ کے بعد آتا ہے۔ یہاں ’صلصال‘ (بجتی مٹی) کا لفظ اِستعمال کیا گیا ہے جس کی اصل ’صلل‘ ہے۔ اِ مام راغب اِصفہانی ’صلصال‘ کا معنی یوں بیان کرتے ہیں :
تردّد الصوت من الشئ اليابس، سمّي الطين الجافّ صلصالًا.
(المفردات : 274)
خشک چیز سے پیدا ہونے والی آواز کا تردّد یعنی کھنکناہٹ۔ اسی لئے خشک مٹی کو ’صلصال‘ کہتے ہیں کیونکہ یہ بجتی اور آواز دیتی ہے۔
لغتِ عرب میں ’صلصال‘ کا معنی یوں بیان کیا گیا ہے :
الصلصال : الطين اليابس الذي يصل من يبسه أي يصوت.
(المنجد : 446)
’صلصال‘ سے مراد وہ خشک مٹی ہے جو اپنی خشکی کی وجہ سے بجتی ہے یعنی آواز دیتی ہے۔
’صلصال‘کی حالت گارے کے خشک ہونے کے بعد ہی ممکن ہے پہلے نہیں۔ کیونکہ عام خشک مٹی، جسے تُرَاب کہا گیا ہے وہ اپنے اندر بجنے اور آواز دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ لفظِ صلصال اِس اِعتبار سے تراب سے مختلف مرحلے کی نشاندہی کر رہا ہے۔ لہٰذا صلصال کا مرحلہ ’’طینِ لازب‘‘ یعنی چپکنے والے گارے کے بعد آیا۔ جب طینِ لازِب (چپکنے والا گارا) وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خشک ہوتا گیا تو اُس خشکی سے اُس میں بجنے اور آواز دینے کی صلاحیت پیدا ہو گئی۔ یہ تو طبیعی تبدیلی (physical change) تھی مگر اِس کے علاوہ اُس پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کیمیائی تبدیلیاں بھی ناگزیر تھیں جن میں اُس مٹی کے کیمیائی خواص میں بھی تغیر آیا۔ اِن دونوں چیزوں کی تصدیق اِسی آیت کے اگلے اَلفاظ ’’مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ‘‘ سے ہو جاتی ہے۔
’’حَمٰی‘‘ حرات اور بخار کو کہتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں یہ لفظ تپنے، کھولنے اور جلنے وغیرہ کے معنوں میں کثرت سے اِستعمال ہوا ہے۔ اِرشاداتِ ربانی ملاحظہ ہوں :
تَصْلَى نَارًا حَامِيَةًO
(الغاشيه، 88 : 4)
دہکتی ہوئی آگ میں جا گریں گےo
يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ.
(التوبه، 9 : 35)
جس دِن اُس (سونے، چاندی اور مال) پر دوزخ کی آگ میں تاپ دی جائے گی۔
لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًاO إِلَّا حَمِيمًا.
(النباء، 78 : 24، 25)
وہ اُس میں (کسی قسم کی) ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کاo سوائے کھولتے ہوئے گرم پانی کے۔
الغرض ’’حَمٰی‘‘ میں اُس سیاہ گارے کا ذِکر ہے جس کی سیاہی، تپش اور حرات کے باعث وُجود میں آئی ہو، گویا یہ لفظ جلنے اور سڑنے کے مرحلے کی نشاندہی کر رہا ہے۔
’’مَسْنُوْن‘‘ سے مراد متغیر اور بدبودار ہے۔ یہ ’’سنّ‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی صاف کرنے، چمکانے اور صیقل کرنے کے بھی ہیں، مگر یہاں اِس سے مراد متغیر ہو جانا ہے۔ جس کے نتیجے میں کسی شئے میں بوپیدا ہو جاتی ہے۔ یہ احماء (جلانے اور ساڑنے) کا لازمی نتیجہ ہے جس کا ذِکر اُوپر ہو چکا ہے۔
قرآنِ مجید میں ہے :
فَانظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ.
(البقره، 2 : 259)
پس (اَب) تو اپنے کھانے پینے (کی چیزوں) کو دیکھ، (وہ) متغیر (باسی) بھی نہیں ہوئیں۔
جب گارے ’’طینِ لازب‘‘ پر طوِیل زمانہ گزرا اور اُس نے جلنے سڑنے کے مرحلے عبور کئے تو اُس کا رنگ بھی متغیر ہو کر سیاہ ہو گیا اور جلنے کے اَثر سے اُس میں بو بھی پیدا ہو گئی۔ اِسی کیفیت کا ذکر ’’صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ‘‘ میں کیا جا رہا ہے۔
