پنجاب سے قومی اسمبلی کی 148 سیٹیں ہیں جن میں سے 41 جنوبی پنجاب سے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جنوبی پنجاب کے تمام بڑے بڑے برج تحریک انصاف میں شامل ہوچکے، آنے والے دنوں میں کھوسہ اور لغاری قبائل بھی عمران خان کی جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کرنے جارہے ہیں۔ یہ سب الیکٹیبلز ہیں جو اس سے قبل جس جماعت میں بھی رہے، جیتتے رہے۔ اب ہوا کا رخ تحریک انصاف کی طرف ہے تو یہ عمران خان کی طرف آگئے۔
2018 کے الیکشن میں جنوبی پنجاب کی 41 میں سے کم و بیش 30 نشستیں انشا اللہ تحریک انصاف کو ملنے جارہی ہیں۔
اسلام آباد سمیت ساری پوٹھوہار بیلٹ پہلے ہی عمران خان کے پاس ہے اور یہاں سے بھی کم و بیش 18 قومی اسمبلی کی سیٹیں پکی ہیں۔
وسطی پنجاب میں ن لیگ اور تحریک انصاف کا میچ اگر برابر بھی رہا، جس کا کہ امکان ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتا جارہا ہے، پھر بھی عمران خان کم و بیش 25 کے قریب سیٹیں نکال لے گا۔
یوں پنجاب سے ایک محتاط اندازے کے مطابق کم سے کم نشستیں بھی انشا اللہ 85 کے قریب قریب تحریک انصاف کے پاس ہوں گی۔
خیبرپختون خواہ میں اس دفعہ کلین سویپ ہونے جارہا ہے اور 35 میں سے کم و بیش 25 سیٹیں انشا اللہ عمران خان کی ہوں گی۔
بلوچستان میں سنجرانی کی بدولت عمران خان نے اپنے پاؤں جما لئے ہیں، اور یہاں سے 14 میں سے 10 سیٹیں عمران خان یا اس کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بدولت میں ملیں گی۔
فاٹا کی 12 میں سے 8 نشستیں عمران خان کی ہیں۔
سندھ سے اگر 5 سیٹیں بھی نکال لے تو یہ تعداد بنتی ہے 133، جو کہ 272 کے ایوان کا تقریباً نصف ہے۔ آزاد اراکین اور کچھ سیٹ ایڈجسٹمنٹس کو ملا لیا جائے تو 155 کے قریب اراکین عمران خان کے ساتھ ہوں گے جو کہ انشا اللہ اسے وزیراعظم کیلئے اعتماد کا ووٹ دیں گے۔
خواتین کی نشستوں کا تناسب بھی اسی حساب سے ملے گا۔
اگر اللہ تعالی کی مدد شامل حال رہی تو 14 اگست 2018 کو قومی پرچم کشائی اور پریڈ کی تقریب میں آپ عمران خان کو بطور وزیراعظم ٹی وی پر دیکھیں گے۔
نصر من اللہ و فتح قریب۔۔۔۔۔۔۔..۔
2018 کے الیکشن میں جنوبی پنجاب کی 41 میں سے کم و بیش 30 نشستیں انشا اللہ تحریک انصاف کو ملنے جارہی ہیں۔
اسلام آباد سمیت ساری پوٹھوہار بیلٹ پہلے ہی عمران خان کے پاس ہے اور یہاں سے بھی کم و بیش 18 قومی اسمبلی کی سیٹیں پکی ہیں۔
وسطی پنجاب میں ن لیگ اور تحریک انصاف کا میچ اگر برابر بھی رہا، جس کا کہ امکان ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتا جارہا ہے، پھر بھی عمران خان کم و بیش 25 کے قریب سیٹیں نکال لے گا۔
یوں پنجاب سے ایک محتاط اندازے کے مطابق کم سے کم نشستیں بھی انشا اللہ 85 کے قریب قریب تحریک انصاف کے پاس ہوں گی۔
خیبرپختون خواہ میں اس دفعہ کلین سویپ ہونے جارہا ہے اور 35 میں سے کم و بیش 25 سیٹیں انشا اللہ عمران خان کی ہوں گی۔
بلوچستان میں سنجرانی کی بدولت عمران خان نے اپنے پاؤں جما لئے ہیں، اور یہاں سے 14 میں سے 10 سیٹیں عمران خان یا اس کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بدولت میں ملیں گی۔
فاٹا کی 12 میں سے 8 نشستیں عمران خان کی ہیں۔
سندھ سے اگر 5 سیٹیں بھی نکال لے تو یہ تعداد بنتی ہے 133، جو کہ 272 کے ایوان کا تقریباً نصف ہے۔ آزاد اراکین اور کچھ سیٹ ایڈجسٹمنٹس کو ملا لیا جائے تو 155 کے قریب اراکین عمران خان کے ساتھ ہوں گے جو کہ انشا اللہ اسے وزیراعظم کیلئے اعتماد کا ووٹ دیں گے۔
خواتین کی نشستوں کا تناسب بھی اسی حساب سے ملے گا۔
اگر اللہ تعالی کی مدد شامل حال رہی تو 14 اگست 2018 کو قومی پرچم کشائی اور پریڈ کی تقریب میں آپ عمران خان کو بطور وزیراعظم ٹی وی پر دیکھیں گے۔
نصر من اللہ و فتح قریب۔۔۔۔۔۔۔..۔

No comments:
Post a Comment