Tuesday, 9 May 2017

Kutty ka Ghosht

کچھ دنوں پہلے ایک قصائی کتے کا گوشت فروخت کرنے کے جرم میں گرفتار ہو گیا، جب اسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا تو جج نے پوچھا :
" کیا یہ سچ ہے کہ تمھارے پاس سے کتے کا گوشت پکڑا گیا ہے ...؟ "
ملزم : "جی ہے جناب یہ سچ ہے ...!"
جج : "تمہیں شرم نہیں آتا کہ تم انسانوں کو کتوں کا گوشت کھلاتے ہو ...؟"
ملزم : "نہیں جناب میں انسانوں کو کتوں نہیں کھلاتا ...!"
جج : "کیا مطلب ابھی تو تم نے خود اقرار کیا ...؟"
ملزم : "ہاں جناب میں نے اقرار کیا کہ میرے پاس سے کتے کا گوشت پکڑا گیا ہے لیکن وہ گوشت میں نے کسی انسان کو نہیں کھلایا ...!"
جج : "تو پر وہ گوشت کس کو کھلایا ...؟"
ملزم : "جج صاحب میں نے وہ #کتوں کا گوشت #کتوں کو کھلایا ...!"
جج : "کیا مطلب ...؟"
ملزم : "مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے " ڈی، سی، او " ، "ڈی، ایس، پی " اور ان جیسے اور بھی بڑے لوگ آتے تھے اور مفت میں چھوٹا گوشت لیکر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت میں ایک دو کلو وہ لے جاتے تھے تو مجھے فائدہ کے بجائے الٹا نقصان ہوجاتا ... اس لیے میں کتا زبح کر کے رکھتا تھا جب وہ لوگ مجھ سے مفت کا گوشت لینے آتے تو میں انکو وہ گوشت دے دیتا
جج : " یہ عدالت ملزم کو باعزت بری کرتا ہے ...! "
میرے محترم و مکرم قارئین کرام ...!
کہنے کو تو یہ ایک چھوٹا سا قصہ ہے، مگر کیا ہم، اور ہمارے اطراف میں ایسا نہیں ہو رہا ...؟
کیا ہم لوگوں کو جہاں ایسا موقع ملتا ہے ہم لوگ اس سے فائدہ نہیں حاصل کرتے ...؟
اس بارے میں، چند لمحوں کے لیے سہی، لیکن سوچئے گا ضرور .........!
اللہ تعالٰی ہم سب مسلمانان عالم کو عین رزق حلال کھانے کر توفیق عطا فرمائے . . . آمین یارب العالمین .
جزاک اللہ خیرا کثیرا
#HarisBlogger

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...