Wednesday, 31 May 2017

Arabic news paper

🌹 ٹوٹا ہوا گلاس 🌹
عربی اخبار میں شائع ہونے والی ایک خوبصورت تحریر

" یہ ایک سعودی طالب علم کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہے جو حصول تعلیم کے لیے برطانیہ میں مقیم تھا وہ طالب علم بیان کرتا ہے کہ مجھے ایک ایسی انگریز فیملی کے ساتھ ایک کمرہ کرائے پر لے کر رہنے کا اتفاق ہوا جو ایک میاں بیوی اور ایک چھوٹے بچے پر مشتمل تھی۔ ایک دن وہ دونوں میاں بیوی کسی کام سے باہر جا رہے تھے تو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ اگر آپ گھر پر ہی ہیں تو ہم اپنے بچے کو کچھ وقت کے لیے آپ کے پاس چھوڑ دیں ؟ میرا باہر جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس لیے میں نے حامی بھر لی۔ وہ بچہ مجھ سے کافی مانوس تھا کچھ دیر کھیلنے کے بعد وہ مجھ سے اجازت لے کر کچن میں گیا اور تھوڑی ہی دیر بعد مجھے کسی برتن کے ٹوٹنے کی آواز آئی اور ساتھ ہی بچے کی چیخ سنائی دی میں جلدی سے کچن میں گیا اور دیکھا کہ شیشے کے جس گلاس میں بچہ پانی پی رہا تھا وہ اس کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ چکا تھا اور بچہ ڈر کر اپنی جگہ سہما کھڑا تھا۔ میں نے بچے کو تسلی دی اور کہا کہ تم پریشان نہ ہو اور امی واپس آئیں تو ان سے کہنا کہ گلاس انکل سے ٹوٹ گیا تھا۔ پھر میں نے سوچا کہ اگلے دن ایک گلاس لا کر کچن میں رکھ دوں گا۔ یہ ایک معمولی واقعہ تھا اور میرے خیال میں پریشانی والی کوئی بات نہیں تھی۔ جلد ہی وہ دونوں میاں بیوی واپس آگئے اور میں نے بچے کو ان کے حوالے کر دیا وہ عورت جب کچن میں گئی اور گلاس ٹوٹا ہوا پایا تو بچے سے پوچھا بچے نے اس کو وہی بتایا جو کہ میں اس کو سمجھا چکا تھا۔ اسی شام کو وہ بچہ میرے پاس بہت افسردہ حالت میں آیا اور مجھے کہا کہ انکل میں نے امی کو سچ بتا دیا ہے کہ وہ گلاس آپ نے نہیں بلکہ میں نے توڑا ہے۔۔۔
اگلی صبح میں یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا کہ میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو سامنے اس بچے کی ماں کھڑی تھی۔ اس نے مجھے صبح بخیر کہا اور نہایت سائستگی سے میرا نام لے کر کہا کہ ہم آپ کو ایک نفیس اور شریف آدمی سمجھتے ہیں مگر آپ نے ہمارے بچے کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دے کر اپنا وقار خراب کر لیا ہے۔ ہم نے آج تک کسی بھی معمولی یا بڑی بات پر اپنے بچے سے جھوٹ نہیں بولا، نہ کبھی اس کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دی ہے۔ لہذا ہم آپ کو مزید اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ براہ مہربانی آپ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اپنے لیے کسی دوسری رہائش کا بندوبست کر لیجیے۔
میرے پیارے مسلمان بھائیو!
آئیے ہم ایک لمحہ کے توقف کے بغیر اپنا ہلکا سا احتساب کریں کہ ہم میں سے تقریباً ہر بندہ صبح سے لے کر شام تک معمولی باتوں پر کتنی دفعہ جھوٹ بولتا ہے اور کتنی دفعہ ہمارے بچے جھوٹ بولتے ہیں جس پر ہمیں کوئی ملال نہیں ہوتا۔
الله ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں ہر حال میں سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔  آمین
**************
بشکریہ : انجینئر اشرف الجندی المصری
مدینہ المنورہ ۔ سعودی عرب
#HarisStories

