پی ٹی آئی کے کچھ ورکرزمیں یہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ پارٹی جس کو بھی ٹکٹ دے ہمیں فرق نہیں پڑتا ہم بلے کو ووٹ دیں گے۔
پارٹی ورکرز کسی بھی سیاسی جماعت کی سمت، نظریئے اور اقدار کے محافظ ہوتے ہیں اگر چہ ان کی جانب سے یہ کہنا کہ ٹکٹ کسی کھمبے کے پاس بھی ہو تو ووٹ دیں گے، بظاہراپنی پارٹی سے وفاداری ثابت کرنے کی کوشش ہے لیکن درحقیقت وہ نادانستہ طور پر پارٹی کوناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ لہذا انہیں احساس کرناچاہیئے کہ وہ جانےانجانے میں پارٹی میں اس سوچ کو فروغ دے رہے ہیں کہ:
۱- نمائندوں کی چناوُ سے عوام، ملک اور پارٹی کو کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ وہی سوچ ہے جو آج دیہی سندھ کی حد درجہ پسماندگی کی وجہ ہے۔
۲-مقامی سطح پرلوگ نمُائندوں کے چناؤمیں امیدوارکے نظریہ، کردار، قابلیت، ماضی، ساکھ، لوگوں سے تعلق، علاقے کی بہتری کی کوشش اور رکھ رکھاؤکو اہمیت نہیں دینگے اور صرف بلے کو ووٹ دینگے۔
یہاں ڈائی ہارڈ پارٹی ورکرزاورووٹرز کے تناسب میں زمین وآسمان کے فرق کو بھی مدنظررکھنا ضروری ہے،ایک حلقہ میں سرگرم پارٹی ورکرزکی زیادہ سے زیادہ تعداد کُل ووٹرز کے2فیصد سے بھی کم ہوتی ہے۔ الیکشن میں پارٹی کے ورکرز کااصل کام صرف اپنا ووٹ دینا ہی نہیں بلکہ پارٹی کیلئے ووٹ لینے بھی ہوتے ہیں او دوسروں کو بھی ووٹ کیلئے راضی کرنا ہوتا ہے- پارٹی امیدوار کے حق میں ووٹروں کومتحرک کرنا اور رائے عامہ ہموار کرناپارٹی ورکرزکا اصل ٹاسک ہوتا ہے فرض محال اگر ٹکٹ کا فیصلہ کسی ایسے امیدوار کے حق میں ہو جس کی کیمپئن چلانا تو درکنار خود اپناووٹ دینا بھی ایک ورکر کیلئے کڑوا گھونٹ ہو تو وہ ووٹروں کوکیسے مائل کر سکے گا؟ لہذاایسا پیغام پارٹی کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے خاص طور پراس مرحلے پرجب پارٹی امیدواروں کےفیصلے کرنے جا رہی ہے۔
مخلص کارکن وہی ہے جو کھل کر یہ حقیقت بیان کرے کہ غلط امیدوار کوسامنے لا کر پارٹی اپنے کارکن کو مشکل میں ڈال دے گی، نہ صرف اسکےاپنے ووٹ کے لئے بلکہ دوسروں سے ووٹ مانگنے میں بھی۔۔۔۔۔
ان تمام مخلص کارکنوں، جن کی پارٹی سے وفاداری صرف 'اپناووٹ' دینے تک محدود نہیں، سے استدعا ہےکہ وہ پارٹی کی بہترین مفاد میں یہ واضح پیغام دیں کہ غلط ٹکٹوں کی تقسیم کے نتائج کی ذمہ داری ٹکٹوں کے فیصلے کرنے والوں پرعائد ہوگی۔ غلط ٹکٹ سے مراد صرف یہ ہے کہ ایسا شخص جس کے لیے کارکن کا دل جوئ اور لگن سے کام کرنا مشکل ہو جا ئے اور اس کے پاس ووٹ مانگنے کے لیے کوئ منطق نہ ہو۔ کارکن اپنا ووٹ مجبوری میں دے بھی دیں لیکن کتنے ووٹ دلا سکیں گے یہ ایک سوال ہمیں ضرور تنگ کرے گا۔
یقینناََ کارکنوں کے مثبت اورحقیقت پسندانہ رویئے میں ہی تحریک انصاف کی جیت ہے اورعمران خان کو وزیر اعظم دیکھنے کے خواب کی تعبیربھی۔
یہی جمہوری رویئے اور اقدار ہمارا طرہ امتیاز ہیں جو پی ٹی آئی کے کارکن کو دوسری پارٹیوں کے کارکن سے منفرد اورممتاز بناتے ہیں۔
حارث خان جدون
No comments:
Post a Comment