Tuesday, 19 June 2018

anay wala dur barha mushkil ha

خواتین و حضرات! آنے والا وقت بہت زیادہ خوفناک ہے۔ اس میں کئی خطرناک کھیل شروع کر دیئے جائیں گے۔ یہ کھیل عید کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ عید کے بعد منظور پشتین جیسے کئی گھٹیا کردار سامنے آئیں گے. یہ چھوٹی چھوٹی تحریکوں کے نام پر سامنے آئیں گے۔ ان تحریکوں کو ’’اچکزئی نظریے‘‘ کے پاسبان سپورٹ کریں گے۔ اس سلسلے میں گلگت میں بھی کام شروع ہو چکا ہے۔ کوئٹہ کے اندر لوگوں کو بہلانے پھسلانے والے بھی سرگرم ہیں۔ لندن میں بیٹھا ہوا ایک کالا کردار کراچی اور حیدرآباد کے کئی کرداروں سے رابطے میں ہے۔ عید کے بعد جب شریف خاندان کے لوگوں کو سزا ہو گی تو ’’اچکزئی نظریہ‘‘ پنجاب میں نظر آئے گا۔ سڑکوں پر ہنگامے ہوں گے۔ اس دوران لوڈشیڈنگ بھی ہو گی، لوگوں کو کئی اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک سیاسی جماعت پیسے کے زور پر پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائے گی۔ ان کے سارے سوشل میڈیا کنونشن سرگرم ہو جائیں گے۔ اس دوران بیرونی میڈیا سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ چند بیرونی طاقتیں پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے چکر میں ہیں۔ اسی لئے تو پاکستان کو پانی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ افراتفری، ہنگاموں اور احتجاجوں کا عروج جولائی میں ہونے والے الیکشن کو کھا جائے گا۔ جن لوگوں کو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا وہ کچھ دن انتظار کر لیں کیونکہ شہبازشریف اور نوازشریف ایک نظریے پر متفق ہو چکے ہیں۔ شریف فیملی کے جس آخری فرد کا جہاں کہیں بھی خاص رابطہ تھا، اب وہ بھی ٹوٹ چکا ہے۔ بس ٹوٹ پھوٹ کا یہ عمل منظرنامے کی اگلی بدصورتی بیان کر رہا ہے اور اگلی بدصورتی یہی ہو گی کہ 25 جولائی کو الیکشن نہیں ہوں گے۔ الیکشن جب بھی ہوئے اس سے پہلے صفائی ستھرائی ضرور ہو گی۔ حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان سے پیار کرنے والے ایک ہو جائیں کیونکہ پاکستان کے دشمن ہمارے وطن کے خلاف ایک ہو چکے ہیں اور انہیں ملک کے اندر سے ’’اچکزئی نظریے‘‘ کے حامل کئی افراد میسر ہیں۔ وہ تب تک حاوی نہیں ہوسکتے جب تک آپ کی فوج  ہے،
فوج کو وہ شکست نہیں دے سکے، اب یہ کام وہ آپ سے لینا چاہتے ہیں۔

بس یہی ففتھ جنریشن وار ہے۔

اگر آپ یہ خود کشی نہیں کرنا چاہتے تو اپنی فوج کو نشانہ بنانا بند کیجئیے۔

اور اگر انکا مقابلہ کرنے کا دل ہے تو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو مورچہ سمجھ لیجئیے۔۔۔۔۔۔۔

بنیادی طور پر آپ کے تین نمایاں دشمن ہیں۔

لبرلز:  ایمان کے دشمن
خارجی: جان کے دشمن
جمہوریے: مال کے دشمن

تینوں کے پاس خوبصورت نعرے

لبرلز انسانیت کا نعرہ،
خارجی اسلام کا نعرہ،
اور جمہوریے حقوق کا نعرہ،

لیکن حقیقت میں ایک کافر کرتا ہے، دوسرا مارتا ہے اور تیسرا لوٹتا ہے۔

تینوں کا آپس میں ایک غیراعلانیہ اتحاد ہے۔ 

آپ غور کیجئیے  ۔۔۔۔۔۔۔

اور ان تینوں کا مشترکہ دشمن کون؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔  پاک فوج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!!

