Sunday, 25 February 2018

Badhshat aik nasha hai...!!






بابر بادشاہ اپنی کتاب تزکی بابری میں لکھتا ہے کہ بادشاہت کا نشہ ہی کچھ اور ہے اگر اس کیلئے مجھے دن کو ہزار انسانوں کا سر قلم کرنا پڑے تو میں تیار ہوں . سیریا کے صدر  بشر السد کیخلاف جب دو ہزار گیارہ میں پہلا احتجاج ہوا تو احتجاج کو منتشر کرنے کیلئے کئی گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی  اور بس اسی سے دن سیریا جنگ کے دلدل میں ڈوبتا گیا . سیریا کے امن کو خراب کرنے کیلئے  صعودی عرب اور امریکہ کا اہم کردار . سیریا کو فوج دو حصوں میں بٹ گئی ایک حصہ سیریا ریبیل کے نام سے جانی جاتی ہے . تو دوسری بشر السد کیساتھ   سیریا کی ربیل کو دیکھ کر کردش باغی بھی انکے ساتھ مل گئے جو برسوں سے  ترکی سے ازادی کا نعرہ لگا رہے ہیں امریکہ نے اور صعودی عرب نے خوب پیسہ اور اسلحہ  فراہم کیا ان باغیوں کو دوسری جانب  بشر السد نے ایران اور روس سے مدد مانگی اب یہ جنگ تقریبا شیعہ سنی کے علاوہ ہر ایک اپنی مفادات کیلئے لڑ رہا .   امریکہ اور عرب قطر دبئی  نے بھی ایئ ایس اسیں  سیریا اور عراق کے ان علاقوں میں دھکیلا تاکہ وہاں سے کچے تیل کنوں پر انکا قبضہ جم جائے . ایئ ایس ایس کا تو تقریبا خاتمہ ہوگیا ہے . پر اب کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ برطانیہ عرب کیساتھ ملکر  اسرائیل کے اس پاس کے ملکوں اپس میں لڑواں کر اندرونی جنگوں میں لگے رہے اور اسرئیل اپنے مزید مقاصد میں اسانی سے کامیابی پائے .پر افسوس اس بات کا ہے کہ چاہے جنگ جس مقصد کیلئے بھی لڑی جا رہی پر ان معصوم انسانوں کا کیا قصور اج تقریبا پانچ لاکھ سے زائد لوگ اپنی جان گنواچکے ہیں اور بیس لاکھ لوگ زخمی ہوئے . کل تقریبا چار سو بچوں پر مزائل داغے گئے ہیں  ایسے ایسے دلخراج مناظر دیکھنے کو ملے جو برداشت سے باہر ہے . پر ان معصوم بچوں کی اموات پر عالمی ادروں سمیت  پوری دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی  ہے اور ساتھ ساتھ میڈیا بھی جو کے انتہائی دکھ کی بات ہے ....

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...