7 bachay

ارے ہم نے بھی تو سات بچے پیدا کیئے،
موئے نا اس وقت موبائل تھے، نہ یہ ٹیوی کا بھونپو چوبیس گھنٹے بجتا تھا،،،،
جب بچے سوئے ہوئے ہوتے، ضروری کام اسی وقت نمٹا لیتے تھے جلدی جلدی۔۔۔
ورنہ بچے ساتھ ساتھ ہی لگے رہتے تھے ہمارے تو،،،،،
سبزی بنا رہی ہوتی تو ساتھ دو چار پتے اور ڈنٹھل وغیرہ دھو کر یمنیٰ اور حمنہ کو بھی پکڑا دیتی تھی، وہ انہیں سے کھیلتی رہتیں تھیں ۔
روٹی پکاتے میں تنگ کرتیں تو ذرا سا آٹے کا پیڑہ پلیٹ میں رکھ کر ان کو بھی دے دیتی تھی۔ وہ تمہاری دونوں بڑی نندیں یونہی کھیل کھیل میں روٹی پکانا سیکھ گئیں تھیں ۔۔۔۔
محسن جب زیادہ ہی تنگ کرتا تو ایک چمچہ اور پلیٹ اس کو دے دیا کرتی تھی وہ اسی کو بجا بجا کر کھیلتا رہتا تھا ۔
جھاڑو دیتے ہوئے ایک چھوٹی جھاڑو اس کو بھی پکڑا دیا کرتی تھی۔۔۔۔ اگر ایسے خوشی خوشی محسن جھاڑو لگایا کرتا تھا، میں محبت سے اس کا ماتھا چوم لیا کرتی اور وہ اور جوش و خروش سے جھاڑو لگاتا۔۔۔۔
اور تم کیا سمجھتی ہو، یہ محسن جو میرے آگے پیچھے پھرتا ھے،
کیا یونہی،،،،؟؟؟
تمہاری طرح مار پیٹ کر نہیں پالے ہم نے بچے۔۔۔۔ بڑی محبت اور خلوص سے پالے ہیں،،،،،
اماں تو کیا میں محبت نہیں کرتی بچوں سے، اور کیا میں مخلص نہیں بچوں کے ساتھ؟ اب کی بار تو زینب سچ مچ تڑپ اٹھی،،،،،
تم بچوں کے ساتھ مخلص ہوتیں تو یہ کرتب دکھاتیں،،، سولہ جماعتیں پڑھ کے بھی تمہیں بچے پالنے نہ آئے۔۔۔۔۔؟
اماں حد کرتی ہیں آپ ،،،،،،
میں یونیورسٹی میں پڑھنے جاتی تھی یا بچے پالنا سیکھنے جاتی تھی۔۔۔۔۔؟
ارے چولہے میں ڈالو ایسی پڑھائی، جو انسان کو اپنا بھلا برا بھی نہ سکھا سکے۔ کیا تم نہیں جانتیں کہ یہ سب چیزیں کتنی نقصان دہ ہیں معصوم بچوں کے لئے؟ آج ان سب چیزوں نے ملکر بچوں کو اپاہج بنا دیا ھے، ہلتے ہی نہیں ہیں موبائل اور کمپیوٹر کے سامنے سے، نہ دو گھڑی ماں باپ کے پاس بیٹھنے کا وقت ھے نہ کچھ دین دنیا کا خیال۔۔۔۔ اور ماؤں کو ذرا پروا نہیں ۔۔۔۔ بچے کس سمت میں جارہے ہیں.....؟
ایک ہمارا زمانہ تھا میٹرک پاس کرتے ہی بابا نے شادی کردی، اور ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کے ایسی کتابیں پڑھا کرتے جس سے دین اور دنیا دونوں سنور جائیں ۔۔۔
میاں بھی راضی رہیں اور سسرال والے بھی خوش اور بچوں کی بھی بہتر پرورش کر سکیں۔۔۔۔۔
اور ایک یہ آجکل کی مائیں ہیں، انہیں اپنے ہی چونچلوں سے فرصت نہیں ملتی۔ کبھی شاپنگ، کبھی درزی کی دکان کے چکر، کبھی پارلر کی حاضری، کبھی ٹیوی کے آگے بیٹھی ہیں تو کبھی موبائل میں سر دے رکھا ھے۔ ان ماؤں کے پاس فرصت کہاں ھے بچوں کی تربیت کرنے کی ۔۔۔۔
