Sunday, 8 October 2017

Khatam-e-Nabovat

ختم نبوت، احادیث مبارکہ کی روشنی میں
===============================
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ میرا اور پہلے انبیاء کا حال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک مکان بنایا، اسے مکمل اور خوب صورت تیار کیا لیکن ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس میں داخل ہو کر اس کی عمدگی پر اظہار تعجب کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں ، کاش! اس اینٹ کی جگہ خالی نہ چھوڑی گئی ہوتی۔‘‘
صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب : خاتم النبیین ﷺ، حدیث نمبر:3534
===============================
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک مکان بنایا اور اسے بہت خوب صورت تیار کیا مگر ایک کونے میں اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ اب لوگ آ کر اس کے اردگرد گھومتے ہیں اور اسے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ میں وہی اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔‘‘
صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب: خاتم النبیین ﷺ ، حدیث نمبر:3535
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی،کہا: یہ (احادیث) ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیں۔ انہوں نے کئی احادیث بیان کیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا:’’ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے (ایک عمارت میں) کئی گھر بنائے، انہیں بہت اچھا، بہت خوب صورت بنایا اور اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ کے سوا اس (پوری عمارت) کو اطھی طرح مکمل کر دیا۔ لوگ اس کے اردگرد گھومنے لگے۔ وہ عمارت انہیں بہت اچھی لگتی اور وہ کہتے: آپ نے اس جگہ ایک اینٹ کیوں نہ لگا دیتاکہ عمارت مکمل ہو جاتی۔‘‘ تو محمد ﷺ نے فرمایا:’’ میں ہی وہ اینٹ تھا(جس کے لگ جانے کے بعد وہ عمارت مکمل ہو گئی)۔‘‘
صحیح مسلم۔ کتاب الفضائل، باب: ذکر کونِہِ ﷺ خاتم النبیین
===============================
ابو صالح سمان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک مکان بنایا، اسے بہت ہی اچھا بنایا، بہت ہی خوب صورت بنایا، سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے جو اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں (لگنی) تھی۔ لوگ اس کے اردگرد گھومنے لگے۔ وہ اسے سراہتے اور کہتے: یہ اینٹ بھی کیوں نہ لگا دی گئی۔‘‘ فرمایا:’’ میں وہی اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ( نبوت کو مکمل کرنے والا، آخری نبی) ہوں۔‘‘
صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب: ذکر کونِہِ ﷺ خاتم النبیین
===============================
عفان نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سلیم بن حیان نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید بن میناء نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ میری اور (مجھ سے پہلے)انبیاء کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا اور ایک اینٹ کی جگہ کے سوا اس (تمام گھر) کو پورا کر دیا اور اچھی طرح مکمل کر دیا۔ لوگ اس میں داخل ہوتے، اس (کی خوب صورتی ) پر حیران ہوتے اور کہتے: کاش! اس اینٹ کی جگہ (خالی) نہ ہوتی۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اس اینٹ کی جگہ (کو پُر کرنے والا) میں ہوں، میں آیا تو انبیاء کے سلسلہ کو مکمل کر دیا۔‘‘
صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب: ذکر کونِہِ ﷺ خاتم النبیین
===============================
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ رسالت اورنبوت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے،پس میرے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔‘‘ حضرت انس کہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں پر شاق گزری تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’(نبوت و رسالت کا سلسلہ تو بہرحال ختم ہو چکا ہے) تاہم خوش خبریوں کا سلسلہ باقی ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ! خوش خبریوں سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ مسلمان آدمی کا خواب، جو کہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔‘‘
مسند امام احمد بن حنبل
تخریج: اسنادہ صحیح علیٰ شرط مسلم، اخرجہ الترمذی:2272
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک میری امت کے کئی قبائل مشرکین کے ساتھ نہیں مل جائیں گے اور بتوں کی پوجا کرنے لگیں گے، اور میری امت میں تیس جھوٹے دجال ظاہر ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ ہو گا کہ وہ نبی ہے اور میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘
جامع ترمذی ، کتاب الفتن، حدیث نمبر:2219
سند: صحیح
=====================================

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...