حبیب جالب کی بیگم ایک دن اُن سے ملاقات کیلئے جیل گئیں اور جالب سے کہنے لگیں۔ آپ تو جیل میں آگئے ہو یہ بھی سوچا ہے کہ بچوں کی فیس کا کیا بنے گا اور گھر میں آٹا بھی ختم ہونے والا ہے۔ حبیب جالب نے اس ملاقات کے بارے میں ایک نظم لکھی۔ جس کا عنوان ”ملاقات“ رکھا۔ ملاحظہ فرمائیں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملاقات
جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی
حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی
اس نے نہ ٹھہرنے دیا پہروں مرے دل کو
جو تیری نگاہوں میں شکایت مری جاں تھی
گھر میں بھی کہاں چین سے سوئے تھے کبھی ہم
جو رات ہے زنداں میں وہی رات وہاں تھی
یکساں ہیں مری جان قفس اور نشیمن
انسان کی توقیر یہاں ہے نہ وہاں تھی
شاہوں سے جو کچھ ربط نہ قائم ہوا اپنا
عادت کا بھی کچھ جبر تھا کچھ اپنی زباں تھی
صیاد نے یونہی تو قفس میں نہیں ڈالا
مشہور گلستاں میں بہت میری فغاں تھی
تو ایک حقیقت ہے مری جاں مری ہم دم
جو تھی مری غزلوں میں وہ اک وہم و گماں تھی
محسوس کیا میں نے ترے غم سے غم دہر
ورنہ مرے اشعار میں یہ بات کہاں تھی..
Thursday, 22 June 2017
Habib jalib
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Hazrat Umar (R.A)
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...
-
خواتین و حضرات! آنے والا وقت بہت زیادہ خوفناک ہے۔ اس میں کئی خطرناک کھیل شروع کر دیئے جائیں گے۔ یہ کھیل عید کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ عید...
-
ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺟﻮ ﺑﺸﺮﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﻻﺗﺮ ﮨﻮ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ،ﷲ ﮐﮯ ﺑﺮﮔﺰﯾﺪﮦ ﻧﺒﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺅﺩ ؑ ﮐﮯ ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺳﺒﺎ ﻣﯿﮟ ﺁ...
-
ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺱ ﺳﺎﻟﮧ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ۔ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﺭﺩ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭﺍ...
No comments:
Post a Comment