اماں بس کر جائیے پلیز،،، ایک تو ہر بات میں آپ کو اپنا زمانہ یاد آجاتا ھے ۔۔۔
ابھی ساس بہو کی بحث جاری تھی کہ سعد پھر موبائل اٹھا کر امامہ کے جھولے کے پاس آکھڑا ہوا، امامہ بھی نیند سے جاگ چکی تھی اور سعد کے ہاتھ میں چمکتے موبائل کو دیکھ دیکھ کر ہمک رہی تھی، ہاتھ پیر چلا رہی تھی کہ بس کسی طرح یہ چیز اسے مل جائے ۔۔
سعد موبائل کو کبھی اسکے قریب کرتا اور کبھی دور کر لیتا،،،،،،،
زینب نے ساس کی توجہ اس طرف دلائی، یہ دیکھیں اماں، چھ سات ماہ کی بچی بھی اس کی شیدائی ھے، اب کیا کروں میں؟ کیسے بچاؤں انہیں ۔۔۔۔ ؟ زینب تھک کر اماں کے پاس ہی آبیٹھی،،،،،،،،،،
شاہدہ بیگم نے ایک نظر زینب کے چہرے کی طرف دیکھا جس پہ تھکن اور فکر کے آثار تھے۔۔۔۔ نگاہیں اپنی معصوم بچی پر جمی ہوئی تھیں، جو ٹکٹکی باندھ کر موبائل کی اسکرین کو دیکھ رہی تھی، اور خوب جوش میں ہاتھ پیر چلا رہی تھی۔۔۔۔
ایک لمحے کو ترس سا آیا شاہدہ بیگم کو، بہو صبح سے کاموں میں لگی ھے اور اب میں نے بھی اتنی باتیں سنا دیں،
بھلا ایسے میں نصیحت کیا اثر کریگی۔۔۔۔ ؟
تو پھر کیا کروں میں، کیسے احساس دلاؤں زینب کو اس کی غلطی کا؟ شاہدہ بیگم دل ہی دل میں سوچنے لگیں....
زینب کھانا لگانے کا پوچھنے لگی، انہوں نے منع کردیا پہلے میں ظہر کی نماز پڑھ لوں، پھر بعد میں کھانا ۔۔۔۔۔۔۔
〰〰〰〰〰〰〰
کھانے سے فارغ ہوکر زینب، ساس کی دوا لیئے انکے کمرے میں ہی آگئی،،،
اماں دوا کھا لیجئے۔۔۔۔
شاہدہ بیگم کو سچ مچ زینب پر پیار آگیا،،، کچھ بھی ھے میری خدمت بہت کرتی ھے ۔ کھانا، کپڑے، دوا ہر چیز وقت پر تیار رکھتی ھے، بس نہ جانے بچوں کی طرف سے اتنی لاپروائی کیوں کرتی ھے ۔۔۔۔۔؟
انہوں نے زینب کو اپنے پاس ہی بٹھا لیا،،، بہو، کچھ دیر میرے پاس بیٹھو تم سے بات کرنی ھے،،،،
جی اماں کہیے....
بیٹا تمہیں احساس نہیں ہوتا بچوں کا ہر وقت موبائل سے لگے رہنا کتنا غلط ھے؟ احساس ہوتا ھے اماں، کیوں نہیں ہوتا؟ ،زینب بڑے دکھ سے بولی۔۔۔۔۔۔
مگر چاروں طرف یہی سب کچھ چل رہا ہے تو بس میں بھی،،،، ہر کسی کے بچے اب انہی چیزوں سے کھیلتے ہیں اماں۔
یہی تو ہمارا المیہ ھے زینب، ہم لوگ اندھادھند زمانے کے ساتھ بھاگتے ہیں نفع نقصان کی پرواہ کیئے بغیر ۔۔۔۔
ان چیزوں نے ہمارے معاشرے کو تباہ کردیا ہے، تمہارے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں تم انہیں اس تباہی سے بچا سکتی ہو۔۔!!
مگر کیسے اماں.......؟؟؟
دیکھو بیٹا سب سے پہلے تو تم اس بات کو محسوس کرو کہ یہ بچے تمہارے ہاتھ میں کھلونا نہیں ہیں۔ یہ اللہ کی دی ہوئی امانت ہیں، جس کی پوچھ ہوگی تم سے ۔
تم نے وہ حدیث نہیں سنی
*کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیته*
