آج سے چند سال قبل جمہ کی شام چار بجے امریکی ریاست ایری زونا کے مرکزی شہر فونیکس میں امریکہ کے سب سے بڑے بنک Chase Bank سے نامعلوم طریقے سے ایک گھنٹے کے اندر تیس ملین ڈالر کی ایک خطیر رقم مختلف ناموں اور پتوں کے ساتھ مختلف ملکوں کے بنک اکاونٹس میں منتقل ہو جاتی ہے۔ یہ ریاست ایری زونا کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ تھا جس کی تحقیقات کے لیے پوری ریاستی مشینری ہل کر رہ گئی۔ کیس انٹرنیٹ کرائیم برانچ کو منتقل ہوا۔ انہوں نے سر توڑ کوشش کر لی لیکن تیس ملین ڈالر کی بڑی رقم واپس نہ آسکی۔ چیز بنک ایری زونا سٹیٹ کے ہیڈ گراہم وائٹ کو یہ پریشانی تھی کہ آج شب کے بعد اگلا ورکنگ ڈے سوموار کے دن ہو گا اور ان بنکوں سے جہاں یہ پیسے منتقل ہوئے ہیں رابطہ کرنے کے لیے دو دن کا طویل انتظار کرنا پڑے گا
انٹرنیٹ کرائم برانچ نے سر توڑ کوشش کر لی لیکن کسی بھی قسم کا سراغ حاصل نہ کر سکے۔ ابھی یہ تمام تر تحققات اور تفتیش جاری تھی کہ اگلی صبح ہفتے کے دن سات بجے نامعلوم طریقے سے وہ تمام پیسے جو تیس ملین ڈالر کی ایک خطیر رقم تھی، واپس اپنے اکاؤنٹس میں آ گئ۔ یہ سب کچھ تفتیشی ٹیم اور بنک انتظامیہ کے لیے معجزہ تو تھا ہی لیکن کسی حیرت سے بھی کم نہ تھا کہ آخر تیس ملین ڈالر کیسے پراسرار طریقے سے غائب ہوئے اور پھر کیسے خود بخود پراسرار طریقے سے واپس آ گئے۔
خیر اس کے بعد کچھ یوں ہوا کہ چیز بنک نے اپنی آن لائن سیکورٹی کے لیے ایک بڑی سافٹ وئیر فرم ہائیر کر لی اور اس کے بعد ایسا فراڈ کبھی نہیں ہوا لیکن انٹرنیٹ کرائم برانچ میں یہ کیس بند نہیں ہوا تھا اور تفتیشی ٹیم کے سربراہ جان سمتھ مسلسل اس کیس کے پیچھے لگے رہے اور آخر کار ایک بہترین انوسٹی گیشن کے بعد نیویارک کے علاقے بروکلین سے سٹیو نامی کے ایک پچیس سالہ لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا جو کہ اس تمام تر ہیکنگ کا ماسٹر مائینڈ تھا۔ دورانِ تفتیش آفیسر جان سمتھ نے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ ''آخر کیا وجہ تھی کہ تم نے تیس ملین ڈالر صبح واپس بنک اکاونٹ میں ٹرانسفر کردیے ؟ اگر تم ایسا نہ کرتے تو شاید آج ان پیسوں کی بدولت تم ہماری پہنچ سے باہر جا سکتے تھے۔ تو پھر تم نے اتنے پیسے واپس کیوں لوٹائے ؟'' یہ وہ سوال تھا جس نے تین سال تک آفیسر جان سمتھ کو اس کیس کے پیچھے لگائے رکھا اور تفتیشی ٹیم کا ہر شخص اس سوال کو جان لینے کا متمنی تھا کہ آخر ہیکر نے اگلے دن پیسے واپس کیوں متنتقل کر دیے تھے ؟
قارئین محترم: سٹیو نے جو جواب دیا وہ ہم سب کو بہت کچھ سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ نوجوان سٹیو کا بیان ملاحظہ کیجیے
