Sunday, 7 May 2017

Mishal khan Case

مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا، دوستوں نے اس پر کھل کر اظہار خیال کر لیا، ہر کسی نے اپنی رائے قائم کر لی، یہ بات تو طے شدہ ہے کہ کسی بهى مسلمان كى ہلاکت کو کوئی بھی کتابی ،قانونی اور اخلاقی جواز نہیں دیا جا سکتا، اور مشعل خان نے اگر توہین رسالت کی تھی (يا كوئى اور كرے) تو اِسكى سزا اُسے ملنى چاہيے تهى مگر اِسکے لئے ریاستی اداروں کو حرکت میں آنا چاہئے تھا، کسی ہجوم کو یہ حق ہرگز نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کسی كو بھی صرف الزام پہ قتل کر دے، اور نعش کی بے حرمتی کرے، اگر ہم کسی ہجوم ،گروہ ،گرو پ يا تنظيم کو زندگی اورموت کے فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیں گے تو پھر آ پ كے پاس طالبان او رالقاعدہ يا كسى بهى اور تنظيم کی مخالفت کا كياجواز رہ جائے گا؟؟
مشعل خان کی موت بہت سارے واقعات میں سے ایک واقعہ ہے اور اس کے پیچھے توہین رسالت کے الزامات عائد کرنے بلکہ بذات خود توہین رسالت کرنے کا وہ المیہ چھپا ہوا ہے جس نے ہمارے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں،
بظاہر تو دِكھ رہا ہےكہ مشعل خان پہ کسى نے ا پنے ذاتى يا سياسى فائدے كے لئے جهوٹا اِلزام عائد كيا تها (حقيقت الله ہى جانے)، اگر يہ سچ ہے تو ايسا کرنے والوں کو اندازہ ہی نہیں کہ اُنهوں نے اپنےاِك چهوٹے سے ذاتى فائدے كے لئے ايسے لو گوں كو ايک جواز اور موقع عنايت كر ديا ہے جو كب سے اِس قانون کوختم یا کم از کم مزید مشکل بنانے کی سازش کر رہےتهے ۔
ہو سکتا ہے کہ آپ اس واقعے کو مشعل خان تک محدود دیکھ رہے ہوں مگر یہ معاملہ اس سے بہت آگے کا ہے اور تجزیہ کاروں کو اس سے بہت آگے دیکھنا بھی چاہئے۔ بدقسمتی سے سطحی علم اور سوجھ بوجھ رکھنے والوں نے سوشل میڈیا پر اسے محض ایک سازش کا معاملہ بنا دیا ہے اور یوں توہین رسالت کا قانون شاید اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی کمزور ترین پوزیشن میں آ گیا ہے اور یہ معاملے سے فائده اُٹهانے والوں کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
اگر واقعی مشعل خان کو بے گناہ سمجھتے ہیں تو پھر اس کے قاتلوں کو اس جيسى سزا دینے سے زیادہ نہیں تو کم از کم اس کے برابر ضروری ہے کہ آئنده كوئى كسى پر جهوٹا اِلزام نہ لگا سكے۔كہ پھر تو اصل گستاخ وہى ہیں جو مشعل خان کے نام سے توہین آمیز پوسٹس چلاتے تهے ۔
مانا کہ ميڈ يا پربہت کچھ اچھی نیت کے ساتھ ہو رہا ہے کہ ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے کی حمایت نہیں کی جانی چاہئے مگر کیا تجزیہ کاروں کو یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ کیا اس کے نتیجے میں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں کوایک محفوظ راستہ نہیں دے رہے؟، كيو نکہ ہر پرو گرام میں اصل ٹارگٹ توہین رسالت کا قانون ہے؟
يہ كيوں ايسى سوچ حاوی كى جا رہى ہے کہ توہین رسالت کا الزام جھوٹا ہوتا ہے اور اگر اسی سوچ کو مزید مضبوط کیا گیا تو پھر کل کلاں کسی بھی مجرم کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا جا سکے گا اور مان لیجئے کہ پھر تمام فیصلے مشتعل ہجوم اور گروہ ہی کریں گے۔

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...