تم میں سے ہر شخص نگہبان ھے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
کل قیامت کے دن تم نے اللہ کو جواب دینا ھے کہ بچوں کی پرورش کا کیا حق ادا کیا،،،،؟ کیا دین اسلام کے مطابق ان کی پرورش کی یا چھوڑ دیا شتر بے مہار کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔ ؟
صرف اچھا کھلانا پلانا، پہنانا، اسکول بھیج دینا اور سیرو تفریح کروادینا ہی تو بچوں کی ضرورت نہیں ھے ۔ انکو اچھے آداب سکھانا، بری باتوں سے بچانا اور صحیح اسلامی خطوط پر انکی تربیت کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ھے ۔
پہلے ذرا تم اپنی خبر لو نماز کبھی پڑھتی ہو کبھی نہیں پڑھتی، تلاوت کیئے ہوئے تمہیں کتنے کتنے دن گزر جاتے ہیں، ٹیوی کا ہر ڈرامہ دیکھنا تمہارے لئے ضروری ھے، جب تم خود ہی اللہ کی نافرمانی کروگی تو بچے کیسے تمہارے فرمانبردار بنیں گے بھلا،،،،،؟ کیسے بچاؤگی تم انہیں زمانے کی تلخیوں سے؟ فتنہ، فساد اور بے حیائی کی جو آگ سوشل میڈیا کے ذریعے چاروں طرف لگی ھے، کیسے بچاؤگی تم اس سے ان معصوم پھولوں کو،،،،، اگر تم نے انہیں اپنے دین کے ساتھ نہ جوڑا تو یہ تباہ ہوجائیں گے زینب۔۔۔۔
آج دین پر چلنے کے سوا اور کوئی جائے پناہ نہیں ھے ۔
بچے ماں باپ کو جیسا کرتے دیکھتے ہیں، ویسا ہی خود کرتے ہیں ۔
تم باقاعدگی سے نماز پنجگانہ پڑھا کرو، قرآن مجید کی روزانہ تلاوت کیا کرو، گناہوں سے بچا کرو اور بچوں کے لئے خوب نیکی اور ہدایت کی دعا مانگا کرو۔ تمہیں پتہ ھے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی بچپن میں آنکھیں خراب ہوگئیں اور وہ اندھے ہوگئے، ہر طرف سے ڈاکٹروں نے جواب دیدیا کہ اب انکی آنکھیں ٹھیک نہیں ہوسکتیں،،، تو انکی والدہ کو اس قدر صدمہ ہوا اور انھوں نے تہجد میں ایسے گڑگڑا کر اور یقین سے دعا مانگی کہ صبح انکا بیٹا اٹھا تو بینائی واپس آچکی تھی۔۔۔۔
ایک وہ مائیں تھیں کہ اندھوں کو آنکھیں دلوا دیا کرتی تھیں، اور ایک آج کی مائیں ہیں،،،،،، اچھے بھلے بچوں کو ٹیوی، موبائل اور کمپیوٹر کی اسکرین کے سامنے بٹھا بٹھا کر خود اپنے بچوں کو اندھا کرنے کا سامان کررہی ہیں.....
اگر تم چاہو تو ابھی بھی سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ھے زینب......
مگر کیسے اماں،،،،،؟؟؟ کیا میرے نماز پڑھنے سے یہ موبائل سے کھیلنا چھوڑ دینگے؟ ہاں زینب، جب تم اپنے رب کی فرمانبرداری کروگی، گناہوں سے بچوگی تو یہ بچے بھی تمہاری بات مانیں گے ۔ تم انہیں روکو گی تو یہ ضرور رک جائیں گے ۔ اس کے علاوہ بھی تم دوسری تدابیر اختیار کرو۔۔۔۔