خارجی پاک فوج کو اسلام دشمن کہہ کر،
لبرلز پاک فوج کو دہشت گرد کہہ کر،
اور سیاست دان پاک فوج کو جمہوریت دشمن کہہ کر اس پر حملہ آور ہیں،

ان کو امریکہ، برطانیہ اور انڈیا کی بھرپور مدد و حمایت حاصل ہے۔

ان سے لڑنا کیسے ہے؟

1 ۔۔۔ سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف پوسٹ کیا گیا مواد ہرگز شئیر مت کیجئیے۔

2 ۔۔۔۔ ایسے مواد پر لائک یا کمنٹ مت کیجئیے۔ مخالفت میں بھی کمنٹ کرینگے تو وہ پوسٹ کی ریچ بڑھا دیگا۔

3۔۔۔۔۔۔ ہوسکے تو فیس بک کو رپورٹ کیجئیے۔

4 ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس اکاؤنٹس سے ایسا مواد شئیر کیا گیا ہے اسکو انفرینڈ یا انبلاک کیجئیے۔

5 ۔۔۔۔۔ ایسے اکاؤنٹس اکثر فیک ہوتے ہیں اس لئے فیس بک کو رپورٹ کیجئیے۔

6 ۔۔۔۔ پاک فوج کو سپورٹ کرنے والا مواد گروپس میں اور وٹس ایپ وغیرہ پر زیادہ سے زیادہ شیر کیجئیے۔

7 ۔۔ پاک فوج کی سپورٹ میں بنائے گئے پیجز اور اکاؤنٹس کو لائیک یا فالو کیجئیے۔

8 ۔۔۔۔ خود بھی لکھنے کی کوشش کیجئیے۔

9 ۔۔۔۔۔ یہ فوج آپ کے لئے جانیں دے رہی ہے اس پر بھروسہ رکھئیے۔ غیر واضح معاملات میں دشمن آپ کو فوج سے بدگمان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی باتوں میں مت آئیے۔

 " فوج اچھی ہے اور جرنیل برے ہیں" کہہ کر آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔

ان کے سامنے پاک فوج کی قربانی کی خبر پیش کریں تو بظاہر غم زدہ ہونے کا ڈراما کرتے ہوئے آپ کو بتائنگے کہ " یہ فلاں جرنیل کی غلطی ہے" اور یوں پاک فوج پر ہی تنقید کرینگے۔

اگر دشمن حملہ کرے تو بجائے اس کو ملامت کرنے کے یہ آپ کو پاک فوج کو ہی ملامت کرتے نظر آئے گے  کہ " کہاں گئی آپ کی جانباز فوج" ۔۔۔۔

ان کی ٹائم لائن پر سوائے پاک فوج پر تنقید کے آپ کو کچھ نہیں ملے گا لیکن واویلا مچائے گے کہ " وہ کون سی مقدس گائے ہے جس پر تنقید کی اجازت نہیں " ۔۔۔۔۔  :) ۔۔ آپ کو علم ہونا چاہئیے کہ پاکستان میں فوج پر جتنی بے دھڑک تنقید ہوتی ہے دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ہوتی۔

ان کی ان چالوں کو سمجھئیے۔ 

گستاخانہ پیجز چلانے والے، آپ کو بموں سے اڑانے والے اور آپ کو لوٹنے والے ہرگز ہرگز ہرگز آپ کے خیر خواہ نہیں ہیں۔

پاک فوج نہ رہی تو افغانستان اور انڈیا آپ کو کھا جائے گے۔ ان کو تو چھوڑیں آپ ان خوارج سے ہی نہیں نمٹ سکیں گے جن کو صرف آپ کے لئے تیار کیا گیا ہے۔

