سردار مہتاب کے چچا محترم سردار سرفراز خان کے مشورے پہ سیاسی میدان میں قدم رکھا. چونکہ علاقہ پسماندہ ہونے کی وجہ سے اکثریت لوگ ان پڑھ ہونے کی وجہ سے جب تاریخ میں پہلی دفعہ ایک پڑھا لکھا اور نوجوان سیاست دان نے جب سیاست میں قدم رکھا تو علاقے کے پسے ہوئے طبقے کی جان میں جان آئی گویا انہیں جس مسیحا کی تلاش تھی وہ مل گیا 1985 میں جب سردار صاحب نے پہلی دفعہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا تو علاقے کے بوڑھے, بچے, نوجوان سب الیکشن مہم کے لئے میدان میں کود پڑے اور نہایت جوش و خروش سے الیکشن مہم کو کامیاب بناتے ہوئے سردار صاحب کو زبردست کامیابی دلوائی اور وہ سرکل بکوٹ میں ایک پاپولر سیاسی لیڈر کے طور پہ ابھرے. ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا کہ علاقے کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور لوگ مبارک باد کے لئے جوق در جوق پہنچے. علاقے کے لوگوں کی خوشیوں کی جہاں بہت سی وجوہات تھیں وہاں یہ بھی تھی کہ ہمارا علاقہ اب پسماندگی سے نکلے گا اور عوام کو ہر قسم کی ضروری سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا. اور آخر کار وہ دن بھی آیا جب 21 فروری 1997 کو فتح کا سورج طلوع ہوا اور سردار صاحب خیبر پختونخواہ کے بائیسویں وزیر اعلی منتخب ہوئے. اور یوں لگا جیسے اب ہمیں پوری دنیا کی حکمرانی مل گئی ہو اور بزرگ فرماتے ہیں کہ ہر جگہ یہی موضوع زیر بحث تھا اور عوام کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی گویا کہ اب ہماری پسماندگی کے تابوت کو آخری کیل ٹھونسے کے لئے ہمارا مسیحا آگیا ہو. 21 فروری 1997 سے لیکر 22 اکتوبر 1999تک 2 سال 8 ماہ وزیر اعلی کے منصب پہ فائز ہونے کے باوجود سردار صاحب عوام کی امنگوں پی پورے نہ اترے اور علاقے کی پسماندگی ختم کرنے میں کوئی بھی کردار ادا نہ کرسکے لیکن اپنی فیملی کی آسودہ حالت کو بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کیا.1999 میں مشرف کے ٹیک اور کے بعد جناب نے آٹے کی سمگلنگ اور جعلی پرمٹ اور خورد برد کرنے کے جرم میں جیل کی ہوا کھائی.
2003 سے لیکر 2008 تک سینیٹر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیے اور خوب مال سمیٹا مگر علاقے کی پسماندگی جوں کی توں رہی اور عوام کی امنگوں پہ پانی پھیرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی.
2008 میں علاقے کی عوام نے پھر سے چانس دینے کا فیصلہ کیا کہ ہم اپنی پگ کسی اور کے سر نہیں دے سکتے اور اپنا مار کے دھوپ میں نہیں پھینکتا کی منطق پہ عمل کرتے ہوئے سردار صاحب کو دونوں سیٹس NA17 اور PF 45 میں بھاری اکثریت سے کامیابی دلوائی جوکہ بعد ازاں پورے سرکل بکوٹ میں کسی ایک شخص کو بھی اہل نہ سمجھتے ہوئے صوبائی سیٹ اپنے بیٹے کو تحفہ کے طور پہ عنائت فرمائی اور یوں موروثیت کے ناسور نے جنم لیا. NA 17 کی نشست پہ کامیابی کے بعد جناب والا 31 مارچ 2008 کو فیڈرل منسٹر ریلوے منتخب ہوئے اور ایک بار پھر عوام میں ایک امید جاگی کے ہمارے بے روزگار لوگوں کو اب روزگار ملے گا اور گھروں میں خوشیاں آئیں گی مگر ہوا وہی جس کا ڈر تھا اور ان تلوں کو نچوڑنے کے بعد تیل کی ایک بوند بھی نہ نکلی.
