Sunday, 21 May 2017

Motorway Runway

موٹر وے رن ویز “
جنگ عظیم دوئم کے بعد جب جرمنی میں موٹروے ٹائپ سڑک کی تعمیر کرکے اسکو فضائی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیاتو جنگوں کا سامنا کرنے والے کئی ملکوں نے بھی اس فارمولے کے تحت جہاں اپنے ملک میں بڑی اور وسیع سڑکیں تعمیر کرکے ترقی کے پہیے کو گھمادیا وہاں یہ موٹر ویزانکے جنگی طیاروں کے لئے بہترین رن وے ثابت ہونے لگیں لہذا جس ملک میں بھی اب کم از کم تین رویہ سڑکیں تعمیر ہوتی ہیں انکا معیاراور ڈیزائن بھی اس ضرورت کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتا ہے۔
پاکستانی موٹر ویز ممکنہ جنگ میں پورے ملک کا دفاع کرنے اور جنگ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔یہ فضائیہ کو ایک بہترین سہولت کار کے طور پر دشمن پر حملہ آورہونے اور ہدف سے قریب تر ہونے میں ایسی مثال پیش کرتی ہیں جس کا اعزاز سوائے پاکستان کے دنیا کے کسی اور ملک کو نہیں ۔اگرچہ روس،امریکہ ،جرمنی،چین،فرانس جیسے درجنوں ملک بھی سڑکوں کو ائر بس اور جنگی طیاروں کے لئے استعمال کرسکتے ہیں لیکن انہیں جغرافیائی طور پر اتنا برا دشمن نصیب نہیں ہوا جتنا پاکستان کے مقدر میں لکھا ہوا ہے لہذا پاکستان خطے میں جس جگہ موجود ہے اسے چہار اطراف سے ملک کی حفاظت کرنے کے لئے اپنی سڑکوں کو جنگی حالات میں رن وے بنانا پڑسکتا ہے اور پاکستان ہر طرح کے خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کام کرچکا ہے۔
یہی موٹر ویز پورے ملک کے دفاعی حصارمیں انتہائی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔دنیا میں پاکستان اس حوالے سے واحد ملک نظر آتا ہے جس نے ملک بھر کو موٹر ویز کی صورت میں رن ویز دینے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس میں اسے کامیابی حاصل ہوچکی ہے۔الحمد اللہ اس وقت پاکستان میں ۱۰ سے زائد M2 (موٹر ویز) ، شمالی علاقوں کی ۱۷ E ایکسپریس روڈزموجود ہیں جو اپنے تجارتی اور دفاعی اعتبار سے پاکستان کے مضبوط انفراسڑکچر اور منصوبندی کی گواہی دیتی ہیں۔پاکستان کو ۲۰۱۸ء تک ۳۰۰۰ ہزار کلومیٹر موٹر ویز اور ایکسپریس ویز سے منسلک کردیا جائے گا جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ چاروں صوبوں کا موٹر ویز سے منسلک ہونا کس قدر فائدہ مند ثابت ہوگا ۔
دفاعی اعتبار سے دیکھا جائے توموجودہ ’’موٹر وے رن ویز ‘‘ کے بعد پاکستان کو بھارتی فضائیہ پر تیزی سے حملہ کرنے اور اسکے حملوں کو ناکام بنانے میں بالادستی حاصل ہوچکی ہے
اس کا ایک منظر تو پوری دنیا نے دیکھ لیاہے۔لاہور کے پہلو میں کالا شاہ کاکو سے شیخوپورہ موٹر وے پر جنگی طیاروں کی لینڈنگ کے دلنشین جذبوں نے پوری قوم کے جذبوں کو بیدار کردیا ہے۔ جنگی حالات میں موٹر وے دنیا کی مایہ ناز فضائیہ پاکستان ائر فورس کے شاہینوں کی صوابدید پر ہوگی جہاں وہ وہ طیارے لینڈ کریں گے،انکی فیلونگ ہوگی اور انہیں مسلح کرکے دوبارہ فضا کے سپرد کیا جاسکے گا۔بھارت کے جنگی جنون کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے موٹر وے فی الحال جزوی طور پربڑے رن وے کی صورت اختیار کرچکی ہے۔پاک فضائیہ نے موٹروے پر ایک بار پھر ریہرسل شروع کردی ہے ،اس سے قبل ۲۰۰۰ء،۲۰۰۵ء اور ۲۰۱۰ء میں بھی فضائیہ نے موٹر وے پر کامیاب لینڈنگ،فیولنگ کا شاندار مظاہرہ پیش کیا تھا جس کے بعد ملک میں مزید موٹر ویز تعمیر کرنے کا خیال عملی صورت اختیار کرگیا۔موٹر وے پرپاک فضائیہ کی ریہرسل نے بھارت کا منہ بند کردیا تھا اور اس نے پندرہ سال بعد دہلی کے قریب ایکسپریس وے پر اپناجیٹ طیارہ اتارنے کی ناکام کوشش کی تھی۔جس پر بھارتی فضائی کو کھلی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ بات بھارت اور اسکے حواری بھی جانتے ہیں کہ پاکستان جہاں اپنے ۱۳۹ سول ائرپورٹس اور ۱۷ سے زاید ائر بیسز کی وجہ سے فضائی حملوں میں اپنا وسیع نیٹ ورک رکھتا تھا، اب وہاں’’موٹر وے رن ویز‘‘ کے تصور کے بعد تو بھارتی شہروں پر پاک فضائیہ کے شاہینوں کی پروازوں کو روکنا ناممکن ہوجائے گا۔یہی وجہ ہے کہ بھارت پاکستان کو محدود پیمانے کی جنگ کی بھی دعوت نہیں دے سکتا ،یہ محض اسکی گیڈر بھبکیاں ہیں۔بھارت کے آرمی چیف جنرل دلبیر سنگھ نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت اور فضائی بالادستی دیکھنے کے بعدہی پاکستان کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا مشورہ دیاہے اور اپنے وزیراعظم سے کہا ہے کہ سرحدوں پر جنگ کرنے سے بھارت کے لئے مشکلات کھڑی ہوجائیں گی۔لیکن پاکستان کے آرمی چیف کا بیان بڑا واضح ہے کہ دشمن نے کوئی شرارت کی توپاک فوج اس کے گھر میں پہنچ کر اسکا منہ توڑنے کیصلاحیت رکھتی ہے اور۔۔۔انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔

#Haris

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...