اسلام کے خلاف جنگ میں پاکستان اہم ترین قلعہ ہے اور پاکستان تب تک فتح نہیں ہو سکتا جب تک پاک فوج موجود ہے۔ اپنی ہی فوج کو شکست دینے میں دشمن کا ہاتھ مت بٹائیے....۔

Sunday, 10 June 2018

Seeta white

#سیتاوائٹ_کون_تھی_؟؟

جہاں تک ذاتی کردار کا تعلق ہے اس کے حوالے سے بہتان لگانے کی سزا اسی کوڑے ہے۔ اب میں سیتا وآئٹ کی حقیقت بتاتا ہوں جسے سن کر  قطری شہزدوں کے ناجائز پیدوار اور  ڈیزل کے ناجائز اولاد اور ہیرامنڈی کے دلال یقین نہیں کریں گے کیونکہ انہیں اللہ نے ہدایت نہیں دی۔ لگتا ہے کہ ان ہیرامنڈی کے پیدواروں کی ماں بچپن میں لوری دے کر سلاتی تهی کہ ۔ ۔ ۔ ۔
سیتا وائٹ !!!!
سیتا وائٹ!!!!!
پهر یہ جوان ہوئے تو پهر اپنے ماں سے پوچھا کرتے تھے کہ یہ سیتا وائٹ کون تهی ؟؟؟؟
تو ان کی ماں نے بتایا کہ یہ  تمهاری خالہ زاد بہن لگتی ہے۔
دراصل اس ساری کہانی کی حقیقت یہ ہے کہ جب 1998 لاس اینجلس میں شوکت خانم ھسپتال کا  فنڈ ریزنگ ڈنر تھا سیتا ؤایٹ نامی بیوہ جو ارب پتی خاتون تھی اس نے ایک ملین ڈالر کا فنڈ دیا اس موقع پر اس نے نہایت جزباتی تقریر کی اور عمران سے درخواست کی کہ اس کی کمسن بیٹی ٹیریان کو گود لے لے۔ چونکہ وہ خود کینسر کی مریضہ ہے اور ڈاکٹر جواب دے چکے ہیں اس لئے وہ چاھتی ہے اس کی بیٹی محفوظ ہاتھوں میں ہو جہاں اس کی دولت اسانی سے اسے منتقل ہو سکے۔ عمران نے انسانی ہمدردی کے تحت ٹیریان کو گود لے لیا اور لاس اینجلس کی عدالت نے اسے قانونی گارڈین تسلیم کر لیا۔ چند سال بعد سیٹا وائٹ کی موت کے بعد ٹیریان کو عمران نے جمائمہ کے پاس لندن بھیج دیا جہاں وہ تعلیم مکمل کر رہی ہے اور اس کے بعد لاس اینجلس میں اپنی جایداد اور کاروبار سنبھال لے گی۔ گزشتہ 13 سال سے عمران نے ٹیریان سے ملاقات تک نہیں کی ہے اور جمائمہ نے طلاق  کے باوجود ایک در یتم بچی کو پالا ہے اور بغیر کسی لالچ کے اسے اپنی کفالت میں رکھا۔
واقع مجھے یہ آج محسوس ہورہا ہے کہ سیتاوائٹ اں حرامیوں کی ماں تھی اور یہ نواز شریف اور ڈیزل کے ناجائز اولاد
پٹواری سو مرتبہ مرکر بھی ایسی مثال قائم نہیں کر سکتے۔ ریحام بد قسمت ہے کہ ایک نیک انسان نے اسے ننگے پن سے اٹھا کر عزت کا مقام دلانے کی کوشش کی مگر وہ کسی اور مشن پر تھی عزت اسے راس نہ ائی اللہ نے اس کا منہ کالا کر دیا۔ اب پٹواری غلاظت کے اس ڈھیر کو استعمال کرنے والے ہیں اللہ ان کا بھی منہ کالا کرے گا۔
اک جمائمہ تھی جس نے طلاق کے بعد بھی عمران خان کی قدر کی اور وفا نبھائی اور اک ریحام ہے جس کو کپتان نے شادی سے پہلے بھی عزت دی اور بعد میں بھی دے رہے لیکن وہ ناسور بن گئی۔
 تقریبا 'عمران خان اور جمائمہ خان کی علیحدگی کا 14 سال ہوا ھے ۔لیکن جمائمہ خان نے عمران خان کی خلاف ایک ایسا لفظ استمال نہیں کیا جس سے 'عمران خان کی دل دھوک پونچا ۔۔۔۔
امریکن سیتا وائٹ کی بیٹی کو اپنی سگی بھانجی سمجھ کر قطری شہزادوں اور ڈیزل کے ناجائز اولاد عمران خان پر الزام لگاتے رہے اور انصاف مانگتے رہے..
لیکن یہ خود اپنے ملک کی اپنی ہی پارٹی کی کارکن سمیہ چوہدری کے قتل ہونے پر حرام ہے کہ کسی نون لیگی کی غیرت جاگی ہو. ڈیزل جو مردان کےایک مدرسے سے 18 سالہ ایک دوشیزه طلبہ کو زبردستی اٹھاکر اغواء کیا اور جن سے بغیر نکاح ابھی چار بچے پیدا کر چکا ہے کیا یہ جائز تھے ان کیلئے کب انصاف دلانے کیلیے آواز اٹھائی ہو... 
کب توڑو گے غلامی کی یہ زنجیریں کب ظلم کیخلاف آواز اٹھاؤ گے....... !
ہیرامنڈی کے پیدوار آپ لوگ جو بھی کہتے ہیں کہنے دو  ۔
سلام عمران خان صاحب کہ  آپ خود ایک عزت دار انسان ہو
لیکن میرا اللّٰہ سب دیکھ رہا اور وہ سب سے بڑی چال۔چلنے والا انشاءاللّٰہ عمران خان کے دشمن کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے انشاءاللّٰہ🙏

