Tuesday, 22 May 2018

China & Chinese Qoum

افیم کھانے والی چینی قوم نے ستر کی دہائی کے اواخر میں بیدار ہونا شروع کیا اور حکومت کی طرف سے اکنامک اور سوشل ری سٹرکچرنگ ریفارمز کے نفاذ پر عملدرامد شروع ہوگیا۔ اس پروگرام کے بنیادی خدوخال کچھ یوں تھے:

۱۔ زرعی شعبے میں نئی پالیسی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے تحت پہلی دفعہ کسانوں کو ان کی زمینوں کے مالکانہ حقوق دیئے گئے اور ساتھ یہ شرط بھی رکھی گئی کہ وہ اپنی پروڈکشن کا ایک حصہ حکومت کو دیں گے تاکہ کیمونزم اور سوشلزم ایجنڈے پر عمل بھی ہوتا رہے۔ اس سے زرعی پیداوار میں ہر سال پچیس فیصد کا اضافہ ریکارڈ ہوتا گیا جس سے معیشت کو بہت ترقی ملی۔

۲۔ انڈسٹری لیول پر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ انڈسٹری کو اجازت ملی کہ وہ اپنے مختص کردہ کوٹے سے زیادہ پیداوار پروڈیوس کرکے فری مارکیٹ میں بیچ سکتے ہیں۔ اس سے ایک تو پروڈکشن استعداد بڑھنا شروع ہوئی، انڈسٹری میں نئی نوکریاں ملنا شروع ہوئیں، اشیا کی قیمتیوں میں مقابلے کی فضا کی وجہ سے کمی ہونا شروع ہوگئ اور پھر ایکسپورٹ کا بہت بڑا پوٹینشل سامنے آیا جس کی مدد سے چین نے پوری دنیا کی مارکیٹ کو اپنی مٹھی میں لے لیا۔

۳۔ تیسری ریفارم کا تعلق عوام کی تعلیم سے تھا۔ روایتی تعلیم کی بجائے ٹیکنیکل ایجوکیشن پر فوکس کیا گیا، صنعتی، زراعت، سروسز سے متعلقہ امور پر ڈپلومہ کورسز کروا کر نوجوانوں کو ۱۸ سال سے کم عمر میں ہی نوکری کے قابل بنا دیا جاتا جس سے ایک تو انڈسٹری کی لیبر ضروریات پورا ہونی شروع ہوئیں، دوسرے ان نوجوانوں کی معاشی صورتحال بھی بہتر ہوتی گئی۔ ان نوجوانوں نے پیسے کما کر خرچ کرنا شروع کئے تو معیشت کا پہیہ پوری رفتار سے گھومنا شروع ہوگا۔

۴۔ چوتھے نمبر پر پرائیویٹ سیکٹر کا فروغ تھا جس میں خاص طور پر سروسز سیکٹر پر فوکس کیا گیا۔ پرائیویٹ بزنس شروع کرنا آسان بنایا گیا، ٹیکنیکل شعبوں میں مہارت حاصل کرنے والے نوجوانوں نے اپنے کاروبار شروع کرکے سروسز فراہم کرنے کا کام شروع کردیا جس سے لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں نئے کاروبار شروع ہوئے جن میں ہر سال اوسطاً ایک یا ایک سے زائد نئی نوکریاں بھی پیدا ہوتی گئیں۔

ان ریفارمز کا نتیجہ ایک تو چین کی معاشی قوت کی صورت آپ کے سامنے ہے، دوسرا اہم فائدہ جو ہوا وہ یہ تھا:

1978 سے لے کر 1984 کے درمیان چھ سال کے عرصے میں چین نے دس کروڑ سے زائد نوکریاں پیدا کیں۔
1984 سے لے کر 1990  تک کے چھ سالہ عرصے میں چین میں 15 کروڑ سے زائد نوکریاں پیدا کی گئیں۔
مجموعی طور پر 1978 سے لے کر 1998 کے درمیان پینتیس کروڑ سے زائد نوکریاں پیدا کی گئیں۔

تحریک انصاف نے اپنے ایجنڈے میں بتایا ہے کہ وہ اگلے پانچ سال کے عرصے میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا کریں گے تو جاہل پٹواری کیلکولیٹر لے کر سوشل میڈیا پر آگئے اور حساب لگانے لگے کہ پانچ سال میں اتنے دن ہوتے ہیں اور ایک کروڑ نوکریوں کا مطلب فی دن پانچ ہزار نوکریاں ہے جو کہ ناممکن ہے۔

ان جاہلوں کو علم نہیں کہ اگر اکنامک ری سٹرکچرنگ درست خطوط پر کی جائے اور حکمرانوں کی نیت ٹھیک ہو تو ایک افیم کھانے والی قوم بھی بیس سال میں ۳۵ کروڑ نوکریاں پیدا کرلیتی ہے۔ تحریک انصاف نے تو صرف پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریوں کی بات کی ہے، اور وہ بھی پاکستان جیسے ملک میں جسے اللہ نے ہر قسم کی نعمت سے نواز رکھا ہے۔

یہ وہ کھوتا خور پٹواری ہیں جنہوں نے اس بات پر کبھی کیلکولیٹر نکال کر حساب نہیں لگایا کہ نوازشریف کی ۱۹۹۹ تک سالانہ آمدن 2 لاکھ سے بھی کم ہوا کرتی تھی لیکن آج اس کے پاس لندن، جدہ اور پانامہ میں اربوں ڈالرز کی جائیداد کیسے بن گئی؟

ان کھوتا خوروں نے اس وقت بھی کیلکولیٹرز نہیں نکالے جب شہبازشریف نے پچھلے الیکشن میں چھ ماہ میں آٹھ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا حیرت انگیز دعوی کردیا تھا۔

پٹواری تو جاہل ہیں لیکن عمران خان کے مخالفین جانتے ہیں کہ وہ جو کہتا ہے، کر گزرتا ہے۔ اگر اس نے پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریوں کا کہا ہے تو وہ اللہ تعالی کی مدد اور مہربانی سے یہ وعدہ پورا کرکے دکھائے گا!!!!!!!!!!!!!!!

Monday, 21 May 2018

Save water

پانی کو عزت دو!

