Sunday, 8 October 2017

ammar hashmi

چھ ماہ قبل ہم عمار راجپوت کی گمشدگی کے لیے دو چار پوسٹس کرکے خاموش بیٹھے رہے، ظالموں نے انٹرمیڈیٹ کے اس سٹوڈنٹ کو اغواء کر کے اس پر بارودی مواد کا جھوٹا اور جعلی مقدمہ ڈال کر دو سال کیلئے اڈیالہ بھجوادیا۔۔۔۔
آج سوشل میڈیا پر عمار ہاشمی کے لاوارث رکھے گئے لاشے کو لے کر کچھ اہلِ دل، دل گرفتہ ہیں۔۔۔۔
صاحبو!
خاموشی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔۔۔۔راؤ انوار جیسے بھیڑیوں کیلئے سب ایک جیسے ہیں، کیونکہ انہوں نے نئی نسل کے اسلام پسند سر فروشوں کے سر اتارنے کی ٹھان رکھی ہے۔۔۔۔ ہماری یہی خاموش کل ہمیں ایک دوسرے کو فیس بک پہ تلاش کرنے پر مجبور کرے گی، جہاں تصویریں، پوسٹس، کچھ تلخ و شیریں تبصرے، کچھ ہنسی، کچھ آنسو اور محبتوں کے دو چار سٹکرز تو مل جائیں گے۔۔۔مگر وہ چہرے نہیں ملیں گے ۔۔۔۔سر جھکا کر بیٹھنے سے گردنیں کٹتی رہیں گی۔۔۔۔چھوڑ دو دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، سلفی، جماعتی وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ بیک آواز ہوکر کم از کم سوشل میڈیا پر آواز بلند کریں کہ یہ جانوروں والا سلوک بند ہونا چاہیے، اگر کوئی مجرم ہے، دہشتگرد ہے، یا ملزم ہے تو عدالتوں میں لے کر جایا جائے۔۔۔۔جرم ثابت ہو تو چوک میں لٹکایا جائے۔۔۔مگر یہ درندگی، خونخواری اور انسانیت کی تذلیل بند کی جائے!
آج تو سوشل میڈیا پر فلاں کے عزیز یا فلاں جماعت کے کارکن کا انکاؤنٹر والی خبریں آرہی ہیں، خدانخواستہ یہ خاموشی کل ہمیں یہ خبریں نہ دے کہ ہمارا فلاں فیس بک فرینڈ کسی مشتاق سکھیرا یا راؤ انوار نما بھیڑئیے کے ہاتھوں گولیوں سے بھون دیا گیا، اور لاش سات دن بعد ایدھی کے سرخانے سے ملی۔۔۔۔بولئے صاحب بولئے۔۔۔۔!
بولئے! آپ بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔۔۔!!!!!!

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...