Wednesday, 10 May 2017

facebook

____خواتین کو ہنسنا منع ھے اور مرد حضرات کو پڑھنا____

فیس بک کے دشت میں اکثر مرد حضرات خواتین کی تلاش میں  مارے مارے پھرتے ہیں جیسے کبھی میلے ٹھیلوں میں پھرا کرتے تھے.. اس معاملے میں عمر کے ساتھ ساتھ تعلیم  بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑتی... بیچارے مہینوں کی محنت کے بعد لائک اور کمنٹ کے جان لیوا اور انتھک مشقت  کے بعد انباکس کا رخ کرتے  ہیں..  انباکس  سفر جونہی وٹس ایپ کا  سہارہ لینے کی کوشش کرتا ھے تو فون بک میں نمبر  ایڈ کرتے ھی تو نوے فی صد حیرانی اور صدمے کے ھاتوں ذھنی کشمکش کا شکار ھو جاتے ھیں جب ایمو سے میاں بشیر کے ایمو جائن کرنے کا میسج ملتا ھے....
فیس بک پہ  اکثر مرد حضرات کا پسندیدہ موضوع گفتگو خواتین کے حقوق اور ان کا پردہ ھے... مگر جونہی تھوڑی سی بے تکلفی ھوتی ھے انباکس میں تصویر مانگنا اپنا شرعی حق سمجھتے ھیں... پندو نصیحت کا ایک لاجواب ذخیرہ انہی ازبر یاد ھوتا ھے... دکھ تو یہ ھے کہ  وہ  مرد حضرات بھی فیس بک پہ خود کو قائد اعظم ثانی سمجھ رھے ھوتے ہیں .. جنہیں نہ تو قائد اعظم کے بارے میں کچھ پتا ھوتا ھے اور نہ ھی ثانی کے لفظ کے  ہجے اور معنی معلوم ھوتے ھیں...علامہ اقبال, شیخ سعدی , مولانا روم, واصف علی واصف, اشفاق احمد , بانو قدسیہ, ممتاز مفتی کے ساتھ ساتھ ان کی پوسٹ  اکثر قرآن اور حدیث سے بھی مزین ھوتی ھیں... مگر مجال ھے کہ چوری کی یہ پوسٹ بھی ان کے علم اور عمل میں پختگی کا باعث بنی ھوں...   اسلام سے محبت اور  وابستگی کا حال اس وقت قابل رحم ھو جاتا ھے جب شب معراج کو بھی شب برات کہ کر گناھوں کی معافی اور دعاؤں کی درخواست کر رھے ھوتے ھیں...  ان کا کل علم پردہ اور حقوق کے گرد برسوں کسی کنویں کے بیل کی طرح گھومتا رھتا ھے... جس کی آنکھوں پہ  جنس کے کالے کھوپے ھوتے  ھیں اور دل و دماغ میں جنسی خیالات کا تلاطم...

خواتین کے برعکس مرد حضرات کی ڈی پی اور کور فوٹو بھی تفریح اور مزاح کا نادر نمونہ ھوتی ھیں... جو ایک عدد گاڑی اور کھوٹھی کے وسیع وعریض لان پہ مشتمل ھوتی ھیں... بمشکل پانچ فٹ کے فرضی شہزادے بھی کسی خوبرو دوشیزہ کی دل میں حسرت کے خواب سجائے روز ڈی پی اور کور فوٹو ایسے  بدلتے ھیں... جیسے ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم میچ جیتنے کے بعد جشن کا سٹائل بدلتی ھے.. ... اور سچ تو یہ ھے کہ ان  فرضی شہزادوں کا رنگ روپ بھی انہی کے ساتھ میچ ھوتا ھے...
شادی شدہ مرد حضرات کا معاملہ تو اور بھی عجیب ھے... جن کا میرٹیل سٹیٹس بارہ بچوں کے بعد بھی غیر شادی شدہ ھی رھتا ھے...ان کی آی ڈی نام تو اپنی مرضی کے ھوتے ہیں مگر  یہ حضرات ھر ٹائم انجانے خوف کا شکار ھوتے ھیں... یہ نرگس کی طرح کے معصوم  بنتے ھیں ..اور نصیبو لعل کی طرح کے انجان..ان کی فرینڈ لسٹ میں عام طور پہ وہ لوگ ھوتے ھیں جو ان کی راھوں کے ھی مسافر ھوتے ھیں... فرینڈ لسٹ میں کسی دور کے رشتے دار کے بھی رشتے دار کو شامل کرنا گناہ کبیرہ سمجھتے ھیں... اس حوالے سے مجھے آج بھی اپنے ایک دوست پہ ترس آتا ھے جو کسی فیس بک  پرنسز کے چکر میں اپنی پرسنسز کو طلاق دینے کا دل میں تہیہ کر کے  اس کی تصویر مانگتا ھے تو اس کی حوش کے طوطے اڑ جاتے ھیں جب پرسنز اس کی اپنی ھی بیوی نکلتی ھے... یوں وہ فیس بک کے ساتھ ساتھ مسینجر, ایمو اور واٹس ایپ سے بھی کنارہ کشی اختیار کر لیتا ھے....

ایک گروہ کے تزکرہ کے بغیر یہ پوسٹ کے ساتھ ساتھ مردوں کی بھی توہین ھے . اور وہ گروہ ھے گروپ ھے فیس بک کی سسڑرز کے بھائیوں کا... ان کی سسٹرز کی تعداد پاکستان کے غیر ملکی قرضے کی طرح دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتی ھے... ھر نئی سسٹر کو حقیقی بھائی کا سا ہقین دلانا ان کے شرعی فرائض میں شامل ھے.. مگر ان کی پوسٹ اس وقت قابل رحم ھوتی ھیں جب سسٹر کے بھائیوں کی تعداد میں  کسی اور بھائی کا اضافہ ھو جاتا ھے... اور یوں وہ سسٹر کے غم میں درویش اور سنیاسی بابے کا روپ دھار لیتے ھیں... اور محبت اور بے وفائی پہ لیکچر اور پوسٹ ھی ان کی شناخت تصور کی جاتی ھیں....

ایک گروہ کا تذکرہ تو آپ چھوڑ ھی دیں اور وہ گروہ ھے ایڈمن مرد حضرات کا... ان میں سے بیشتر وہ حضرات ہیں.. جنہیں گھر والے دوسری دفعہ  سالن بھی شناختی کارڈ دیکھ کے دیتے ھیں......

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...