Thursday, 7 June 2018

Divorce

حلالہ یا حرامہ ۔۔۔۔۔ ؟

حلالہ ایسی بےغیرت چیز ہے جس کا کوئی شریف اور خوددار شخص تصور بھی نہیں کر سکتا،اسی لئے نکاح شرعی کا اعلان و اشتہار ہوتا ہے جس پر خوشی اور مبارکبادی کا اظہارہوتا ہے،تقریبات اور ولیمہ کا اہتمام ہوتا ہے لیکن حلالہ کے نکاح کو لوگ کانوں کان چھپاتے ہیں نیز عورت کے نکاح کا داعیہ اس کے دین،حسب و نسب اور مال و جمال سے ہوتا ہے،لیکن کیا حلالہ کرنے والا بھی ان میں سے کسی داعیہ کا طالب ہے؟ ذرا حلالہ کا نکاح کرنے والے سے پوچھئے کہ کیا اس کے دل میں اپنی زوجہ کے نان و نفقہ اور اس کے لباس کا بھی احساس ہے یا نہیں؟ اور کیا حلالہ کے لئے نکاح کرائی جانے والی عورت عام شرعی نکاح کرنے والی عورتوں کی طرح خود کو سنوارتی اور مزین کرتی ہے؟ کیا لوگوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ حلالہ کے ذریعہ داغدار کی جانے والی کتنی ہی شریف زادیاں عزت و شرافت سے محروم ہو کر فسق و فجور کی بری راہوں کا شکار ہو گئیں اور حلالہ کے عادی ملعون مرد نے کتنے گھرانے تباہ کئے اور کتنی حقیقی بہنوں کو ایک ساتھ اپنی زوجیت میں کھا۔ الغرض ایک مجلس کی تین طلاق کو کتاب اللہ،سنت رسولﷺ اور تعامل صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف تین مان لینے کی بنا پر آج جہاں سینکڑوں خاندان تباہ وبرباد ہیں وہیں مخالفین اسلام کو بھی اس مسئلہ کی آڑ لے کر مسلم پرسنل لا پر حملہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ضرورت ہے کہ علماء امت اس مسئلہ کی تمام جزئیات پر بنظرتعمق غوروفکر کر کے امت کے لئے وہی فطری اور ربانی سہولتیں پیدا کریں جو عہد نبویﷺ میں امت کو حاصل تھیں!۔

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...