دیکھو امامہ ابھی بہت چھوٹی ھے اسکے قریب تو تم بالکل بھی موبائل لیکر نہ بیٹھا کرو۔ اس کے لئے تو بس اتنا ہی کرنا کافی ھے ۔اور سعد پر تمہیں تھوڑی محنت کرنی پڑے گی،،،،
تم اس کی توجہ دوسری طرف دلاؤ۔ موبائل کو تم خود کم سے کم استعمال کرو۔ بچوں کی خاطر تمہیں یہ قربانی دینی ہوگی۔ فالتو ویڈیوز اور گیمز وغیرہ ڈیلیٹ کردو، جب اسے اپنی پسند کی چیزیں اس میں نہیں ملیں گی تو خود ہی دلچسپی کم ہوتی جائے گی۔ اور سعد کے لئے کچھ ایسے کھلونے لے آؤ جس سے اس میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ پیدا ہو، بلاکس خرید دو تاکہ وہ مختلف عمارتیں بناتا رہے، بیٹ بال سے کھلایا کرو، واٹر کلر لادو اور چھوٹے چھوٹے پتھر دھو کر دیدو اسے کہ ان پر کلر کیا کرے، اور پھر اس پر اس کو خوب شاباش دو۔۔۔۔
محسن سے کہو شام کو تھوڑی دیر کے لئے قریبی پارک میں لے جایا کرے سعد کو۔ بچوں کے ساتھ کھیلے گا، توجہ بٹ جائے گی۔۔۔۔ گھر کے کاموں کے دوران بھی اسے اپنے ساتھ ساتھ رکھا کرو، چھوٹا موٹا کام اس کو بھی دیدیا کرو۔۔۔
اس کے علاوہ بچوں کو اپنے پاس لیکر بیٹھا کرو اچھی اچھی دین کی باتیں اور سبق آموز قصے سنایا کرو۔۔۔ بچے کا ذہن صاف سلیٹ کی مانند ہوتا ھے، اس پر جو بھی لکھو گے وہ اسی کو پڑھیگا، اسی کے مطابق چلے گا۔
زینب بہت گہری سوچ میں تھی،،، لیکن یہ سب بہت صبر آزما ھے اماں۔۔۔۔۔
ہاں توکچھ مشکلیں بھی جھیلنا سیکھو، انہی آسانیوں کی خاطر تو مائیں آج بڑے آرام سے بچوں کو موبائل اور کمپیوٹر اسکرین کا عادی بنادیتی ہیں ۔۔ اور خود مزے سے اپنے کاموں میں لگی رہتی ہیں، یا اپنے دلچسپ مشاغل میں ۔
بھلا بتاؤ تو سہی کون ھے جو چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں موبائل پکڑا پکڑا کر خوش ہوتے ہیں، یہ انکے ماں باپ ہی ہوتے ہیں ۔شروع سے ہی ان چیزوں سے بچوں کو دور رکھا جائے تو کیوں ایسی نوبت آئے بھلا،،، اگر دینا ہی ھے تو بچوں کو سمجھا دو بس تھوڑی سی دیر کے لئے ملے گا، کیونکہ یہ آپکی نہیں، امی ابو کے کام کی چیز ھے ۔۔۔۔۔
آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں اماں، واقعی میں بچوں کی تربیت ایسی نہیں کررہی جیسی کرنی چاہیئے،،
میں اب
ان شاء اللہ بھرپور توجہ دونگی اپنے بچوں کو، یہی تو میری دنیا کی رونق اور آخرت کا سرمایہ ہیں، میں انہیں کسی صورت ضائع نہیں ہونے دونگی، چاہے مجھے v. ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں زینب، جب تم اپنی نظر اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے لامحدود فائدے پر رکھوگی تو یہ سب کرنا آسان ہو جائے گا ۔ ان شاء الله
*مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے*
*کہ دانہ خاک میں ملکر گل و گلزار ہوتا ہے*
HarisBlogger