سردار صاحب کے آگے پیچھے گھومنے والے چند ٹھیکدار جو عوامی مفاد کو چند ٹکوں کے عوض بیچتے رہے اور رات کی تاریکیوں میں مفادات کا سودہ کرنے میں پیش پیش رہے. تعلیم سے کوسوں دور ہماری بھولی بھالی عوام کو کہیں خاندانی سیاست کے نام پہ کہیں برادری ازم کے نام پہ کہیں تھانے ک چہری کے ڈراوے دے کے اور کہیں لالچ دے دے کے بھلا پھسلا کے ووٹ حاصل کیے گئے. بھولی بھالی عوام کو الّو بنانے کا گُر ان ٹھیکیداروں میں کوٹ کوٹ کے بھرا تھا.
سردار صاحب اپنی اور اپنی فیملی کو ترقی کی منزلات تک پہنچا گئے مگر عوام کو پستی کی گہری کھائیوں میں دھکیل گئے. 3 جون 2013 سے لیکر 9 اپریل 2014 تک اپوزیشن لیڈر رہنے کا سہرا بھی اپنے سر سجانے والا یہی خطہ کہسار کا ایسا فرزند تھا جس نے اپنی مٹی سے بے وفائی کی. 15 اپریل 2014 سے لیکر 8 فروری 2016 تک گورنر خیبر پختونخواہ کی کرسی پہ بھی براجمان رہے. اور اب 14 فروری 2017 سے مشیر ہوابازی کے عہدے کے مزے لوٹ رہے ہیں.
میرے علاقے کے غیور نوجوانو!
میرے بھائیو. میرے بزرگو!
اتنا لمبا عرصہ اور مسلسل بڑے عہدوں پہ فائز رہنے والا شخص جس کو عوام نے بڑی مشکل سے بڑی تگ و دو سے منتخب کیا . اپنا قائد مانا اپنا لیڈر مانا اپنا مسیحا مانا اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کہ تنہائی میں بیٹھ کے ایک بار صرف ایک بار ضرور سوچنا کہ کیا اس شخص نے اپنی مٹی سے وفا کی ہے . کیا عوام کی امیدوں پہ پورا اترے کیا سردار صاحب نے علاقے اور خصوصاّ اپنے آبائی گاوں سے سوتیلی ماں والا سلوک نہیں کیا.
میرے نوجوانو اب وقت آگیا ہے احتساب کا.یوسى پلک یوسی بکوٹ یوسی پٹن کے غیور نوجوانو! یہی ہے وہ لابی جس نے ہمیں ان پڑھ رکھا جس نے ہمیں بے روزگار رکھا خصوصاً یوسى پلک کے ساتھ زیادتیوں کی انتہا کردی. اب اگر ہمیں ہوش نہ آیا تو کب آئے گا اب بھی اگر ہم نہ سمجھے تو ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں.
ہماری 7 نسلوں کا حساب لینے کا وقت آں پہنچا ہے. خدارا اپنی آنکھیں کھولو اور ارد گرد دیکھو کہ کون ہیں وہ لوگ. وہ کون مفاداتی ٹولہ ہے جس نے جان بوجھ کے ہمارے بچوں کے مستقبل سے کھیلواڑ کی.
اب کی بار دوبارہ غلطی نہ کرنا
اب کی بار سوچ سمجھ کر.
اب کی بار برادری ازم نہیں.
اب کی بار موروثیت نہیں.
اب کی بار پہلے وعدوں کی تکمیل چائیے.
اب جس کے جی میں آئے وہ لے اس سے روشنی.
ہم نے تو دل جلا کر سر عام رکھ دیا ہے..
2003 سے لیکر 2008 تک سینیٹر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیے اور خوب مال سمیٹا مگر علاقے کی پسماندگی جوں کی توں رہی اور عوام کی امنگوں پہ پانی پھیرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی.