بھارت نے پاکستان کے حصے کے پانی پر کشن گنگا ڈیم بنا لیا ہے اور چند ہی دنوں میں مودی اس کا باقاعدہ افتتاح کرنے والے ہیں ۔ پانی کی قلت کے بد ترین بحران سے دوچار پاکستان ایک نئے عذاب سے دوچار ہونے جا رہا ہے مگر زندہ اور پائندہ قوم میں کسی کو پرواہ ہی نہیں ہے ۔ سیاسی قیادت روز ایک نیا تماشا لگا دیتی ہے اور میڈیا اس پر ڈگڈگی بجاتے ہوئے دن گزار دیتا ہے۔ غیر سنجیدگی اور خوفناک سطحیت کے اس ماحول میں کسی کو احساس ہی نہیں پاکستان کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے ۔

کشن گنگا ڈیم کی تکمیل ایک انتہائی خوفناک منظر نامہ ہے ۔ بھارت میں جس دریا کو کشن گنگا کہتے ہیں پاکستان میں وہ دریائے نیلم کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یہ دریا وادی نیلم سے ہوتا ہوا مظفر آباد کے قریب دومیل کے مقام پر دریائے جہلم میں شامل ہو جاتا ہے۔ اب بھارت نے 22 کلومیٹر سرنگ بنا کر اس کا رخ موڑ دیا ہے ۔ اب یہ وادی نیلم میں نہیں بہے گا ۔ کشن گنا پراجیکٹ کے لیے اسے وولر جھیل کے ذریعے بارہ مولا کے مقام پر مقبوضہ کشمیر ہی میں دریائے جہلم میں ڈال دیا گیاہے ۔ یعنی اس کے قدرتی بہاؤ میں فرق ڈال دیا گیا ہے ۔ اب صرف کتابوں میں ملے گا کہ وادی نیلم میں ایک دریا بھی بہتا تھا جسے دریائے نیلم کہتے تھے۔

ذرا غور کیجیے وادی نیلم سے دریائے نیلم ہی روٹھ جائے، اس کا رخ بدل دیا جائے تو یہ وادی کیا منظر پیش کرے گی؟ اس کا تو سارا حسن اجڑ جائے گا ۔ ہنستی بستی وادی اجاڑ اور بیابان ہو جائے گی ۔ یہ تو برباد ہو جائے گی ۔ وادی نیلم میں ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ دریائے نیلم کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی چلتی ہے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ چاول وغیرہ اگاتے ہیں ، ان کی چکیاں اسی کے پانی سے چلتی ہیں ۔ یہ دریا ان کے لے زندگی کا پیغام ہے ۔ یاد رہے کہ وادی نیلم میں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتیں ۔ اسے ’’ نان مون سون‘‘ کہا جاتا ہے ۔اس وادی کا 41 ہزار ایکڑ رقبہ دریائے نیلم سے سیراب ہوتا ہے ۔

جہاں سے دریا کا رخ بدلا گیا ہے وہاں سے دو میل تک 230 کلومیٹر کا علاقہ ہے۔ اڑھائی سو گاؤں پر مشتمل یہ سارا علاقہ ذرا تصور کیجیے کہ چند دنوں بعد ایک بہتے دریا سے اچانک محروم ہو جائے گا ۔ بارہ سو ٹن ٹراؤٹ مچھلی سالانہ اس علاقے سے پکڑ کر مقامی لوگ لوکل مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں ۔ یہ بھی ختم ہو جائے گی ۔ جنگلات کا مستقبل بھی ایک سوالیہ نشان ہو گا ۔ یہی نہیں پاکستان کے نیلم جہلم پراجیکٹ کا مستقبل بھی مخدوش ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ ہمارا 27 فیصد پانی کم ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی پیداواری صلاحیت میں 20 فیصد کمی آ جائے گی ۔ اور اگر بھارت نے کسی وقت مزید شر پسندی کرنا چاہی تو معاملات مزید سنگین ہو جائیں گے۔ مکمل تباہی دستک دے رہی ہے اور کسی کو پرواہ نہیں ۔

اس سارے معاملے میں ہماری حکومت نے جس بے بصیرتی ، جہالت اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا وہ اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے ۔ بھارت نے اس پراجیکٹ پر کام شروع کیا تو پاکستان نے انٹر نیشنل کورٹ آف آربٹریشن سے رجوع کر لیا ۔ عدالت نے پاکستان سے کہا کہ وہ پانی کے حوالے سے سارا ڈیٹا شواہد کے ساتھ عدالت کو فراہم کرے ۔ پاکستان کی تیاریوں کا عالم یہ تھا کہ جب عدالت نے یہ ڈیٹا مانگا تو حکومت کے پاس عدالت کو دینے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں ۔ خفت مٹانے کے لیے عدالت سے کہا گیا دس دنوں کی مہلت دے دیجیے ہم سب کچھ پیش کر دیں گے ۔

پاکستان جس وقت پانی کے اہم ترین مسئلے پر اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا ، نواز شریف اقتدار سنبھال چکے تھے اور ان کی بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ پاکستان کا کوئی کل وقتی وزیر خارجہ تک نہیں تھا ۔ یہ اضافی ذمہ داری انہوں نے اپنے پاس رکھی ۔کیوں رکھی ؟ یہ ایک الگ داستان ہے جس پر پھر کسی روز بات کریں گے ۔

25 جون 2013 کو نواز شریف وزیر اعظم بنے اور اس سے 6 ماہ بعد بیس دسمبر 2013 کو عدالت نے بھارت کے حق میں فیصلہ سنا دیا ۔ اس فیصلے کے صفحہ 34 پر عدالت نے لکھ دیا کہ
’’ حکومت پاکستان نے پانی کے موجودہ اور متوقع زرعی استعمال کے حوالے سے کوئی اعداد و شمار پیش نہیں کیے‘‘۔
کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو اس غفلت پر حکومت کا حشر نشر ہو جاتا لیکن نیم خواندہ معاشرے میں نواز حکومت نے کمال ڈھٹائی سے دعوی فرما دیا کہ یہ فیصلہ تو ہماری کامیابی ہے۔

