Sunday, 21 May 2017

Bakhshash

حضرت بشر حافی رحمة الله عليه کی توبہ
-------------------------------------------------
بغداد کے ایک درویش کو حضورﷺ کی زیارت ہوئی جس میں حضورﷺ نے انھیں حکم فرمایا کہ بشر نامی شخص کو کہہ دو کہ اﷲ تعالیٰ نے تمہارا نام اﷲ والوں کی فہرست میں لکھ لیا ہے۔ صبح درویش بہت پریشان ہوئے کہ بشر تو صرف شراب پیتے ہی نہیں شراب خانے کے مالک بھی ہیں لہذا اسی سوچ میں دن گزرگیا دوسری رات پھر یہی حکم فرمایا گیا درویش پھر اسی کیفیت میں رہے کہ اتنے بڑے رتبے والا آدمی بشر جیسا گناہگار کیسے بن گیا اور اس کے در پر گیا تو لوگ میرے بارے میں کیا خیال کریں گے۔
تیسری رات پھر حکم ہوا کہ اگر اب آپ بشر کو یہ خوشخبری دینے نہیں گئے تو آپ کا نام ولی اﷲ کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔ لہذا مجبوراً بشر کے شراب خانے پہنچے اور انھیں اپنی آمد کی اطلاع دی بشر شراب کے نشے میں دھت تھے لیکن اتنے بڑے اور مشہور درویش کی آمد کا سنتے ہی دیوانہ وار ننگے پیر بھاگتے ہوئے دروازے پر آئے اور دریافت کیا کہ کوئی آفت آنے والی ہے۔ جو آپ خود یہاں اطلاع دینے آئے ہیں درویش نے کہا نہیں اور انھیں خوشخبری سنائی جسے سننے کے بعد بشر نے شراب سے نہ صرف توبہ کی بلکہ تمام شراب ضایع کردی اور پھر کبھی پیر میں چپل نہیں پہنی ننگے پاؤں رہا کرتے تھے کہ جب مجھے ولایت کی اطلاع ملی میں ننگے پیر بھاگتا ہوا آیا تھا اور اﷲ تعالیٰ کی بادشاہی تمام زمین پر ہے۔
لہذا شاہی فرش پر جوتے پہن کر چلنا آداب کے منافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ’’حافی‘‘ کہا جاتا ہے یعنی ننگے پیر والا لہذا اﷲ پاک نے ان کے اس ادب پر ان کو یہ عزت دی کہ بغداد کی کسی گلی میں کوئی جانور نجاست نہیں کرتا تھا کہ ناجانے کس جگہ بشر حافی پیر رکھیں اور ایک دن جب بغداد کی ایک گلی میں ایک جانور نے نجاست کی تو لوگ سمجھ گئے کہ آج بشر حافی کا انتقال ہوگیا ہے۔ آپ کے ولایت ملنے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ توبہ سے قبل اپنی مستی میں کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کاغذ ملا جس پر اﷲ تعالیٰ کا نام تھا آپ نے اس کاغذ کے ٹکڑے کو پاک کیا۔ خوشبو لگائی اور چوم کے ایک صاف بلند مقام پر رکھ دیا آپ کا یہ ادب اﷲ کو اتنا پسند آیا کہ اسی رات آپ کی ولایت کے اعلان کے لیے درویش کو حکم مل گیا۔
بشر حافیؒ نے توبہ کے بعد علم دین حاصل کیا اور عالم کے درجہ پر پہنچے گوکہ آپ علم کے مقام میں امام احمد بن حنبلؒ سے کمتر تھے لیکن آپ اپنے عقیدت مندوں سے کہتے تھے کہ بشر حافی اﷲ تعالیٰ کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ (سبحان اللہ)
-----------------------------
اس لئے دوستو چھوٹی سی نیکی کو بهی ضائع مت ہونے دو کیا پتا خدا کس طرح راضی ہو جائے. ....

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...