Sunday, 21 January 2018

Legend Zardari

۔۔۔۔۔۔ #زرداری کے جرائم کی فہرست ۔۔۔۔۔۔
ویسے تو زرداری صاحب کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے لیکن چند قابل ذکر جرائم کا تذکرہ ضروری ہے

اس نے آٹھارویں ترمیم کے زریعے پاکستان کا آئین مارشل لاء اور غیر جمہوری غلاظتوں سے پاک کیا
زرداری نے ستر سالوں سے حل طلب صوبایی خودمختاری کا مسله حل کیا وه بهی پنجاب کی رضامندی اور بهترین حکمت عملی سے
زرداری نے پشتون قوم کو اس ملک میں شناخت دی
زرداری نے نیا این ایف سی ایوارڈ دیا (جس میں مرکز اپنے تقریباً بیس فیصد  حصه صوبوں کو دینے پر راضی هوا اور نتیجتاً بلوچستان کا وفاقی آمدنی میں حصه تقریباً تین گنا بڑ گیا)
زرداری نے گوادر امریکی سامراج سے چھین کر چائنہ کے حوالے کیا
زرداری نے امریکا کو بیچے گیے هوائی اڈے خالی کروایے
زرداری نے غریبوں کے لیے جنوبی ایشیاء کا سب سے بڑا سوشل پروگرام دیا بی آیی ایس پی کے زریعے
زرداری نے تاریخ میں پهلی بار زورآور قوتوں کو سیاسی قایدین کے سامنے جوابده بنایا ( یاد هے نه سب کو جب سیاسی قایدین چهبتے هویے سوال کرتے تهے آیی ایس آیی اور آرمی چیف سے)
زرداری نے برمله ایران پر امریکی حملے کی مخالفت کی بلکه گیس پایپ لاین معاهدے کے زریعے دنیا کو باور کروایا که جنگ نهیں مزاکرات اور تجارت هی مسائل کا حل هیں (تاریخ نے زرداری کی لاج رکهی امریکه اور اس کے حواری آج ایران کے ساتھ تجارت اور مزکرات پر لگے هویے هیں)
زرداری نے اُن قوتوں کو بھرپور جواب پانچ سال جمهوریت چلا کر دیا جو کهتے تھے بلکه آج بھی کهتے هیں که جمهوریت پاکستانیوں کے لیے موزوں نهیں هے(مشرف کا انٹرویو دیکھ لیں)
زرداری نے پانچ ساله حکومت میں کوئی ایک سیاسی مخالف جیل میں بند نا کرکے ثابت کیا که هم پاکستانی انتقامی سیاست کے بغیر بھی ملک چلاسکتے هیں
زرداری نے خارجہ پالیسی میں جوهری تبدیلی کے زریعے امریکه کے بجایے روس اور چین کو اولیت دی  اور نتیجہ ج سب کے سامنے هے
زرداری نے بنیادی طور پر زرعی ملک کو دو نمبری سے صنعتی ملک میں تبدیل کرنے کے مزموم پالیسیوں کا راسته روکا اور سبسڈی کا رجحان صنعت سے زراعت کی طرف کردیا
زرداری نے  کلیدی عهدوں پر پارٹی کارکنوں کو بٹھا کر پاکستان کے گھٹن زده ماحول( جہاں صرف اپنے رشتہ داروں اورعزیزوں کو نوازنے کا رواج عام هے) کو یکسر تبدیل کرکے حقیقی جمهوریت کی بنیاد رکھی ______
پیپلز پارٹی کی ہر قیادت کے ساتھ ناروا اور امتیازی سلوک کی وجہ ایسی نہیں جو سمجھ نا آسکے.پیپلز پارٹی کی ہر قیادت نے جمہوریت ہی کو ملک کے لئیے بہترین سمجھا ہے.اور پیپلز پارٹی ہی وہ واحد جماعت ہے جوجمہوریت پر شب خون مارنے والی قوتوں کے سامنے ہمیشہ رکاوٹ بنی ہے.بھٹو شہید کی پھانسی کے بعد محترمہ شہید کی وہی جمہوری روش دیکھ کر ان کا خواب پھر چکنا چور ہوا.لیکن محترمہ کی شہادت کے بعد بظاہر جمہوریت مخالف عناصر کو آخری رکاوٹ ہٹتی نظر آئی تب جب امام سیاست آصف علی زرداری نے جمہوریت ہی کو بہترین انتقام قرار دیکر پاکستان کے آئین میں تبدیلیاں کر اینٹی جمہوریت عناصر کو اقتدار سے دور رکھنے کی عملی کوششیں تیز کر دیں تو شاید یہ ان قوتوں کے لئیے ایک جھٹکا تھا.پھر زرداری اور اس حکومت کو بدنام کرنے کی بھونڈی سازش کا آغاز ہوا.صحافیوں اور ججز کو اربوں کھلائے گئے.اور ایک طوفان بدتمیزی برپا کر دیا گیا.نا اس کے کردار کو چھوڑا گیا نا اسکی حکومت کو کام کرنے دیا گیا.ایسی ایسی کہانی گھڑی گئی جس کا نا تو آج تک کوئی ثبوت پیش کیا جا سکا اور نا شاید گھڑنے والوں سے موخذاہ ہو گا.آج بھی وہی عدلیہ اور میڈیا موجود ہے اور مسائل شاید اس دور سے بہت گھمبیر ہو چکے لیکن وہ سب نہیں ہو رہا جو سابقہ دور میں حکومت کے ساتھ کیا گیا.اور آج ساری توپوں کا بلاول کی طرف رخ ہوجانا بھی اسی مرض کا اظہار ہے
لیکن شاید جانتے نہیں
حالات کے قدموں میں کبھی قلندر نہیں گرتا
ٹوٹے جو ستارہ آسماں سے کبھی زمین پر نہیں گرتا
بڑے ہی شوق سے گرتے ہیں سمندر میں دریا
لیکن کوئی سمندر کسی دریا میں نہیں گرتا
...بغض زرداری لا علاج بیماری

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...