1- فضا میں ایک بھاری گدھ کیسے اڑتا ہے؟
2- ایک سانپ چٹان پہ کیسے چڑھ سکتا ہے؟
3- سمندر میں جہاز کیسے تیرتا ہے؟
جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گدھ پر ہلائے بغیر ہوا میں اڑ رہا ہے اور ایک سانپ بنا اعضاء کے چٹان پر چڑھ رہا ہے تو ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ اور جب ہمیں اس کی سائینسی وجوہات پتا لگتی ہیں تو ہم مزید حیرت میں ڈوب جاتے ہیں۔
اگر دیکھنے والی آنکھ ہو تو اس کائنات کے ذرے ذرے کے اندر ہمیں حیران کر دینے کے لیئے بہت کچھ موجود ہے۔
کائنات کا ہر نظام اتنا مکمل ہے کہ اس میں ذرا سی کمی بیشی بھی توازن خراب کرنے کو کافی ہے۔
کبھی دیکھا ہے کہ یہ مکھیاں اور بھنورے وغیرہ پودوں کے عمل تولید کے لیے اتنے ایکٹو اور پرفیکشن سے کام کرتے ہیں جیسے کہ یہ علم نباتات کے سند یافتہ ہیں۔
البرٹ آئین سٹائن کے مطابق اگر اس ذمین سے شہد کی مکھیوں کو ختم کر دیا جائے تو پوری نسلِ آدم صرف چار سال کے عرصے میں ہی ختم ہو جائے گی۔
آئین سٹائن کی یہ بات ہیں بتاتی ہے کہ اس کائنات میں ایک مکھی کی بھی کیا اہمیت ہے۔
ایک چھوٹی سی چڑی جسے ہم لوگوں نے شائد کبھی اتنی اہمیت ہی نہ دی ہو۔
ماوزے تنگ نے بھی یہی سوچا کہ ایک چڑیا کی کیا اہمیت ہے۔ اس نے مہم چلا کر چڑیا مارنے کا دن منایا اور لوگوں نے سب چڑیا مار دیں۔
پھر کیا ہوا۔۔۔۔!!!
انہیں لوگوں کو جنہوں نے قدرت کے کام میں دخل اندازی کی کوشش کی تھی۔ کیڑے مکوڑے اور حشرات ان کی ساری فصلیں کھا گئے۔
پھر تھوکا چاٹنے کے لیئے یہی لوگ کسی طرح چڑیا واپس لائے۔۔۔۔۔۔۔
کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی زندگی کے لیئے اہم اور لازمی ہے۔
ایک امریکی شاعر وٹ مین واٹ نے ایک نظم میں کہا تھا:-
" کائنات میں گھاس کی پتی کو وہی اہمیت حاصل ہے جو کسی ستارے کی شعاع کو۔ میرے ہاتھ کا جوڑا انسان کی بنائی ہوئی ہر مشین سے بہتر ہے۔ یہ سر جھکا کر چلنے والی گائے ہر مجسمے سے حسین تر ہے، ایک چیونٹی یا چوہے کی تخلیق اتنا بڑا اعجاز ہے کہ اگر دنیا کے ملاحدہ اس پر غور کریں تو کروڑوں ایمان لے آئیں۔"
منکرین الله صدیوں سے سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ کاش ہم اس کائنات میں کوئی ایک خامی ڈھونڈ سکیں۔ تاکہ اس ایک خامی کی بنیاد پر ہی اللہ سے انکار پر لوگوں کو قائل کر سکیں۔
ابھی تو یہ چند مثالیں ہیں چھوٹی چھوٹی سی۔
لیکن اگر اس ذمین سے باہر نکل کر دیکھیں اس کائنات میں موجود سورج چاند ستارے سیارے۔ اس کائنات کی وسعت اور اس مین موجود نظم و ضبط ۔
نہ صرف یہ بڑے اجسام اگر ایک ایٹم یا ایک خلیہ کے اندر ہی جھانک لیں تو اس میں بھی پوری کی پوری کائنات نظر آتی ہے جو کہ مکمل ہے اس میں بھی کوئی کمی نہیں کوئی خامی نہیں۔۔۔۔۔۔
قران پاک میں تو اللہ نے تو پہلے ہی چیلنج دے رکھا ہے کہ۔۔۔
الَّذِىۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰى فِىۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ؕ فَارۡجِعِ الۡبَصَرَۙ هَلۡ تَرٰى مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴿۳﴾ ثُمَّ ارۡجِعِ الۡبَصَرَ كَرَّتَيۡنِ يَنۡقَلِبۡ اِلَيۡكَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيۡرٌ ﴿۴﴾
جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا، تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے تو نگاہ اٹھا کر دیکھ تجھے کوئی رخنہ نظر آتا ہے، ﴿۳﴾ پھر دوبارہ نگاہ اٹھا نظر تیری طرف ناکام پلٹ آئے گی تھکی ماندی ﴿۴﴾
لیکن یہ چیلنج ویسے کا ویسے ہی رہ جائے گا۔
دیکھنے والوں کی نگاہیں پلٹ پلٹ ان تک آ جائیں گی۔ وہ خامیاں ڈھونڈ ڈھونڈ تھک جائیں گے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کائنات کی ہر ہر چیز خوبصورت ہے اور خوبصورتی سے اپنا کام کر رہی ہے۔۔۔
یہی خوبصورتی اشارہ دیتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ موجود ہے۔۔...۔۔!!!!!!!!!
ایک شعر یاد آ رہا ہے۔۔۔
وہ منکشف میری آنکھوں میں ہو کہ جلوے میں
ہر ایک حُسن، کسی حُسن کا اشارہ ہے۔....
