کیا قبائلیوں نے افغانستان کے خلاف بندوق اٹھا لیا ہے؟
کرم ایجنسی میں ڈیورنڈ لائن کی تصاویر دکھائی جارہی ہیں کہ قبائلی عوام بندوق سمیت ڈیورنڈ لائن پر پہنچ گئے اور بڑا اسلحہ بھی ساتھ ہیں جن میں راکٹ لانچر وغیرہ شامل ہیں.. بدقسمتی سے قبائل کے ساتھ اس ملک میں ایسے مذاق ہوتے رہے ہیں کہ ایک طرف ان کی بوٹیاں بیچی جارہی ہوتی ہیں اور دوسری طرف کبھی انڈیا کو دھمکیاں دلائی جاتی ہیں تو کبھی امریکہ کو اور اس کا نقصان قبائل آج تک برداشت کرتے آئے ہیں.. ان دھمکیوں کے لئے پولیٹیکل ایجنٹ کا دفتر سب سے زیادہ استعمال ہوتا آیا ہے جو فکسنگ کرکے بیانات دیتے آئے ہیں حالانکہ میں ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب کوئی ایسا موقع آتا تو میں بھی ایک خاص جذبے کے تحت ذہنی طور پر تیار ہوجاتا کہ اگر کسی نے ایسی حرکت کی تو پہلی صف میں لڑوں گا لیکن پندرہ بیس سال کے اس خوفناک کھیل کی وجہ سے اندر ہی اندر ٹوٹ گیا بلکہ اب جب کوئی ایسی بحث آتی ہے جس میں انڈیا کی بات آتی ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ ایسا موقع لائے پھر پتہ چلے گا کہ ہم کس کی طرف سے لڑتے ہیں.... ہاں ایسا موقع آسکتا ہے لیکن اس کے لئے حکمرانوں کو بہت سخت کام کرنا پڑے گا پندرہ بیس سال سے جاری قتل عام کا حساب دینا پڑے گا، اور قبائل کو یقین دلانا پڑے گا کہ آپ کے ساتھ ہم نے جو کچھ کیا اس کے لیے توبہ تائب ہوتے ہیں اور ہم آئندہ ایسا نہیں کرنے والے لیکن اس کا کوئی چانس نظر نہیں آتا کیونکہ حکومت نے اپنی غلطیوں کی وجہ سے خود کو بند گلی میں بند کردیا ہے.. اس وقت قبائلی علاقوں میں کسی کے پاس خنجر بھی موجود نہیں ہے تو ان کے پاس اسلحہ کہاں سے آجاتا ہے؟ اس طرح کے ٹولے ان کے پاس موجود ہوتے ہیں جس کا مثال حالیہ پاکستان زندہ باد جلسے کے طورپر دیا جاسکتا ہے کہ گڈ طالبان کو کبھی لیڈر بناکر سٹیج پر بیٹھایا جاتا ہے تو کچھ کو سٹیج کے نیچے عوام بناکر پیش کرنا پڑتا ہے لیکن اس سے قبائل بالخصوص اور پشتون بالعموم مزید دور ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ ملک کے باقی حصوں یا عالمی سطح پر لوگوں کو بتادیتے ہیں لیکن زمینی حقائق سے ان چیزوں کا دور دور کا واسطہ نہیں ہوتا.. اس وقت یہ گھسا پٹا پرانا طریقہ قومی یا عالمی سطح پر بھی ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ایک تو ہمارا سارا کھیل جان گئے ہیں اور دوسری طرف سوشل میڈیا کے ذریعے تعلیم یافتہ پشتون اس کھیل سے پردہ اٹھاتے رہتے ہیں.. میں سمجھتا ہوں کہ حکومت اگر حالات کو معمول پر لانا چاہتی ہے تو اس کے لیے بنیادی اقدامات اٹھائے جائیں نہ کہ مصنوعی حالات پیدا کرکے لوگوں کو کنفیوز کرنے کی کوشش کریں، پندرہ بیس سال سے بنائے گئے آپ کے مصنوعی حالات کی وجہ سے لوگ اب تنگ آ چکے ہیں اور مزید کسی جال میں پھنسنے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا البتہ نفرت مزید بڑھ سکتی ہے اپنے حقوق کی جمہوری جنگ لڑنے والوں کو آپ مزید دور کر سکتے ہو نزدیک ہرگز نہیں ہوتے... کرم ایجنسی یا ہرجگہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایسے حالات پیدا کرنے والوں کی ہم مذمت کرتے ہوئے اتنا کہیں گے کہ اگر ایسا کرنا ضروری ہے تو انڈیا کے ساتھ ایسے حالات پیدا کئے جائیں تاکہ پتہ چلیں کہ سیر سے کتنا پکتا ہے، افغانستان بیچارے کو تو آپ نے پہلے ہی کہیں کا نہیں چھوڑا پھر شاید لوگوں کی سوچ کچھ بدلے بلکہ جمالائی بھی واہگہ تک مارچ کرنے والوں میں شامل ہوسکتا ہے 😊
#HarisBlogger & #HarisVlogs
