Saturday, 24 June 2017

Eid ka Chand

چاند کا مسئلہ

نبی کریمﷺ کے زمانے میں پورے عرب میں ایک ہی دفعہ روزہ اور عید ہوتی تھی.

خلافت راشدہ کے زمانے میں بھی رمضان و عید کے چاند کا کوئی مسئلہ نہ تھا.

سلطنت امیہ، خلافت عباسیہ اور شرق و غرب میں پھیلی ہوئی خلافت عثمانیہ میں بھی امت مسلمہ کا روزہ اور عید ایک ہی دن ہوتے تھے.

خلافت کے زوال کے ساتھ ہی امت انگریز کے دیے ہوئے ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی تو چاند بھی ہر ٹکڑے کا اپنا ہو گیا.

اب تو ذرائع ابلاغ بھی ترقی کر گئے ہیں. دنیا گلوبل گاؤں بن چکی ہے. خبر ایک لمحے میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے.

پرانے وقتوں میں اگر دنیا کے کسی حصے میں چاند نظر آتا تو سب مل کر روزہ رکھتے اور عید کرتے. تو کیا آج مسلمان ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کر سکتے؟

ترکی میں چاند نظر آئے تو مراکش میں روزہ رکھنے میں کیا حرج ہے؟ افغانستان میں دکھائی دے تو وہ تورخم کا بارڈر کراس کیوں نہیں کر سکتا؟

ٹائم زون کے سائنسی طریقہ کار کے مطابق پوری دنیا میں ایک دن میں روزہ رکھا جا سکتا ہے.

کیونکہ جمعہ کے دن پوری دنیا میں جمعہ ہی ہوتا ہے. ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پاکستان میں جمعہ ہو اور عرب میں اتوار.

اور لیلۃ القدر بھی تو ایک ہی رات ہو گی نا. یا افغانستان میں جبریل امین اور فرشتے الگ دن اتریں گے اور پڑوسی پاکستان میں سرکاری اعلان نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے دن؟

حقیقت یہ ہے کہ وطن پرستی نے وحدت امت کو پارہ پارہ کر دیا ہے. اس بنیادی اور سیدھے سادے معاملے کو بھی پیچیدہ بنا دیا گیا ہے.

اب بھی اگر سارے مسلم ممالک حرمین شریفین اور جغرافیائی متوسط پوزیشن کی وجہ سے عرب کو ہی مرکز مان لیں تو چاند کا جھگڑا ختم ہو جائے گا. اور شاید امت کو دوبارہ ایک مرکز پر جمع کرنے کی طرف پہلا قدم بھی..

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...