اطلاع عام نیوز ۔مجھے یاد ہے جب پی ٹی آئی ایک مقبول جماعت بنی تو عمران خان نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کھلے عام کہا تھا کہ جاوید ہاشمی جیسے سیاست دان اس ملک کا سرمایہ ہیں اور میں ان کو اپنی جماعت میں دعوت دیتا ہوں۔ یہ منظر پوری قوم نے دیکھا اور میں ایسے کئی نوجوانوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اس تقریر کے بعد حیرانی کا اظہار کیا کہ یہ جاوید ہاشمی کون ہے ؟ اور پھر نئی نسل نے جاوید ہاشمی کی سیاسی زندگی کے متعلق مکمل ریسرچ کی اور سب لوگ اس بات کے قائل ہو گئے کہ واقعی جاوید ہاشمی ایک عظیم انقلابی سیاستدان ہے۔
یہ رائیونڈ کے بند کمروں کی داستان ہے جس میں عمران خان کی اس کھلے عام دعوت کے بعد یہ منصوبہ بنایا گیا کہ جاوید ہاشمی اور سعد رفیق کو تحریکِ انصاف میں بھیج دیا جائے تا کہ وہ ہم کو اندر کی پل پل کی خبر دیں اور نون لیگ اس کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر سکے۔ اس منصوبے کو دو حصو میں عملہ جامہ پہنانے کا ارادہ کیا گیا۔ پہلے مرحلے پر جاوید ہاشمی تحریکِ انصاف کا حصہ بنیں گے اور دوسرے مرحلے پر سعد رفیق بھی جاوید ہاشمی کے بلانے پر وہاں چلے جائیں گے جو کہ جاوید ہاشمی کے بہت قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
جاوید ہاشمی کی شمولیت پر ایک باقاعدہ ڈرامہ رچایا گیا کہ کیسے کلثوم نواز منانے کے لیے پہینچ گئی اور کیسے جاوید ہاشمی نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد 25 دسمبر 2011 کو کراچی جلسے میں شمولیت کا اعلان کرنے کے لیے جاوید ہاشمی کراچی پہنچے عمران خان اپنے ساتھیوں کو پیچھے چھوڑ کر ائرپورٹ پہنچے اور جاوید ہاشمی کو ریسیو کیا اور جلسے کے دوران بھی بانہوں میں میں بانہیں ڈال کر بیٹھے رہے۔
یہ بنیادی طور پر کپتان کا ایک عظیم انقلابی سیاستدان کے لیے خراجِ تحسین تھا۔ جس کا اظہار عمران خان نے بارہا کیا۔ اور آج تک کبھی جاوید ہاشمی کے خلاف ایک لفظ بھی زبان پر نہ لائے۔
بعد میں پنجاب کی سیاست میں ایسا موڑ آیا کہ تحریکِ انصاف بہت زور پکڑ گئی اور شہباز شریف کے کہنے پر سعد رفیق کو لاہور ہی رکنا پڑا، وہ بنی گالہ نہ جا سکے۔ دھرنے کے دنوں میں نون لیگ نے تحریکِ انصاف کی مسلسل بڑھتی ہوئی طاقت سے خوفزدہ ہو کر اپنا وہ آخری کارڈ کھیل ڈالا جو شاید ابھی منصوبے کا حصہ نہیں تھا اور وہ یہ تھا کہ جاوید ہاشمی عمران خان سے بغاوت کر دیں گے اور ان کا خیال تھا کہ یہ تحریک انصاف اور عمران خان کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہو گا اور تحریکِ انصاف ٹوٹ کر اپنا زور کھو دے گی اور یوں جاوید ہاشمی نے عین دھرنے کے دنوں میں عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا اور پی ٹی آئی کو خیر آباد کہہ دیا۔
اس کے بعد ساری دنیا نے دیکھا کہ کیسے ملتان میں جاوید ہاشمی کو عبرت ناک شکست ہوئی اور کیسے جاوید ہاشمی قصہ پارینہ بن گئے۔ اب جاوید ہاشمی واپس اپنی اصل جگہ پر آنا چاہتے تھے لیکن مریم نواز کی مداخلت پر ان واپس نون لیگ میں آنا تعطل کا شکار ہو گیا تھا کیونکہ جاوید ہاشمی بری طرح سے تنازعات میں گھر چکے تھے اور ان کی باتیں اب محض لافنگ سٹاک بن کر رہ گئی تھیں۔
پچھلے دنوں پھر سے رائیونڈ میں ایک ایجنڈا سیٹ ہوا جس کے مطابق اب نوازشریف پر بہت ہی برا وقت آن پہنچا ہے اس لیے تمام کارڈز کو کھیلنے کا وقت آ گیا ہے اور یہ فیصلہ ہوا کہ جاوید ہاشمی کو دوبارہ فعال کیا جائے اور اس دفعہ ان سے ٹھیک وہی کام لیا جائے گا جو کہ عائشہ گلالئی اور ریحام خان سے لیا گیا ہے۔ یعنی یہ انقلابی عقاب جس کی پرواز کبھی آسمانوں میں ہوا کرتی تھی اب جاتی امراء کی گندی نالیوں میں رینگتا ہوا نظر آئے گا۔
مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جاوید ہاشمی کس قدر بلند و بالا افکار کا مالک تھا لیکن نوازشریف کی کی سازشوں کا حصہ بن کر سیاست کے بازار کی طوائف بن گیا ہے، جو کبھی ایک رات کے لیے بنی گالہ جاتی اور اگلی رات زیادہ بولی پر رائیونڈ چلی جاتی ہے۔ یہ بے شک جتنا بھی بڑا انقلابی سیاستدان تھا لیکن سچ تو یہ ہے کہ آقاؤں کے سامنے اس کی اوقات کل بھی ایک کتے جیسی تھی اور آج بھی یہ اسی مافیا کے در کا کتا ہے۔ اور '''انشاءاللہ'' آنے والے دنوں میں اس کا بھیانک انجام ہو گا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Hazrat Umar (R.A)
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...
-
خواتین و حضرات! آنے والا وقت بہت زیادہ خوفناک ہے۔ اس میں کئی خطرناک کھیل شروع کر دیئے جائیں گے۔ یہ کھیل عید کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ عید...
-
ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺟﻮ ﺑﺸﺮﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﻻﺗﺮ ﮨﻮ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ،ﷲ ﮐﮯ ﺑﺮﮔﺰﯾﺪﮦ ﻧﺒﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺅﺩ ؑ ﮐﮯ ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺳﺒﺎ ﻣﯿﮟ ﺁ...
-
ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺱ ﺳﺎﻟﮧ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ۔ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﺭﺩ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭﺍ...

No comments:
Post a Comment