Monday, 22 May 2017

Charsi

اک صاحب کہتے ہیں کہ وه مردان ميں تھے کہ اک چرسی آيا اور مجھے بولا کہ چرس کے لیے کچھ پيسے دے دو.
تو ميں نے اُسے کہا کہ آؤ كهانا كهلا ديتا ہوں مگر چرس کے لیے پيسے نہيں دے سكتا.
چرسی بولا کہ , رزق دينے والا اوپر بيٹها ہے.
چرس کے لیے دينا ہے تو دو، نہيں تو ميں گيا
ميں نے چند روپے اور چرسی چلتا بنا.....
آنكھ بچا کے ميں بهى اُسكے پيچھے چل ديا
اِک جگه شادى كا پروگرام چل رہا تها، اک لڑكا ٹرے ميں چاول لے جا رہا تها كہيں کہ ہاتھ سے ٹرے گر پڑى، چاول بكهر گئے.. لڑكا خالى ٹرے اُٹها کے واپس ہو ليا.
يه چرسی ادهر ہى بيٹھ کہ کهانے لگا..
اچانک مجھ پہ نظر پڑى، اور چند لفظ بولے جو عمر بهر ياد رہے گے...
بولا ... اِس وقت زرا ناراضگى چل رہى ہے ورنہ ہميشہ برتن ميں ہى ديتا تها..
كتنا کریم ہے ميرا رب کہ خفه ہو کے بهى اک چرسی كو بهى بهوكا رہنے نہيں ديتا.
#الله_اکبر
بیشک..! الله بہترین رازق ہے ..

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...