Madina k bashando

مدینہ کے باشندوں میں سے ایک شخص کی ہمشیرہ مدینہ شریف کی دوسری جانب رہتی تھی ۔ وہ بیمار پڑ گئی اس کا بھائی ہر روز اس کی عیادت کو جایا کرتا تھا ۔ حتٰی کہ وہ فوت ہو گئی اور وہ قبر میں دفن کر دی گئی ۔ تدفین کے بعد وہ شخص واپس آ گیا ۔

پھر اسے یاد آ گیا کہ اس کی ایک تھیلی اس کی قبر میں گر چکی ہے وہ اپنے ساتھ والوں میں سے ایک ساتھی کو اپنے ہمراہ لے کر وہاں قبر پر آئے قبر کو کھولا اور اپنی تھیلی لے لی ۔ پھر وہ شخص ساتھی سے کہنے لگا ذرا ہٹو میں دیکھتا ہوں کہ میت کا کیا حال ہے ۔
لحد پر سے رکاوٹ کو دور کیا تو اس نے قبر میں آگ لگی دیکھی پھر وہاں سے وہ آ گیا اور اپنی ماں سے آ کر دریافت کیا کہ میری بہن کیا کیا کرتی تھی ۔ تو ماں نے بتایا کہ وہ اپنے اہل پڑوس کے دروازوں پر جا کر کان لگا کر انکی گفتگو کو سنتی اور پھر لوگوں سے چغلی کیا کرتی تھی ۔ تو اب معلوم ہو گیا ہے کہ وہ عذاب میں ہے۔ پس عذاب قبر سے جو محفوظ رہنا چاہے اس کو غیبت و چغلی سے خود کو بچانا چاہئے۔
(مُکاشتہ القلوب از امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ)

Sunday, 28 May 2017

3dost aur Chabi

تین نوجوان ملک سے باھر سفر پر جاتے ھیں اور وھاں ایک ایسی عمارت میں ٹھہرتے ھیں جو 75 منزلہ ھے.. ان کو 75 ویں منزل پر کمرہ ملتا ھے.. ان کو عمارت کی انتظامیہ باخبر کرتی ھے کہ یہاں کے نظام کے مطابق رات کے 10 بجے کے بعد لفٹ کے دروازے بند کر دیے جاتے ھیں لھذا ھر صورت آپ کوشش کیجیے کہ دس بجے سے پہلے آپ کی واپسی ممکن ھو کیونکہ اگر دروازے بند ھوجائیں تو کسی بھی کوشش کے باوجود لفٹ کھلوانا ممکن نہ ھوگا..
پہلے دن وہ تینوں سیر و سیاحت کے لیے نکلتے ھیں تو رات 10 بجے سے پہلے واپس لوٹ آتے ھیں مگر دوسرے دن وہ لیٹ ھوجاتے ھیں.. اب لفٹ کے دروازے بند ھو چکے تھے.. ان تینوں کو اب کوئی راہ نظر نہ آئی کہ کیسے اپنے کمرے تک پہنچا جائے جبکہ کمرہ 75 منزل پر ھے..
تینوں نے فیصلہ کیا کہ سیڑھیوں کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ تو نہیں ھے تو یھاں سے ھی جانا پڑے گا..
ان میں سے ایک نے کہا.. " میرے پاس ایک تجویز ھے.. یہ سیڑھیاں ایسے چڑھتے ھوئے ھم سب تھک جائیں گے.. ایسا کرتے ھیں کہ اس طویل راستے میں ھم باری باری ایک دوسرے کو قصے سناتے ھوئے چلتے ھیں.. 25 ویں منزل تک میں کچھ قصے سناوں گا اس کے بعد باقی 25 منزل تک دوسرا ساتھی قصے سنائے گا اور پھر آخری 25 منزل تیسرا ساتھی.. اس طرح ھمیں تھکاوٹ کا زیادہ احساس نہیں ھوگا اور راستہ بھی کٹ جائے گا.. "
اس پر تینوں متفق ھوگئے..
پہلے دوست نے کہا.. " میں تمہیں لطیفے اور مذاحیہ قصے سناتا ھوں جسے تم سب بہت انجوائے کروگے.. " اب تینوں ھنسی مذاق کرتے ھوئے چلتے رھے..
جب 25 ویں منزل آگئی تو دوسرے ساتھی نے کہا.. " اب میں تمہیں قصے سناتا ھوں مگر میرے قصے سنجیدہ اور حقیقی ھونگیں.. "
اب 25 ویں منزل تک وہ سنجیدہ اور حقیقی قصے سنتے سناتے ھوئے چلتے رھے.. جب 50 ویں منزل تک پہنچے تو تیسرے ساتھی نے کہا.. " اب میں تم لوگوں کو کچھ غمگین اور دکھ بھرے قصے سناتا ھوں.. " جس پر پھر سب متفق ھوگئے اور غم بھرے قصے سنتے ھوئے باقی منزلیں بھی طے کرتے رھے..
تینوں تھک کر جب دروازے تک پہنچے تو تیسرے ساتھی نے کہا.. " میری زندگی کا سب سے بڑا غم بھرا قصہ یہ ھے کہ ھم کمرے کی چابی نیچے استقبالیہ پر ھی چھوڑ آئے ھیں.. "
یہ سن کر تینوں پر غشی طاری ھوگئی..
اگر دیکھا جائے تو ھم لوگ بھی اپنی زندگی کے 25 سال ھنسی مذاق ' کھیل کود اور لہو و لعب میں گزار دیتے ھیں.. پھر باقی کے 25 سال شادی ' بچے ' رزق کی تلاش ' نوکری جیسی سنجیدہ زندگی میں پھنسے رھتے ھیں..
اور جب اپنی زندگی کے 50 سال مکمل کر چکے ھوتے ھیں تو زندگی کے باقی آخری سال بڑھاپے کی مشکلات ' بیماریوں ' ھوسپٹلز کے چکر ' بچوں کے غم اور ایسی ھی ھزار مصیبتوں کے ساتھ گزارتے ھیں.. یھاں تک کہ جب موت کے دروازے پر پہنچتے ھیں تو ھمیں یاد آتا ھے کہ "چابی" تو ھم ساتھ لانا ھی بھول گئے..
رب کی رضامندی کی چابی..
جس کے بغیر یہ سارا سفر ھی بےمعنی اور پچھتاوے بھرا ھوگا..
اس لیے اس سے پہلے کہ آپ موت کے دروازے تک پہنچیں ' اپنی چابی حاصل کرلیں.

