Friday, 23 June 2017

alfaaz

جب تک الفاظ آپکے اندر رہتے ہیں وہ آپکے غلام ہوتے ہیں اور جیسے ہی وہ ادا ہو جاتے ہیں پھر آپ اُنکے غلام بن جاتے ہو، اگلی پوری زندگی آپکو اپنے عمل اور کردار سے اپنے کہے ہوئے الفاظ کی پاسداری کرنی پڑتی ہے۔
...
ایک بادشاہ ہر وقت اپنے سر کو ڈھانپ کے رکھتا۔ اُسے کبھی کسی نے ننگے سر نہیں دیکھا تھا۔ بہت سے لوگوں نے اِس راز کو جاننے کی کوشش کی لیکن بادشاہ ہر مرتبہ کمال مہارت سے بات کا رُخ موڑ کر جواب دینے سے بچ جاتا۔ایک روز اُسکے وزیرِ خاص نے بادشاہ سے اِس راز کو جاننے کی ٹھان لی، حسب سابق بادشاہ نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح وزیر کا دھیان اِدھر اُدھر ہو جائے، لیکن اُس نے بھی جاننے کا مصمم ارادہ کر رکھا تھا، آخر بادشاہ نے وزیر کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ لیکن اُسےایک شرط پر بتانے کی حامی بھری کہ وہ آگے کسی کو نہیں بتائے گا۔ اور ساتھ ہی کہا کہ اگر اُس نے شرط کی خلاف ورزی کی تو اُسے سخت سزا بھگتنا ہو گی۔بادشاہ نے بتایا کہ، "اُس کے سر پر ایک سینگ ہے، اِسی لیے وہ اپنے سر کو ہمیشہ ڈھانپ کے رکھتا ہے۔۔۔!" اِس بات کو کچھ دِن ہی ہوئے تھے کہ پورے شہر میں یہ خبر پھیل گئی کہ بادشاہ کے سر پر سینگ ہے۔ بادشاہ کو بڑا غصہ آیا۔ اُس نے اپنے اُس وزیرِ خاص کو طلب کیا اور شرط کی خلاف ورزی کی پاداش میں شاہی حکم صادر کیا کہ اُسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔وزیر بہت سمجھدار تھا، وہ جھٹ سے بولا، "بادشاہ سلامت! جب آپ بادشاہ ہو کر خود اپنے ہی راز کو نہیں چھپا سکے تو پھر آپ مجھ سے یا کسی اور سے کیسے یہ اُمید کر سکتے ہیں کہ وہ آپکے راز کو چھپا کر رکھے۔ لہٰذا جتنی سزا کا حقدار میں ہوں اُتنی آپکو بھی ملنی چاہیے۔۔۔!" میرے عزیز دوستو! زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور کمان سے نکلا ہوا تیر جب نکلتے ہیں تو دو کام ہوتے ہیں۔ ◘ پہلا یہ کہ وہ پھر کبھی لوٹ کر واپس نہیں آ سکتے۔ چاہے لاکھ پچھتاوے کے ہاتھ ملو۔◘ اور دوسرا یہ کہ وہ پھر جہاں جہاں سے گزرتے ہیں اپنی شدت اور قوت کے مطابق زخم لگاتے جاتے ہیں۔ جس کا دوش ہم اپنے علاوہ کسی اور کو نہیں دے سکتے.