2008 میں علاقے کی عوام نے پھر سے چانس دینے کا فیصلہ کیا کہ ہم اپنی پگ کسی اور کے سر نہیں دے سکتے اور اپنا مار کے دھوپ میں نہیں پھینکتا کی منطق پہ عمل کرتے ہوئے سردار صاحب کو دونوں سیٹس NA17 اور PF 45 میں بھاری اکثریت سے کامیابی دلوائی جوکہ بعد ازاں پورے سرکل بکوٹ میں کسی ایک شخص کو بھی اہل نہ سمجھتے ہوئے صوبائی سیٹ اپنے بیٹے کو تحفہ کے طور پہ عنائت فرمائی اور یوں موروثیت کے ناسور نے جنم لیا. NA 17 کی نشست پہ کامیابی کے بعد جناب والا 31 مارچ 2008 کو فیڈرل منسٹر ریلوے منتخب ہوئے اور ایک بار پھر عوام میں ایک امید جاگی کے ہمارے بے روزگار لوگوں کو اب روزگار ملے گا اور گھروں میں خوشیاں آئیں گی مگر ہوا وہی جس کا ڈر تھا اور ان تلوں کو نچوڑنے کے بعد تیل کی ایک بوند بھی نہ نکلی.
سردار صاحب کے آگے پیچھے گھومنے والے چند ٹھیکدار جو عوامی مفاد کو چند ٹکوں کے عوض بیچتے رہے اور رات کی تاریکیوں میں مفادات کا سودہ کرنے میں پیش پیش رہے. تعلیم سے کوسوں دور ہماری بھولی بھالی عوام کو کہیں خاندانی سیاست کے نام پہ کہیں برادری ازم کے نام پہ کہیں تھانے ک چہری کے ڈراوے دے کے اور کہیں لالچ دے دے کے بھلا پھسلا کے ووٹ حاصل کیے گئے. بھولی بھالی عوام کو الّو بنانے کا گُر ان ٹھیکیداروں میں کوٹ کوٹ کے بھرا تھا.
سردار صاحب اپنی اور اپنی فیملی کو ترقی کی منزلات تک پہنچا گئے مگر عوام کو پستی کی گہری کھائیوں میں دھکیل گئے. 3 جون 2013 سے لیکر 9 اپریل 2014 تک اپوزیشن لیڈر رہنے کا سہرا بھی اپنے سر سجانے والا یہی خطہ کہسار کا ایسا فرزند تھا جس نے اپنی مٹی سے بے وفائی کی. 15 اپریل 2014 سے لیکر 8 فروری 2016 تک گورنر خیبر پختونخواہ کی کرسی پہ بھی براجمان رہے. اور اب 14 فروری 2017 سے مشیر ہوابازی کے عہدے کے مزے لوٹ رہے ہیں.
میرے علاقے کے غیور نوجوانو!
میرے بھائیو. میرے بزرگو!
اتنا لمبا عرصہ اور مسلسل بڑے عہدوں پہ فائز رہنے والا شخص جس کو عوام نے بڑی مشکل سے بڑی تگ و دو سے منتخب کیا . اپنا قائد مانا اپنا لیڈر مانا اپنا مسیحا مانا اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کہ تنہائی میں بیٹھ کے ایک بار صرف ایک بار ضرور سوچنا کہ کیا اس شخص نے اپنی مٹی سے وفا کی ہے . کیا عوام کی امیدوں پہ پورا اترے کیا سردار صاحب نے علاقے اور خصوصاّ اپنے آبائی گاوں سے سوتیلی ماں والا سلوک نہیں کیا.
میرے نوجوانو اب وقت آگیا ہے احتساب کا.یوسى پلک یوسی بکوٹ یوسی پٹن کے غیور نوجوانو! یہی ہے وہ لابی جس نے ہمیں ان پڑھ رکھا جس نے ہمیں بے روزگار رکھا خصوصاً یوسى پلک کے ساتھ زیادتیوں کی انتہا کردی. اب اگر ہمیں ہوش نہ آیا تو کب آئے گا اب بھی اگر ہم نہ سمجھے تو ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں.
ہماری 7 نسلوں کا حساب لینے کا وقت آں پہنچا ہے. خدارا اپنی آنکھیں کھولو اور ارد گرد دیکھو کہ کون ہیں وہ لوگ. وہ کون مفاداتی ٹولہ ہے جس نے جان بوجھ کے ہمارے بچوں کے مستقبل سے کھیلواڑ کی.
اب کی بار دوبارہ غلطی نہ کرنا
اب کی بار سوچ سمجھ کر.
اب کی بار برادری ازم نہیں.
اب کی بار موروثیت نہیں.
اب کی بار پہلے وعدوں کی تکمیل چائیے.
اب جس کے جی میں آئے وہ لے اس سے روشنی.
ہم نے تو دل جلا کر سر عام رکھ دیا ہے..

No comments:
Post a Comment