Saturday, 27 May 2017

aik admi ney shadi kar le

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﻮ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻤﮧ ﮬﻮﮞ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ -
ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮬﻮﺍ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﮬﻮﺍ ﮐﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮬﻢ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﯼ ﭘﺮ ﺳﺴﺮ ﻭ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻧﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﻟﻮ - ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﮍﺍ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮬﻮﺍ ﮐﮧ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﯿﻨﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ -
ﺍﺱ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﺘﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮬﯿﻠﭗ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﭽﮫ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎ ﮬﻮﮞ - ﻣﻔﺘﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﮯ - ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺱ ﻣﺴﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﯾﺎ ﮬﻮﮞ ﻓﺘﻮﯼ ﻟﯿﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ - ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮬﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮑﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ . ﻭﮦ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺟﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﮐﮧ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﯽ ﺭﻭ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺭﮬﺎ ﮬﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﯿﮕﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﺁﭖ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺩﮬﺮ ﺭﮬﯿﮕﯽ -
ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺳﭩﻤﭩﺎ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯽ ﭼﻠﻮ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺮﻭ ﺩﻭﺳﺮﯼ شادی کو
ﻣﯿﮟ ﺍﺩﮬﺮ ﮬﯽ ﺭﮬﻮﻧﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﻣﺴﻠﻢ ﮬﮯ۔
-----------------------
سبق ------
-----------
ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯽ بیٹھا کریں کیونکہ ہر ﻣﺴئلہ ﮐﺎ ﺣﻞ ﮔﻮﮔﻞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ_
#Haris