Teen bahi

تین بھائی ایک آدمی کو امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب کے پاس لے کر آئے اور کہنے لگے کہ اس نے ہمارے باپ کا قتل کیا ہے.
حضرت علی نے اس آدمی سے دریافت کیا کہ تو نےایسا کیوں کیا ہے؟
وہ آدمی عرض کرنے لگا: حضور میں ایک چرواہا ہوں ، بھیڑ بکری اور اونٹ چراتا ہوں.... میرے ایک اونٹ نے ان لوگوں کے والد کے باغ سےایک درخت کھانا شروع کردیا تو ان کا والد اٹھا اور میرے اونٹ کو ایک بھاری پتھر دے مارا ، پتھر اس طرح سے مارا تھا کہ اونٹ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا. جب میں نے یہ حالت دیکھی تو مجھے بھی بہت غصہ آیا جس کے سبب میں نے وہی پتھر اس آدمی کے سر پر دے مارا اور بدقسمتی سے وہ آدمی بھی موقع پر ہی مر گیا ! .
امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرمانے لگے: تو اس صورت میں مجھے تجھ پر حد جای کرنی ہو گی . وہ آدمی کہنے لگا : سرکار مجھے تین دن کی مہلت دے دیں.
میرا باپ مرچکا ہے اور وراثت میں میرے اور میرے چھوٹے بھائی کے لئے خزانہ چھوڑ گیا ہے. اگر میں مار دیا جاتا ہوں تو وہ خزانہ بھی تباہ ہو جائے گا اور میرا بھائی بھی .
اميرالمومنین فرمانے لگے: تیری ضمانت کون دے گا ؟
اس آدمی نے لوگوں کی طرف نظر دوڑائی تو اس کی نظر جلیل القدر اور حق گوئی کیلئے مشہور صحابی رسول حضرت ابوذرغفاری ؓ پر پڑی.کہنے لگا یہ آدمی میرا ضامن بنے گا!.
اميرالمومنين نے فرمایا: اے ابوذر کیا تم اس شخص کی ضمانت قبول کرتے ھو؟
ابوذرؓنے عرض کیا : جی ہاں حضور میں اسکی ضمانت لینے کو تیار ہوں.
حضرت علی نے فرمایا: تم اسے جانتے تک نہیں اور اگر یہ بھاگ جائے تو حد تم پر جاری ہوگی!
ابوذر ؓ نے عرض کیا : میں اس کی ضمانت لیتا ہوں يا اميرالمومنين.
وہ آدمی چلا گیا . پہلا ، دوسرا ، تیسرا...تین دن گزر گئے ، سب لوگوں کو ابوذر ؓ کی فکر ہونے لگی کہ کہیں حد ان پر جاری نہ کردی جائے...آخر کار تیسرے دن مغرب کے وقت وہ آدمی نہایت تھکا ماندہ واپس آن پہنچا ،اميرالمومنين حضرت علی کے پاس پہنچ کرعرض کرنے لگا : میں نے خزانہ اپنے بھائی کو دے دیا اور اب آپ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم ہوں, مجھ پر حد جاری کر دیجئے . امام علی فرمانے لگے : کیا چیز سبب بنی جو تم واپس لوٹ آئے، جبکہ تم آزاد تھے اور بھاگ بھی سکتے تھے؟
وہ آدمی کہنے لگا: مجھے ڈر تھا کہ کہیں "وفائے عهد" لوگوں کے درمیان سے ختم نہ ہوجائے .
اميرالمومنين نے ابوذر ؓ سے سوال کیا : تم نے کیسے اس کی ضمانت دے دی جبکہ تم اسے جانتے بھی نہ تھے؟
ابوذر ؓ کہنے لگے: مجھے خوف ہوا کہ کہیں"نیکی اورخیر و خوبی" لوگوں میں سے نہ مٹ جائے.
مقتول آدمی کے بیٹے اس واقعہ سے اتنا متائثر ہوئے کہ کہنے لگے : ہم بھی اپنے باپ کا قصاص اس شخص سے نہیں لیں گے...اميرالمومنين علیہ السلام نے ان سے دریافت کیا : آپ لوگ کیوں؟
کہنے لگے : ہمیں ڈر ہے کہ کہیں "بخشش و درگذشت" لوگوں کے درمیان سے نہ چلی جائے.
اور میں بھی یہ پیغام آپ حضرات کو بھیج رہا ہوں تاکہ کہیں "نیکی کی طرف دعوت" لوگوں کے درمیان سے نہ مٹ جائے..!!!

