Friday, 2 June 2017

aik larki ney ...

ایک سہیلی نے دوسری سہیلی سے پوچھا
بچہ پیدا ہونے کی خوشی میں تمہارے شوہر نے تمہیں کیا تحفہ دیا ؟؟؟
سہیلی نے کہا کچھ بھی نہیں ۔
اس نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ اچھی بات ہے ۔؟؟
کیا اس کی نظر میں تمہاری کوئی قیمت نہیں؟؟؟
لفظوں کا یہ زہریلا بم گرا کر وہ سہیلی دوسری سہیلی کو اپنی فکر میں غلطاں و پیچاں چھوڑ کر چلتی بنی ۔
تھوڑی دیر بعد ظہر کے وقت اس کا شوہر گھر آیا اور بیوی کا منہ لٹکا ہوا پایا
پھر دونوں کا جھگڑا ہوا ایک دوسرے کو لعنت بھیجی مارپیٹ ہوئی شوہر نے اسے طلاق دے دی،.
جانتے ہیں پرابلم کی شروعات کہاں سے ہوئی؟؟
اس فضول جملے سےجو اس کی زیارت کرنے آئی سہیلی نے کہا تھا .
بے شک
کچھ لوگوں کی زبانوں سے شیطان بول جاتا ہے
ہماری روز مرہ کی زندگی میں کچھ سوالات ہمیں بہت معصوم لگتے ہیں.. :
تم نے یہ کیوں نہیں خریدا؟؟
تمہارے پاس یہ کیوں نہیں ہے؟؟
تم اس شخص کے ساتھ پوری زندگی کیسے چل سکتی ہو ؟؟
تم اسے کیسے مان سکتے ہو؟؟
اس طرح کے بیشتر سوالات نادانی میں یا بلا مقصد ہم پوچھ بیٹھتے ہیں جبکہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے یہ سوالات سننے والے کے دل میں نفرت یا محبت کا کون سا بیج بورہے ہیں ۔
فساد پھیلانے والے نہ بنو
لوگوں کے گھروں میں اندھے بن کر جاؤ
اور وہاں سے گونگے بن کر نکلو "‌‌‌‌‌‌‌:

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...