Monday, 19 June 2017

Cricket aur jang

کرکٹ اور جنگ ۔۔۔۔۔۔ !

نیوی کے سابق سیلر فخر زمان کے ہاتھوں کرکٹ میں شدید تکلیف پہنچنے پر آج بلوچستان میں انڈین سپانسرڈ دہشت گردوں نے پاکستان نیوی کی گاڑی پر فائرنگ کر کے پاک نیوی کے دو جوان شہید کر دئیے۔۔۔۔۔۔۔ !

انڈیا کے ساتھ ہماری کرکٹ صرف کرکٹ نہیں ہوتی۔ اسکی ایک دو مثالیں ہماری ماضی میں بھی گزر چکی ہیں۔

1986ء میں جب انڈیا اپنی کئی لاکھ فوج پاکستان کے بارڈر پر لے آیا تو جنرل ضیاء کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے بغیر کسی دعوت نامے کے انڈیا پہنچ گئے۔ جہاں انہوں نے راجیو گاندھی کو ایٹمی جنگ کی دھمکی دے کر فوجیں واپس لے جانے پر مجبور کر دیا۔ 
( اس واقعہ پر ایک تفصیلی مضمون لکھا ہے شائد آپ کی نظروں سے گزرا ہو)
یہ واقعہ آج بھی ضیاء کی کرکٹ پالیسی کے عنوان سے مشہور ہے۔

2009ء میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوا۔ اس حملے میں اسرائیلی ساختہ راکٹ لانچر استعمال کیے گئے۔ آئی ایس آئی نے بھاگ دوڑ کی تو پتہ چلا اس حملے کے لیے انڈیا نے سری لنکن تامل ٹائیگرز کو استعمال کیا۔ حملے میں سری لنکا کو سبق سکھانے کی کوشش کی گئی تھی جنہوں نے پاکستان کی خصوصی فرمائش پر پاکستان کا دورہ کیا تھا تاکہ پاکستان کو کرکٹ کے لیے محفوظ ملک ثابت کیا جا سکے۔

پاک فوج نے انڈیا اور تامل ٹائیگرز دونوں کا اس حملے کا جواب دینے کا فیصلہ کیا۔

لبریشن ٹائیگرآف تامل ایلام یا تامل ٹائیگرز درحقیقت 35 سال تک سری لنکا میں لڑی جانے والی انڈیا کی پراکسی جنگ کا نام ہے۔ اس دہشت گرد تنظیم کی طاقت اتنی بڑھ چکی تھی کہ انکی اپنی بحریہ اور ائیر فورس تھی۔ انہوں نے سری لنکا کے درلخلافہ کولمبو پر ہوائی حملہ تک کیا تھا۔ وہ تقریباً ایک تہائی سری لنکا پر قابض تھے۔ ایک اہم بات یہ کہ ٹی ٹی پی سے پہلے یہ تنظیم اپنے خود کش حملوں کے لیے مشہور تھی۔

ان کے خلاف سری لنکن فوج کو پاک فوج کی معاؤنت حاصل رہی تھی۔ لیکن جب بھی سری لنکن حکومت کوئی بڑا آپریشن کرنے کی کوشش کرتی ان کے اہم راہنما سمندر کے راستے انڈیا نکل جاتے۔

لاہور میں حملے کے بعد پاک فوج کے کچھ سپیشل دستے سری لنکا پہنچے۔ جہاں انہوں نے سری لنکن فوج کے ساتھ ملکر تامل ٹائیگرز کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی منصوبہ بندی کی۔ کہا جاتا ہے کہ تمام تر منصوبہ بندی پاک فوج نے کی تھی۔ جس میں سب سے پہلے سمندری راستوں کی ناکہ بندی کی گئی۔

جیسا کہ پاک فوج کی روایت ہے۔ ایک برق رفتار آپریشن کی مدد سے 35 سال سے سری لنکا میں دہشت گردی کرنے والی اس تنظیم کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس تنظیم کے سربراہ پربھاکرن کو تاملز " سورج دیوتا" کہتے تھے۔ انکا عقیدہ تھا کہ اس کو موت نہیں آتی۔ اس آپریشن میں پربھاکرن کی پیشانی میں گولی مار کر انکا یہ عقیدہ غلط ثابت کیا گیا۔

پاک فوج نے انڈیا کی 35 سال کی محنت اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر پانی پھیر دیا۔

یہی وجہ سے کہ عاصمہ جہانگیر کشمیر چھوڑ کر انڈیا کے اس پار سری لنکا میں پاک فوج اور سری لنکن فوج کے اس مشترکہ آپریشن میں ہونے والی مبینہ " انسانی حقوق " کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیتی رہتی ہیں۔۔۔۔۔  :)

انڈیا کے خلاف اس فائنل کو پاک فوج نے " لو انٹنسٹی کانفلکٹ " یا محدود پیمانے کی جنگ قرار دے کر اسکا جشن منایا تھا ۔۔۔   :)

انڈیا سے جنگ شائد ہماری تقدیر میں لکھی گئی ہے جو غزوہ ہند کی صورت میں پوری ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...