Thursday, 22 June 2017

1987 Cricket match

غالباً 1987 میں جمیکا کے مقام پر پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین ٹیسٹ میچ جاری تھا۔ ایک تو کالی آندھی، اوپر سے ہوم گراؤنڈ اور پھر ان کی خراب امپائرنگ اور غصیلا کراؤڈ۔ سب کچھ پاکستان کے خلاف جارہا تھا۔ ڈیسمنڈ ہینز اس وقت دنیا کا سب سے بہترین اوپنر ہوا کرتا تھا۔ وہ غالباً ففٹی کرچکا تھا کہ وسیم اکرم کی بال پر امپائر نے اسے ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا۔ ہینز نے احتجاجاً امپائر کے آگے بلا لہرایا اور پویلین کی طرف چل دیا۔ کپتان عمران خان اس وقت مڈآف پوزیشن پر کھڑا تھا اور وہ چلتے چلتے ہینز کے پاس سے گزرا جس نے اسے کہا کہ تم لکی ہو جو مجھے غلط آؤٹ دے دیا گیا۔ عمران خان نے یہ سننا تھا کہ اسے رکنے کا اشارہ کیا، امپائر کے پاس گیا اور اسے کہا کہ وہ بطور کپتان ہینز کو آؤٹ کرنے کی اپیل واپس لیتا ہے۔ دنیائے کرکٹ کا یہ ایک انوکھا واقعہ تھا۔ امپائر نے ہینز کو واپس بلا لیا۔ اس دفعہ جب وہ عمران خان کے پاس سے گزرا تو کپتان نے اسے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ اب تم کتنے لکی ثابت ہوتے ہو اپنی ٹیم کیلئے۔

اگلا اوور کروانے خان خود آیا اور تیسری گیند پر ہینز کو اپنے مشہور اِن ڈِپر کے زریعے بولڈ کرکے واپس بھیج دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1989 میں انڈیا کی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تھی۔ ایک ٹیسٹ میچ میں کپتان سری کانت بہت اچھا کھیل رہا تھا۔ غالباً وقار کی گیند پر کاٹ بی ہائینڈ آؤٹ دے دیا گیا۔ اس نے احتجاج کیا تو کپتان عمران نے اسے واپس بلا لیا۔ اگلی گیند پر ایک دفعہ پھر وہ کیپر کو کیچ دے بیٹھا اور خود ہی شرمندہ ہو کر پویلین کی جانب چل پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1992 ورلڈ کپ فائنل میں آئن بوتھم کو وسیم اکرم نے کاٹ بی ہائینڈ کروا دیا لیکن امپائر نے اسے آؤٹ نہ دیا۔ قبل اس کے کہ ہماری ٹیم احتجاج کرتی، کپتان عمران خان جو اس وقت وائیڈ گلی میں کھڑا تھا، اس نے فوراً سب کھلاڑیوں کو واپس اپنی پوزیشن پر جانے کو کہا، وسیم اکرم کے پاس آکر اسے کچھ ہنٹ دیا اور اپنے پرانے حریف بوتھم کو اشارے سے کہا کہ جاؤ، تمہیں دوسری باری دیتا ہوں۔

اگلی گیند پر بوتھم ایک مرتبہ پھر کیپر کو کیچ دے بیٹھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب 2 مئی 2016 کو پانامہ لیکس ہوا تو عمران خان نے نوازشریف سے 'رسیدیں' مانگیں۔ جب نوازشریف نے انکار کیا تو خان صاحب نے رائیونڈ کے تاریخی جلسے میں 'تلاشی دو' کا تاریخی مطالبہ کردیا۔ نوازشریف نے یہ بات بھی نہ مانی تو عمران خان نے لاک ڈاؤن کی دھمکی کے زریعے نوازشریف کو انڈر پریشر کیا اور پھر ایک منجھے ہوئے کھلاڑی کی طرح نوازشریف کو گھیر کر سپریم کورٹ لے گیا۔

اس وقت عمران خان پر جاہلوں نے بڑی تنقید کی کہ وہ سیاسی موت مر گیا، وغیرہ وغیرہ۔

پہلے سپریم کورٹ میں اور اب جے آئی ٹی میں نوازشریف اور اس کی فیملی کی روزانہ کی بنیاد پر جو بے عزتی  ہورہی ھے اس سے ثابت ہوتا ھے کہ لاک ڈاؤن ختم کرکے سپریم کورٹ میں یہ جنگ لڑنے کا خان صاحب کا فیصلہ بہت بڑی دانشمندی تھی۔

جو بات صرف رسیدوں سے شروع ہوئی تھی وہ اب 'دادا جی' کی کرپشن، پوتے پوتیوں کی منی لانڈرنگ، قطری شہزادے کے خط، مریم نواز کی کفالت سے دستبرداری، 90 کی دہائی میں فلیٹس کی ملکیت کے اعتراف، کلثوم نواز کے نام آفشور کمپنی کا اقرار، جادو کی بی ایم ڈبلیو اور حتی کہ نوازشریف کے بچوں کے فارم "ب" تک پہنچ چکی ھے۔