#نوٹ
پاکستان تحریک انصاف کے جیتنے کارکن ہے وہ ایک کمینٹ اور لایک ضرور دیں کیونکہ آپ کا ایک کمینٹ آپ کے جیتنے دوست ہے وہ تحریک انصاف اور عمران خان کا پیغام اس کے ساتھ شیئر کرتے ہیں آپ کا لایک اور کمینٹ بهت قیمتی ہے
#شکریہ

Friday, 8 June 2018

Khandani

خاندان اور خون کی پہچان۔۔۔۔ ضرور پڑھیں

سلطان محمود غزنوی نے اک بار دربار لگایا . دربار  میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے..
سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا ........

سلطان نے شرط منظور کر لی  اس شخص کو چلہ کے لیے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا.....
6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید  لگیں گے  ....
مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود نے پھر دربار لگایا اور دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے.........  اس شخص کو دربار میں حاضر کیا گیا اور بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا....
یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا .... میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک سے مر رہے تھے اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا.....

سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے . وزیر نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ھے۔ لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے . دربار میں اک نورانی چہرے والے  بزرگ تشریف فرما تھے کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا .....

بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کا گلا  نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کہ مرے اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ..........

سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے غلام ایاز محمود سے پوچھا آپ کیا کہتے ہو ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آیی .اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا اگر میری بات مانو تو اسے معاف کر دو ........اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے .....ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا .... ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ......

سلطان محمود غزنوی نے اس بابا کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے...
 بابا کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا..........

دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا کتوں سے شکار کھیلتا تھا اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا آپ کی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ھی مرنا ہے ..

اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو  ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان  کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا .....سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو......

ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز  کھولا آج میں بھی راز کھول دیتا ہوں سنو اے بادشاہ سلامت اور درباریو یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہے

Thursday, 7 June 2018

2 bachy #Ngo

ایک این جی او نے ایک سماجی تجربہ کیا ، دو نوعمر بچوں کو لیا. ایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجا اور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر فروخت کرنے بھیجا. شام کو بھکاری بچہ آٹھ سو اور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا. دراصل ہم بحیثیت قوم انجانے میں بھیک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں. ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیں اور مشٹنڈے بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئ.

مانگنے والوں کو صرف کھانا کھلائیں اور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں. ہمارے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ بھکاری کو اگر آپ ایک لاکھ روپے نقد دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے. اس کے برعکس اگر آپ کسی مزدور یا سفید پوش آدمی کی مدد کریں تو اپنی جایز ضرورت پوری کرکے زیادہ بہتر انداز سے اپنی مزدوری کرے گا.

گھر میں ایک مرتبان رکھیں. بھیک کے لئے مختص سکے اس میں ڈالتے رہیں. مناسب رقم جمع ہو جائے تو اس کے نوٹ بنا کر ایسے آدمی کو دیں جو بھکاری نہیں. اس ملک میں لاکھوں طالب علم، مریض، مزدور اور خواتین ایک ایک ٹکے کے محتاج ہیں. صحیح مستحق کی مدد کریں تو ایک روپیہ بھی آپ کو پل صراط پار کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے. یاد رکھئے، بھیک دینے سے گداگری ختم نہیں ہو سکتی، بلکہ بڑھتی ہے. خیرات دیں، منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ، اس طرح دنیا بھی بدل سکتی ہے اور آخرت بھی. باقی مرضی آپ کی..

Divorce

حلالہ یا حرامہ ۔۔۔۔۔ ؟

حلالہ ایسی بےغیرت چیز ہے جس کا کوئی شریف اور خوددار شخص تصور بھی نہیں کر سکتا،اسی لئے نکاح شرعی کا اعلان و اشتہار ہوتا ہے جس پر خوشی اور مبارکبادی کا اظہارہوتا ہے،تقریبات اور ولیمہ کا اہتمام ہوتا ہے لیکن حلالہ کے نکاح کو لوگ کانوں کان چھپاتے ہیں نیز عورت کے نکاح کا داعیہ اس کے دین،حسب و نسب اور مال و جمال سے ہوتا ہے،لیکن کیا حلالہ کرنے والا بھی ان میں سے کسی داعیہ کا طالب ہے؟ ذرا حلالہ کا نکاح کرنے والے سے پوچھئے کہ کیا اس کے دل میں اپنی زوجہ کے نان و نفقہ اور اس کے لباس کا بھی احساس ہے یا نہیں؟ اور کیا حلالہ کے لئے نکاح کرائی جانے والی عورت عام شرعی نکاح کرنے والی عورتوں کی طرح خود کو سنوارتی اور مزین کرتی ہے؟ کیا لوگوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ حلالہ کے ذریعہ داغدار کی جانے والی کتنی ہی شریف زادیاں عزت و شرافت سے محروم ہو کر فسق و فجور کی بری راہوں کا شکار ہو گئیں اور حلالہ کے عادی ملعون مرد نے کتنے گھرانے تباہ کئے اور کتنی حقیقی بہنوں کو ایک ساتھ اپنی زوجیت میں کھا۔ الغرض ایک مجلس کی تین طلاق کو کتاب اللہ،سنت رسولﷺ اور تعامل صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف تین مان لینے کی بنا پر آج جہاں سینکڑوں خاندان تباہ وبرباد ہیں وہیں مخالفین اسلام کو بھی اس مسئلہ کی آڑ لے کر مسلم پرسنل لا پر حملہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ضرورت ہے کہ علماء امت اس مسئلہ کی تمام جزئیات پر بنظرتعمق غوروفکر کر کے امت کے لئے وہی فطری اور ربانی سہولتیں پیدا کریں جو عہد نبویﷺ میں امت کو حاصل تھیں!۔

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...