این اے چار
نشست خالی ہوئی گلزار خان کی وفات کی وجہ سے..
اسد گلزار خان جو کہ گلزار خان مرحوم کا بیٹا ہے
جناب نے ٹکٹ مانگا
کپتان نے انکار کر دیا..
مریم لیگ یا بلاول لیگ ہوتی تو ضرور دیتی
لیکن تحریک انصاف کا منشور میرٹ ہے..
اسد گلزار کو ٹکٹ نا ملا تو موصوف تحریک انصاف چھوڑ کر بلاول پارٹی میں شمولیت کر گئے
جسے دو دن تک بلاولی لونڈے لگاتار زرداری کی سیاسی پختگی اور الیکشن میں جیت ڈکلئیر کرتے رہے..
خیر کپتان نے ٹکٹ دیا ارباب عامر کو..
مخالفت میں ڈیزل+شیر پاؤ نے مریم کو گود لینے یعنی مریم کی حمایت کا اعلان کر دیا..
جماعت غیر اسلامی نے بڑے پُر تپاک انداز میں کپتان کو کہا کہ چونکہ ہمارا ووٹر زیادہ ہے اس لیے کپتان اپنا امیدوار ہمارے حق میں دستبردار کر دے
اے این پی کے لونڈے عمران نے کے پی میں کیا کر لیا کے نعرے کو لے کے میدان میں اُترے
کُل ملا کر تمام مفاد پرست نامی گرامی پارٹیاں مخالفت میں..
کپتان کو کون سِکھائے..
2013 میں تحریک نے 50 ہزار ووٹ لیا تھا.
جنرل الیکشن اور گلزار خان کی اچھی شہرت..
تحریک کا اور گلزار خان کا ووٹ ملا کر 50+ ووٹ ملا کپتان کو..
اب کیا ہوا..
ضمنی الیکشن جس میں ٹرن آؤٹ بھی کم اور مرحوم ایم این اے کا بیٹا بھی مخالف..
اتحادی بھی تیار..
غیور پختونوں نے عملی طور پہ بتایا کہ کپتان نے کے پی میں کیا کر لیا..
47 ہزار ووٹ.. وہ بھی ضمنی میں اُس حلقے میں جس میں جنرل الیکشن میں 50 تھا..
ٹرن آؤٹ کے اعتبار سے کپتان کے ووٹ میں اچھا خاصا اضافہ ہے..
ٹرن آؤٹ کی ٹرم پٹواری نہی سمجھ سکتے..
دوسری طرف مریم لیگ نے 20 ہزار جنرل میں لیا اکیلے
اور ڈیزل نے قریباً 12
اب مریم+ڈیزل+شیرپاؤ تینوں کے اجماع کے نتیجے میں 20 سے بڑھ صرف 25 ہوا..
اب تینوں لڑ رہے کہ یہ 25 میں 10 میرا, 15 میرا..
.............................
جسے سمجھ آ جائے وہ سمجھ لے کپتان نے کے پی میں کیا کر لیا..
جسے سمجھ نا آئے وہ سیاست سے کنارہ ہی کر لے بہتر...
..!!!!!!
No comments:
Post a Comment