نوازشریف کو اگر تھوڑی بھی عقل ہوتی تو وہ چپ چاپ رسیدیں دے کر یا استعفی دے کر گھر چلا جاتا۔ ضدی عمران خان سے پنگا لے بیٹھا ھے، وہ اب اسے قبر تک پہنچا  کر ہی دم لے گا۔

ڈیسمنڈ ہینز، سری کانت، آئن بوتھم اور اب نوازشریف۔ ان سب سے ایک غلطی ہوئی اور وہ تھی عمران خان کی صلاحیتوں کے بارے میں غلط اندازہ۔

اب یہ سب لوگ تاریخ کے کوڑے دان میں پڑے ہیں!!!!!!!

Habib jalib

حبیب جالب کی بیگم ایک دن اُن سے ملاقات کیلئے جیل گئیں اور جالب سے کہنے لگیں۔ آپ تو جیل میں آگئے ہو یہ بھی سوچا ہے کہ بچوں کی فیس کا کیا بنے گا اور گھر میں آٹا بھی ختم ہونے والا ہے۔ حبیب جالب نے اس ملاقات کے بارے میں ایک نظم لکھی۔ جس کا عنوان ”ملاقات“ رکھا۔ ملاحظہ فرمائیں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملاقات
جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی
حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی
اس نے نہ ٹھہرنے دیا پہروں مرے دل کو
جو تیری نگاہوں میں شکایت مری جاں تھی
گھر میں بھی کہاں چین سے سوئے تھے کبھی ہم
جو رات ہے زنداں میں وہی رات وہاں تھی
یکساں ہیں مری جان قفس اور نشیمن
انسان کی توقیر یہاں ہے نہ وہاں تھی
شاہوں سے جو کچھ ربط نہ قائم ہوا اپنا
عادت کا بھی کچھ جبر تھا کچھ اپنی زباں تھی
صیاد نے یونہی تو قفس میں نہیں ڈالا
مشہور گلستاں میں بہت میری فغاں تھی
تو ایک حقیقت ہے مری جاں مری ہم دم
جو تھی مری غزلوں میں وہ اک وہم و گماں تھی
محسوس کیا میں نے ترے غم سے غم دہر
ورنہ مرے اشعار میں یہ بات کہاں تھی..