''آج سے تین سال پہلے تک میں بہت ہی لاابالی سا لڑکا تھا، چھوٹے موٹے ہیکنگ کے فراڈز کرتا رہتا تھا، پھر میں نے ایک ایسا سافٹ وئیر بنایا جس کے ذریعے میں کسی بھی ڈیٹا بیس میں گھس کر وہ سب کچھ کرسکتا تھا جو کہ میں کرنا چاہتا تھا اور اسی طرح میں نے اس سافٹ وئیر کے تھرو چیز بنک کے ڈیٹا بیس میں گھس کر تیس ملین ڈالرچرا لیے۔ اور یہ تمام تر کاروائی کرنے کے بعد میں بہت خوش تھا کہ میں ایک بہت بڑا ہاتھ مارنے میں کامیاب ہو گیا ہوں اور اب میں ایک میلینئیر ہوں۔ پھر میں یہ پلان بناتا رہا کہ میں ان پیسوں کا کیا کروں گا ؟ کس سٹیٹ میں ایک زبردست محل خریدوں گا، کونسی گاڑی خریدوں گا اور کیسے ایک پرتعیش زندگی بسر کروں گا۔ میں اس رات جلدی سونے کے لیے بستر پر لیٹ گیا لیکن وہ رات میری زندگی کی واحد رات تھی جب میں ایک پل کے لیے بھی نہ سو سکا حالانکہ میں وہ نوجوان تھا جو کئی کئی دن تک بستر پر پڑا رہتا تھا۔ مجھے رات کے ایک پہر خیال آیا کہ وہ نجانے کتنے لاکھوں لوگوں کا پیسہ ہو گا، انہوں نے کس محنت اور خون پسینہ ایک کر کے کمایا ہو گا۔ نجانے میری ایک چوری نے کتنے گھرانوں کی خوشیوں اور خواہشوں کا چراغ بجھا دیا ہو گا۔ میں ساری رات تفکرات اور پریشانیوں میں گھرا رہا اور ایک لمحے کے لیے بھی پرسکون نہ ہو سکا۔ صبح خیال آیا کہ یہ پیسہ ساری رات میرے سینے پر سانپ بن کر بیٹھا رہا اور مجھے
ایک لمحے کے لیے بھی چین کی نیند نہ سونے دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ میری زندگی میں کس قدر طوفان لے کر آئے گا؟ شاید جن لوگوں کا پیسہ میں نے چوری کیا ہے، ان کی بددعائیں مجھے زندگی بھر چین سے دوبارہ سونے نہٰں دیں گی۔ ساری رات یہ سوچ سوچ کر میرا دماغ پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا اور صبح ہوتے ہی میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں تمام پیسہ واپس ٹرانسفر کر دوں گا اور میں نے ویسا ہی کیا کہ سارا پیسہ چیز بنک کے ڈیٹا بیس میں دوبارہ ڈال دیا اور پھر اس کے بعد میں تین دن تک ایک پرسکون نیند سویا''
قارئین محترم: یہ تمام تر واقعہ پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں جو پہلا خیال آیا وہ یہ تھا کہ ایک ہمارے ملک پاکستان کے حکمران ہیں جنہوں نے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے کتنے لاکھوں کروڑوں خاندانوں کو بھوک اور افلاس کی دوزخ میں جھونک رکھا ہے لیکن ان کی ہوس ہے کہ بھرتی ہی نہیں۔ پاکستان سے اب تک ایک اندازے کے مطابق کئی ہزار ارب روپے لوٹے جا چکے ہیں اور اگر یہ پیسہ پاکستان کے عوام کی فلاح پر خرچ ہوتا تو شاید آج پاکستان ایشیاء کے خوشحال ترین ملکوں میں سے ہوتا۔ میں سوچتا ہوں کہ ایک غیر مسلمان اور کافر سٹیو کو صرف تیس ملین ڈالر لوٹ کر رات بھر نیند نہ آئی، اور دوسری طرف ہم مسلمان اور عاشقِ رسول اور ھمارے پاک و مقدس ناموں والے مسلمان حکمران ہیں جن کا ہر رمضان اور عیدیں حرم پاک اور مسجدِ نبوی میں گزرتی ہیں، معلوم نہیں انکی ھوسِ زن، زر اور زمین کب ختم ھوگی؟ پاکستان کی عوام کو بدحالی، غربت کی دلدل اور جہالت کی تاریکی میں کب تک دھکیلتے رھیں گے؟ ان کو رات کو اتنی پرسکون نیند کیسے آ جاتی ہے ؟ ابدی نیند (موت) کا احساس اور خوفِ خدا دلوں میں کیوں پیدا نہیں ھوتا؟؟؟؟
No comments:
Post a Comment