2- ایک سانپ چٹان پہ کیسے چڑھ سکتا ہے؟
3- سمندر میں جہاز کیسے تیرتا ہے؟
جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گدھ پر ہلائے بغیر ہوا میں اڑ رہا ہے اور ایک سانپ بنا اعضاء کے چٹان پر چڑھ رہا ہے تو ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ اور جب ہمیں اس کی سائینسی وجوہات پتا لگتی ہیں تو ہم مزید حیرت میں ڈوب جاتے ہیں۔
اگر دیکھنے والی آنکھ ہو تو اس کائنات کے ذرے ذرے کے اندر ہمیں حیران کر دینے کے لیئے بہت کچھ موجود ہے۔
کائنات کا ہر نظام اتنا مکمل ہے کہ اس میں ذرا سی کمی بیشی بھی توازن خراب کرنے کو کافی ہے۔
کبھی دیکھا ہے کہ یہ مکھیاں اور بھنورے وغیرہ پودوں کے عمل تولید کے لیے اتنے ایکٹو اور پرفیکشن سے کام کرتے ہیں جیسے کہ یہ علم نباتات کے سند یافتہ ہیں۔
البرٹ آئین سٹائن کے مطابق اگر اس ذمین سے شہد کی مکھیوں کو ختم کر دیا جائے تو پوری نسلِ آدم صرف چار سال کے عرصے میں ہی ختم ہو جائے گی۔
آئین سٹائن کی یہ بات ہیں بتاتی ہے کہ اس کائنات میں ایک مکھی کی بھی کیا اہمیت ہے۔
ایک چھوٹی سی چڑی جسے ہم لوگوں نے شائد کبھی اتنی اہمیت ہی نہ دی ہو۔
ماوزے تنگ نے بھی یہی سوچا کہ ایک چڑیا کی کیا اہمیت ہے۔ اس نے مہم چلا کر چڑیا مارنے کا دن منایا اور لوگوں نے سب چڑیا مار دیں۔
پھر کیا ہوا۔۔۔۔!!!
انہیں لوگوں کو جنہوں نے قدرت کے کام میں دخل اندازی کی کوشش کی تھی۔ کیڑے مکوڑے اور حشرات ان کی ساری فصلیں کھا گئے۔
پھر تھوکا چاٹنے کے لیئے یہی لوگ کسی طرح چڑیا واپس لائے۔۔۔۔۔۔۔
کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی زندگی کے لیئے اہم اور لازمی ہے۔
ایک امریکی شاعر وٹ مین واٹ نے ایک نظم میں کہا تھا:-
" کائنات میں گھاس کی پتی کو وہی اہمیت حاصل ہے جو کسی ستارے کی شعاع کو۔ میرے ہاتھ کا جوڑا انسان کی بنائی ہوئی ہر مشین سے بہتر ہے۔ یہ سر جھکا کر چلنے والی گائے ہر مجسمے سے حسین تر ہے، ایک چیونٹی یا چوہے کی تخلیق اتنا بڑا اعجاز ہے کہ اگر دنیا کے ملاحدہ اس پر غور کریں تو کروڑوں ایمان لے آئیں۔"
منکرین الله صدیوں سے سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ کاش ہم اس کائنات میں کوئی ایک خامی ڈھونڈ سکیں۔ تاکہ اس ایک خامی کی بنیاد پر ہی اللہ سے انکار پر لوگوں کو قائل کر سکیں۔
ابھی تو یہ چند مثالیں ہیں چھوٹی چھوٹی سی۔
لیکن اگر اس ذمین سے باہر نکل کر دیکھیں اس کائنات میں موجود سورج چاند ستارے سیارے۔ اس کائنات کی وسعت اور اس مین موجود نظم و ضبط ۔
نہ صرف یہ بڑے اجسام اگر ایک ایٹم یا ایک خلیہ کے اندر ہی جھانک لیں تو اس میں بھی پوری کی پوری کائنات نظر آتی ہے جو کہ مکمل ہے اس میں بھی کوئی کمی نہیں کوئی خامی نہیں۔۔۔۔۔۔
قران پاک میں تو اللہ نے تو پہلے ہی چیلنج دے رکھا ہے کہ۔۔۔
الَّذِىۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰى فِىۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ؕ فَارۡجِعِ الۡبَصَرَۙ هَلۡ تَرٰى مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴿۳﴾ ثُمَّ ارۡجِعِ الۡبَصَرَ كَرَّتَيۡنِ يَنۡقَلِبۡ اِلَيۡكَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيۡرٌ ﴿۴﴾
جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا، تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے تو نگاہ اٹھا کر دیکھ تجھے کوئی رخنہ نظر آتا ہے، ﴿۳﴾ پھر دوبارہ نگاہ اٹھا نظر تیری طرف ناکام پلٹ آئے گی تھکی ماندی ﴿۴﴾
لیکن یہ چیلنج ویسے کا ویسے ہی رہ جائے گا۔
دیکھنے والوں کی نگاہیں پلٹ پلٹ ان تک آ جائیں گی۔ وہ خامیاں ڈھونڈ ڈھونڈ تھک جائیں گے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کائنات کی ہر ہر چیز خوبصورت ہے اور خوبصورتی سے اپنا کام کر رہی ہے۔۔۔
یہی خوبصورتی اشارہ دیتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ موجود ہے۔۔...۔۔!!!!!!!!!
ایک شعر یاد آ رہا ہے۔۔۔
وہ منکشف میری آنکھوں میں ہو کہ جلوے میں
ہر ایک حُسن، کسی حُسن کا اشارہ ہے۔....

No comments:
Post a Comment