پچھلے دنوں سرگودھا میں ایک نفسیاتی مریض نے روحانی و نفسیاتی امراض کے علاج کے لیے آنے والے کچھ لوگوں کو قتل کر دیا۔ یہ واقعہ بدعقیدگی کا شاخسانہ ہے۔ لوگوں کا یقین خدا کی ذات سے ہٹ کر اپنے جیسے انسانوں کی ذات پر اتنا پختہ ہو چکا ہے جس کی حد نہیں۔ یہاں ایسے ڈاکٹروں کی کمی نہیں جو اپنی فیس اور میڈیکل سٹور والے کی دواؤں کی بِکری کے لیے ایسے مریض کا پیٹ پھاڑ دیتے ہیں جو دو گولی ڈسپرین سے ٹھیک ہوسکتا ہے۔ مریض بے چارہ مختلف لوگوں کی success stories سن سن کر ایسے ڈاکٹروں پر ایمان لا چکا ہوتا ہے اور اپنے خرچ پر اپنا پیٹ پھڑواتا ہے۔ یہ مریض کی بدعقیدگی ہے۔ عقیدے کی بالکل یہی حالت ان مریضوں کی تھی جو سرگودھے کے اس جاہل پیر کے پاس گئے۔ فیسبک پر جو آج اس جاہل پیر کو برا بھلا کہہ رہا ہے اسے ان ڈاکٹروں کے لیے بھی کچھ بولنا چاہیے۔
خوب یاد رکھنے کی بات ہے کہ نفسیاتی الجھنوں کو لوگ اپنی چرب زبانی سے روحانی بیماری بتاتے ہیں اور بالکل ٹوٹھ جاہل یعنی وہ لوگ جو دنیا میں کسی بھی کام کرنے کے ہنر سے ناواقف ہوتے ہیں، وہ روحانی معالج بن کر لوگوں کا علاج کرنے لگتے ہیں۔ روحا نی معالج وہ عطائی (آدمی/عورت) ہوتا ہے جو ہومیوپیتھک ڈاکٹری کا امتحان بھی پاس نہیں کر سکتا۔ ان لوگوں کی success stories سنانے والے paid لوگ جگہ جگہ گھوم پھر کر یہ واقعات سناتے ہیں کہ فلاں فلاں جگہ پر فلاں بندے کے پاس یہ یہ قوت ہے اور وہ فلاں فلاں بیماری کا علاج کرتا ہے۔ صرف پاکستان نہیں، دنیا بھر میں ایسے لوگوں کی دکانداری چل رہی ہے اور خدا کے حکم سے خوب چل رہی ہے۔ جب تک جاہل موجود ہیں، یہ دکانیں چلیں گی اور صحیح علم والے لوگ حلال خوری کے چکر میں بھوکے مریں گے۔
کئی سال پہلے مجھے کمر کے درد کے علاج کے سلسلے میں ایک عطائی کو آزمانے کا کہا گیا۔ برا ہو اس سائنس کا جو بری بھلی کچھ پڑھ رکھی تھی۔ صرف دو جملوں میں اس کا مبلغِ علم سامنے آ گیا۔ وہ ایک ان پڑھ نفسیات دان تھا اور اس کے پاس نفسیاتی حربوں کے ذریعے دردِ کمر کے احساس کو کم کرنے کے کچھ ٹوٹکے تھے۔ اس کا ڈیرہ دیکھ کر احساس ہوا کہ اگر اس نے عربی کے چار جملے بھی یاد کر رکھے ہوتے اور کچھ حلیہ بدلا ہوا ہوتا تو وہ روحانی معالج کے طور پر بھی مشہور ہو سکتا تھا۔
روحانی بیماریاں ایک بالکل الگ موضوع ہیں جن کا جسمانی بیماریوں سے ایک فیصد بھی تعلق نہیں۔ جسمانی لحاظ سے انتہائی صحت مند شخص یہاں تک کہ WWE کھیلنے والا پہلوان بھی شدید ترین روحانی امراض میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ روحانی بیماری کے علاج کو قرآن کی زبان میں تزکیہ کہتے ہیں۔ مسلمانوں میں روحانی بیماریوں کا علاج اعمالِ دین میں لگنے سے ہوتا ہے، اور ان اعمالِ دین میں فرائض سب سے پہلے ہیں۔ چنانچہ جو شخص مثلًا فرض نماز چھوڑ کر مختلف قسم کے وظائف میں لگا ہوا ہے وہ صرف بھول میں مبتلا ہے۔ فرائض پورے کیجیے اور حلال کھائیے، خدا نے چاہا تو ہر روحانی بیماری سے محفوظ رہیں گے۔ ہر قسم کی نفسیاتی الجھنوں کے حل کے لیے ماہرینِ نفسیات سے رجوع کیجیے۔ جیسے موچی صرف جوتہ گانٹھ سکتا ہے کرتہ نہیں سی سکتا بالکل ویسے ہی نفسیاتی الجھنوں کا ماہر روحانی علاج نہیں کر سکتا۔ چوکنّا رہیے اور ایمان اور مال دونوں کے شکاریوں سے بچیے۔
Sunday, 21 May 2017
Nafsiyaty mareez
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Hazrat Umar (R.A)
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...
-
خواتین و حضرات! آنے والا وقت بہت زیادہ خوفناک ہے۔ اس میں کئی خطرناک کھیل شروع کر دیئے جائیں گے۔ یہ کھیل عید کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ عید...
-
ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺟﻮ ﺑﺸﺮﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﻻﺗﺮ ﮨﻮ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ،ﷲ ﮐﮯ ﺑﺮﮔﺰﯾﺪﮦ ﻧﺒﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺅﺩ ؑ ﮐﮯ ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺳﺒﺎ ﻣﯿﮟ ﺁ...
-
ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺱ ﺳﺎﻟﮧ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ۔ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﺭﺩ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭﺍ...
No comments:
Post a Comment