ڈرونز(نکھٹو) ایسی شہد کی مکھیاں ہوتی ہیں جو ساری زندگی محنت ،مشقت تو کرتی ہیں لیکن آخر میں جب کام کرنے کے قابل نہیں رہتیں تو ایکٹو مکھیوں کے ہاتھوں قتل ہوجاتی ہیں،،،
یہ رُول مکھیوں کی طینت و طبیعت کے حوالے سے تو ٹھیک ہے لیکن اسے ہم انسانیت پر اپلائی نہیں کرسکتے،،،،،
افسوس کی بات یہ ہے کہ پچھلے ستر برسوں میں میرے مُلک میں یہی ہوتا آرہا ہے اور کوئی ان دیکھی قوتیں اس سارے نظام کو چلا رہیں،،،،،
موجُودہ حالات میں میری نظر میں بھی عمران خان ایک پاک صاف ماضی رکھنے والے انسان ہیں اور ایک ایسا وقت بھی تھا کہ نواز شریف صاحب بھی پاک صاف تھے،،،،،
لیکن نواز شریف صاحب یہاں کی کرپٹ سیاست میں غوطہ خور ہوکر کرپٹ ہوچُکے اور عمران خان صاحب سیاست تو کررہے لیکن غوطہ خور نہیں ہوئے ،مطلب حکمرانی کے مزے سے محروم رہے یا دُوسرے لفظوں میں وزارتِ عُظمٰی کے مسند پر ابھی براجمان نہیں ہوئے،،،،
یہ بات طے ہے کہ جب بھی ہونگے تو وہی ان دیکھی قوتیں اِنکو کرپشن،اقرباء پروری وغیرہ کی طرف لیکر جائینگی اور پھر عمران خان صاحب بھی کرپٹ ہوکر کُھڈے لائن لگ جائینگے اور ایک نیا بندہ لایا جائیگا جسکا ماضی بھی پاک دکھایا جائیگا،،،،،
اور بیوقوف عوام اُس چڑھتے سُورج کی پُوجا کرینگے ،،،،
اب بحثیتِ پاکستانی میں اس چیز کو تو محسُوس تو کرسکتا ہوں نا کہ کوئی ہے جو اپنے مقاصد کیلئے اس سارے نظام سے کھیل رہا لیکن کاش میں یہ جان پاتا کہ کون،،،،،،؟؟
وزیر اعظم نواز شریف صاحب کرپٹ تھے لیکن ایک بات مُجھے بتائی جائے کہ وہ کرپٹ کیسے بنے،،،،،،؟؟؟؟
اداروں کو کیسے لُوٹا؟؟؟؟
پیسا باہر کیسے بھیجا،،،،؟؟؟؟؟
کیا ذمہ دار افراد سوئے ہوئے تھے،،،،؟
پچاس پچاس سال تک پڑھنے والےبیوروکریٹس نیند میں تھے کیا،،؟؟؟؟؟
اس سارے منظم نظام میں سے پیسہ اتنی باریک بینی سے حلال یا وائٹ ہوکر باہر کیسے پہنچ گیا،،،؟؟؟؟؟
محترم جناب طاہر القادری صاحب کے مطابق نواز شریف صاحب انتہائی نااہل قسم کا انسان تھا جسکو بزنس کی الف ب کا بھی علم نہیں،،،،،
تو ایسا انسان جو شروع سے ہی نااہل ہو وہ اداروں اور ذمہ دار افراد کی آنکھ سے بچا کراتنی بڑی رقم کیسے باہر بھیجتا رہا،،،؟؟؟
یہ اور اس جیسے ہزاروں سوالات ہیں،،،،،،
بحثیتِ پاکستانی کیا یہ میرا حق نہیں کہ میں جان سکوں،،،،
کہ مُلک کی دولت کہاں جارہی،،،؟؟؟؟
کہاں خرچ ہورہی،،،،،،؟؟؟؟؟
یہ فیصلہ کون کرتا کہ کہاں خرچ ہونی یا کہاں نہیں،،،؟؟؟؟
باہر کے قرضے کتنے،،،،،؟؟؟؟؟؟؟؟
اُنکی حیثیت کیا،،؟؟؟؟؟؟
اِنکم کہاں کہاں سے مُلک کو آرہی،،،؟؟؟؟
جہاں جہاں سے آنی چاہئے کیا واقعی آرہی،،،؟؟؟؟
کیا میں اپنے مُلک کی بیلنس شیٹ دیکھنے کا اہل نہیں؟؟؟؟؟؟؟
کیا میں خُود یہ فیصلہ کرنے کا اہل نہیں کہ کونسے خرچے بچانے اور کونسی اِنکم بڑھانی،باہر سے قرضوں کے بغیر گزارا کیسے کرنا اور کرپشن کو کیسے روکنا،،،؟؟؟
ایک عام پاکستانی کو ان سب چیزوں سے لاعلم کیوں رکھا جاتا،،؟؟؟؟
اُسکو فیصلوں کا اختیار کیوں نہیں دیا جاتا،،،
ایک ہی سسٹم کو ریوالو کرکے عوام کو اُلو کیوں بنایا جاتا،،،،
عوام بے شک ووٹ جسکو مرضی دیں لیکن ایک بار سوچیں تو سہی کہ ہماری حیثیت کیا اس مُلک میں،ہمارے اختیارات کیا؟؟؟؟؟
ہم آزاد ہیں یا غلام؟؟؟؟
ہمیں پاکستان کیسی حالت میں چاہئے،،،،
دو منٹ کیلئے یہ سوچنے میں کوئی حرج نہیں کہ پاکستان ہمارا اپنا گھر ہے اور جو اس گھر کو دیمک کی طرح کھائے جارہے اُن سے کیسے بچنا،،،،،؟
پاکستانی عوام کی چاہت کے فیصلے کب ہونے ،،؟؟؟؟
بیرونی و اندرونی سازشوں کا کھلواڑ بننا کب بند ہونا،،،،؟؟؟؟
کب تک بے عزت انداز سے زندگی گُزاریں گے،،،،،؟؟؟؟
کب حالات میں بدلاؤ آئیگا،،،،
بس الله ہی ہم سب ہر رحم کرے اور اپنے حقوق کو جاننے کی توفیق دے،،،،
#HarisVlogs&HarisBlogger

No comments:
Post a Comment