Sunday, 11 June 2017

Muhamad bin Qasim

پاکستان کا کھا کر پاکستان کو گالی دینے والے کیا جانیں پاکستان کی قیمت کیا ہے اس کی قیمت محمد بن قاسم سے پہلے کسی چھوٹے سے قافلے کے دیبل پر اترنے سے جنگ آزادی میں زندہ چن دیے گے مجاہدوں تک اور جنگ آزادی سے کشمیر کی وادیوں میں ہجرت کا دھوکا دیکر ہونے والے اجتماعی قتل عام تک ہے جہاں محمد بن قاسم چھ ہزار کے لشکر کے ساتھ پورا سندھ جو آج کے کالاباغ اور ملتان تک پھیلا تھا فتح کر کے گیا لیکن ایسے ہی درباری تب بھی بادشاہوں کی عقل پر چھائے تھے کہ سندھ کی عظیم الشان سلطنت سکڑ کر ملتان تک آگئی اوف ملتان میں بھی قرامطی شہنشاہ بن بیٹھے قرامطی یہود کی ایجاد تھے جو خود کو مسلمان کہتے تھے لیکن وہ کسی گناہ کو گناہ نہیں سمجھتے تھے ہماری عقل کو شراب میں بہایا گیا اور ہندوستان اور سپین میں غدار پیدا ہوے سازش بہت سادہ تھی خلافت سے خلافتیں  بنیں خلافتوں سے خودمختار ریاستیں بنیں اور ریاستوں سے جاگیریں بنیں جنھیں دشمن ہضم کرتا چلا گیا عمادالدین زنگی کا پوتا اور نورالدین زنگی کا بیٹا صلاخ الدین ایوبی سے ٹکرایا مسلم فوجیں صلیبیوں کی سازشوں میں ایک دوسرے کے سر اڑاتے رہے روز اول سے میدان جنگ میں ہمیں شکست نہیں ہوئی صلیبی جنگیں اٹھا کر دیکھ لو ایوبی شراب نہیں پیتا تھا اس کا حرم نہیں تھا تو صلیبی لشکر کبھی اسے شکست نہ دے سکے انہوں نے پہلے سب کو بکھیرا اور شراب اور حرم آباد کر کے دیے اور دوسری طرف حسن بن صباح کے فدائی استعمال کیے حشیش کے زور سے بڑے بڑے عزت دار سر جھکا دیے تو دوسری طرف سوڈان کے حبشی استعمال کیے گے تب بھی ایسے ہی درباری تھے جنہوں نے بارہ سال کا بچہ خلافت کی مسند پر بٹھا دیا تھا اور جنہوں نے شیخ سنان جیسے قاتلوں کو استعمال کیا تھا جو ایک دوسرے کو حرم کا تخفہ دیکر کام نکلواتے رہے یا حلب کا امیر جس نے صلیبیوں کی مدد کے لیے اپنی بیویاں انہیں پیش کیں ایسے ہی تھے تب بھی درباری خوشامدی مطلبی غدار انہیں سلطنت چاہیے تھی کسی نے نہیں سوچا صلیبی کیوں ہماری مدد کر رہے ہیں وہ کیوں ایوبی کے خلاف انکے ساتھے کھڑے ہیں وہ آپس میں بھی تو ساتھ نہیں تھے جرمن کی برطانیہ دشمنی فرانس کی برطانیہ دشمنی ظاہر تھی مگر کیا کریں مکاں اپنے میں بھی بہت کمزور سہارے تھے ہم میدان جنگ میں جانے کے قابل ہی نہیں رہے تھے ہم تو منڈیوں سے عورتیں اور غلام خریدنے میں لگے تھے کرسی کی یہی جنگ تھی اور اسی کو بڑھاتا ریا ہمارا دشمن اور ہمیں ہی اس کا ایندھن بناتا رہا وقت نے دیکھا بنگال کے غدار کو صلیبیوں نے کیا صلہ دیا غرناطہ کا غدار کیسے مرا آسان سی بات ہے اگر انہوں نے ان غداروں کو ہی سلطنت دینی ہوتی تو پہلے بھی تو مسلمان ہی تھے وہاں حاکم اس میں ان کا کیا فائدہ تھا ؟؟؟؟؟؟
اگر اسی تاریخ کو مسلم ریاستوں کے موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھیں تو آپ کو علم ہو کہ موجودہ مسلم حکمران کیا کیا غلطیاں کر رہے ہیں اور وہی تاریخ دہارہ رہے ہیں جس کے بعد مسلمانوں کی تباہی کے سواء کچھ نہیں
آج وہی سلسلہ چل رہا ہے ایران کے پیچھے روس کھڑا ہے اور سعودیہ کے پیچھے امریکہ دونوں کفار ہیں اور قران کے حکم سے دونوں ہمارے دوست نہیں ہو سکتے
اور ایک بات حقیقت پر ممبنی ہے ممالک کی آپس میں دوستی نہیں ہوتی مفادات کی دوستی ہوتی ہے بس جو وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو جاتی ہے
لیکن آج مسلم ممالک یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں اور کفار کی سازشوں کا شکار بن رہے ہیں اور اپنے ہی مسلم بہن بھائیوں کو قتل کر رہے ہیں
آج مسلمان تعداد میں اتنے ہیں کہ اگر سب مل کر متحد ہو کر کھڑے ہو جائیں تو دنیا کی کوئی بھی طاقت کے سامنے آنکھیں اُٹھا کر نہیں دیکھ سکتی مگر ان سب کے لیے بھی ایمانی قوت کا ہونا لازمی ہے جو شائد آج کے مسلمانوں میں نہیں رہی,

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...