دجال کے قدموں کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے ۔
جب سے انسان نے اس زمین پر قدم رکھا ہے حق اور باطل کی جنگ شروع ہے ۔ آپ نوٹ کیجیے باطل کا واحد اور سب سے بڑا مقصد ہمیشہ یہی رہا ہے کہ لوگوں کو اپنے حقیقی معبود کی راہ سے ہٹا لے اور اللہ کے غیر کی طرف لگا دے !
باطل نے ہمیشہ اس کے لیے مختلف بہروپ بھرے ہیں ۔ کبھی پتھروں کو وسیلہ بنایا ۔ کبھی لوگوں کی امیدوں کا مرکز سورج ،چاند، ستاروں اور درختوں کو بنایا اور کبھی انسانوں کو فرعون کی شکل میں خدا بنایا ۔ کہ " یہ وہ صفات رکھتا ہے جو تم خدا میں ڈھونڈتے ہو ۔ یہی تمھاری امیدیں پوری کر سکتا ہے ۔ اسکے سامنے جھک جاؤ " ۔۔۔
لیکن ان سب میں خامیاں ہوتی تھیں اور صاحب عقل اور صاحب ایمان لوگ ہمیشہ انکو مسترد کر دیا کرتے تھے بلکہ ان کے سامنے کھڑے ہو جایا کرتے تھے ۔ لیکن اب یہ جنگ اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والی ہے اور اسکے لیے باطل کی طرف سے سب سے بڑا اور سب سے خطرناک مہرہ میدان میں آنے والا ہے ۔ اس مہرے کو ایک آخری بار لوگوں کے سامنے خدا بنا کر پیش کیا جائیگا ۔
لیکن یہ آخری مہرہ یا فتنہ بظاہر خدائی صفات سے اس قدر لیس ہوگا کہ لوگوں کی اکثریت اس پر ایمان لے آئیگی ۔ اسی لیے حضورﷺ نے اسکو پہچان لینے کے باوجود اس کے سامنے سے بھاگ جانے اور بچنے کا حکم دیا ہے ۔
اسکی آمد سے پہلے اس کے لیے "زمین ہموار" کی جائیگی جس کے بعد بظاہر وہ اپنی ان خدائی صفات کا مظاہرہ کر سکے گا۔ مثلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ فرماتا ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں ۔
آج جدید ترین سپر کمپیوٹرز کی مدد سے آپکی فیس بک ، کرڈٹ کارڈز اور موبائل فونز کے ذریعے کوئی ہستی آپ کی تمام حرکات و سکنات پر نظر رکھ سکتی ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں !
اللہ فرماتے ہیں میں رزق دیتا ہوں ۔
دنیا کی خوراک کو کنٹرول کرنے والے سب سے بڑے اداروں کی تعداد گیارہ ہے اور یہ گیارہ کی گیارہ کمپنیاں ان یہودیوں کی ہیں جو دجال کی عبادت کرتے ہیں ۔ ایسی فصلیں پوری دنیا میں پھیلائی جا رہیں ہیں جن کا بیج اور ادویات صرف یہ کمپنیاں ہی فراہم کر سکتی ہیں ۔ اگردیسی بیچ ختم ہوگیا تو لوگ ایک دانہ لینے کے لیے ترسیں گے ۔ تب دجال رزق پر کنٹرول حاصل کرلے گا۔
اللہ فرماتے ہیں کہ میں بارشیں برساتا ہوں ۔
مصنوعی بارشیں برسانا اور روکنا آج عام سی بات ہے ۔ دنیا بھر میں اسکے بے شمار کامیاب تجربات ہو چکے ہیں ۔ دجال بھی بارش برسا سکے گا ۔۔۔ !