Sadqa fitrana

صدقہ فطر کے چند اہم مسائل
صدقہ فطر کیوں دیا جاتا ہے؟
صدقہ فطر کا مقصد روزے کی حالت میں سرزد ہونے والے گناہوں اور کمی کوتاہی سے خود کو پاک کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر، روزے دار کو بیہودگی اور فحش باتوں سے پاک کرنے کے لئے نیز محتاجوں کے کھانے کا انتظام کرنے کے لئے فرض کیا ہے۔
صدقہ فطر کس پر واجب ہے؟
جس شخص میں تین شرطیں پائی جائیں اس پر صدقہ فطر واجب ہوتا ہے۔
(۱)مسلمان ہو، کافر پر صدقہ فطر واجب نہیں ۔
(۲)آزاد ہو، غلام پر صدقہ فطر واجب نہیں۔
(۳)اپنے قرضے اور اصل ضروریات اور اہل و عیال کی ضروریات کے علاوہ نصاب کا مالک ہو لہذا اس شخص پر جو قرض اور حوائج اصلیہ سے زائد نصاب کا مالک نہ ہو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ۔
گویا
صدقہ فطر ہر آزاد مسلمان پر واجب ہے جب کہ وہ یکم شوال (عید الفطر) کو نصاب کا مالک ہو خواہ اسی دن یعنی یکم شوال کو مالک ہوا ہو، اس پر سال گذرنا شرط نہیں۔
صدقہ فطر کا نصاب کیا ہے؟
صدقہ فطر کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا مال ہے جو کہ انسان کی حاجات اصلیہ سے زائد ہو یہ مال خواہ سونا چاندی یا اس کے زیورات کی شکل میں ہو یا نقدی یا مال تجارت یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان یا رہائشی مکان سے زائد کوئی مکان وغیرہ کی شکل میں ہو۔
کس کی طرف سے دیا جائے؟
درج ذیل افراد کی جانب سےصدقۂ فطر نکالنا ضروری ہے۔
(۱) اپنی جانب سے۔ (۲) اپنے چھوٹے محتاج بچوں کی طرف سے۔(۳) ہاں اگر وہ مالدار ہوں تو صدقہ فطر انہی کے مال سے نکالا جائے،
مسئلہ:شوہر پر ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی کی طرف سے صدقہ فطر نکالے، لیکن اگر بیوی پر احسان کرے تو جائز ہے، اسی طرح باپ پر اپنے بڑے باشعور بچوں کی جانب سے صدقہ فطر نکالنا واجب نہیں ، لیکن اگر وہ ان پر احسان کرے تو جائز ہے، ہاں اگر اولاد محتاج و مجنون ہوں تو ان کی طرف سے صدقہ فطر نکالنا واجب ہے۔ عید الفطر کے دن صبح صادق ہوتے ہی یہ صدقہ واجب ہو جاتا ہے۔ لہذا جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے ہی انتقال کر گیا اُس پر صدقہ فطر واجب نہیں ہے
جو بچہ عید الفطر کے دن صبح صادق سے پہلے پیدا ہو اس کا صدقہ فطر بھی دینا ہوگا۔ صدقہ فطر نماز عید سے قبل ادا کر دینا چاہئے اور بہتر ہے کہ عید سے اتنا پہلے ادا کردیں کہ غریب بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسكیں اور اگر کوئی اپنی کوتاہی کی وجہ سے نماز عید تک بھی صدقة الفطر ادا نہیں کر سکا تو اس سے معاف نہ ہو گا بلکہ اس کے بعد بھی ادا کرنا ضروري ہے۔
صدقہ فطر کس کو دیا جائے؟
صدقہ فطر کے مستحق وہی لوگ ہیں جو زکوة کے مستحق ہیں۔ صدقہ فطر اپنے غریب رشتہ داروں کو دینے میں زیادہ فضیلت ہے۔ دینی مدارس کے طلباء و طالبات صدقہ فطر کا بہترین مصرف ہیں۔ ان کو صدقہ فطر دینے سے اشاعت دین میں مدد کا اجر بھی ملے گا۔
صدقہ فطر کی مقدار کیا ہے؟
احادیث میں چار چیزوں کا ذکر ہے ہر شخص کو چاہئے کہ اپنی حیثیت کے مطابق اعلی سے اعلی چیز کو اختیار کرے۔
کشمش یا منقی:
کسی بھی قسم کا ایک صاع (ساڑھے تین کلو احتیاطا چار کلو) فی کس
کھجور:
کسی بھی قسم کی ایک صاع (ساڑھے تین کلو احتیاطا چار کلو) فی کس، مارکیٹ ویلیو معلوم کر لی جائے
جو:
ایک صاع کسی بھی قسم کے (ساڑھے تین کلو احتیاطا چار کلو) فی کس،مارکیٹ ویلیو معلوم کر لی جائے
گندم:
کسی بھی قسم کی نصف صاع (پونے دو کلو احتیاطا دو کلو) فی کس، مارکیٹ ویلیو معلوم کر لی جائے
ہر شخص کو چاہئے کہ صدقہ فطر اپنی حیثیت کے مطابق دے۔ صرف گندم کو مخصوص کرلینے سے اگرچہ صدقہ فطر ادا ہوجاتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اگرا للہ تعالی نے وسعت دی ہے تو کشمش، کھجور یا جو کے مطابق صدقہ فطر ادا کرے۔