کسی شئے کے جلنے سے بدبو کیوں پیدا ہوتی ہے، اِس کا جواب بڑا واضح ہے کہ جلنے کے عمل سے کثافتیں سڑتی ہیں اور بدبو کو جنم دیتی ہیں جو کہ مستقل نہیں ہوتی۔ اس وقت تک رہتی ہے جب تک کثافتوں کے سڑنے کا عمل یا اُس کا اثر باقی رہتا ہے اور جب کثافت ختم ہو جاتی ہے تو بدبو بھی معدُوم ہو جاتی ہے۔ اِس لئے اِرشاد فرمایا گیا :
صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍO
(الحجر، 15 : 26)
سِن رسیدہ (اور دُھوپ اور دِیگر طبیعیاتی اور کیمیائی اثرات کے باعث تغیر پذیر ہو کر) سیاہ بودار ہو جانے والا گاراo
گویا لفظِ ’’صلصال‘‘ واضح کر رہا ہے کہ اِس مرحلے تک پہنچتے پہنچتے مٹی کی سیاہی اور بدبو وغیرہ سب ختم ہو چکی تھی اور اُس کی کثافت بھی کافی حد تک معدُوم ہو چکی تھی۔
6۔ صلصال کالفخار (Dried & highly purified clay)
اِنسان کے کیمیائی اِرتقاء میں چھٹا مرحلہ صَلْصَالٌ کَالْفَخَّار ہے، جس کی نسبت اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِO
(الرحمن، 55 : 14)
اُس نے اِنسان کو ٹھیکرے کی طرح بجنے والی مٹی سے پیدا کیاo
جب تپانے اور جلانے کا عمل مکمل ہوا تو گارا پک کر خشک ہو گیا۔ اُس کیفیت کو ’’کَالْفَخَّار‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اِس تشبیہ میں دو اِشارے ہیں :
(الف) ٹھیکرے کی طرح پک کر خشک ہو جانا۔
(ب) کثافتوں سے پاک ہو کر نہایت لطیف اور عمدہ حالت میں آ جانا۔
لفظِ ’’فَخَّارٌ‘‘ کا مادّہ فخر ہے، جس کے معنی مباہات اور اِظہارِ فضیلت کے ہیں۔ یہ فَاخِر سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی بہت فخر کرنے والا۔ ’’فَخَّار‘‘ عام طور پر گھڑے کو بھی کہتے ہیں اور مترجمین ومفسرین نے بالعموم یہاں یہی معنی مراد لئے ہیں۔ ٹھیکرا اور گھڑا چونکہ اچھی طرح پک چکا ہوتا ہے اور خوب بجتا اور آوازیں دیتا ہے، گویا اپنی آواز اور گونج سے اپنے پکنے، خشک اور پختہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے اِس لئے اُسے فخر کرنے والے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ وہ بھی اپنی فضیلت اور شرف کو ظاہر کرتی ہے۔
اِمام راغب اصفہانی اِس بارے میں لکھتے ہیں :
يعبّر عن کل نفيس بالفاخر، يقال ثوب فاخرة وناقة فخور.
(المفردات : 374)
ہر نفیس اور عمدہ چیز کو فاخر کہتے ہیں۔ اِس لئے نفیس کپڑے کو ’ثوبِ فاخر‘ اور عمدہ اُونٹنی کو ’ناقۂ فخور‘ کہا جاتا ہے۔
اور فَخَّار اِسی سے مبالغہ کا صیغہ ہے جو کثرتِ نفاست اور نہایت عمدگی پر دلالت کرتا ہے۔ صاحبُ المحیط بیان کرتے ہیں :
الفاخِر : إسم فاعلٍ و الجيد من کل شئ.
(القاموس المحيط، 2 : 112)
’’الفاخِر‘‘ اسمِ فاعل ہے اور ہر شئے کا عمدہ (حصہ) ہے۔
فَخَّار میں عمدگی اور نفاست میں مزید اِضافہ مراد ہے۔ اِس معنی کی رُو سے اِظہارِ شرف کی بجائے اصلِ شرف کی طرف اِشارہ ہے۔ دونوں معانی میں ہرگز کوئی تخالف اور تعارُض نہیں بلکہ اِن میں شاندار مطابقت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ باری تعالیٰ تخلیقِ اِنسانی کے سلسلۂ اِرتقاء کے ضمن میں اِس مرحلے پر یہ واضح فرما رہے ہیں کہ وہ مٹی اور گارا جو بشریت کی اصل تھا۔ اِس قدر تپایا اور جلایا گیا کہ وہ خشک ہو کر پکتا بھی گیا اور ساتھ ہی ساتھ مٹی، پانی اور کثافتوں سے پاک صاف ہو کر نفاست اور عمدگی کی حالت کو بھی پا گیا۔ یہاں تک کہ جب وہ ’’صلصال کالفخّار‘‘ کے مرحلے تک پہنچی تو ٹھیکرے کی طرح خشک ہو چکی تھی اور کثافتوں سے پاک ہو کر نہایت لطیف اور عمدہ مادّے کی حالت اِختیار کر چکی تھی۔ گویا اَب ایسا پاک، صاف، نفیس، عمدہ اور لطیف مادّہ تیار ہو چکا ہے کہ اُسے اَشرفُ المخلوقات کی بشریت کا خمیر بنایا جا سکے۔ اِنسان اور جن کی تخلیق میں یہی فرق ہے کہ جن کی خلقت ہی آگ سے ہوئی مگر اِنسان کی خلقت میں ’’صلصال‘‘ کی پاکیزگی، طہارت اور لطافت کے حصول کے لئے آگ کو محض اِستعمال کیا گیا۔ اُسے خلقتِ اِنسانی کا مادّہ نہیں بنایا گیا۔ جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے :
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِO وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍO
(الرحمن، 55 : 14، 15)
اُسی نے اِنسان کو ٹھیکرے کی طرح بجنے والی مٹی سے پیدا کیاo اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیاo
اِسی طرح اِرشاد فرمایا گیا :
وَالْجَآنَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ السَّمُومِO
(الحجر، 15 : 27)
اور اُس سے پہلے ہم نے جنوں کو شدید جلا دینے والی آگ سے پیدا کیا، جس میں دُھواں نہیں تھاo
اِس لئے خلقتِ انسانی کے مراحل میں آگ کو ایک حد تک دخل ضرور ہے مگر وہ جنات کی طرح اِنسان کا مادّۂ تخلیق نہیں۔
7۔ سلالہ من طین (Extract of purified clay)
اِنسان کی کیمیائی تخلیق کے دوران پیش آنے والے آخری مرحلے کے بارے میں اِرشادِ ایزدی ہے :
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍO
(المؤمنون، 23 : 12)
اور بیشک ہم نے اِنسان کی تخلیق (کی اِبتدا) مٹی (کے کیمیائی اجزا) کے خلاصہ سے فرمائیo
اِس آیتِ کریمہ میں گارے کے اس مصفّٰی اور خالص نچوڑ کی طرف اِشارہ ہے، جس میں اصل جوہر کو چن لیا جاتا ہے۔ یہاں اِنسانی زندگی کا کیمیائی اِرتقاء ’’طینِ لازب‘‘ کے تزکیہ و تصفیہ (process of purification) کا بیان ہے۔ سُلٰلَۃٌ، سَلُّ یُسَلّ سے مشتق ہے، جس کے معنی میں نکالنا، چننا اور میل کچیل سے اچھی طرح صاف کرنا شامل ہے۔ اِمام راغب اِصفہانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ سے مراد الصَّفْوُا الَّذِيْ يُسَلُّ مِنَ الْأَرْض ہے۔ یعنی مٹی میں سے چنا ہوا وہ جوہر جسے اچھی طرح میلے پن سے پاک صاف کر دیا گیا ہو۔ الغرض سُلٰلَۃ کا کامل مفہوم اُس وقت وُجود میں آتا ہے جب کسی چیز کو اچھی طرح صاف کیا جائے، اُس کی کثافتوں اور میلے پن کو ختم کیا جائے اور اُس کے جوہر کو مصفّٰی اور مزکّٰی حالت میں نکالا جائے۔ گویا سُلٰلَۃ کا لفظ کسی چیز کی اُس لطیف ترین شکل پردلالت کرتا ہے جو اُس چیز کا نچوڑ، خلاصہ اور جوہر کہلاتی ہے۔
تخلیقِ آدم علیہ السلام اور تشکیلِ بشریت
کرۂ ارض پر تخلیقِ انسانی کے آغاز کے لئے خمیرِ بشریت اپنے کیمیائی اِرتقاء کے کن کن مراحل سے گزرا، اپنی صفائی اور لطافت کی آخری منزل کو پانے کے لئے کن کن تغیرات سے نبرد آزماء ہوا اور بالآخر کس طرح اِس لائق ہوا کہ اُس
سے حضرتِ اِنسان کا بشری پیکر تخلیق کیا جائے اور اُسے خلافت ونیابتِ الٰہیہ کے عالیشان منصب سے سرفراز کیا جائے! اُس کا کچھ نہ کچھ اندازہ تو مذکورہ بالا بحث سے ضرور ہو سکتا ہے۔ یہاں یہ امر پیشِ نظر رہے کہ اِن اِرتقائی مراحل کی جس ترتیب اور تفصیل کا ہم نے ذِکر کیا ہے اُسے حتمی نہ سمجھا جائے۔ کوئی بھی صاحبِ علم اِن جزئیات وتفصیلات کے بیان میں اِختلاف کر سکتا ہے۔ جو کچھ مطالعۂ قرآن سے ہم پر منکشف ہوا ہم نے بلاتامل عرض کر دیا ہے۔ البتہ اِس قدر حقیقت سے کوئی اِنکار نہیں کر سکتا کہ آیاتِ قرآنی میں مختلف اَلفاظ و اِصطلاحات کے اِستعمال سے کیمیائی اِرتقاء کے تصوّر کی واضح نشاندہی ہوتی ہے۔
