Sunday, 7 May 2017

Judge vs Leader

کیا یہ انصاف ہے ؟؟؟۔

سپریم کورٹ کے ایک جج صاحب نے فرمایا ہے کہ ،،ایک سیاستدان نے کہا ہے کہ ہم پانچ ججوں نے نواز شریف کو جھوٹا کہا ہے ،، جج صاحب کا یہ بھی فرمانا تھا کہ میں نے نواز شریف کو یا ہم نے نواز شریف کو جھوٹا نہیں کہا ،،، ان جج صاحب کا فرمانا تھا کہ اگر آئندہ ایسا ہوا تو ہم (اس سیاست دان کو کٹہرے میں لائیں گے) محترم جج صاحبان بہت اچھی بات ہے کہ آپ اس سیاستدان کو کٹہرے میں لائیں تاکہ اس سیاستدان کا قوم سے محبت کا، ملک سے محبت کا، قوم اور ملک کی ترقی کا، کرپٹ لوگوں پر گرفت کا، بدمعاش پولیس کو درست کرنے کا، گاڈفادر کے خوف سے ہم جیسوں کو آزاد کرانے کا نشہ اتر جائے !!! ایسے سیاستدان کا جج صاحب علاج ہی یہی ہے اس کو ایسی دھمکیاں دی جائیں !
ایسے سیاست دان کا علاج ہی یہی ہے کہ اس کو اسی دائرے میں لایا جائے جس دائرے میں ستر سالوں سے یہ وڈیرے، لٹیرے، کرپٹ سیاستدان، مافیا، بیوروکریسی، وکیل، جج، جرنیل، منی لانڈر،خزانے کو لوٹنے والے، بدمعاش پولیس کے سرپرست بیٹھ کر اس قوم اس ملک کو نوچ رہے ہیں !!! جج صاحب لیکن اسی نواز شریف کے بارے میں ،، گاڈفادر ،، کس نے لکھا؟ ججوں کے لیئے ہم لوہے کے چنے ہیں، یہ پیغام آپ کو کس نے دیا تھا ؟؟ ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک جرم چھپا ہوتا ہے،
نواز شریف کے بارے میں فیصلے میں کس نے لکھا ؟؟ اور کیوں لکھا اس کی کچھ وجہ تو ہوگی ؟؟ دو جج صاحبان نے کہا کہ اس نواز شریف کو نااہل قرار دیا جانا چاہیے کیونکہ یہ صادق اور امین نہیں رہا،تین جج صاحبان نے کہا اس نواز شریف نے بوگس قطری خط عدالت کو دیا ! فلییٹس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں، اربوں روپے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا، وزیراعظم کوثبوت دینے کا کہا لیکن ثبوت عدالت کو نہیں دئیے ! وزیراعظم کے بیٹوں نے چھوٹی عمر میں اتنے مہنگے فلیٹ کیسے خریدے ، اس کا مطلب ہے کہ فلیٹ وزیراعظم کے ہیں ! نواز شریف کے بارے میں یہ سب کچھ کس نے لکھا ؟؟ محترم جج صاحبان کیا یہ تمام الفاظ چیخ چیخ کر یہ نہیں کہہ رہے کہ نواز شریف وزیراعظم پاکستان نے عدالت سے جھوٹ بولا ؟
اور اسی جھوٹ کی وجہ سے جج صاحبان نے اپنے فیصلے کے شروع میں اس وزیراعظم کے جھوٹے بیانات، جھوٹے ثبوتوں کو اور اس کی تمام برائیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے گاڈفادر سے تشبیہ دی؟ کیا عدالت نے بلا وجہ ، یا مزاق کے طور پر یہ لفظ،، گاڈفادر،، تحریر کیا تھا؟ یا ان تاریخی الفاظ کا کوئی پس منظر بھی تھا؟؟؟ محترم جج صاحبان کو نواز شریف کی کتاب کے صفحے نظر نہیں آرہے ،، یہ الفاظ کس نے اور کس انداز میں کہے ؟ عدالت​ کے احاطے میں کھڑے ہوکر یہ کس نے کہا کہ ،، ہمیں فیصلہ بلیک اینڈ وائٹ چاہئیے، ہمیں فیصلے میں اگر مگر نہیں چاہئے ،، یہ ایسا کس نےاور کس کو کہا؟؟ افسوس کہ اس وقت جب عدالت عظمیٰ پر ایسے تازیانے برسائے جا رہے تھے،
جج صاحبان کا مذاق اڑایا جارہا تھا، فیصلے مرضی کے مانگے جارہے تھے، نواز شریف کے خلاف فیصلہ آنے پر ملک میں آگ لگانے خون کی ندیاں بہانے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں،تب کسی جج نے نہیں کہا کہ ،، اگر دوبارہ ایسا کچھ کہا، یا جج صاحبان می توہین کی، یا اپنی مرضی کے فیصلے مانگنے کی دھمکیاں دیں تو ہم ان سیاست دانوں کو کٹہرے میں لائیں گے ؟؟
لیکن اس بات پر کہ نواز شریف کو پانچ ججوں نے جھوٹا کہا جناب طیش میں آگئے ؟؟ محترم جج صاحبان کیا انصاف اور قانون کا ایسا تضاد صرف ہم بد نصیبوں کے ملک میں ہی ہے یا پوری دنیا کے لوگ ایسے قانون و انصاف سے مستفید ہوریے ہیں ؟ اس ملک کی بد نصیب قوم کا حال اس بچے جیسا ہوگیا ہے جس کی ماں اس سے بچھڑ جائے اور وہ تپتی ہوئی سڑک پر شدید گرمی میں ننگےپاوں کھڑا ہواہو اور کوئی اس سے یہ نہ پوچھے کہ تو کیوں رو رہا ہے ، شائد کہ اس قوم کی بد بختی ابھی ختم نہیں ہوئی ورنہ آج اس قوم کو جج اہل انصاف اور درد دل رکھنے والے ملتے ، اس قوم کو جرنیل بھی اس قوم اور ملک سے شدید محبت کرنے والے ملتے، اس قوم کے صاحب اقتدار بھی شرم وحیاء اور غیرت والے ملتے،، لیکن اس قوم کو جو بھی ملا وہ کسی نہ کسی روپ میں ایک ،،، گاڈفادر ،، ہی تھا ! ! !۔

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...