Sunday, 20 May 2018

Alai Battagram Hazara







قدرتی حسن کا شاہکار ہزارہ کی جنت نظیر وادی آلائی

صوبہ خیبر پختونخوا میں ہزارہ ڈویژن ضلع بٹگرام کی تحصیل آلائی کا شمار ملک کے پرفضا اور صحت افزا مقامات میں ہوتا ہے، جہاں ہر طرف قدرت کے حسین رنگ نظر آتے ہیں،سبزہ زاروں، جھیلوں اور چراگاہوں کی یہ سرزمین آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔انسان کو قدرت کی بنائی ہوئی ہر خوبصورت چیز سے بھی پیار ہوجاتا ہے وادی آلائی کے لازوال اور دلکش ترین مسحور کن حسن کا انسان ایسا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے کہ جیسے قدرت کے ہاتھوں نے بہت بڑا پیالے میں خوبصورتی بھر کر اسے زمین پر رکھ دیا ہو' خصوصاً برف کی سفید چادریں اوڑھیں پہاڑ وادی کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں ۔ تحصیل آلائی کے سیاحتی مقام "وادی شمشیر" میں واقع آبشار کا خوبصورت اور دلکش منظر بے مثال ہے پہاڑی بلندی سے گرتی ہوئی آب شار ، جلترنگ بجاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ تحصیل آلائی کے سیاحتی مقام بیاری کے قریب ندی راشنگ کا خوبصورت اور دل موہ لینے والا منظر بھی کسی تعریف کا محتاج نہیں۔ وادیِ الائی کی مشہور چراہ گاہ چھور قدرت کا بہترین شاہکار ہے جو تقریباً 900 مربع میل پر محیط ہے۔ چھور کی چراہ گاہ مشرق میں دریائے کنہار اور مغرب میں دریائے سندھ کے درمیان واقع ہے جبکہ شمال میں ضلع کوہستان ہے۔ یہ چراہ گاہ موسمِ گرما میں آباد ہوتی ہے اور یہاں چرواہے کشمیر، افغانستان، شمالی علاقہ جات اور شمالی پنجاب سے جا بستے ہیں اور یوں سینکڑوں عارضی آبادیاں قائم ہو جاتی ہیں۔ اکتوبر کے مہینے میں یہ لوگ نیچے کی طرف ہجرت کرتے ہیں کیونکہ اس کے بعد شدید سردی کے باعث یہاں رہنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ وادی چوڑ ضلع بٹگرام کے تحصیل آلائی میں واقع ایک خوبصورت ترین علاقہ ہے۔ یہ تقریباََ چھ ہزار فُٹ کی بلندی پر واقع ایک برفیلا علاقہ ہے۔ یہ علاقہ روڈ جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہونے کی وجہ سے دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔ وادی آلائی اک خوبصورت وادی جو چاروں طرف سر سبز پہاڑوں میں گهرا هوا علاقہ هے وادی آلائی کو ملک کی بڑی چراگاهوں میں شمار کیا جاتا هے خوبصورت مناظر سر سبز پہاڑ ٹهنڈے پانی کے چشمے اور رنگ برنگے پرندے بهی اس وادی میں بکثرت پاۓ جاتے هے۔
آلائی خیبر پختون خواہ کا ایک مشہور ضلع بٹگرام کی تحصیل  ہے۔ یہ ایک پہاڑی لیکن بہت ہی خوبصورت مقام ہے پورے پاکستان میں اس جیسا پُرامن مقام کوئی نہیں ہے۔ یہاں کے لوگ پٹھان ہیں اور زیادہ تر آبادی سواتی یوسفزئی قوم پر مشتمل ہے۔ اس ضلع کے لوگ بہت بہادر اور مہمان نواز ہیں۔ خیبرپختونخواہ کے ضلع بٹگرام کی دشوار گزار تحصیل الائی کو باقی دنیا سے دو راستے ملاتے ہیں۔ دونوں راستے شاہراہ ریشم پر تھاکوٹ اور بشام پر اترتے ہیں۔ اس پوری تحصیل کی آٹھ یونین کونسلوں میں دور دراز پہاڑوں میں پھیلی آبادی تقریباً 3 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے ۔ الائی