اللہ فرماتے ہیں کہ میں ہدائت دیتا ہوں اور اللہ فرماتے ہیں (مفہوم) میں جانتا ہوں تم کیا سوچتے ہو ۔
دنیا کا چھیانوے فیصد میڈیا صرف چھ کمپنیوں کی ملکیت ہے اور یہ چھ کی چھ یہودیوں کی ہیں ۔ فیس بک ، گوگل حتی کہ ویکیپیڈیا بھی یہودیوں کا ہے ۔ ( ورنہ وکیپیڈیا پر کوئی متنازعہ معاملہ ایڈٹ کر کے دکھائیے جو انکے مفاد کے خلاف ہو) ۔۔ اس میڈیا کے ذریعے دجال نہ صرف لوگوں کو نئے نئے افکار اور نظریات دینے کے قابل ہو چکا ہے بلکہ ڈس انفارمیشن کے ذریعے مختلف معاملات میں انکی رائے بھی تبدیل کرنے پر قادر ہو چکا ہے ۔
اللہ فرماتے ہیں کہ میں بیمار کرتا ہوں ۔۔۔ اور میں شفا دیتا ہوں ۔
ایڈز اور کانگو سمیت ایسی بیماریاں ایجاد کی جا رہی ہیں جن کا علاج وہ وائرس ایجاد کرنے والے کمپنیوں ہی کے پاس ہے ۔ اس حوالے سے نیٹ پر کافی مواد دستیاب ہے ۔ یہ تک کہا جا رہا ہے کہ پولیو کی مہم جس رفتار سے بڑھائی جا رہی ہے دراصل اس کے ذریعے لوگوں کے جسم میں ایسے وائرس ڈالیں جائینگے جو ایکٹیو نہیں ہونگے ( شائد آپ کو علم ہو کہ وائرس جاندار اور بے جان کے درمیان کی کوئی چیز ہے اور اسکو سالہا سال کے لیے ڈی ایکٹیویٹ کیا جا سکتا ہے ) جن کو یہ ایکٹیو اور ڈی ایکٹیو کر سکیں گے اپنے جراثیمی ہتھیاروں کے ذریعے ۔ پھر دجال کہے گا " میں بیمار کرتا ہوں اور میں شفا دیتا ہوں " ۔۔
اللہ فرماتے ہیں کہ میں سورج کو نکالتا اور غروب کرتا ہوں ۔
سورج کی حرکت کا تعلق دراصل زمین کی گردش سے ہے ۔ اور یہ تجربات جاری ہیں کہ اگر زمین کے کسی ایک قطب کی فضا کو الیکٹرانز کی بہتات کے ذریعے ڈی آئونائزڈ کر دیا جائے ۔ تو زمین کا مقناطیسی میدان تبدیل ہو جائیگا ۔ جس سے زمین کی گردش کو روکا جا سکے گا یا سست کیا جا سکے گا۔ دوسرے لفضوں میں دجال لوگوں کو کہے گا کہ اگر تم کہو تو میں سورج کی حرکت کو روک دوں ؟ اور پھر وہ روک دے گا ۔ ایک حدیث کا مفہوم بھی ہے کہ دجال سورج کو روک دے گا یا سست کر دے گا اور وہ دن ایک سال کے برابر لمبا ہوجائیگا ۔۔ !
ہپناٹزم یا تنویمی عمل کے مظاہرے آپ نے ٹی وی وغیرہ پر بے شمار دیکھے ہونگے ۔ اس کےذریعے کسی کے دماغ کو قابو کر کے اس کو آپ وہی دیکھا سکتے ہیں جو دیکھانا چاہیں ۔ اہل یہود اس پر باقاعدہ بہت بڑی ریسرچ کر رہے ہیں ۔ اس کے مظاہرے آپ پاکستان میں فری میسنز اور لوسیفرز کے لیے کام کرنے والے وقار ذکاء کے پروگراموں میں دیکھ سکتے ہیں جہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں سے شیطانی کام کروائے جاتے ہیں ۔
ان سب ہتھیاروں سے لیس ہونے کے بعد جب وہ اپنی جادوئی اور شیطانی طاقتوں کے ساتھ میدان میں آئے گا تو قیامت برپا کر دے گا اور کوئی اسکا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔
دجال کے بارے میں مختلف اور انتہائی متضاد اراء پائی جاتی ہیں ۔ لیکن اس پر سب متفق ہیں کہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ دجال ہوگا ۔۔۔۔۔۔ !
ہمارے کچھ نہایت قابل احترام علمائے کرام برمودہ ٹرائی ااینگل کے عجیب واقعات کی وجہ سے اس کو دجال کا ٹھکانہ خیال کرتے ہیں ۔ اس معاملے میں وہ بعض اوقات حد سے آگے چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر حضورﷺ نے دجال کا مشرق سے نکلنے کا بتایا ہے تو زمین کے گرد گھومتے ہوئے وہ مغرب ہی بن جاتا ہے ۔ اللہ معاف فرمائے ۔
درحقیقت دجال ایران میں ہے ۔ ایران میں ہی دجال سے کچھ نیک لوگوں کی ملاقات ہو چکی ہے بلکل حضرت تمیم داری (ر) کی طرح ۔ وہاں بالوں بھرے کسی مخلوق کی جگہ ایک نہایت موٹی بھنووں والی عورت نے انکی راہنمائی کی تھی ۔ دجال کا ایک ہاتھ اور پاؤں آزاد ہو چکا ہے ۔ وہ عنقریب خروج کرے گا ۔ وہ غضبناک ہوکر خروج کرے گا غالباً اپنی کسی ناکامی کی وجہ سے اور میرا دل کہتا ہے کہ اس ناکامی کا تعلق پاکستان سے ہوگا ۔ اپنے خروج کے بعد وہ چھا جائیگا لیکن مختصر عرصے کے لیے !
اس سے وہی لوگ بچ سکیں گے جنہوں نے حضورﷺ کی ہدایات پر من و عن عمل کیا ۔ ان لوگوں کے لیے ہر طرح کی خیر اور فلاح ہے جنہوں نے اپنے دلوں میں کلمے کو تازہ کیا زمین پر اپنی آمد کا مقصد یاد رکھا اور نماز کو قائم کیا ۔
اللہ ہم سب کو دجال کے فتنے سے محفوظ رکھے .
No comments:
Post a Comment