Tuesday, 23 May 2017

Basti mey bhokha shaks agaya

ایک بستی میں کوئی بھوکا شخص آ گیا. لوگوں سے کچھ کھانے کو مانگتا رہا مگر کسی نے کچھ نہیں دیا. بیچارہ رات کو ایک دکان کے باہر فٹ پاتھ پر سو گیا.
صبح آ کر لوگوں نے دیکھا تو وہ مر چکا تھا.
اب اہل ایمان کا جذبہ ایمانی بیدار ھوا.
بازار میں چندہ کیا گیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے دیگیں چڑھا دی گئی۔ یہ منظر دیکھ کر ایک صاحب نے کہا ظالمو اب دیگیں چڑھا رھے ھو اسے چند لقمے دے دیتے تو یہ یوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کرنا مرتا۔
پچھلے دنوں ایک تاجر نے ایک مزار پر دس لاکھ روپے مالیت کی چادر چڑھائی جب کہ مزار کے سامنے کے محلے میں درجنوں ایسے بچے گھوم رھے ھوتے ہیں جنہوں نے قمیض پہنی ہوتی ھے تو شلوار ندارد اور شلوار ہے تو قمیض نہیں حضرت مجدد الف ثانی فرمایا کرتے تھے کہ تم جو چادریں قبر پر چڑھاتے ہو اس کے زندہ لوگ زیادہ حقدار ہیں.
ایک شخص رکے ھوئے بقایاجات کے لیے بیوی بچوں کے ساتھ مظاہرے کرتا رہا
حکومت ٹس سے مس نا ہوئی۔ تنگ آ کر اس نے خود سوزی کرلی تو دوسرے ہی روز ساری رقم ادا کر دی گئی.
اسی طرح ایک صاحب کے مکان پر قبضہ ہو گیا.
بڑی بھاگ دوڑ کی مگر کوئی سننے کو تیار نہی ھوا. اسی دوران دفتر کی سیڑھیاں چڑھتے ھوئے اسے دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا.
پولیس نے پھرتی دکھائی اور دوسرے ہی دن مکان سے قبضہ ختم کروا دیا.
فائدہ؟
کیا اب اس مکان میں اس کا ھمزاد آ کر رھے گا؟
کیا ہمارا جذبہ ایمانی صرف مردوں کے لیے رہ گیا ھے؟
ایک منٹ کو رکیے اور آنکھیں بند کر کے اپنے ارد گرد معاشرے پر نظر دوڑائیں.
اپنے پڑوسیوں پراپنے رشتےداروں پرجو آپ کی گلی میں ٹھیلے والا ہے اس پرجو ایک مزدور آپ کے محلے میں کام کر رہا ھے اس پرجو آپ کے ہاں یا آپ کے دفاتر میں چھوٹے ملازم ہیں ان پر..
یہ سب لوگ ہمارے کتنا قریب رہتے ہیں اور ہمیں معلوم بھی نہی ان کے ساتھ کیا کچھ بیت رہی ھے. ہمیں اس لیے نہی معلوم کہ ہم ان کے قریب رہتے ہوئے بھی ان سے دور ہیں.
ہم نے کبھی ان کا احساس کیا ہی نہیں.کبھی ھم نے ان سے کچھ پوچھا بھی نہیں بلکہ شائد ھمیں ان چھوٹےلوگوں سے بات کرتے ھوئے شرم آتی ھے.
کبھی کبھی مجھے حیرت ھوتی ھے کہ ھم جوش ایمان میں ایک ایک گلی میں تین تین چار چار مساجد بنا دیتے ہیں
انھیں خوب سجا دیتے ھیں لیکن اسی گلی میں کئی غریب رات کو بھوکے سوتے ھیں ان کی طرف کوئی دھیان ہی نہی دیتا۔ کسی بیمار کے پاس دوائی خریدنے کے لیے پیسے نہیں ھوتے اس کی مدد کو کوئی صاحب ایمان آگے نہیں آتا.
ہم سب کے ارد گرد ایسے ہزاروں لوگ موجود ہیں جو مجبور ہیں۔
جو بےکس ہیں۔
جو غریب ہیں۔
جن پر ہم کبھی توجہ ہی نہیں دیتے.ان کو اپنے قریب کیجیے.
ان کی جو ممکن ھو مدد کیجیے.
اور جو آپ کے بس میں نہ بھی ہو تو ان کی دل جوئی کیجیے۔
یہ کام ہم سب کو مل کر کرنا ہے.

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...