Tuesday, 20 March 2018

mera jisam meri marzi

میرا جسم ۔۔۔ میری مرضی
انا للہ و انا الیہ راجعون ( سب اللہ کا ہے اور پلٹ کر اسی کی طرف جائے گا ) جسم بھی، مال بھی۔۔۔ اپنی مرضی کرنے کی خواہش اچھی ہے مگر اس خالق کی مرضی بھی پوچھ لو ۔۔۔ جسم خالی جسم نہیں ہے، اس کے اندر اک روح بھی ۔۔۔ اس جسم کی ملکیت کا دعویٰ تو مغرب بھی نہیں مانتا ، ورنہ خودکشی کی اجازت ہوتی، گردے بیچنے کی اجازت ہوئی اور کئی اعضاء برائے فروخت کے اشتہار جا بجا نظر آتے۔ جسم کی ملکیت رکھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی چاہے تو آزاد مرضی سے جسم فروشی کرے، ننگا پھرے یا دوسروں گناہ کی ترغیب دے۔ ہزاروں سالوں کی ارتقائی تہذیب اور لاکھوں انبیاء کی تربیت سے انحراف کر کے جہالت ہی خریدی جا سکتی ہے۔ جسم روح کے تابع نہ رہے تو اس میں بدبو پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے، سرانڈ اور تعفن سے بچنے کے لئے دفنا دیا جاتا ہے۔ مشرکین اہل ہند جلا کر بھسم کر دیتے ہیں ۔۔۔ شمعون پیرز کی طرح اگر سرد خانوں میں بھی رکھ لیں تو پھر بھی خطیر سرمایہ خرچ کر کے بھی اس جسم کو سپرد خاک کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس جسم کے حقوق تمام آسمانی مذاہب نے مقرر کئے ہیں، صحت کا خیال رکھنا فرائض میں شامل ہے ۔۔۔ ویسے "میرا جسم میری مرضی" کا موجد درحقیقت دوسروں کے جسموں کو نیلام کرنے کا پروگرام لے کر میدان میں آیا ہے۔ یہ تحریک نہیں تخریب ہے، زنا کاری کی ترغیب ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ایسی خواتین کس بازار سے لا کر مظاہرہ کروایا گیا ہے۔ اور ان خواتین کے قوام مرد حضرات ان کو بہکانے والے عناصر سے کیوں بےخبر ہیں۔
#Prostitute

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...