جب ارضی خمیرِ بشریت مختلف مراحل سے گزر کر پاک صاف ہو چکا اور اپنی جوہری حالت کو پہنچا تو اُس سے باری تعالیٰ نے پہلے اِنسان کی تخلیق ابوالبشر سیدنا آدم علیہ السلام کی صورت میں فرمائی اور فرشتوں سے اِرشاد فرمایا کہ میں زمین میں خلیفہ پیدا فرمانے والا ہوں جس کا پیکرِ بشریت اِس طرح تشکیل دُوں گا۔ یہ تفصیلات قرآنِ مجید میں سورۃُالبقرہ، 2 : 30۔ 34، سورۃُالحجر، 15 : 26۔ 35، سورۃُالاعراف، 7 : 11۔ 16 اور دِیگر مقامات پر بیان کی گئی ہیں۔
فرشتوں کا اِس خیال کو ظاہر کرنا کہ یہ پیکرِ بشریت زمین میں خونریزی اور فساد انگیزی کرے گا، اِسی طرح اِبلیس کا اِنکارِ سجدہ کے جواز کے طور پر حضرت آدم علیہ السلام کی بشریت اور صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُون کا ذِکر کرنا وغیرہ یہ سب اُمور اِس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اُن کی نظر اِنسان کی بشری تشکیل کے اِبتدائی اور دورانی مراحل پر تھی اور ایسا خیال وہ اُن اَجزائے ترکیبی کے خواص کے باعث کر رہے تھے جن کا اِستعمال کسی نہ کسی شکل میں اُس پیکرِ خاکی کی تخلیق میں ہوا تھا۔ وہ مٹی کی کثافت اور آگ کی حرارت جیسی اَشیاء کی طرف دھیان کئے ہوئے تھے، اُن کی نظر مٹی کی اُس جوہری حالت پر نہ تھی جو مصفّٰی اور مزکّٰی ہو کر سراسر کندن بن چکی تھی، جسے باری تعالیٰ ’سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ‘ سے تعبیر فرما رہا ہے۔ مٹی کی یہ جوہری حالت (سُلٰلَہ) کیمیائی تغیرات سے تزکیہ وتصفیہ کے ذریعے اب یقیناً اِس قابل ہو چکی تھی کہ اُس میں روحِ اِلٰہیہ پھونکی جاتی اور نفخِ رُوح کے ذرِیعے اُس کے پیکر کو فیوضاتِ اِلٰہیہ کے اَخذوقبول اور اَنوار وتجلیاتِ ربانی کے اِنجذاب کے قابل بنا دیا جاتا۔ اِس لئے اِرشاد فرمایا گیا :
فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُ سَاجِدِينَO
(الحجر، 15 : 29)
پھر جب میں اُس کی (ظاہری) تشکیل کو کامل طور پر درُست حالت میں لا چُکوں اور اُس پیکرِ (بشری کے باطن) میں اپنی (نورانی) رُوح پھونک دُوں تو تم اُس کے لئے سجدے میں گر پڑناo
چنانچہ بشریتِ اِنسانی کی اسی جوہری حالت کو سنوارا گیا اور اُسے نفخِ رُوح کے ذرِیعے عَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا (اﷲ نے آدم علیہ السلام کو تمام اشیاء کے نام سکھا دیئے) کا مِصداق بنایا گیا اور تب ہی حضرتِ انسان مسجودِ ملائک ہوا۔
بشریتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جوہری حالت
اِمام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ ’المواھب اللدنیہ‘ میں سیدنا کعبُ الاحبار رضی اللہ عنہ سے رِوایت کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے بشریتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تخلیق فرمانا چاہا تو جبریلِ امین علیہ السلام کو اِرشاد فرمایا کہ وہ دُنیا کے دِل اور سب سے اعلیٰ مقام کی مٹی لے آئے تاکہ اُسے منوّر کیا جائے۔
فهبط جبريل في ملائکة الفردوس و ملائکة الرفيع الأعليٰ، فقبض قبضة رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم من موضع قبره الشريف، و هي بيضآء منيرة، فجنّت بمآء التسنيم في معين أنهار الجنة حتي صارت کالدرّة البيضآء لها شعاع عظيم.
(المواهب اللدنيه، 1 : 8)