اب آگے سنیے ۔ بھارت کو عدالت نے ڈیم بنانے کا حق دے دیا تو اس نے کھل کر کھیلنا شروع کر دیا اور سندھ طاس معاہدے کی دھجیااں اڑا دیں ۔ نواز شریف اس سارے دور میں مودی کی نازبرداریاں فرماتے رہے اور سجن جندال کی میزبانی فرماتے رہے ۔اب جب مودی اس ڈیم کا افتتاح کرنے والا ہے تو ہمیں ہوش آیا ہے اور ہم درخواست ہاتھ میں لیے ورلڈ بنک کی منتیں کر رہے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت چونکہ آپ ثالث ہیں اس لیے ہماری بات تو سنیے ۔

ہم نے یہاں بھی وقت ضائع کر دیا ۔ ہماری کامیاب سفارت کاری کا عالم یہ ہے کہ ہم امید لگائے بیٹھے تھے اپریل میں ہمیں ملاقات کا وقت مل جائے گا لیکن ہمیں کہا گیا ورلڈ بنک کے صدر مصروف ہیں ابھی ان کے پاس وقت نہیں ۔ اب ڈیم کے افتتاح سے پہلے ورلڈ بنک کے صدر سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں ۔ اور افتتاح کے بعد اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔

نواز شریف اور شاہد خاقان نے غریب قوم کے خرچے پر بیرونی دوروں کے ریکارڈ قائم کر دیے لیکن حالت یہ ہے کہ ورلڈ بنک کے سربراہ کے پاس پاکستانی وفد سے ملنے کا وقت ہی نہیں ۔ اور بے حسی دیکھیے کہ حکومت کو کوئی پرواہ نہیں کیا ہو رہا ہے ۔ پانی ہمارے لیے موت و حیات کا مسئلہ ہے ۔ لیکن ہمیں کوئی حیا نہیں آ رہی کہ اسے سنجیدگی سے لیں ۔ کوئی اور ملک ہوتا اور اس کے ساتھ ایسی واردات ہو رہی ہوتی تو وہ اب تک سفارتی محاذ پر ایسا طوفان کھڑا کر چکا ہوتا کہ ورلڈ بنک تو رہا ایک طرف خود اقوام عالم کو معاملے کا نوٹس لینا پڑتا لیکن ہمارے ہاں کشن گنگا کی واردات پر حکومت بول رہی ہے نہ اپوزیشن ۔ نیم خواندہ اور اوسط سے کم درجے کی قیادت کو شاید اس معاملے کی سنگینی کا احساس تک نہیں۔

کشن گنگا پراجیکٹ سے ہمارے ایکو سسٹم کو بھی خطرہ ہے ۔ بھارت یو این کنونشن آن بائیولوجیکل ڈائیورسٹی ، کنونشن آن کلائیمیٹ چینج اور کنونشن آن واٹر لینڈز پر دستخط کر چکا ہے ۔ ہماری پوری ایک وادی مکمل طور پر تباہ ہونے جا رہی ہے اور ہم نے ان کنونشنز کو کسی فورم پر ابھی تک موضوع نہیں بنایا ۔ کشن گنگا ڈیم سے پاکستان کو سالانہ 140 ملین ڈالر کا نقصان متوقع ہے لیکن یہ مسئلہ ہمارے قومی بیانیے میں کہیں جگہ نہیں بنا سکا ۔ یہاں یاروں کے مسائل ہی اور ہیں ۔ گندی سیاست کی شعبدہ بازی سے کوئی بلند ہو سکے تو ان مسائل پر غور کرے ۔

نیم خواندہ رہنما ، تماش بین عوام اور ڈگڈگی بجاتی سکرینیں ۔ آتش فشاں پہ بیٹھ کر بغلیں بجائی جا رہی ہیں ۔ آج کسی کو احساس تک نہیں لیکن یاد رکھیے، وہ وقت اب زیادہ دور نہیں جب آپ ہم سب کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم پانی کے کس خوفناک بحران سے دوچار ہو چکے ہیں ۔

اس سماج کی غیر سنجیدگی اور کھلنڈرے پن سے اب خوف آ نے لگا ہے ۔ پانی کا خوفناک بحران ہماری دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ سن سکتے ہو تو سن لو ۔
#SaveWater

