آپ کو یاد ہوگا، نوازشریف نے اپنے دوسرے دور حکومت میں ' قرض اتارو، ملک سنوارو' کیمپین لانچ کی۔ چونکہ پاکستان کی تاریخ میں باضابطہ حکومتی سطح پر یہ کیمپین پہلی دفعہ لانچ کی گئی اور عوام کو لگا کہ اگر وہ تھوڑی سی قربانی دے کر اپنے ملک پر پڑا قرضوں کا بوجھ ختم کرسکیں تو اس سے بہتر کوئی اور بات نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ لوگوں نے قطاروں میں لگ کر اپنی جمع پونچی اور زیورات حکومت کے اکاؤنٹس میں جمع کروانے شروع کردیئے۔ چند ہفتے جاری رہنے والی یہ مہم انتہائی کامیاب رہی لیکن پھر اچانک پتہ چلا کہ اس مہم کا کوئی ریکارڈ سرکار کے خزانے میں موجود نہیں۔ ہر بنک کی ہر برانچ نے ڈپلیکیٹ رسیدیں چھپوا رکھی تھیں اور عوام کا جمع کروایا ہوا پیسہ بنکوں کے عملے سے لے کر حکومتی وزیروں تک، سب نے مل جل کر کھایا۔ آج اس مہم کا کوئی ریکارڈ وزارت خزانے کے پاس موجود نہیں۔
2005 میں رمضان کے مہینے میں پاکستانی تاریخ کا ہولناک ترین زلزلہ آیا، کے پی کے کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ اربوں کی املاک تباہ ہوئیں اور لاکھوں گھر زمین بوس ہوگئے۔ حکومت کیلئے اس نقصان کو پورا کرنا ممکن نہ تھا، چنانچہ عوام سے اپیل کی گئی۔ ایک دفعہ پھر لوگ نکلے اور اس رمضان میں ہم نے دیکھا کہ لوگوں نے اپنے عید کے کپڑے تک چندے میں دے دیئے۔
بعد میں پتہ لگا کہ وہ سارا مال مقامی این جی اوز سے ہوتا ہوا حکومتی وزیروں اور مشیروں کے گھروں تک پہنچ گیا۔
آج سے غالباً تین سال قبل پاکستان میں ایک مرتبہ پھر شدید زلزلہ آیا اور اس کے ساتھ سیلاب نے بھی تباہ کاری مچا رکھی تھی۔ اس دفعہ بھی رمضان کا مہینہ تھا لیکن بدقسمتی سے عوام کی طرف سے انتہائی سردمہری کا مظاہرہ ہوا اور چند ایک کو چھوڑ کر کسی نے بھی چندہ نہیں دیا۔ وجہ کیا تھی؟ وجہ اس کی عوام کے اعتماد کو پہنچنے والی ٹھیس بنی کہ جب ماضی میں انہوں نے دیکھا کہ ان کی بھرپور قربانیوں کے باوجود حکمرانوں کی بیڈ گورننس اور کرپشن کی وجہ سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ برامد نہ ہوسکا۔
کہتے کہ ہیں کہ لڑنے کیلئے اسلحے سے زیادہ جیت کا یقین اور حوصلہ ہونا زیادہ ضروری ہے ورنہ کم ہمت فوج کو اگر آپ دنیا کا سب سے خطرناک ترین اسلحہ بھی دے دیں تو وہ بھی ہار کر ہی واپس آئے گی۔
آج کل رمضان میں پھلوں کی زائد قیمت کے خلاف 3 دن کیلئے بائیکاٹ مہم کی باتیں کی جارہی ہیں۔ میں اپنی پوری ذمے داری اور ہوش و حواس سے آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ بائیکاٹ جیسا ترپ کا پتہ ہمیں آم، کیلے اور سیب کی قیمتوں میں کمی کیلئے ضائع نہیں کنا چاہیئے تھا۔ یہ وہ ترپ کا پتہ تھا جو کہ کسی حکمران کی کرپشن کے خلاف استعمال ہوتا یا کسی بڑے ادارے ( پولیس، صحت، تعلیم وغیرہ) کو ٹھیک کرنے کیلئے استعمال ہوتا تو اس کے خاطر خواہ فوائد بھی نکلتے اور عوام کا اعتماد پہلے سے مزید بڑھ جاتا اور وہ اس ترپ کے پتے کو اگلی دفعہ پھر کامیابی سے کسی اور مگرمچھ کے خلاف استعمال کرلیتے۔
اب کیا ہوگا؟ تین دن سے پہلے ہی لوگوں نے اپنی اپنی افطاری کے پھل خرید کر سٹور کرلینے ہے، مارکیٹ سے پھل تین دن پہلے ہی بک جائے گا اور آڑھتی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ان تین دنوں میں بھی پھل کی خریدوفروخت جاری رہے گی کیونکہ اگر یہ قوم اپنے آپ کو روک سکتی تو ان باتوں سے روک لیتی جن کا قرآن و حدیث میں منع کیا گیا ہے۔ جب ہم نے قرآن کی نہیں مانی تو پھر بائیکاٹ پر کون عمل کرے گا؟ شاید 10 فیصد؟ شاید اس سے بھی کم۔
پھر کیا ہوگا؟ پھر حالات معمول پر واپس آجائیں گے۔ آڑھتی نقصان کی آڑ میں کسان کو مزید دبائیں گے اور اس غریب کا مارجن اور کم کردیا جائے گا۔ ریڑھی والے اسی پندرہ یا بیس فیصد مارجن پر پھل فروخت کرتے رہیں گے اور قیمتیں اسی سطح پر رہیں گی جہاں پر بائکاٹ سے پہلے تھیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ بائیکاٹ جیسے ترپ کے پتے کو ضائع ہوتے دیکھ کر عوام آئیندہ کبھی ایسی کسی مہم کا حصہ نہیں بنے گی۔ آپ کو یاد ہوگا دھرنے کے دنوں میں عمران خان نے سول نافرمانی کا ترپ کا پتہ ایسی ہی جلدبازی میں ضائع کردیا تھا اور اب اگر وہ چاھے بھی تو دوبارہ یہ پتہ نہیں کھیل پائے گا۔
ہمیں بائیکاٹ کروانا تھا لیکن پھلوں کا نہیں بلکہ اپنے شہر کے چیف ناظم کا یا ڈپٹی کمشنر کا، جو پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو مینیج کرتے ہیں۔
ہمیں بائیکاٹ کروانا تھا متعلقہ وزیروں اور مشیروں کا، جن کے نیچے سرکاری محکمے عوام کا استحصال کرتے ہیں۔
ہمیں بائیکاٹ کروانا تھا پولیس کا، محکمہ تعلیم کا، محکمہ صحت کا ۔ ۔ ۔ جو عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی دینے سے قاصر ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
آپ کیلے، امرود اور سیب کا بائیکاٹ کرنے چلے گئے ۔ ۔ ۔ ۔ حد ہوتی ہے جہالت کی، حد ہوتی ہے بیوقوفی کی ..
No comments:
Post a Comment