کرم ایجنسی میں ڈیورنڈ لائن کی تصاویر دکھائی جارہی ہیں کہ قبائلی عوام بندوق سمیت ڈیورنڈ لائن پر پہنچ گئے اور بڑا اسلحہ بھی ساتھ ہیں جن میں راکٹ لانچر وغیرہ شامل ہیں.. بدقسمتی سے قبائل کے ساتھ اس ملک میں ایسے مذاق ہوتے رہے ہیں کہ ایک طرف ان کی بوٹیاں بیچی جارہی ہوتی ہیں اور دوسری طرف کبھی انڈیا کو دھمکیاں دلائی جاتی ہیں تو کبھی امریکہ کو اور اس کا نقصان قبائل آج تک برداشت کرتے آئے ہیں.. ان دھمکیوں کے لئے پولیٹیکل ایجنٹ کا دفتر سب سے زیادہ استعمال ہوتا آیا ہے جو فکسنگ کرکے بیانات دیتے آئے ہیں حالانکہ میں ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب کوئی ایسا موقع آتا تو میں بھی ایک خاص جذبے کے تحت ذہنی طور پر تیار ہوجاتا کہ اگر کسی نے ایسی حرکت کی تو پہلی صف میں لڑوں گا لیکن پندرہ بیس سال کے اس خوفناک کھیل کی وجہ سے اندر ہی اندر ٹوٹ گیا بلکہ اب جب کوئی ایسی بحث آتی ہے جس میں انڈیا کی بات آتی ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ ایسا موقع لائے پھر پتہ چلے گا کہ ہم کس کی طرف سے لڑتے ہیں.... ہاں ایسا موقع آسکتا ہے لیکن اس کے لئے حکمرانوں کو بہت سخت کام کرنا پڑے گا پندرہ بیس سال سے جاری قتل عام کا حساب دینا پڑے گا، اور قبائل کو یقین دلانا پڑے گا کہ آپ کے ساتھ ہم نے جو کچھ کیا اس کے لیے توبہ تائب ہوتے ہیں اور ہم آئندہ ایسا نہیں کرنے والے لیکن اس کا کوئی چانس نظر نہیں آتا کیونکہ حکومت نے اپنی غلطیوں کی وجہ سے خود کو بند گلی میں بند کردیا ہے.. اس وقت قبائلی علاقوں میں کسی کے پاس خنجر بھی موجود نہیں ہے تو ان کے پاس اسلحہ کہاں سے آجاتا ہے؟ اس طرح کے ٹولے ان کے پاس موجود ہوتے ہیں جس کا مثال حالیہ پاکستان زندہ باد جلسے کے طورپر دیا جاسکتا ہے کہ گڈ طالبان کو کبھی لیڈر بناکر سٹیج پر بیٹھایا جاتا ہے تو کچھ کو سٹیج کے نیچے عوام بناکر پیش کرنا پڑتا ہے لیکن اس سے قبائل بالخصوص اور پشتون بالعموم مزید دور ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ ملک کے باقی حصوں یا عالمی سطح پر لوگوں کو بتادیتے ہیں لیکن زمینی حقائق سے ان چیزوں کا دور دور کا واسطہ نہیں ہوتا.. اس وقت یہ گھسا پٹا پرانا طریقہ قومی یا عالمی سطح پر بھی ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ایک تو ہمارا سارا کھیل جان گئے ہیں اور دوسری طرف سوشل میڈیا کے ذریعے تعلیم یافتہ پشتون اس کھیل سے پردہ اٹھاتے رہتے ہیں.. میں سمجھتا ہوں کہ حکومت اگر حالات کو معمول پر لانا چاہتی ہے تو اس کے لیے بنیادی اقدامات اٹھائے جائیں نہ کہ مصنوعی حالات پیدا کرکے لوگوں کو کنفیوز کرنے کی کوشش کریں، پندرہ بیس سال سے بنائے گئے آپ کے مصنوعی حالات کی وجہ سے لوگ اب تنگ آ چکے ہیں اور مزید کسی جال میں پھنسنے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا البتہ نفرت مزید بڑھ سکتی ہے اپنے حقوق کی جمہوری جنگ لڑنے والوں کو آپ مزید دور کر سکتے ہو نزدیک ہرگز نہیں ہوتے... کرم ایجنسی یا ہرجگہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایسے حالات پیدا کرنے والوں کی ہم مذمت کرتے ہوئے اتنا کہیں گے کہ اگر ایسا کرنا ضروری ہے تو انڈیا کے ساتھ ایسے حالات پیدا کئے جائیں تاکہ پتہ چلیں کہ سیر سے کتنا پکتا ہے، افغانستان بیچارے کو تو آپ نے پہلے ہی کہیں کا نہیں چھوڑا پھر شاید لوگوں کی سوچ کچھ بدلے بلکہ جمالائی بھی واہگہ تک مارچ کرنے والوں میں شامل ہوسکتا ہے 😊
#HarisBlogger & #HarisVlogs

No comments:
Post a Comment