تحصیل کا ہیڈ کواٹر بنہ ہے یہاں پر زبانیں: پشتو, گوجری, کوہستانی بولی جاتی ہیں۔
1971 میں آلائی کو ہزارہ میں شامل کیا گیا۔ اکتوبر 1976 میں جب مانسہرہ کو ضلع کا درجہ ملا تو  آلائی کو تحصیل کا درجہ دیا گیا۔ اس کے بعد 1993 کو بٹگرام کو ضلع کا درجہ دیا گیا جنہیں دو تحصیلوں بٹگرام اور آلائی میں تقسیم کیا گیا اور اس کا صدر مقام بٹگرام رکھا گیا۔ تحصیل آلائی کا رقبہ 804 مربع کلومیٹر ہیں۔ ضلع بٹگرام کی سب سے بلند ترین چوٹی کا نام دروازئی سر( سوکئ سر یا خاپیرو سر) ہے جو تحصیل آلائی میں واقع ہے۔ اس چوٹی کی سطح سمندر سے بلندی تقریبا 4680 میٹر ہے۔  آلائی بنہ اور وادی راشنگ پرمشتمل ہیں۔ بڑی ندی آلائی خوڑ جو تحصیل آلائی کے بلند وبالا اور بل کھاتی ہوئی پہاڑوں جن میں سب سے بڑی پہاڑی چوٹی دروازئی سر(سوکئ سر یا خاپیرو سر) اور وادی چوڑ کے خوبصورت اور دلکش پہاڑوں پرسالوں سال پڑی برف اور ٹھنڈے، میھٹے اور صحت افزا پانیوں سے شروع ہوکر بیاری، نوگرام، بٹیلہ، بنہ اور تیلوس سے ہوتے ہوئے کنڈ کے مقام پر اباسین (دریائے سندہ) میں جا ملتی ہے  تحصیل آلائی میں گھنگوال، راشنگ، گھنتھڑ، بٹیلہ، پاشتو اور بٹنگی میں بہت زیادہ سردی پڑتی ہے۔ اور بعض علاقوں میں عام کے اندازے کے مطابق 12 سے 15 فٹ تک برف پڑتی ہے۔ گرمیوں میں  تحصیل آلائی میں بنہ، کرک، سکرگاہ، کنئ، بتکول اور جمبیڑہ میں سخت گرمی ہوتی ہے۔  جنگلات میں بیاڑ، چیڑہ، دیار اور کچھل کے درخت کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ گھنے جنگلات میں چیتا، بھورا بندر، سفید بندر، بھورا ریچھ، سفید ریچھ، کالا ریچھ، گیدڑ، لومڑی، مور، تیتر اور برفانی بدمانت (برمانڑو) وغیرہ کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
 سب سے زیادہ کاشت کی جانے والی پیداوار میں گندم اور مکئی پہلے جبکہ دوسرے نمبر پر چاول کی کاشت سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ سرسوں، جو، مونگ پھلی اور سبزیاں کثیر تعداد میں اگائی جاتی ہیں۔سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پشتو ہے جو تقریبا 90 فیصد تک تمام علاقوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔  اس کے علاوہ  دوسری بولی جانے والی زبانوں میں گوجری، ہندکو اور کوہستانی جو زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔ہزارہ سوہنا دیس سوہنے لوگ ہیں جس میں آلائی جیسے خوبصورت سیاحتی مقامات پائے جاتے ہیں مگر افسوس کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی، غفلت اور عدم دلچسپی اور عوامی نمائندوں کی بےحسی سے آلائی جیسا خوبصورت سیاحتی مقام دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے اگر سڑک کی تعمیر سمیت آلائی کے دیگر مسائل پر توجہ دی جائے تو ضلع بٹگرام کی تحصیل آلائی میں سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے اور حکومت کو ایک بڑی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...