جنوری 2013 میں لاڑکانہ کے ایک شہری بشیر احمد نے سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ بنچ میں ایک درخواست دائر کی جس میں درخواست گزار کا موقف یہ تھا کہ پیپلز پارٹی نے 2008 میں لاڑکانہ شہر کی ڈیویلپمنٹ کے لیے جو فنڈز مختص کی تھے ان کا بڑا حصہ خردبرد کی نظر ہو گیا ہے۔
تین سال تک پیپلز پارٹی حکومت نے اس درخواست پر سماعت نہیں ہونے دی اور اثرورسوخ سے انصاف کی راہ میں حائل ہوتی رہی۔ اگست 2016 میں دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو جو حقائق سامنے آئے وہ پاکستان کے اداروں کے لیے ایک سوالیہ نشان بن گئے۔
ان حقائق کے مطابق 2008 سے اب تک لاڑکانہ کے لیے نوے ارب روپے مختص کیے گئے تھے جو کہ مکمل طور پر کرپشن کی نظر ہو گئے اور یہ اس ساری خردبرد کی مرکزی کردار آصف زرداری کی بہن فریال تالپور تھی۔
فریال تالپور صرف بےنظیر سے رشتے داری کی وجہ سے سیاست میں آئی اور اول دن سے تالپور اور زرداری صوبہ سندھ کو لوٹنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے کی کرپشن کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سندھی ہائی کورٹ سجاد علی شاہ نے کہا کہ "ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے، آپ نے تو اپنا ہی شہر لوٹ لیا ہے"۔
شاید آپ میں سے بہت سے لوگوں کو یہ نہیں پتہ ہو گا کہ فریال تالپور سندھ کی سب سے بڑی ڈان ہے جو کہ "ادی" کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ "ادی" سندھی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے "بہن"۔ ادی کی طاقت اور اختیار کا اندازہ صرف اس بات سے لگا لیں کہ سہیل سیال کو سندھ کا وزیر داخلہ محض اس لیے لگا دیا گیا کیونکہ وہ ادی کا پرس اٹھایا کرتے تھے۔
کراچی اور اندرون سندھ میں ہونے والے تمام تر جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی ادی تالپور کرتی ہے اور لیاری گینگ وار کا بدنام سرغنہ عذیر بلوچ ادی کا خاص آدمی تھا اور عذیر بلوچ نے ادی کے کہنے پر بے شمار لوگوں کا قتلِ عام کیا جس میں سیاسی، سماجی، پروفیشنل، پولیس، رینجرز، فوج اور دیگر شخصیات شامل تھیں۔
عذیر بلوچ نے اپنی جے آئی ٹی میں یہ بیان قلمبند کروایا کہ عذیر بلوچ ادی تالپور کو ایک کروڑ روپے ماہانا بھتہ دیا کرتا تھا اور فشریز کے ڈائریکٹر سعید بلوچ اور نثار مورائی کو بھی عذیر بلوچ کے کہنے پر ہی ملازمت دی گئی تھی۔ فشریز کے محکمے سے اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق کئی ارب روپے کی کرپشن کی جا چکی ہے اور اس کا اسی فیصد حصہ ادی فریال تالپور کی جیب میں گیا۔
عذیر بلوچ نے یہ بھی کہا کہ 2008 سے پہلے اس پر جتنے بھی قتل، اغوا اور بھتہ خوری کے چارجز تھے وہ سب ادی فریال تالپور نے ختم کروائے تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا کہ بلاول ہاوس کے اردگرد چالیس سے پچاس بنگلے / گھر اور پندرہ شوگر ملوں پر آصف زرداری اور ادی تالپور کے براہ راست حکم پر قبضہ کیا۔
ادی فریالپور نے چند ہفتے قبل شہداد کوٹ میں ضمنی الیکشن کی کیمپئن کے دوران ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کھلے عام دھمکی دی کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ انتخابی نشان تیر کے علاوہ کسی کو ووٹ دے گا تو وہ اپنے دماغ سے یہ کیڑا نکال دے۔
ادی اس وقت سندھ کی سب سے بڑی ڈان اور مجرموں کی سرپرست بن چکی ہے۔ اگر سندھ کو کرپشن اور جرائم سے پاک کرنا ہے تو سب سے پہلے اس قاتلوں کی سرپرست عورت کو حراست میں لے لینا چاہیے۔ ادی نے اب تک سندھ میں اربوں ڈالر کی کرپشن اور لوٹ مار کی ہے۔ اس کے علاوہ اغوا برائے تاوان، قتل و غارت گری، بھتہ خوری اور پیسوں کے لیے قتلوں کے جرائم الگ سے ہیں۔ ادی کے حکم کے بغیر انٹیریر سندھ میں پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ ادی فرعون کی شکل میں اہلِ سندھ کے سینوں پر براجمان ہے۔ تھر میں قحط سے مرنے والے شیرخوار بچوں کی روٹی بھی یہ ڈائن کھا گئی ہے۔
کاش میرا یہ کالم پڑھ کر ریاستِ پاکستان کے اداروں خصوصاً عدلیہ اور فوج کو کچھ شرم آ جائے کیونکہ جب تک صوبے ایسے مجرم پیشہ عناصر کے سروں پر چل رہے ہوں گے تو پھر وہی کچھ ہو گا جو کہ سندھ میں ہو رہا ہے۔ سندھی حکمرانوں نے پاکستان پر چالیس سال سے زائد حکومت کی ہے لیکن اس کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے وہاں آج بھی بچہ بھوکا ہے، ننگا ہے، نہ تعلیم ہے نہ ہسپتال ہے۔ بھٹو اور بے نظیر کے شہر لاڑکانہ اور نوڈیرو آج بھی گندے اور بدبودار پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
سمجھ نہیں آتا کہ ادی کو سندھی کی سب سے بڑی ڈان کہوں یا سب سے بڑی ڈائن .....؟؟
No comments:
Post a Comment