Thursday, 25 May 2017

Muslim'

شیخ متولی شعراوی کہتے ہیں:
ایک شدت پسند نوجوان کے ساتھ میری بحث ہو رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا: ایک مسلمان ملک میں کیا کسی نائٹ کلب کو بم سے اڑا دینا جائز ہو گا یا ناجائز؟
کہنے لگا: بالکل حلال ہو گا۔ اور ان کا قتل بالکل جائز ہے۔
میں نے اس سے کہا: جب وہ اِس خدا کی نافرمانی کی حالت میں ہوں عین اس وقت اگر تم ان کو قتل کردو تو ان کا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟
بولا: ظاہر ہے جہنم میں۔
میں نے کہا: اور شیطان ان کو کہاں لے جانا چاہتا ہے؟
کہنے لگا: ظاہر ہے جہنم میں۔
میں نے کہا: تو تم اور شیطان اس ایک ہدف میں مشترک ہو گئے!
پھر میں نے اسے حدیث سنائی کہ ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو رسول اللہ ﷺ اس پر آبدیدہ ہوگئے۔ پوچھا: کیا سبب ہے؟
تو فرمایا: ایک نفس میرے ہاتھ سے چھوٹ کر جہنم میں جا پڑا۔
میں نے کہا:
تم ذرا فرق دیکھ لو؛ آپ صلی اللہ وسلم تو ہر دم لوگوں کو دوزخ سے بچانے کےلیے پریشان ہیں؛ تم کہاں ہو اور رسول اللہﷺ کہاں!
Published by;Haris

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...