Sunday, 20 May 2018

Alai Battagram Hazara







قدرتی حسن کا شاہکار ہزارہ کی جنت نظیر وادی آلائی

صوبہ خیبر پختونخوا میں ہزارہ ڈویژن ضلع بٹگرام کی تحصیل آلائی کا شمار ملک کے پرفضا اور صحت افزا مقامات میں ہوتا ہے، جہاں ہر طرف قدرت کے حسین رنگ نظر آتے ہیں،سبزہ زاروں، جھیلوں اور چراگاہوں کی یہ سرزمین آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔انسان کو قدرت کی بنائی ہوئی ہر خوبصورت چیز سے بھی پیار ہوجاتا ہے وادی آلائی کے لازوال اور دلکش ترین مسحور کن حسن کا انسان ایسا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے کہ جیسے قدرت کے ہاتھوں نے بہت بڑا پیالے میں خوبصورتی بھر کر اسے زمین پر رکھ دیا ہو' خصوصاً برف کی سفید چادریں اوڑھیں پہاڑ وادی کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں ۔ تحصیل آلائی کے سیاحتی مقام "وادی شمشیر" میں واقع آبشار کا خوبصورت اور دلکش منظر بے مثال ہے پہاڑی بلندی سے گرتی ہوئی آب شار ، جلترنگ بجاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ تحصیل آلائی کے سیاحتی مقام بیاری کے قریب ندی راشنگ کا خوبصورت اور دل موہ لینے والا منظر بھی کسی تعریف کا محتاج نہیں۔ وادیِ الائی کی مشہور چراہ گاہ چھور قدرت کا بہترین شاہکار ہے جو تقریباً 900 مربع میل پر محیط ہے۔ چھور کی چراہ گاہ مشرق میں دریائے کنہار اور مغرب میں دریائے سندھ کے درمیان واقع ہے جبکہ شمال میں ضلع کوہستان ہے۔ یہ چراہ گاہ موسمِ گرما میں آباد ہوتی ہے اور یہاں چرواہے کشمیر، افغانستان، شمالی علاقہ جات اور شمالی پنجاب سے جا بستے ہیں اور یوں سینکڑوں عارضی آبادیاں قائم ہو جاتی ہیں۔ اکتوبر کے مہینے میں یہ لوگ نیچے کی طرف ہجرت کرتے ہیں کیونکہ اس کے بعد شدید سردی کے باعث یہاں رہنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ وادی چوڑ ضلع بٹگرام کے تحصیل آلائی میں واقع ایک خوبصورت ترین علاقہ ہے۔ یہ تقریباََ چھ ہزار فُٹ کی بلندی پر واقع ایک برفیلا علاقہ ہے۔ یہ علاقہ روڈ جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہونے کی وجہ سے دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔ وادی آلائی اک خوبصورت وادی جو چاروں طرف سر سبز پہاڑوں میں گهرا هوا علاقہ هے وادی آلائی کو ملک کی بڑی چراگاهوں میں شمار کیا جاتا هے خوبصورت مناظر سر سبز پہاڑ ٹهنڈے پانی کے چشمے اور رنگ برنگے پرندے بهی اس وادی میں بکثرت پاۓ جاتے هے۔
آلائی خیبر پختون خواہ کا ایک مشہور ضلع بٹگرام کی تحصیل  ہے۔ یہ ایک پہاڑی لیکن بہت ہی خوبصورت مقام ہے پورے پاکستان میں اس جیسا پُرامن مقام کوئی نہیں ہے۔ یہاں کے لوگ پٹھان ہیں اور زیادہ تر آبادی سواتی یوسفزئی قوم پر مشتمل ہے۔ اس ضلع کے لوگ بہت بہادر اور مہمان نواز ہیں۔ خیبرپختونخواہ کے ضلع بٹگرام کی دشوار گزار تحصیل الائی کو باقی دنیا سے دو راستے ملاتے ہیں۔ دونوں راستے شاہراہ ریشم پر تھاکوٹ اور بشام پر اترتے ہیں۔ اس پوری تحصیل کی آٹھ یونین کونسلوں میں دور دراز پہاڑوں میں پھیلی آبادی تقریباً 3 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے ۔ الائی
تحصیل کا ہیڈ کواٹر بنہ ہے یہاں پر زبانیں: پشتو, گوجری, کوہستانی بولی جاتی ہیں۔
1971 میں آلائی کو ہزارہ میں شامل کیا گیا۔ اکتوبر 1976 میں جب مانسہرہ کو ضلع کا درجہ ملا تو  آلائی کو تحصیل کا درجہ دیا گیا۔ اس کے بعد 1993 کو بٹگرام کو ضلع کا درجہ دیا گیا جنہیں دو تحصیلوں بٹگرام اور آلائی میں تقسیم کیا گیا اور اس کا صدر مقام بٹگرام رکھا گیا۔ تحصیل آلائی کا رقبہ 804 مربع کلومیٹر ہیں۔ ضلع بٹگرام کی سب سے بلند ترین چوٹی کا نام دروازئی سر( سوکئ سر یا خاپیرو سر) ہے جو تحصیل آلائی میں واقع ہے۔ اس چوٹی کی سطح سمندر سے بلندی تقریبا 4680 میٹر ہے۔  آلائی بنہ اور وادی راشنگ پرمشتمل ہیں۔ بڑی ندی آلائی خوڑ جو تحصیل آلائی کے بلند وبالا اور بل کھاتی ہوئی پہاڑوں جن میں سب سے بڑی پہاڑی چوٹی دروازئی سر(سوکئ سر یا خاپیرو سر) اور وادی چوڑ کے خوبصورت اور دلکش پہاڑوں پرسالوں سال پڑی برف اور ٹھنڈے، میھٹے اور صحت افزا پانیوں سے شروع ہوکر بیاری، نوگرام، بٹیلہ، بنہ اور تیلوس سے ہوتے ہوئے کنڈ کے مقام پر اباسین (دریائے سندہ) میں جا ملتی ہے  تحصیل آلائی میں گھنگوال، راشنگ، گھنتھڑ، بٹیلہ، پاشتو اور بٹنگی میں بہت زیادہ سردی پڑتی ہے۔ اور بعض علاقوں میں عام کے اندازے کے مطابق 12 سے 15 فٹ تک برف پڑتی ہے۔ گرمیوں میں  تحصیل آلائی میں بنہ، کرک، سکرگاہ، کنئ، بتکول اور جمبیڑہ میں سخت گرمی ہوتی ہے۔  جنگلات میں بیاڑ، چیڑہ، دیار اور کچھل کے درخت کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ گھنے جنگلات میں چیتا، بھورا بندر، سفید بندر، بھورا ریچھ، سفید ریچھ، کالا ریچھ، گیدڑ، لومڑی، مور، تیتر اور برفانی بدمانت (برمانڑو) وغیرہ کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
 سب سے زیادہ کاشت کی جانے والی پیداوار میں گندم اور مکئی پہلے جبکہ دوسرے نمبر پر چاول کی کاشت سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ سرسوں، جو، مونگ پھلی اور سبزیاں کثیر تعداد میں اگائی جاتی ہیں۔سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پشتو ہے جو تقریبا 90 فیصد تک تمام علاقوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔  اس کے علاوہ  دوسری بولی جانے والی زبانوں میں گوجری، ہندکو اور کوہستانی جو زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔ہزارہ سوہنا دیس سوہنے لوگ ہیں جس میں آلائی جیسے خوبصورت سیاحتی مقامات پائے جاتے ہیں مگر افسوس کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی، غفلت اور عدم دلچسپی اور عوامی نمائندوں کی بےحسی سے آلائی جیسا خوبصورت سیاحتی مقام دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے اگر سڑک کی تعمیر سمیت آلائی کے دیگر مسائل پر توجہ دی جائے تو ضلع بٹگرام کی تحصیل آلائی میں سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے اور حکومت کو ایک بڑی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔

