آج سے 3 سال قبل ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک گاؤں میں ایک لڑکے کو کسی غیرعورت کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرتے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔ مقامی روایات کے مطابق اسے پکڑ کر گاؤں کی پنچایت کے حوالے کردیا گیا جہاں اسے کچھ سزا اور جرمانہ وغیرہ سنا کر چھوڑ دیا گیا۔ جس خاتون کے ساتھ اس کے تعلقات تھے، اس کے رشتے دار مرد حضرات انتقام کی آگ میں جلتے رہے اور پھر آج سے 2 ہفتے قبل انہوں نے اس لڑکے کی ٹین ایج بہن کو کنویں سے پانی بھرتے ہوئے اسلحہ کے زور پر پکڑ لیا، اس پر تشدد کیا، کپڑے پھاڑے اور پھر گن پوائنٹ پر وہاں سے پیدل اس کے گھر تک لے کر گئے۔
واقعہ سوشل میڈیا میں آیا، شور اٹھا، علاقے کی پولیس نے فوری کاروائی کی، لڑکی کا بیان ریکارڈ کیا، لڑکی کے بھائی نے 9 افراد کا نام دیا جن میں سے 8 لوگ گرفتار ہوچکے جبکہ 9 واں شخص وہاں سے فرار ہوگیا۔ پولیس اس کی تلاش میں ہے اور آج نہیں تو کل، وہ پکڑا جائے گا۔
چونکہ معاملہ سوشل میڈیا میں آگیا، اس لئے کچھ لوگوں نے اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ سب سے پہلے تو اس علاقے کا تحریک انصاف کا ایم این اے، داور کنڈی، جو اس سے پہلے وہاں سے پیپلزپارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑتا رہا اور ہارتا رہا، پھر 2013 میں جب فضل الرحمان نے سیٹ خالی کی تو وہ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ لے کر جیت گیا۔ داور کنڈی کا مقامی طور پر سب سے بڑا سیاسی مخالف علی امین اللہ گنڈاپور ہے چنانچہ کنڈی نے اس سے حساب برابر کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سارے واقعہ کا الزام گنڈاپور پر عائد کرتے ہوئے عمران خان سے مطالبہ کیا کہ اسے وزارت اور پارٹی سے برطرف کیا جائے۔ یہ بالکل وہی معاملہ ہے جو عابد شیرعلی اور رانا ثنا اللہ کا ہے، دونوں مخالف گروپس ایک دوسرے پر قتل اور کرپشن کا الزام عائد کرتے ہیں، اسی طرح داور کنڈی نے بھی گنڈااپور کو اس واقعے میں ملوث کر کے اپنا سیاسی حساب چکتا کرنے کا فیصلہ کیا۔
بعد میں جب لڑکی کا بیان آیا تو کنڈی نے اپنا الزام بدل کر یہ کہہ دیا کہ دراصل گنڈاپور ملزموں کو تحفظ دے رہا ہے، وہ خود اس میں ملوث نہیں۔
9 میں سے 8 ملزمان پکڑے جاچکے، 4 نے اپنے جرم کا اقرار بھی کرلیا - باقی کے چار کو ریمانڈ لیا جاچکا، 9 واں ملزم بھاگا بھاگا پھر رہا ہے۔ اگر گنڈا پور اس 9 ویں شخص کو چھپائے ہوئے ہے تو آپ فکر مت کریں، خیبرپختون خواہ کی پولیس پنجاب پولیس جیسی نہیں، وہ اسے پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالے گی۔ اگر گنڈا پور ملوث ہوا تو وہ بھی قانون کی گرفت میں آئے گا، کیونکہ عمران خان، نوازشریف جیسا نہیں۔
داور کنڈی کے الزامات کے غلط ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ یہ حلقہ فضل الرحمان کا ہے اور وہ اس واقعے کے محرکات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے اصل ملزمان کی بجائے گنڈاپور پر الزام دھر دیا تو علاقے کے لوگ اس پر تھو تھو کریں گے۔
سب سے بری حالت جماعتیوں کی ہے۔ ایک طرف وہ تحریک انصاف کے نیچے لگ کر حکومت کے مزے بھی لے رہے ہیں، دوسری طرف وہ ایسے واقعات پر ہمیشہ کی طرح تاریخ کے منفی رخ پر ہی کھڑے ہیں!!!!!!!

No comments:
Post a Comment