Wednesday, 10 May 2017

Load sheding

بجلی اتنی کہ لوگوں کو بل ميں وصولى کی بجائے اُلٹا استعمال کے پیسے ملنے لگے
----------------------------------------
گرمی بڑھتے ہی پاکستانی عوام کی بدقسمتی بھی دوچند ہوگئی ہے۔ ایک جانب موسم گرم ہورہا ہے تو دوسری جانب لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی بڑھ رہا ہے، اس پہ طرہ یہ کہ بجلی کا بل کم ہونے کی بجائے بڑھتا چلا جارہا ہے۔
عوام کا خون پینے والی پے در پے حکومتوں نے ہمیں اس حال کو پہنچا دیا ہے کہ آج ہم انتہائی مہنگی بجلی کو بھی ترس رہے ہیں۔ خوفناک لوڈ شیڈنگ کا دکھ جھیلنے والے پاکستانی عوام شاید اس بات پر یقین ہی نہ کر پائیں کہ دنیا میں ایسےممالک بھی ہیں جہاں بجلی اس قدر وافر ہے کہ اسے استعمال کرنے والے صارفین الٹا حکومت سے پیسے لیتے ہیں۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی بجلی اتنی وافر ہو گئی ہے کہ عوام سے بل لینے کی بجائے الٹا حکومت انہیں بجلی استعمال کرنے کے بدلے ادائیگی کر رہی ہے۔ ریاست میں سہانے موسم کا آغاز ہونے پر بجلی کی قیمت پہلے کم ہوتے ہوتے صفر پر آئی اور اب منفی ہو چکی ہے۔
دی انڈپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ دن کے اوقات میں سورج کی روشنی سے اس قدر شمسی توانائی پیدا ہورہی ہے کہ مین پاور ایکسچینج پر بجلی کی قیمتیں منفی ہوگئی ہیں۔ گزشتہ روز صورتحال یہ تھی کہ متعدد گھنٹوں کے لئے ریاست کیلیفورنیا میں الیکٹریسٹی گرڈ کو کل بجلی کا تقریباً 40 فیصد سولر سسٹم سے موصول ہوتا رہا۔
اس ریاست میں سولر انرجی بہت بڑے پیمانے پر پیدا کی جارہی ہے جبکہ گزشتہ سال اس پیداواری صلاحیت میں 50 فیصد کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ ویب سائٹ کوارٹز کے مطابق بجلی کی قیمت منفی ہونے کی صورت میں کسٹمرز کو کیش کی صورت میں ادائیگی نہیں کی جاتی بلکہ انہیں اس کا فائدہ بلوں میں کی جانے والی ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں ملتا ہے۔
دوسرا ملك جرمنی ہے کہ جہاں قابل تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی اس قدر وافر ہوگئی کہ اس کی زیادتی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ اخبار دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق جرمنی میں ہوا اور سورج کی روشنی سے عموماً ملکی ضرورت کی نصف بجلی حاصل ہوتی ہے لیکن جب کبھی ہوا زوروں پر ہو اور سورج بھی خوب چمک رہا ہو تو یہ مقدار بہت بڑھ جاتی ہے۔
اتوار کے روز بھی ایسی ہی صورتحال تھی کہ ہوا اور شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی ملک کی کل ضرورت کے 80 فیصد تک پہنچ گئی، اور روایتی ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کو ملا کر کل بجلی ملکی ضرورت سے کہیں زیادہ بڑھ گئی۔ کوئلے اور ایٹمی توانائی سے چلنے والے بجلی گھروں کو اضافی بجلی پیدا ہونے کے باوجود بند نہیں کیا جا سکتا کیونکہ انہیں بند کر کے دوبارہ چلانا بھاری نقصان کا سبب بنتا ہے، لہٰذا ان بجلی گھروں کو بھی چالو رکھا جاتا ہے۔ بے تحاشہ پیدا ہونے والی بجلی کو استعمال کرنے والے صارفین سے بل لینے کی بجائے انہیں ادائیگی کی جاتی ہے۔
اتوار کے روز بھی ہوا اور شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار غیر معمولی حد تک بڑھ جانے کے بعد بجلی کی قیمت کم ہونے لگی، حتیٰ کہ یہ صفر سے بھی کم ہوگئی اور بالآخر فی میگا یونٹ قیمت -130 یورو (تقریباً منفی 15500 پاکستانی روپے ) تک گر گئی۔
واضح رہے کہ جرمنی واحد ملک نہیں ہے کہ جہاں قابل تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی ملک کی کل ضرورت سے زائد ہوجاتی ہے ۔ ڈنمارک میں بھی یہ معاملہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے، جہاں گزشتہ سال جولائی میں صرف ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کل ملکی ضرورت سے تقریبا ڈیڑھ گنا بڑھ گئی۔ یہ اضافی بجلی ناروے اور سویڈن کی کمپنیوں کو فروخت کی گئی۔ جرمنی 2050ءتک بجلی کی فراہمی کو مکمل طور شمسی توانائی اور ہوا جیسے قابل تجدید ذرائع پر منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...