Saturday, 19 May 2018

Rishta

ایک نظر یہاں پر بھی۔۔
لڑکوں کے نام!!!👇👇👇۔۔
ہمارے معاشرے میں اپنے بیٹے یا بھائ کے لئے جب شادی کے لئے رشتہ ڈھونڈا جاتا ھے تو
لڑکی کی خوبصورتی
لڑکی کی شرافت
لڑکی کے کام کاج
لڑکی کا رہن سہن
لڑکی کی تعلیم
لڑکی کا خاندان
لڑکی کا جہیز
لڑکی کا جائیداد میں حصہ
لڑکی کی پیدائش سے اسکی جوانی تک کی ھسٹری جن کی گواہی شرط
اور لڑکا کے لئے صرف اسکی نوکری ہونا ہی بہت ھے  نہ شکل و صورت اہم نہ کردار اہم ، نہ چال چلن اہم ، نہ اسکے دوست احباب اہم
نہ اسکا گھر والوں سے رابطہ تعلق اہم
نہ اسکے عشق معاشقے اہم ، بس
ایک نوکری اسکے 100 عیبوں پر پردہ ڈال دیتی ھے
اور المیہ یہ ھے کہ
کسی کی بیٹی بہن کے گھر جب دیکھنے جاتے ہیں تو پہلے کہلوا بھیجتے ہیں کہ  لڑکی دیکھنے آ رھے ہیں وہاں لڑکی کے دل پہ کیا گزرتی ھے
جو دل و دماغ میں مرتی تڑپتی دعائیں مانگتی سوچتی پاگل ہوتی ھے کہ
کیا ہوگا ،؟
میں پسند آوں گی یا نہیں ؟
پسند نہ آئی تو لوگ کیا کہیں گے ؟
پسند آ بھی تو وہ لوگ کیسے ہوں گے ؟
وہ لڑکا کیسا ھوگا جیسے ھزاروں سوالات
اور
اوپر سے جہالت یہ کہ لوگ کسی کی بہن بیٹی کو بلاتے ہیں
انکو چلنے کا کہا جاتا ھے جیسے منڈی میں بھیڑ بکریوں کو کچھ قدم چلا کر پسند کیا جاتا ھے
اسکے کمرے کو جاکر دیکھتے ہیں انکے گھر کھا پی کر اور واپس ایک میسج بھیج دیتے ہیں
معاف کرنا ہمیں لڑکی پسند نہیں !!
اف
ایسے لوگوں کو تیل کی گرم کڑھائ میں ڈال دینا چاھئے
ظالمو
ایک نہیں 10 بار رشتہ نہ کرو پر
وہاں لڑکی دیکھنے کسی بہانے سے بھی جایا جا سکتا ھے
جب تک پسند نہ آئے رشتے کی بات نہ کیا کرو
وہ لڑکی ھے فرشتہ نہیں ؟ پری نہیں ؟
ایک سادہ سی معصوم سی انسان ھے
جس کے کچھ جزبات ھیں ۔ کچھ خواب ھیں
اسکی بھی کوئی عزت نفس ھے ۔
خدارا اپنے چاند سے بیٹوں کے لئے پریاں ضرور ڈھونڈیں
پر
کسی کی بہن بیٹی کو عیب لگا کر نہین
کسی کی آہ لے کر نہیں
کسی کی بددعا لے کر نہیں ۔
اچھی اور غریب لڑکیوں کو اپناو
تاکہ
آپکے سبب کسی معصوم کی زندگی ہی سنور جائے ۔
اللہ پاک
سب بہن بیٹیوں کے نصیب انکی سوچ سے زیادہ خوبصورت لکھ دے
Ameen.....

Wednesday, 16 May 2018

Sardar & Son of Sardar Mehtab abbasi

سردار مہتاب  کے چچا محترم سردار سرفراز خان کے مشورے پہ سیاسی میدان میں قدم رکھا. چونکہ علاقہ پسماندہ ہونے کی وجہ سے اکثریت لوگ ان پڑھ ہونے کی وجہ سے جب تاریخ میں پہلی دفعہ ایک پڑھا لکھا اور نوجوان سیاست دان نے جب سیاست میں قدم رکھا تو علاقے کے پسے ہوئے طبقے کی جان میں جان آئی گویا انہیں جس مسیحا کی تلاش تھی وہ مل گیا 1985 میں جب سردار صاحب نے پہلی دفعہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا تو علاقے کے بوڑھے, بچے, نوجوان سب الیکشن مہم کے لئے میدان میں کود پڑے اور نہایت جوش و خروش سے الیکشن مہم کو کامیاب بناتے ہوئے سردار صاحب کو زبردست کامیابی دلوائی اور وہ سرکل بکوٹ میں ایک پاپولر سیاسی لیڈر کے طور پہ ابھرے. ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا کہ علاقے کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور لوگ مبارک باد کے لئے جوق در جوق پہنچے. علاقے کے لوگوں کی خوشیوں کی جہاں بہت سی وجوہات تھیں وہاں یہ بھی تھی کہ ہمارا علاقہ اب پسماندگی سے نکلے گا اور عوام کو ہر قسم کی ضروری سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا. اور آخر کار وہ دن بھی آیا جب 21 فروری 1997 کو فتح کا سورج طلوع ہوا اور سردار صاحب خیبر پختونخواہ کے بائیسویں وزیر اعلی منتخب ہوئے. اور یوں لگا جیسے اب ہمیں پوری دنیا کی حکمرانی مل گئی ہو اور بزرگ فرماتے ہیں کہ ہر جگہ یہی موضوع زیر بحث تھا اور عوام کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی گویا کہ اب ہماری پسماندگی کے تابوت کو آخری کیل ٹھونسے کے لئے ہمارا مسیحا آگیا ہو. 21 فروری 1997 سے لیکر 22 اکتوبر 1999تک 2 سال 8 ماہ وزیر اعلی کے منصب پہ فائز ہونے کے باوجود سردار صاحب عوام کی امنگوں پی پورے نہ اترے اور علاقے کی پسماندگی ختم کرنے میں کوئی بھی کردار ادا نہ کرسکے لیکن اپنی فیملی کی آسودہ حالت کو بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کیا.1999 میں مشرف کے ٹیک اور کے بعد جناب نے  آٹے کی سمگلنگ اور جعلی پرمٹ اور  خورد برد کرنے کے جرم میں جیل کی ہوا کھائی.
2003 سے لیکر 2008 تک سینیٹر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیے اور خوب مال سمیٹا مگر علاقے کی پسماندگی جوں کی توں رہی اور عوام کی امنگوں پہ پانی پھیرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی.
2008 میں علاقے کی عوام نے پھر سے چانس دینے کا فیصلہ کیا کہ ہم اپنی پگ کسی اور کے سر نہیں دے سکتے اور اپنا مار کے دھوپ میں نہیں پھینکتا کی منطق پہ عمل کرتے ہوئے سردار صاحب کو دونوں سیٹس NA17 اور PF 45 میں بھاری اکثریت سے کامیابی دلوائی جوکہ بعد ازاں پورے سرکل بکوٹ میں کسی ایک شخص کو بھی اہل نہ سمجھتے ہوئے صوبائی سیٹ اپنے بیٹے کو تحفہ کے طور پہ عنائت فرمائی اور یوں موروثیت کے ناسور نے جنم لیا. NA 17 کی نشست پہ کامیابی کے بعد جناب والا 31 مارچ 2008 کو فیڈرل منسٹر ریلوے منتخب ہوئے اور ایک بار پھر عوام میں ایک امید جاگی کے ہمارے بے روزگار لوگوں کو اب روزگار ملے گا اور گھروں میں خوشیاں آئیں گی مگر ہوا وہی جس کا ڈر تھا اور ان تلوں کو نچوڑنے کے بعد تیل کی ایک بوند بھی نہ نکلی.
سردار صاحب کے آگے پیچھے گھومنے والے چند ٹھیکدار جو عوامی مفاد کو  چند ٹکوں کے عوض بیچتے رہے اور رات کی تاریکیوں میں مفادات کا سودہ کرنے میں پیش پیش رہے. تعلیم سے کوسوں دور ہماری بھولی بھالی عوام کو کہیں خاندانی سیاست کے نام پہ کہیں برادری ازم کے نام پہ کہیں تھانے ک چہری کے ڈراوے دے کے اور کہیں لالچ دے دے کے بھلا پھسلا کے  ووٹ حاصل کیے گئے.   بھولی بھالی عوام کو الّو بنانے کا گُر ان ٹھیکیداروں میں کوٹ کوٹ کے بھرا تھا.
سردار صاحب اپنی اور اپنی فیملی کو ترقی کی منزلات تک پہنچا گئے مگر عوام کو پستی کی گہری کھائیوں میں دھکیل گئے. 3 جون 2013 سے لیکر 9 اپریل 2014 تک اپوزیشن لیڈر رہنے کا سہرا بھی اپنے سر سجانے والا یہی خطہ کہسار کا ایسا فرزند تھا جس نے اپنی مٹی سے بے وفائی کی.  15 اپریل 2014 سے لیکر 8 فروری 2016 تک گورنر خیبر پختونخواہ کی کرسی پہ بھی براجمان رہے. اور اب 14 فروری 2017 سے مشیر ہوابازی کے عہدے کے مزے لوٹ رہے ہیں.

