Saturday, 2 December 2017

Auraat

جب سکول میں تھی تو ایک لڑکے نے کہا کے میری گرل فرینڈ بن جاؤ، کالج گئی تو کہا آئٹم بن جاؤ، یونیورسٹی گئی تو کہا پارٹ ٹائم پارٹنر بن جاؤ.

کسی نے یہ نہیں کہا کے میں تیرا مجازی خدا تم میری دلہن بن جاؤ، دھوپ میں چھاؤ بن جاؤ، میرے ایمان کی تکمیل بن جاؤ، میرے بچوں کی جنت کی نائکہ بن جاؤ، پھلا مدرسہ بن جاؤ.

جس نے بھی بنانا چاھا کھلونا بنانا چاہا، کھیلنے کیلئے... دل بھلانے کیلئے... کپڑے اتارنے کیلئے.... ہوس کو سوارنے کیلئے.... گرم بخار سدھارنے کیلئے.... دل لبھانے کیلئے....

میں سوچتی رہ گئی کہ اسکی بھی تو بھن ہوگی. ہر عمل کا ردعمل بھی ہوتا ہے. تو کیا بھائی کا بدلہ بھن دیگی؟؟! میری ہم جنس دیگی؟؟! بھائی عزتوں کو اچھالتا رہیگا بھن بدلہ چکاتی رہیگی!!!

لیکن پھر خیال آیا... نہیں نہیں... اسکی آنے والے وقتوں میں بیٹی ہوگی جس سے یہ بےانتہاء پیار اور محبت کرتا ہوگا، وہ معصوم جان سب قرض چکائی گی... باپ کے جوانی کے گناہ معاف کروائے گی پھر جب سوچتی کے مردوں کے سارے گناہوں کو ہم لڑکیوں نے ؟؟؟؟؟؟؟

لڑکیوں کی عزت کرو مبادہ کے قرض تمھاری بھن بیٹی اتارے
 Sorry but its bitter reality of the society...........

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...