Saturday, 22 April 2017

ایک لکڑہارا .... ایک دن اپنی بیاہتا بیٹیوں سے ملنے گیا .... پہلی بیٹی کا شوہر کمہار تھا .... بیٹی بولی ... ابّا دعا کرنا ...خوب اچھی دھوپ نکلے ... میرے میاں نے ...چوہدری کی حویلی کے لئے بہت سارے گملے، برتن ... اور مٹکے بنائے ہیں .... جو دھوپ اچھی نکلے گی ... تو برتن بھی جلدی سوکھ جاویں گے ... ہم پر بھی خدا کا کرم ہوجاوے گا باپ بولا اچھا بیٹی ... جرور دعا کرونگا .. تو پھکر نہ کریو دوسری بیٹی کا میاں .... کسان تھا .. بولی .... ابّا دعا کریو ... خوب جم کر میگھا برسے ... جو بادل برس گیے ... تو ہماری فصل خوب اچھی ہو جاوے گی...! باپ نے کہا ... ہاں ہاں جرور کرونگا تیسری بیٹی کا میاں ...رنگریز تھا ... بولی ابّا دعا کرنا ... دھوپ نہ نکلے ... اور نہ ہی میگھا برسے .... میرے میاں کو چوہدری کی حویلی سے بہت سارے دوپٹے رنگنے کا آرڈر ملا ہے ... جو ٹائم سے سوکھ گیے ... تو پیسہ بھی اچھا مل جاوے گا باپ نے اس سے بھی دعا کا وعدہ کرلیا .... مگر جب گھر کو واپس ہوا ... تو بیچ میں ایک جنگل تھا ... وہاں بیٹھ کر رونے لگا ایک درویش کی کٹیا پاس میں ہی تھی .... درویش نے رونے کی آواز سنی تو لکڑہارے کے پاس آیا اور اسے دلاسہ دینے لگا پوچھا کیوں روتا ہے ... لکڑہارا بولا ... ایک بیٹی کہتی ہے دھوپ کی دعا کرو ... دوجی کہوے ہے ... دھوپ کی نہیں بارش کی دعا کرو ... تیسری کہوے کہ نہ بارش ہو .. نہ دھوپ ہو .... اب بھلا بتاؤ کس کی مانوں؟ درویش بولا ... میری مان... ... پاکستانی ججوں کے ہاتھ پہ بیعت کرلے سب کو خوش کردینے کا ہنر ان کو خوب آوے ہے ... دیکھ تو کس طرح پانامہ کیس کے سارے فریق مٹھائی تقسیم کر رہے ہیں ..ہر پارٹی یہی کہ رہی ہے ... کہ... آخرکار فتح ہماری ہوئی

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...