پس جبرئیل علیہ السلام مقامِ فردوس اور رفیعِ اعلیٰ کے فرشتوں کے ساتھ (کرہء ارضی پر) اُترے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزارِ اَقدس کی جگہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشریتِ مطہرہ کے لئے مٹی حاصل کی۔ وہ سفید رنگ کی چمکدار مٹی تھی۔ پھر اُسے جنت کی رواں نہروں کے صاف اور اُجلے پانی سے گوندھا گیا اور اُسے اِس قدر صاف کیا گیا کہ وہ سفید موتی کی طرح چمکدار ہو گئی اور اُس میں سے نور کی عظیم کرنیں پھوٹنے لگیں۔
اُس کے بعد ملائکہ نے اُسے لے کر عرشِ الٰہی اور کرسی وغیرہ کا طواف کیا۔ بالآخر تمام ملائکہ اور جمیع مخلوقاتِ عالم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی عظمت کی پہچان ہو گئی۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے اِس ضمن میں اِس قدر مختلف منقول ہے کہ آپ کے لئے خاکِ مبارک سرزمینِ مکہ کے مقامِ کعبہ سے حاصل کی گئی۔ صاحبِ عوارفُ المعارف نے بھی اِسی کی تائید کی ہے۔
(المواهب اللدنيه، 1 : 8)
شیخ یوسف بن اسماعیل النبہانی رحمۃ اللہ علیہ بھی جواہر العارف السید عبد اللہ میر غنی کے تحت اُن کی کتاب ’’الاسئلۃ النفسیۃ‘‘ کے حوالے سے اِس امر کی تائید کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیکرِ بشریت بھی نور کی طرح لطیف تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشریتِ مطہرہ کے اُس پاکیزہ اور نورانی جوہر کی حالت کا اندازہ اِس امر سے بھی ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیکرِ اقدس پر کبھی مکھی نہیں بیٹھتی تھی، جیسا کہ کتبِ سیر و فضائل میں صراحتاً منقول ہے :
إنّ الذبابَ کان لا يقع علٰي جسدِه و لا ثيابِه.
(الشفاء، 1 : 522)
مکھی نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسدِ اقدس پر بیٹھتی تھی اور نہ آپ کے لباس پر۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا :
إنّ اﷲَ عصمک من وُقوعِ الذبابِ علٰی جسدِک لأنّه يقع علٰي النجاسات.
(تفسيرالمدارک، 3 : 134)
بیشک اللہ تعالیٰ نے جسم پر مکھی کے بیٹھنے سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پاک رکھا ہے، کیونکہ وہ نجاستوں پر بیٹھتی ہے۔
اِن مقامات پر جہاں دیگر حکمتوں کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشریت مطہرہ کی لطافت ونظافت جو اس جوہری حالت کی آئینہ دار تھی، کا عالم کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیکر بشریت سے ہمہ وقت خوشگوار مہک آتی۔ پسینہ مبارک کو لوگ خوشبو کے لئے محفوظ کرتے۔ اِمام بخاری رحمۃ اللہ علیہ تاریخ کبیر میں لکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس راستے سے گزر جاتے لوگ فضا میں مہکی ہوئی خوشبو سے پہچان لیتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُدھر تشریف لے گئے ہیں۔ اپنا دستِ مبارک کسی کے سر یا بدن سے مس فرما دیتے تو وہ شخص بھی خوشبو سے پہچانا جاتا۔ الغرض اِن تمام اُمور سے یہ حقیقت مترشح ہو جاتی ہے کہ بشریتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی تخلیق کے لحاظ سے ہی اعلیٰ نورانی اور رُوحانی لطائف سے معمور تھی۔ گویا یہ تخلیق بشریت کے اِرتقائی مراحل کا وہ نقطۂ کمال تھا جسے آج تک کوئی نہیں چھوسکا، یہ اِعجاز و کمال اِس شان کے ساتھ فقط بشریتِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نصیب ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقامِ اِصطفاء سے نوازا گیا اور آپ کو مصطفیٰ کے نام سے سرفراز کیا گیا۔

