راو تیرے گھاو۔
اللہ کی پکڑ ہماری سوچ سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے اس شہر میں راو انوار سے پہلے بھی ایک چمپئن دندناتا پھرتا تھا۔ نجانے کسی کو دیکھانے کے لئے کرتا تھا پھر روز اسے یہ کرنا پڑتا تھا۔ کم از کم تین انکوانٹر اس کے روزانہ کا معمول تھا۔ والدین کو رلایا بیویوں کا سہاگ اجاڑا، بچوں کو یتیم بنایا ۔۔
مگر پھر کیا ہوا !!!!
ایک دن معمول کی پیاس بجھانے کے واسطے ایک مدرسے سے تین کم عمر بچے اٹھا کر لے گیا۔ صبح سویرے لاشیں ان کے گھر بھیج دی۔ والدین کے جلے دلوں سے نکلی دہکتی بدعا فورا آسمانوں کو چھیر کر رب کے در پہنچ گئی۔ اسی دوپہر خبر آئی کے بم دھماکے میں چوہدری اسلم ہلاک سب نے وہ وڈیو دیکھی جس میں مردہ چوہدری اسلم کو گاڑی سے اتارتے وقت اس کے دھڑ کے برہنہ ٹکڑے گر کر بکھر جاتے ہیں۔
اللہ کے حضور سب نے حاضر ہونا ہے بس یہ ہم پر ہے کہ کونسا روپ لیکر جائے گے۔ جن کو چوہدری اسلم نے مار کر دنیا بدر کیا تھا آج وہ خود بھی ان کے درمیان ہے۔
اور ایسا ہی ایک دن راو انوار سمیت سب پر آنا ہے۔
بس رونا اس بات ہے کہ ہم صرف اس وقت ہی آواز اٹھاتے ہیں جب نشانہ بننے والا کوئی اپنا ہو....
No comments:
Post a Comment