میرے علاقے کے غیور نوجوانو!
میرے بھائیو. میرے بزرگو!
اتنا لمبا عرصہ اور مسلسل بڑے عہدوں پہ فائز رہنے والا شخص جس کو عوام نے بڑی مشکل سے بڑی تگ و دو سے منتخب کیا . اپنا قائد مانا  اپنا لیڈر مانا اپنا مسیحا مانا اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کہ تنہائی میں بیٹھ کے ایک بار صرف ایک بار ضرور سوچنا کہ کیا اس شخص نے اپنی مٹی سے وفا کی ہے . کیا عوام کی امیدوں پہ پورا اترے کیا سردار صاحب نے علاقے اور خصوصاّ اپنے آبائی گاوں سے سوتیلی ماں والا سلوک نہیں کیا.
میرے نوجوانو اب وقت آگیا ہے احتساب کا.یوسى پلک یوسی   بکوٹ یوسی پٹن کے غیور نوجوانو! یہی ہے وہ لابی جس نے ہمیں ان پڑھ رکھا جس نے ہمیں بے روزگار رکھا خصوصاً یوسى پلک کے ساتھ زیادتیوں کی انتہا کردی. اب اگر ہمیں ہوش نہ آیا تو کب آئے گا اب بھی اگر ہم نہ سمجھے تو ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں.
ہماری 7 نسلوں کا حساب لینے کا وقت آں پہنچا ہے. خدارا اپنی آنکھیں کھولو اور ارد گرد دیکھو کہ کون ہیں وہ لوگ. وہ کون مفاداتی ٹولہ ہے جس نے جان بوجھ کے ہمارے بچوں کے مستقبل سے کھیلواڑ کی.
اب کی بار دوبارہ غلطی نہ کرنا
اب کی بار سوچ سمجھ کر.
اب کی بار برادری ازم نہیں.
اب کی بار موروثیت نہیں.
اب کی بار پہلے وعدوں کی تکمیل چائیے.

اب جس کے جی میں آئے وہ لے اس سے روشنی.
ہم نے تو دل جلا کر سر عام رکھ دیا ہے..

Friday, 11 May 2018

Next Prime Minister imran Khan Pti

پنجاب سے قومی اسمبلی کی 148 سیٹیں ہیں جن میں سے 41 جنوبی پنجاب سے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جنوبی پنجاب کے تمام بڑے بڑے برج تحریک انصاف میں شامل ہوچکے، آنے والے دنوں میں کھوسہ اور لغاری قبائل بھی عمران خان کی جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کرنے جارہے ہیں۔ یہ سب الیکٹیبلز ہیں جو اس سے قبل جس جماعت میں بھی رہے، جیتتے رہے۔ اب ہوا کا رخ تحریک انصاف کی طرف ہے تو یہ عمران خان کی طرف آگئے۔

2018 کے الیکشن میں جنوبی پنجاب کی 41 میں سے کم و بیش 30 نشستیں انشا اللہ تحریک انصاف کو ملنے جارہی ہیں۔

اسلام آباد سمیت ساری پوٹھوہار بیلٹ پہلے ہی عمران خان کے پاس ہے اور یہاں سے بھی کم و بیش 18 قومی اسمبلی کی سیٹیں پکی ہیں۔

وسطی پنجاب میں ن لیگ اور تحریک انصاف کا میچ اگر برابر بھی رہا، جس کا کہ امکان ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتا جارہا ہے، پھر بھی عمران خان کم و بیش 25 کے قریب سیٹیں نکال لے گا۔

یوں پنجاب سے ایک محتاط اندازے کے مطابق کم سے کم نشستیں بھی انشا اللہ 85 کے قریب قریب تحریک انصاف کے پاس ہوں گی۔