heraat heraan

1- فضا میں ایک بھاری گدھ کیسے اڑتا ہے؟
2- ایک سانپ چٹان پہ کیسے چڑھ سکتا ہے؟
3- سمندر میں جہاز کیسے تیرتا ہے؟
جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گدھ پر ہلائے بغیر ہوا میں اڑ رہا ہے اور ایک سانپ بنا اعضاء کے چٹان پر چڑھ رہا ہے تو ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ اور جب ہمیں اس کی سائینسی وجوہات پتا لگتی ہیں تو ہم مزید حیرت میں ڈوب جاتے ہیں۔
اگر دیکھنے والی آنکھ ہو تو اس کائنات کے ذرے ذرے کے اندر ہمیں حیران کر دینے کے لیئے بہت کچھ موجود ہے۔
کائنات کا ہر نظام اتنا مکمل ہے کہ اس میں ذرا سی کمی بیشی بھی توازن خراب کرنے کو کافی ہے۔
کبھی دیکھا ہے کہ یہ مکھیاں اور بھنورے وغیرہ پودوں کے عمل تولید کے لیے اتنے ایکٹو اور پرفیکشن سے کام کرتے ہیں جیسے کہ یہ علم نباتات کے سند یافتہ ہیں۔
البرٹ آئین سٹائن کے مطابق اگر اس ذمین سے شہد کی مکھیوں کو ختم کر دیا جائے تو پوری نسلِ آدم صرف چار سال کے عرصے میں ہی ختم ہو جائے گی۔
آئین سٹائن کی یہ بات ہیں بتاتی ہے کہ اس کائنات میں ایک مکھی کی بھی کیا اہمیت ہے۔
ایک چھوٹی سی چڑی جسے ہم لوگوں نے شائد کبھی اتنی اہمیت ہی نہ دی ہو۔
ماوزے تنگ نے بھی یہی سوچا کہ ایک چڑیا کی کیا اہمیت ہے۔ اس نے مہم چلا کر چڑیا مارنے کا دن منایا اور لوگوں نے سب چڑیا مار دیں۔
پھر کیا ہوا۔۔۔۔!!!
انہیں لوگوں کو جنہوں نے قدرت کے کام میں دخل اندازی کی کوشش کی تھی۔ کیڑے مکوڑے اور حشرات ان کی ساری فصلیں کھا گئے۔
پھر تھوکا چاٹنے کے لیئے یہی لوگ کسی طرح چڑیا واپس لائے۔۔۔۔۔۔۔
کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی زندگی کے لیئے اہم اور لازمی ہے۔
ایک امریکی شاعر وٹ مین واٹ نے ایک نظم میں کہا تھا:-
" کائنات میں گھاس کی پتی کو وہی اہمیت حاصل ہے جو کسی ستارے کی شعاع کو۔ میرے ہاتھ کا جوڑا انسان کی بنائی ہوئی ہر مشین سے بہتر ہے۔ یہ سر جھکا کر چلنے والی گائے ہر مجسمے سے حسین تر ہے، ایک چیونٹی یا چوہے کی تخلیق اتنا بڑا اعجاز ہے کہ اگر دنیا کے ملاحدہ اس پر غور کریں تو کروڑوں ایمان لے آئیں۔"
منکرین الله صدیوں سے سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ کاش ہم اس کائنات میں کوئی ایک خامی ڈھونڈ سکیں۔ تاکہ اس ایک خامی کی بنیاد پر ہی اللہ سے انکار پر لوگوں کو قائل کر سکیں۔
ابھی تو یہ چند مثالیں ہیں چھوٹی چھوٹی سی۔