Tuesday, 20 June 2017

Khana e kaba ke chabia

خانہ کعبہ کی چابیاں سعودی شاہی خاندان کے پاس کیوں نہیں رکھی جاتیں ؟جانئے مقدس ترین مقام کی چابیوں کے پیچھے چھپی وہ معجزاتی تاریخ جو آپ کا بھی ایمان تازہ کر دے گی..
بشکریہ: اذان محمد۔
جدہ) اگرچہ سعودی فرماں روا کو خادمین حرمین شریفین کہا جاتا ہے لیکن درحقیقت خانہ کعبہ کی چابیاں
ان کے پاس نہیں ہوتیں۔ یہ چابیاں صدیوں سے شیبی خاندان کے پاس ہیں اور اس کے پیچھے ایسی کہانی ہے کہ سن کر آپ کا ایمان تازہ ہو جائے گا۔ ویب سائٹ ’پڑھ لو‘کی رپورٹ کے مطابق بیت اللہ کی چابیاں اس خاندان کے پاس اس لیے چلی آ رہی ہیں کہ خود اللہ سبحان تعالیٰ نے اس کام کے لیے اس خاندان کا انتخاب کیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے چابیاں ان کے حوالے کی تھیں۔
جب 8ہجری میں مسلمان مکہ پر غالب آئے اور اسے فتح کیا تو نبی کریم ﷺ نے خانہ کعبہ میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کی لیکن اس کا دروازہ مقفل تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ اس کی چابیاں عثمان ابن طلحہٰ کے پاس ہیں۔ عثمان ابن طلحہٰ مسلمانوں کے مکہ مکرمہ فتح کر لینے پر خوفزدہ ہو کر خانہ کعبہ کی چھت پر چھپے ہوئے تھے۔ لوگوں کے بتانے پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حکم دیا کہ عثمان سے چابیاں لے کر دروازہ کھولو۔
جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے عثمان سے چابیاں طلب کیں تو اس نے دینے سے انکار کر دیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کا انکار نظرانداز کر دیا اور اس سے چابیاں چھین لیں اور دروازہ کھول دیا اور رسول اللہﷺ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہو گئے۔ بیت اللہ کے اندر رسول اللہ ﷺ نماز ادا کر رہے تھے کہ حضرت جبریل ؑ اللہ کا پیغام لے کر آ گئے۔ اس وقت قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی، جس کا ترجمہ ہے ”بے شک اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچا دو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو، بے شک اللہ آپ کو اچھی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔“
رسول اللہ ﷺ کو جیسے ہی جبریل ؑ نے اللہ کا یہ پیغام پہنچایا انہوں نے فوری طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حکم دیا کہ عثمان کے پاس واپس جاﺅ اور چابیاں اس کے حوالے کر دو اور اس سے اپنے روئیے پر معذرت کرو۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جا کر عثمان ابن طلحہٰ کو چابیاں واپس کیں اور ان سے معذرت چاہی تو عثمان ششدر رہ گئے کہ ایک عظیم فاتح نے انہیں چابیاں واپس بھجوا دی ہیں۔ تب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آیت کریمہ کے نزول کا واقعہ اسے سنایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ چابیاں عثمان کو واپس کر دو۔ یہ سن کر عثمان ابن طلحہٰ نے فوراً کہا ”میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں“ اور مشرف بہ اسلام ہو گئے۔حضرت عثمان ابن طلحہٰ کے اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت جبریل ؑ واپس رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور چابیوں کے متعلق اللہ کا حکم سنایا کہ ”آج کے بعد تاقیامت خانہ کعبہ کی چابیاں عثمان ابن طلحہٰ کے خاندان کے پاس رہیں گی۔“ اس دن کے بعد سے آج تک خانہ کعبہ کی چابیاں اسی خاندان کے پاس ہیں۔

Shetan aur iktelaat

شیطان اور اختلاط و مرد وزن !!

علامہ ابن جوزی چھٹی صدی ہجری کے ایک مشہور عالم ، واعظ اور مصنف ہیں۔ آپ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب "تلبیس ابلیس" میں شیطان کے پھندوں کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح شیطان انسان پر حملہ آور ہوتا اور اسے راہ راست سے ہٹا دیتا ہے۔

اسی کتاب میں انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی جگہ پر ایک بہت عابد اور زاہد شخص رہا کرتا تھا۔ وہ ہمہ وقت عبادت میں مشغول رہتا اور دنیاوی کاموں سے کوئی رغبت نہ رکھتا تھا۔ ایک دن اس کے محلے کا ایک شخص اس کے پا س آیا اور اس سے کہا کہ وہ اس کی بہن کے کھانے پینے کا ذمہ لے لے کیونکہ کچھ دنوں کے لیے وہ شہر سے باہر جارہا ہے۔ اس عابد نے حامی بھرلی۔