bap aur beta

ﺍﯾﮏ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ
ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ
ﮐﮧ
ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ! ﻣﯿﺮﺍ
ﺑﺎﭖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﻧﯿﮩﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ
ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﺧﺮﭺ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
ﺑﻼﻭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﭖ ﮐﻮ
ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ
ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ
ﺭﻧﺠﯿﺪﮦ ﮬﻮﮮ
ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ
ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﻠﮯ
ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﮔﮭﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻋﺮﯼ
ﺗﮭﯽ
ﺗﻮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺠﮫ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ
ﮐﮯ ﺟﮭﻮﻧﮑﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ
ﺍﺩﮬﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺳﮯ
ﭘﮩﻠﮯ
ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺍﺋﻞ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ
ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮬﻮﮮ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮐﮧ
ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ
ﮐﺎ ﮐﯿﺲ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺌﯿﮯ ﮔﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ
ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﯿﮟ ﺟﻮ ﻭﮦ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﺁ ﺭﮨﮯ
ﮬﯿﮟ
ﺟﺐ ﻭﮦ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮮ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ
ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮐﮧ
ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﻦ ﺳﻨﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﭘﮩﻠﮯ
ﻭﮦ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﺎﺋﯿﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮬﻮﮮ
ﺁﺋﮯ ﮬﯿﮟ
ﻭﮦ ﻣﺨﻠﺺ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺗﮭﮯ
ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ
ﮐﮧ
ﺟﻮ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﺩﺍ
ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﮯ
ﺁﭖ ﮐﮧ ﺭﺏ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﻟﺌﯿﮯ
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺗﮭﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ
ﺍﻥ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﻧﮯ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮯ
(ﻣﯿﮟ ﺍﭖ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ )
ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ! ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮬﻮﺍ
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﻤﺒﺨﺘﯽ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ
ﮬﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ
ﺗﻮ ﺭﻭﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﮨﻢ ﺳﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ
ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ
ﺗﮭﮯ
ﺗﻮ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻟﯿﺌﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻃﺒﯿﺐ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ،
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺩﻡ ﺩﺭﻭﺩ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ
ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ
ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ
ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ
ﺣﻼﻧﮑﮧ ﻣﻮﺕ ﺍﻟﮓ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ
ﺍﻟﮓ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ
ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ
ﮐﮧ
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﭼﮭﺎﻭﮞ ﻣﻞ ﺟﺎﮮ
ﭨﮭﻨﮉ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺘﮭﺮ
ﺗﻮﮌﮮ
ﺗﻐﺎﺭﯾﺎﮞ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮔﺮﻣﺎﺉ
ﻣﻞ ﺟﺎﮮ
ﺟﻮ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ
ﺟﻮ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ
ﻣﯿﺮﯼ ﮨﮉﯾﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﺧﺘﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺌﮟ
ﭘﮭﺮ
ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺧﺰﺍﮞ ﻧﮯ ﮈﯾﺮﮮ ﺩﺍﻝ ﻟﺌﮯ
ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮩﺎﺭ ﺁﮔﺌﯽ
ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮏ ﮔﯿﺎ
ﺗﻮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮬﻮﺉ
ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ﮨﺮﺍ ﺑﮭﺮﺍ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ
ﭼﻞ
ﺍﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ
ﭼﮭﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮔﺰﺍﺭﻭﮞ ﮔﺎ
ﻣﮕﺮ
ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺁﺗﮯ ﮬﯽ
ﺗﯿﺮﮮ ﺗﯿﻮﺭ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮔﺌﯿﮟ
ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﯿﻨﮧ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ
ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ
ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺉ ﻧﻮﮐﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ
ﺍﯾﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻟﺘﺎ
ﭘﮭﺮ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ 30 ﺳﺎﻟﮧ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﻮ ﺟﮭﭩﻼ
ﺩﯾﺎ
ﮐﮧ
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﻮﮐﺮ ﮬﻮﮞ
ﻧﻮﮐﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺉ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ
ﺩﮮ ﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ
ﺗﻮ ﻧﻮﮐﺮ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮ
ﺩﯾﺎ ﮐﺮ
ﯾﮧ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻟﻠﮧ
ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺮ ﭘﮍ ﮔﺌﯽ
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺗﻨﺎ ﺭﻭﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ
ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ
ﺗﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ
ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﮯ
ﺍﻭﺭ
ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
ﺁﺋﻨﺪﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺖ ﺁﻧﺎ
ﺍﻭﺭ ﺳﻦ ﻟﻮ
ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ

طالب دعاء : Haris

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...