خیبرپختون خواہ میں اس دفعہ کلین سویپ ہونے جارہا ہے اور 35 میں سے کم و بیش 25 سیٹیں انشا اللہ عمران خان کی ہوں گی۔

بلوچستان میں سنجرانی کی بدولت عمران خان نے اپنے پاؤں جما لئے ہیں، اور یہاں سے 14 میں سے 10 سیٹیں عمران خان یا اس کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بدولت میں ملیں گی۔

فاٹا کی 12 میں سے 8 نشستیں عمران خان کی ہیں۔

سندھ سے اگر 5 سیٹیں بھی نکال لے تو یہ تعداد بنتی ہے 133، جو کہ 272 کے ایوان کا تقریباً نصف ہے۔ آزاد اراکین اور کچھ سیٹ ایڈجسٹمنٹس کو ملا لیا جائے تو 155 کے قریب اراکین عمران خان کے ساتھ ہوں گے جو کہ انشا اللہ اسے وزیراعظم کیلئے اعتماد کا ووٹ دیں گے۔

خواتین کی نشستوں کا تناسب بھی اسی حساب سے ملے گا۔

اگر اللہ تعالی کی مدد شامل حال رہی تو 14 اگست 2018 کو قومی پرچم کشائی اور پریڈ کی تقریب میں آپ عمران خان کو بطور وزیراعظم ٹی وی پر دیکھیں گے۔

نصر من اللہ و فتح قریب۔۔۔۔۔۔۔..۔

Tuesday, 8 May 2018

Kailash culture









پاکستان کی حسین ترین وادی کیلا ش میں صدیوں سے آباد کیلاش قبیلے کا سالانہ تہوار ”چلم جوش“ شروع ہونے والا ہے۔یہ تہوار ہر سال موسم بہار کی آمد پر13مئی سے 16مئی تک منایا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کے سب سے رنگارنگ اور مشہورتہوارکی حیثیت سے سب سے زیادہ شہرت کا حامل ہے یہی وجہ ہے کہ اس تہوار کو دیکھنے ہر سال ہزاروں سیاح وادی کیلاش کا رخ کرتے ہیں۔ یہی وہ تہوار ہے جو وادی کیلاش کی روز مرہ زندگی اور وہاں کے انوکھے رہن سہن کو دنیا بھر میں شہرت بخشنے کابڑا سبب ہے۔

پاکستان کے برفیلے علاقے چترال کے قریب واقع کیلاش کا علاقہ تین وادیوں ، ”رمبور“، ”بریر“ اور” بمبوریت“ پر مشتمل ہے ۔دراصل یہ پاکستان کا انتہائی شمال مغربی حصہ ہے۔ موسم بہار کے آتے ہی تینوں وادیوں میں چلم جوش کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں لیکن تہوار کے خاص تین دن تمام مرد و خواتین وادی بمبوریت میں جمع ہوجاتے ہیں۔ مقامی لوگ اسے ”چلم جوشٹ“ بھی کہتے ہیں۔

یہاں کے سادہ لوح افرادآج بھی صدیوں پرانی روایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے پرانی روایات کو مذہب کی طرح اپنایا ہواہے۔اسی سبب سیاحوں کے لئے ان کی شادیاں، اموات، مہمان نوازی، میل جول، محبت مذہبی رسومات اور سالانہ تقاریب وغیرہ انتہائی دلچسی کا باعث ہیں۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو سیاحوں کو چترال اور خاص کر وادی کیلاش کی سیر کی دعوت دیتی ہیں۔

چلم جوش جشن بہار اں کی تقریب ہے ۔ مقامی افراد اس تہوار کیلئے کافی پہلے سے اوربہت سی تیاریاں کرکے رکھتے ہیں۔ مئی کا مہینہ شروع ہوتے ہوتے یہاں ہر طرف سبزہ اگ آتا ہے اور چار سو خوشبوں کا ڈیرہ پڑجاتا ہے۔ ندیوں اور دریاؤں میں پگھلتی ہوئی برف کا شفاف پانی موج زن ہوتا ہے جبکہ پہاڑوں پر سبز جنگلات کے بیچوں بیچ برفانی شیشوں سے روشنی منعکس ہوتی ہے ۔ یہ منظر علاقے کو نہایت دلکش اور قابل دید بنا دیتا ہے۔

چلم جوش کو وادی میں مذہبی تقریب کا درجہ حاصل ہے۔ اس دن خاص اہتمام کے ساتھ کھانے تیار کئے جاتے ہیں ۔ تہوار کے پہلے روزآپس میں بکری کا دودھ بانٹا جاتا ہے ہے۔ علاقے کے بزرگ لوگ ہی یہ دودھ اکٹھا کرسکتے ہیں ۔ پھر اس دودھ کو مقررہ مقام پر لایا جا تا ہے ۔ عام افراد دودھ کے حصول کیلئے قطاروں میں لگ کر اس کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ دودھ ایک تبرک سمجھا جاتا ہے لہذا ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ کم از کم ایک گھونٹ دودھ اسے ضرور ملے۔

سب سے پہلے نو مولود بچوں کو دودھ پلایاجاتا ہے ۔پھر دوسرے بچوں کی باری آتی ہے۔ اس کے بعد نوجوانوں ، جوانوں اور بڑوں کو تھوڑا تھوڑا دودھ پینے کے لئے دیا جاتا ہے ۔تمام افراد کو دودھ پہنچا کر اس تقریب کا باقاعدہ افتتاح ہوتا ہے۔ اس کے بعد قبیلے کے بزرگ کھلے آسمان تلے روٹی پکاتے ہیں جست تمام افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس روٹی میں ہر قسم کے آٹے کے علاوہ علاقے میں پائے جانے والے تمام میوہ جات بھی ڈالے جاتے ہیں جویہاں کی ایک سوغات بھی ہے۔

روٹی کھانے کے بعد تمام مرد و زن مذہبی مقام ”جسٹک خان“ کے سامنے سے گزر کر ایک مخصوص میدان میں آتے ہیں جہاں خواتین ڈھول کی تاپ پر ناچتی اور گاتی ہیں ۔ مرد حضرات اوروادی میں آنے والے سیاح ارد گرد بیٹھ کریہ منظر دیکھتے اور داد دیتے ہیں۔یہ عمل شام ڈھلے تک جاری رہتا ہے پھر جیسے ہی سورج نیچے اترنا شروع کرتا ہے یہ لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔

کیلاش کی ثقافت میں خواتین کو منفرد مقام حاصل ہے ۔ گھر کے تمام فیصلے خواتین کرتی ہیں۔ گھر بار، مویشیوں کی دیکھ بھال،کاشتکاری، ہر قسم کا حساب کتاب۔۔ سب خواتین کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔یہاں کی خواتین وادی کی مخصوص ثقافت اور تہذیب کی پہچان ہیں۔ خواتین کا کالا لباس، سر پر مخصوص دم دار ٹوپی اور گلے میں موتیوں کے ہار انہیں پوری دنیا سے الگ پہچان دیتے ہیں ۔

چلم جوش کا آخری دن نہایت اہم ہوتا ہے۔ سہ پہر کو جب کیلاش قوم ایک میدان میں جمع ہوتی ہے تو تمام خواتین خواہ کسی بھی عمر کی ہوں پھر سے ناچنا اور گانا شروع کردیتی ہیں۔ مرداور تماش بین نظارہ کرتے ہوئے ارد گرد کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس وقت کچھ مذہبی پیشوا ایک مقام پر اکھٹے ہو کر ہاتھوں میں پودوں کی سبز شاخ اٹھائے ہوئے میدان کی طرف آتے ہیں۔ تمام خواتین ان کو سلامی پیش کرتی ہیں۔

اب وہ آخری مرحلہ آتا ہے جوبلکہ منفرد ہے۔ یہ موقع محبت کا سر عام اظہار ہے۔ ایک دوسرے سے محبت کرنے والا لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، ایک دوسرے کاہاتھ تھامتے ہیں اور شادی کا اعلان کرتے ہیں۔ چند ہی لمحوں میں میدان شادی کے خواہش مند نوجوان جوڑوں سے بھرجاتا ہے۔ لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں، ہنستے ہیں، چیختے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں۔

تمام جوڑوں کے میدان سے نکلنے کے بعد شرکاء باری باری ان جوڑوں کے گھروں میں جا کر مبارک باد دیتے ہیں اور یوں وادی میں بہار کا افتتاح ہو تا ہے۔ کیلاشوں میں تقریباً ہر شادی محبت اور ہم خیالی کا آئینہ دار ہوتا ہے اور یہ یہاں کی ایک خوبصورت
...داستان بھی ہے۔

Tuesday, 1 May 2018

2minet Ke Gherat Sari umer ke Bgherty (Murderer Future)

والدین کے اکلوتے بیٹے اور دو بہنوں کے اکلوتے پڑھے لکھے بھائی جنید کا اپنے محلے کے ایک نوجوان سے جھگڑا ہو گیا. ہاتھا پائی ہوئی اور کچھ گالیوں کا تبادلہ بھی ہوا.جنید گھر آیا اور اپنے کمرے میں بیٹھ گیا. اس نے اپنے دشمن کو مارنے کا فیصلہ کر لیا اور الماری سے پستول نکال لیا. اچانک اسے اپنے ایک دوست کی نصیحت یاد آ گئی. دوست نے اسے ایسا کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے 30 منٹ کے لئے واردات کے بعد کی صورتحال تصوراتی طور پر دیکھنے کا کہا تھا.
جنید نے تصور میں اپنے دشمن کے سر میں تین گولیاں فائر کر کے اسے ابدی نیند سلا دیا. ایک گھنٹے بعد وہ گرفتار ہو گیا. گرفتاری کے وقت اس کے والدین اور دو بہنیں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں. اس کی ماں بے ہوش ہو گئی. مقدمہ شروع ہوا تو گھر خالی ہونا شروع ہو گیا. ایک کے بعد ایک چیز بکتی گئی. بہنوں کے پاس تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہو گیا اور ان کے ڈاکٹر بننے کے خواب مقدمے کی فائل میں خرچ ہو گئے.بہنوں کے رشتے آنا بند ہو گئے اور ان کے سروں میں چاندی اترنے لگی. جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہر ہفتے والدین اور بہنیں ملاقات کے لئے جاتے. بہنوں کا ایک ہی سوال ہوتا کہ بھیا اب ہمارا کیا ہو گا؟ ہم اپنے بھائی کے بستر پر کسے سلائیں گی؟ ہم بھائی کے ناز کیسے اٹھائیں گی؟ بھائی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا. فیصلے کا دن آیا اور جنید کو سزائے موت ہو گئی. سزائے موت کی تاریخ مقرر ہو گئی. 25 منٹ گزر چکے تھے اور جنید کے جسم پر لرزہ طاری ہو چکا تھا. جیل میں وہ اپنی موت کے قدم گن رہا تھا اور گھر میں والدین اور بہنیں اپنے کرب اور اذیت کی جہنم میں جھلس رہے تھے. جنید کی آنکھوں پر کالی پٹیاں باندھ دی گئیں اور اسے پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا گیا. 29 منٹ ہو چکے تھے. پھانسی گھاٹ پر پیر رکھتے ہی 30 منٹ پورے ہو گئے. جنید پسینہ پسینہ ہو چکا تھا. اس کے جسم میں کپکپی طاری تھی. اس نے پستول واپس الماری میں رکھ دیا. اس نے میز سے اپنی بہنوں کی دو کتابیں اٹھائیں اور بہنوں کے پاس گیا. بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری پیاری بہنو تمہارے پڑھنے کا وقت ہو گیا ہے. خوب دل لگا کر پڑھو کیونکہ تمہیں ڈاکٹر بننا ہے.
چند ماہ بعد جنید ایک بینک میں اچھی پوسٹ پر ملازم ہو گیا. جنید کی دونوں بہنیں ڈاکٹر بن گئیں. وہ ایک کامیاب اور بھرپور زندگی گزار رہے ہیں. ان 30 منٹ کی تصوراتی واردات اور 30 منٹ کے مقدمے کی کارروائی نے ایک پورے گھر کو اجڑنے سے بچا لیا. آپ اپنی زندگی میں یہ 30 منٹ اپنے لئے ضرور بچا کے رکھئیے گا، یہ 30 منٹ کی تصوراتی اذیت آپ کو زندگی بھر کی اذیت سے بچا لے گی!!?!?

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...