شیخ متولی شعراوی کہتے ہیں:
ایک شدت پسند نوجوان کے ساتھ میری بحث ہو رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا: ایک مسلمان ملک میں کیا کسی نائٹ کلب کو بم سے اڑا دینا جائز ہو گا یا ناجائز؟
کہنے لگا: بالکل حلال ہو گا۔ اور ان کا قتل بالکل جائز ہے۔
میں نے اس سے کہا: جب وہ اِس خدا کی نافرمانی کی حالت میں ہوں عین اس وقت اگر تم ان کو قتل کردو تو ان کا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟
بولا: ظاہر ہے جہنم میں۔
میں نے کہا: اور شیطان ان کو کہاں لے جانا چاہتا ہے؟
کہنے لگا: ظاہر ہے جہنم میں۔
میں نے کہا: تو تم اور شیطان اس ایک ہدف میں مشترک ہو گئے!
پھر میں نے اسے حدیث سنائی کہ ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو رسول اللہ ﷺ اس پر آبدیدہ ہوگئے۔ پوچھا: کیا سبب ہے؟
تو فرمایا: ایک نفس میرے ہاتھ سے چھوٹ کر جہنم میں جا پڑا۔
میں نے کہا:
تم ذرا فرق دیکھ لو؛ آپ صلی اللہ وسلم تو ہر دم لوگوں کو دوزخ سے بچانے کےلیے پریشان ہیں؛ تم کہاں ہو اور رسول اللہﷺ کہاں!
Published by;Haris
Thursday, 25 May 2017
Muslim'
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Hazrat Umar (R.A)
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...
-
خواتین و حضرات! آنے والا وقت بہت زیادہ خوفناک ہے۔ اس میں کئی خطرناک کھیل شروع کر دیئے جائیں گے۔ یہ کھیل عید کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ عید...
-
ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺟﻮ ﺑﺸﺮﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﻻﺗﺮ ﮨﻮ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ،ﷲ ﮐﮯ ﺑﺮﮔﺰﯾﺪﮦ ﻧﺒﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺅﺩ ؑ ﮐﮯ ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺳﺒﺎ ﻣﯿﮟ ﺁ...
-
ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺱ ﺳﺎﻟﮧ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ۔ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﺭﺩ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭﺍ...
No comments:
Post a Comment