اب ہوتا یوں کہ ہر روز وہ لڑکی اس زاہد کے معبد میں کھانے کے وقت آتی اور دروازہ کھٹکھٹاتی۔ عابد دروازے کی اوٹ ہی سے اسے وہ کھانا دے دیتا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن شیطان نے عابد کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ وہ لڑکی اتنی دور سے چل کر آتی ہے ، دس لوگ اسے دیکھتے ہیں ۔ تو اسے تکلیف سے بچانے کے لیے کیوں نہ عابد ہی اس کے گھر پر کھانا پہنچا دیا کرے۔ عابد کو لڑکی سے بڑی ہمدردی محسوس ہوئی اور اس نے یہی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔چنانچہ اب عابد روزانہ اس کے دروازے پر دستک دیتا اور لڑکی اوٹ سے کھانا لے لیتی اور عابد واپس چلا جاتا۔ پھر شیطان نے مزید وسوسہ ڈالا کہ یہ لڑکی اکیلی ہے ، اس کی دلجوئی کے لیے کیوں نہ دروازے پر کھڑے کھڑے اس سے بات کرلی جائے۔ اس طرح اس کا دل بہل جائے گا۔ اس مرتبہ بھی عابد نے عقل کی بجائے وسوسے پر عمل کیا اور وہ لڑکی سے باتیں کرنے لگا۔

جب کچھ دن گذرے تو شیطان نے سجھایا کہ اس طرح باہر کھڑے ہوکر باتیں کرنا تو مناسب نہیں، چار لوگ دیکھتے ہیں۔ بہتر ہے گھر میں بیٹھ کر دلجوئی کرلی جائے، آخر حرج ہی کیا ہے؟ تو عابد اب گھر کے اندر آکر اس لڑکی سے بات چیت میں مشغول ہوگیا۔ پھر شیطان کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی اور عابد بالآخر زنا کر بیٹھا جس کے نتیجے میں ایک بچہ بھی پیدا ہوگیا۔

اب شیطان نے اسے سجھایا کہ یہ تونے کیا کردیا، تیری ساری عبادت ریاضت کے باوجود لوگ تجھے مار ڈالیں گے، اگر جان پیاری ہے تو یہ کام تو خود کر۔ پھر کیا تھا، عابد نے لڑکی اور بچے دونوں کو قتل کرکے اسی مکان کے نیچے دفن کردیا۔

کچھ عرصے بعد اس لڑکی کا بھائی واپس آیا اور اس لڑکی بارے میں پوچھا۔ عابد نے کہہ دیا کہ وہ ایک بیماری کا شکار ہوگئی تھی اس لیے وہ مرگئی اور اسے قبرستان میں دفنادیا گیا ہے۔ بھائی روپیٹ کر خاموش ہوگیا کیونکہ اسے عابد پر یقن تھا۔ ایک دن شیطان اس بھائی کے خواب میں آیا اور یہ دکھایا کہ اس کی بہن کی لاش اسی مکان کے نیچے دفن ہے اور اس کابچہ بھی ہے اور یہ کام عابد نے کیا ہے۔ بھائی نے جب کھدائی کی تو ساری حقیقت سامنے آگئی۔ اس نے عابد کو قتل کردیا۔ یوں شیطان نے ایک تیر سے کئی شکار کرلیے۔

یہ ایک حکایت ہے۔ اس کا اطلاق اگر ہم آج اپنی سوسائٹی میں کریں تو شیطان مختلف ہتھیاروں سے لیس ہوکر عورتوں اور مردوں کو ورغلا رہا ہے کہ وہ اپنے رب کی نافرمانی کریں۔ مثال کے طور پر وہ تعلیمی اداروں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو ورغلاتا ہے وہ ایک دوسرے کو غلط نگاہ دیکھیں اور بہانہ یہی کہ اس سے کیا ہوتا ہےصرف دیکھ ہی تو رہے ہیں۔جب اس میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ایک دوسرے کے دل میں ہمدردی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔

چنانچہ ایک نوجوان صنف مخالف کی معمولی تکلیف پر بھی اس سے ہمدردی محسوس کرتا اور اسے دور کرنا اپنا فرض عین سمجھتا ہے۔ حیلہ وہی کہ یہ تو ایک اچھا کام ہے۔ اگلے مرحلے میں بات چیت کا آغاز ہوتا ہے جس کے پیچھے یہی محرک ہے کہ بات چیت میں کیا حرج ہے ، یہ تو ماڈرن دور ہے، زمانے کے ساتھ چلنا چاہیے ورنہ لوگ دقیانوسی سمجھیں گے۔ اس کے بعد فون پر گفتگو، چیٹنگ، ایس۔ ایم۔ ایس۔ کا تبادلہ اور نوبت ملاقاتوں تک پہنچ جاتی ہے۔ان سب باتوں کے باوجود ضروری نہیں کہ اس کا منطقی انجام زنا ہی ہو۔ ممکن ہے اس اختلاط کا انجام نکاح ہی ہو لیکن بہر حال شیطان ان طلبا کو اچھے کیرئیر، صالح اخلاق، یکسوئی، اور ماں باپ کی فرمانبرداری سے تو بالعموم محروم کر ہی دیتا ہے۔ اس کے برعکس منتشر خیالی، بے مقصدیت، وقت کا ضیاع، اعضاء کا گناہ اور خداکی نافرمانی کے واقعات رونما ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ محفلیں شراب و کباب کی محفلوں تک لے جاتی ہیں تو کبھی رقابتیں قتل وغارت گری کو جنم دیتی ہیں۔

ایک مرتبہ مجھے ایک صاحب نے سوال کیا کہ وہ اپنی کلاس فیلو سے شدید محبت کرتے ہیں اور اس سے اظہارمحبت کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے یہ یقین دلا یا کہ یہ محبت بالکل سچی ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف نکاح کرنا ہے اور کچھ نہیں۔ چنانچہ انہین بات چیت کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ اپنے دل کا حال محترمہ کو بتاسکیں اور کچھ ان کی سن سکیں۔ میں نے انہیں کہا کہ اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے ، اور وہ یہ کہ اپنے بزرگ عزیز و اقارب ذریعے بات چیت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو وہ پڑھ رہی ہے اور میرے لیے یہ فی الوقت ممکن نہیں۔ میں نے کہا تو کیا ہوا نکاح کی عمر تو آپ کی بھی ہے اور اس کی بھی، رشتہ طے کرلیں بعد میں شادی ہوجائے گی۔میں انہیں کہتا رہا کہ آپ کسی معتبر واسطے کے ذریعے بات چیت کریں کیونکہ براہ راست بات کرنے میں کئی فساد برپا ہونے کااندیشہ ہے لیکن وہ نہ مانے اور مجھ سے بات چیت منقطع کردی۔

بہر حال شیطان نے ہر مزاج کے لوگوں کے لیے پھندے تیار کررکھے ہیں۔ان سب باتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان مجبور محض ہے اور شیطان کو کھلی چھٹی ہے۔ قرآن کے مطابق شیطان کا کام صرف ورغلانا اور وسوسے پیدا کرنا ہے اور بس۔ شیطان کسی کو ہاتھ پکڑ کر مجبور نہیں کرسکتا۔ اسی لیے جو بھی شیطان کے جھانسے میں آگیا تو وہ خود اپنے کیے کا ذمہ دار ہے۔ آخر میں شیطان یہ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے کہ میں تمہارے عمل سے بری ہوں ۔

کرنے کا کام یہ ہے کہ شیطان کے وسوسوں کو پہچانیں اور اس کے جھانسے سے بچنے کے لیے کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے اس کا تجزیہ کریں اور اپنے رب کی منشا معلوم کریں۔ اگر وہ عمل قرآن و سنت کی روشنی میں درست تو آگے بڑھیں ورنہ اسے شیطان کے منہ پر دے ماریں۔

یہ بلاشبہ ایک مشکل کام ہے لیکن صالح صحبت، قرآن کا فہم ، اچھی کتب کا مطالعہ ، اپنی شخصیت کا ادراک ، اپنے نفس پر قابو پانا اور اپنے رب سے مسلسل دعا شیطان کے حملوں سے بچنے کے لیے اکسیر ہے۔ اس جنگ میں ابتدا ہی سے ہتھیار ڈال دینا اپنی زندگی شیطان کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...