لیکن اگر اس ذمین سے باہر نکل کر دیکھیں اس کائنات میں موجود سورج چاند ستارے سیارے۔ اس کائنات کی وسعت اور اس مین موجود نظم و ضبط ۔
نہ صرف یہ بڑے اجسام اگر ایک ایٹم یا ایک خلیہ کے اندر ہی جھانک لیں تو اس میں بھی پوری کی پوری کائنات نظر آتی ہے جو کہ مکمل ہے اس میں بھی کوئی کمی نہیں کوئی خامی نہیں۔۔۔۔۔۔
قران پاک میں تو اللہ نے تو پہلے ہی چیلنج دے رکھا ہے کہ۔۔۔
الَّذِىۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰى فِىۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ؕ فَارۡجِعِ الۡبَصَرَۙ هَلۡ تَرٰى مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴿۳﴾ ثُمَّ ارۡجِعِ الۡبَصَرَ كَرَّتَيۡنِ يَنۡقَلِبۡ اِلَيۡكَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيۡرٌ ﴿۴﴾
جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا، تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے تو نگاہ اٹھا کر دیکھ تجھے کوئی رخنہ نظر آتا ہے، ﴿۳﴾ پھر دوبارہ نگاہ اٹھا نظر تیری طرف ناکام پلٹ آئے گی تھکی ماندی ﴿۴﴾
لیکن یہ چیلنج ویسے کا ویسے ہی رہ جائے گا۔
دیکھنے والوں کی نگاہیں پلٹ پلٹ ان تک آ جائیں گی۔ وہ خامیاں ڈھونڈ ڈھونڈ تھک جائیں گے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کائنات کی ہر ہر چیز خوبصورت ہے اور خوبصورتی سے اپنا کام کر رہی ہے۔۔۔
یہی خوبصورتی اشارہ دیتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ موجود ہے۔۔...۔۔!!!!!!!!!
ایک شعر یاد آ رہا ہے۔۔۔
وہ منکشف میری آنکھوں میں ہو کہ جلوے میں
ہر ایک حُسن، کسی حُسن کا اشارہ ہے۔....

Tuesday, 2 January 2018

Tasveer Bolti ha

تصویر کب بولتی ھے؟؟؟
تصویر جب بولتی ھے
تصویر سب بولتی ھے

نشئی باپ بیوی پر تشدد کرتا تھا، ماں کسی ڈرائیور کے ساتھ بھاگ گئی.

بھوک نے ستایا تو ان بچوں نے ہوٹل سے دو روٹیاں چرالیں مگر "رنگے ہاتھوں" پکڑے گئے

ہجوم میں موجود "فتوٰی سازوں" نے ان دونوں بھائیوں کو اس "جرمِ عظیم"کی کڑی سزا دینے کی ٹھانی...."مجرمان" آپ کے سامنے ہیں.

میرا سوال یہ ھے کہ...

سروں پر انا کی دستار باندھ کر کمزورں کو جھکانے پر خوش ہونے والے مسلمان یا انسان کہلانے کے حقدار ہیں؟؟؟

یہ سماج نہیں، ایک ڈراؤنی فلم ھے، جس میں جو بھاگ گیا وہی سکندر...!!

آپ کا طرزِ تغافل سلامت رہے
"""""میں اس وحشی سماج کا حصہ ہونے پر شرمندہ ہوں"""""

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...